اور اب ایسی باتوں پہ مَیں زیرِ لب بھی کبھی مْسکراتا نہیں ہْوں
09 جنوری 2020 2020-01-09

’’ اور اب ایسی باتوں پہ مَیں زیرِ لب بھی کبھی مْسکراتا نہیں ہْوں"معزز قارئین! درجِ بالا مِصرعہ اْردو ادب کے ایک انتہائی مْحترم شاعر جناب ن۔م۔ راشد صاحب کی کسی نظم کا وہ مِصرعہ ہے جو کبھی جوانی کے بھلے دِنوں میں پڑھتے ہی ہمارے دِل میں کِسی تِیر کی مانند کْچھ ایسا پیوست ہْوا کہ آج تک نِکل ہی نہیں پایا بلکہ آپ یْوں سمجھیے کہ جْوں جْوں وقت گْذرتا جاتا ہے تْوں تْوں ہماری زندگی میں اِس مِصرعے کے معٰنی، عمل دَخل اور روز مرّہ افادیت میں ہر لمحہ اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔ ہمارے لیے مذکورہ مِصرعے کی حیثیّت ایک ایسے دیرینہ دوست کی سی ہے جِس کے بغیر ہمارا تو گْذارا ہی بْہت مْشکل ہے کیونکہ یہ مِصرعہ ایک ایسا مِصرعہ ہے جو ہمیں کبھی بھی اور کِسی بھی صْورتِ حال میں تنہائی کا معمولی سا احساس بھی نہیں ہونے دیتا۔ ویسے تو مرزا نوشہ اسد اللّہ خان غالب نے بھی فرمایا تھا کہ ’’پہلے آتی تھی حالِ دِل پہ ہنسی اب کسی بات پر نہیں آتی ’’لیکن خْدا لگتی بات تو یہ ہے کہ ہم جیسے کم فہم شخص کو جو افادیت، اثر پذیری اور معٰنی خیزی ن۔م۔راشد صاحب کے اِس مِصرعے میں آتی ہے ہم اْسے موزوں الفاظ میں بیان کرنے سے ہی قاصر ہیں۔ بھئی یہ بات تو اب اللّہ ہی بہتر جانتا ہے کہ جب راشد صاحب نے یہ مِصرعہ قلم بند کیا ہو گا تو عین مْمکن ہے وہ شاید بذاتِ خْود بھی اپنے اِس مِصرعے کی آفاقیّت اور اثر پذیری کا بخوبی اندازہ ہی نہ کر پائے ہوں کیونکہ ہماری ناقص رائے میں تو ایسا لافانی مِصرعہ کہنے کے بعد اْنہیں مزید کْچھ کہنے کی چنداں ضرورت ہی نہیں تھی۔ دوسرے لفظوں میں آپ اس بات کو اپنی آسانی کے لیے یْوں سمجھ لیں کہ اگر راشد صاحب کی بجائے یہی مِصرعہ ہمارے قلم سے سرزد ہْوا ہوتا تو ہم تو یہ مِصرعہ کہنے کے بعد بھی کْچھ مزید لکھنے لکھانے کو گْناہِ کبیرہ سمجھتے ہوئے اس کا ارتکاب کرنے سے حتی اْلامکان اجتناب ہی برتتے۔ خیر یہ سطور تو ہم نے صرف اور صرف از راہِ تَفَنّْن ہی لکھی ہیں ورنہ کون سْخن فہم شخص ایسا ہو گا جو اِس حقیقت سے آگاہی نہ رکھتا ہو کہ جنابِ ن۔م۔ راشد کا تو ہر ہر مصرعہ ہی اپنے اندر ایک جہانِ معٰنی آباد کیے ہوئے ہے۔بْہر حال ہمارے لیے تو مذکورہ مِصرعہ ایک ایسا ہتھیار ہے جو کسی بھی نہایت نا پسندیدہ ترین صْورتِ حال میں ایک سا ہی گار گر اور کار آمد ثابت ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں آپ یْوں سمجھ لیں ہم اگر کِسی بات پر بْہت زیادہ خفا ہوں تو یہ مِصرعہ آپ ہی آپ ہمارے وردِ زْباں ہونے لگتا ہے اور جیسے ہی ہم اِس مصرعہ کو جی ہی جی میں دہرانا شروع کرتے ہیں ویسے ہی ہمیں اپنے غَم و غْصّہ یا بوریّت میں فوری کمی ہونے کا احساس ہونے لگتا ہے۔

مثال کے طور پر ہم جب کبھی بھی اس طرح کے گھِسے پِٹے جملے کہیں پڑھتے یا سْنتے ہیں تو ہماراخْون یکدم

کھولنے لگتا ہے اور ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم اپنے فوری اور فطری ردِ عمل کا اظہار کیسے کریں۔ جیسے یہ جْملہ کہ ‘‘مْجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی’’ تو آپ یقین جانیے کہ اْس وقت ن-م راشد صاحب کا یہ مصرعہ خْود بخود ہماری اپنی ہی مَدھر آواز میں ہمارے کانوں میں گونجنے لگتا ہے کہ اور اب ایسی باتوں پہ مَیں زیرِ لب بھی کبھی مْسکراتا نہیں ہْوں!!!کیونکہ ہمیں اِس بات کا پْورا یقین ہوتا ہے کہ اوّل تو مْلزمان کا گرفتار کیا جانا ہی ہماری پولیس کے لیے جوئے شِیر لانے کے مْترادف ہو گا اور اگر خْدا نخواستہ مْلزمان اپنی بد قسمتی کی بنا پر گرفتار ہو بھی گئے تو اْن بیچاروں کی عْمرِ عزیز کا بیشتر حصّہ اس قرار واقعی سزا کے انتظار ہی میں ضائع ہو جانا ہے۔ اوپر سے قرار واقعی سزا کے سْنائے جانے تک بار بار اپنی ضمانتیں کروانے کے لیے جو کوفت اور زحمت اْنہیں اْٹھاناے پڑنی ہے وہ الگ۔ لہذا ہمارے پاس راشد صاحب کے مذکورہ مصرعے کو دہرانے کے سِوا اور چارہ ہی کیا رہ جاتا ہے؟؟؟!!! بعینہٖ جب ہمارا سامنا ایسے ہی کسی مِلتے جْلتے جْملے سے ہوتا ہے جیسے کہ ‘‘مْجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا’’ اور خصوصاً جب یہ جْملہ اْن افراد کے بارے میں بولا جاتا ہے جن کا تعلق ہمارے معاشرے کے طاقت ور طبقات سے بھی ہو تو آپ یقین کیجیئے گا ہمارے لیے اپنی ہنسی کو روکنا انتہائی دْشوار ہو جاتا ہے کیونکہ ایسی صورتِ حال میں ہمیں یقینِ واثق ہوتا ہے کہ اوّلاً تو انشاء اللہ ایسی کوئی نوبت ہی نہیں آنی کہ مْجرموں کو کسی بھی طرح کیفرِ کردار تک پہنچایا جا سکے اور اگر کسی وقتی عوامی دباؤ کے تحت مْلزمان کو مْجرم قرار دے بھی دیا جائے تو اِنہیں کیفرِ کردار تک پہنچانے والے دعوے کو عملی جامہ پہنائے جانے کی کوئی بھی سبیل نہیں نِکل پانی کیونکہ جلد یا بدیر وہ شْبھ گھڑی آ ہی جانی ہے جب اِن جرائم پیشہ افراد نے اپنی ‘‘ماں کی دْعاؤں’’ یا پھر اپنے اندرونی یا بیرونی آقاؤں کے عمل دَخل سے با عزت بری ہو ہی جانا ہے۔ اب آپ ذرا خْود ہی غور فرمائیے کہ کوئی بھی ذی شعور شخص بھَلا یہ جْملہ کہ ‘‘ پاکستان میں کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں ہے’’ پڑھنے یا سْننے کے بعد کِسی بھی طرح قہقہہ لگائے بغیر رہ سکتا ہے؟ کون نہیں جانتا کہ ہم سب پاکستانی مِن حیث اْلقوم کسی بھی قانونی ضابطے یا پابندی کا احترام بجا لانے کو اپنی ذاتی توہین سمجھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر وطنِ عزیز پر حکمرانی کرنے والے مْلک کے آئین کو محض ردی کی ٹوکری میں پھینکی جانے والی ایک بے کار دستاویز سے زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوں تو ‘‘بیچارے‘‘ عوام اْلنّاس قانون کی بالا دستی قائم رکھنے میں کس قدر سنجیدہ ہو سکتے ہیں اِس بات کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ لہذا اِس قسم کے بے بْنیاد اور حقیقت کے عین بر عکس دعوے کرنے والوں کی ایسی غیر سنجیدہ باتوں کو رَتی بھر بھی سنجیدہ لینے کی بجائے اِنہیں ہنسی مذاق میں اْڑا دینا ہی بہترین رَدِ عمل ہو سکتا ہے۔

یہ ایک مْسلمہ لیکن بْہت ہی تلخ حقیقت ہے کہ وہ قومیں جو صرف اور صرف اپنے شاندار ماضی کو ضرورت سے زیادہ یاد کرنے کی نفسیاتی بیماری میں مْبتلا ہوتی ہیں لیکن گئے دِنوں کی نشاۃالثانیہ کے اعادہ کا بار بار تذکرہ اور اعلانات کرتے رہنے کے باوجود اپنا اْلّو محض زْبانی جمع خرچ سے ہی سیدھا کرنا جانتی ہوں لیکن اپنے حال اور مْستقبل کو سجانے سنوارنے اور بہتر سے بہتر بنانے کے فن سے بہرہ مند نہ ہْوں تو ایسی صورت میں وہ اپنی مِن حیث اْلقوم کی گئی کوتاہیوں اور نالائقیوں پر اکثر اِسی بودے اور بھونڈے انداز سے پردہ ڈالتی ہیں جس طرح ہمارے ہاں ڈالا جاتا ہے۔ یہ بھی تو ایک تلخ حقیقت ہے کہ جو معاشرے عملی طور پر واقعی کْچھ کر دِکھانے کی صلاحیت سے عاری ہوتے ہیں اْن کا تمام تر دارومدار دِلکش الفاظ کے چْناؤ اور پھر اِن الفاظ یا جْملوں کی جذباتی ادائیگی پر ہی ہوتا ہے۔ ہماری اِس دلیل کی بہترین مثال وزیرِ اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب کی اقوامِ مْتحدہ میں کی گئی وہ نام نہاد تاریخی تقریر ہے جسے صرف اور صرف الفاظ کے گورکھ دھندے کے علاؤہ کوئی اور نام تو دیا ہی نہیں جا سکتا۔ لیکن اِس تقریر کا سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بات یہیں پر ختم نہیں ہو پا رہی کیونکہ اپنی بے بَسی چھْپانے کی خاطر کبھی تو خان صاحب ہمارے کشمیری بہن بھائیوں کے خْود ساختہ سفیر بن جاتے ہیں اور کبھی ترجمان اور کبھی۔۔۔افسوس صد افسوس۔ شاعر نے کیا ہی خْوب کہا ہے کہ دیکھے تو کوئی جبر میرے اختیار کے!!! مْعزز قارئین! جاتے جاتے ہم آپ سب کو ایک واقعہ سْنانا چاہ رہے ہیں۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ غالناً کْچھ اندرونی یا بیرونی سازشوں کی وجہ سے ایک بندر جنگل کا بادشاہ بن گیا۔ ایک دِن ایک لْومڑی بادشاہ سلامت کے دربار میں یہ شکایت لے کے حاضر ہوئی کہ اس کے ننھے ننھے بچوں کو جنگل کے شیر نے اغوا کر لیا ہے۔ لْومڑی کی یہ شکایت سْنتے ہی بادشاہ سلامت طیش میں آ گئے۔ اْنہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ فوراً ہی ایک درخت سے دوسرے درخت پر ‘‘ٹپوسیاں’’ لگانی شروع کر دیں۔ جب لْومڑی کو یہ منظر کافی دیر ہو گئی تو بیچاری لْومڑی نے بادشاہ سلامت سے جان کی امان پاتے ہوئے عرض کیا کہ بادشاہ سلامت آپ میرے بچّوں کی بازیابی کے لیے فوری طور پر کْچھ کرتے کیوں نہیں؟ تو جواباً بندر سلامت، معاف کیجیئے گا بادشاہ سلامت نے اْس بیچاری لْومڑی کو جو برجستہ اور تاریخی جْملے کہے وہ کْچھ یْوں تھے کہ‘‘بی بی تْوں ویکھیا نئیں بھئی اَسیں جِنی نَس بھج وی کر سکدے ہاں اَساں ہْنے ہْنے تیرے سامنے ای کیتی تاں ہے۔ ہْن جے اگوں تیرے بھاگ ای ماڑے ہوون تاں مْڑ اَسیں کیہہ کر سکدے آں؟؟؟!!!۔


ای پیپر