”سگ گزیدگانِ وطن“
09 جنوری 2020 2020-01-09

یہ بھی ہماری خوش نصیبی ہے کہ لاکھوں لوگوں کو خاک وخوں میں غلطاں کرانے کے بعد بالآخر عدالت عظمیٰ نے دہشت گردی کی تشریح کرکے قوم کو سمجھا دیا، مگر قوم لمحہ موجود تک ”عریانیت وفحاشی“ کے بارے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہی ہے، کہ کوئی ”مرد مومن“ اس کے بارے میں بھی قوم کو اعتماد مےں لے گا، اور عدالت عظمیٰ عریانیت، سے آنکھ مچولیاں کرکے یہ فریضہ ٹک ٹاک والی حریم شاہ کو ادا کرنے پہ مجبور کردے گی، اور پھر وہ بادل نخواستہ ، پنجاب کے وزیر اطلاعات جناب فیاض الحسن چوہان، پاکستان کے وزیر خارجہ پیر مخدوم شاہ محمود قریشی، پاکستان کے وزیر سائنس وٹیکنالوجی قبلہ فواد چودھری، اسلامی مملکت خداداد پاکستان کے وزیر ریلوے محترم ومکرم جناب الشیخ شیخ رشید احمد تبدیل شدہ ریاست مدینہ کے انسان حلیم، علیم خان صاحب، وطن عزیز کے انسان بہترین، جہانگیر ترین وغیرہ حتیٰ کہ خلیفہ وقت ، عزت مآب جناب وزیراعظم عمران احمد خان نیازی کے ساتھ اپنے حسنِ ظن کے استحقاق خاص کو خاطر میں لاتے ہوئے بطور خاص” تصویر کشی“ وائریل کرکے ایک بیان بھی داغ دیا، واضح رہے کہ اس نے شیخ رشید پہ الزامات کا ایک مسلسل سلسلہ شروع کیا ہوا ہے، اس نے یہ بھی الزام لگایا ہے، کہ شیخ رشید نے نکاح کیا ہوا ہے، اس نے کہا کہ میں نے کسی پہ نہ تو الزام لگایا ہے، اور نہ ہی بلیک میل کیا ہے، جب میں نے فیاض الحسن چوہان کے ساتھ ویڈیو بنائی تھی، تو شیخ رشید نے بُرا منایا تھا، اور کہا تھا کہ لوگوں کے ساتھ تصویریں کیوں بنوائی ہیں؟۔

قارئین کرام، یہ باتیں چونکہ سوشل میڈیا پہ وائریل ہونے کے ساتھ ساتھ اخبارات کی زینت بننا شروع ہوگئی ہیں، لہٰذا لامحالہ میں بھی صرف دل تو کچھ اور کرتا تھا، مگر مجبوراً قلم اٹھانے پہ مجبور ہوگیا ہوں، کچھ احباب کا خیال ہے کہ یہ غیراخلاقی حرکات، ان شخصیات کا ذاتی معاملہ ہے، لہٰذا ہمیں اس پہ تبصرہ آرائی بھی نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ ہماری سابقہ عدالت عظمیٰ کے جسٹس صاحب بھی تو بڑے عالی دماغ اور مسلمان گھرانے کے چشم و چراغ تھے، انہوں نے غالباً جسٹس ثاقب نثار صاحب نے ”غیرت“ کے لفظ کی تشریح کرتے ہوئے، ”قاتلین غیرت“ کو شک کا فائدہ دے کر بری ہونے پہ پابندی لگادی تھی، کیونکہ اس سے پہلے قاتل اپنے عزیزوں کو غیراخلاقی حرکات کرتے دیکھ کر موقع پہ قتل کردیتے تھے، مگر غیرت کے نام پہ شک کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بری ہوجاتے تھے۔

وطن عزیز کی زرخیززمین کے زرخیز ذہن کے کچھ فن کار اور ادیب ایسے بھی ہیں کہ جنہوں نے اپنے وطن کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور آسکرایوارڈ پہ ایوارڈ لینے کی خاطر ایسے ایسے عیوب پہ فلمیں بنائیں کہ جن کو دوسرے ذرائع استعمال کرکے اس کی بندش اور روک تھام کا بندوبست کیا جاسکتا تھا، اس پہ قانون سازی کرکے تیزاب گردی کا خاتمہ بخوبی کیا جاسکتا تھا، جس وزیراعظم کو عبید چنائے نے وزیراعظم ہاﺅس جاکر فلم دکھائی تھی، انہوں نے غیرت کے لفظ پہ تو پابندی لگانے کی حمایت کردی تھی، مگر اس کی روک تھام تو ریاست مدینہ کے وزیراعظم ریاست مدینہ کے قانون مثلاً ہاتھ کے بدلے ہاتھ، اور کان کے بدلے کان کا قانون لاگو کریں، تو محض ایک آدھی سزا دینے سے تیزاب گردی کا ملک میں مکمل طورپر خاتمہ ممکن ہے، اس درد کا مداوا ممکن تو تب ہے، کہ جب تیزاب گردی کی سزا کو چند سالوں سے بڑھا کا اسلامی تعزیرات کا اطلاق اس پہ کیا جائے، یعنی تیزاب پھینکنے والے ایک مجرم پہ تیزاب پھینکا جائے، تو اس کا مکمل سدباب ممکن ہے، جسے سید مظفر علی شاہ اس طرح سے کہتے ہیں

درد کی دہلیز پر ہے راحتوں کا سلسلہ

دیکھتے ہیں کیسے طے ہو مختصر سا فیصلہ !

قارئین، وطن عزیز میں، ایسی ایسی بدعات ومکروہات فروغ پاچکی ہیں کہ یقین نہیں آتا، کہ ایسا ایک اسلامی مملکت میں ممکن ہورہا ہے، مثلاً سال نو کی خوشی میں حیدرآباد کے شہریوں نے دریا میں پھول اور پھولوں کی پتیاں بہائیں، کیﺅں نے چوکوں اور چوراہوں میں شمعیں جلائیں، بلکہ اب تو شہداءکے لیے فاتحہ خوانی کے بجائے موم بتیاں جلائی جاتی ہیں، حتیٰ کہ شادیوں، اور غمیوں میں بھی ڈھول کی تھاپ پہ دھمال اور رقص کیا جاتا ہے ہزاروں اور درگاہوں پہ عرس پہ دھمالیں ڈالی جاتی ہیں، اور مہندیوں اور مسرتوں کے مواقعوں پہ بھی ”مہندی تاں سجدی جے نچے منڈے دا دادا، اور نانا، کہہ کر ”ارزل عمر“ کے عمررسیدگان کو بھی آزمائش غیبی میں مبتلا کردیتے ہیں۔

آپ نے اکثر یہ بھی دیکھا ہوگا کہ ہرچینل پہ خبروں میں ”اپنے رنگ میں رنگ دے نظام“ یعنی حضرت خواجہ نظام الدین اولیا¿ؒ ، یا چھاپ تلک سب چھین لی موہے نیناں ملا کے (حضرت امیر خسروؒ) جیسے عارفانہ کلمات پہ قابل اعتراض نیم عریاں لباس پہ ماڈلز، کیٹ واک کرتی نظر آتی ہیں کہ الحفیظ الامان ، سن کر اور دیکھ کر انسان کانپ جاتا ہے، کہ تقاضا کلام اور معنی ومفہوم ایسا ہوتا ہے کہ جس میں کسی صورت مطابقت نہیں ہوتی۔ کیونکہ افہام اشعار تو متقاضی ہوتے ہیں، تو یہ تائب ہونے پہ ....مگر یہاں ابلیس اپنی تمام تر رعنائیوں بلکہ شہنائیوں کے ساتھ دل جلا رہا ہوتا ہے۔ ایک اور خاص بات جو ہروقت عوام کو مضطرب ومتفکر بنادیتی ہے، وہ ہے کراچی جیسے پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں کتوں کی ایسی بھرمار ہے، کہ خصوصاً بچوں بوڑھوں، اور خواتین کا گھر سے باہر نکلنا محال ہوگیا ہے، روزانہ کی بنیاد پر درجنوں لوگ کتے کے کاٹے سے ہسپتال پہنچ جاتے ہیں، مگر مریضوں کو اس سے زیادہ ظلم کا شکار ہونا پڑتا ہے، کیونکہ وہاں حکومت نے کتے کے کاٹے کی ویکسین مہیا کرنے کی تکلیف ہی گوارا نہیں کی، حضور کا فرمان ہے، کہ شکار کے لیے اور جانوروں کی حفاظت کے لیے کتا پالا جاسکتا ہے، بلا ضرورت کتا پالنے کی ممانعت ہے، رسول پاک نے ضرررساں اور مبہات شدہ کتوں کو بھی مارنے کا حکم دیا تھا، اور فرمایا تھا، کہ جس نے کتا پالا، اور نہ تو اس سے جانوروں اور نہ کھیت کی حفاظت کا کام لیتا ہے، اس کے پالنے کی ممانعت ہے، گھر میں پالنے سے کپڑے اور برتن بھی نجس ہوسکتے ہیں ۔(حدیث بخاری، مسلم)

مگر شنید ہے، کہ بلاول کی بہن ریاست مدینہ میں بانی مدینہ کے احکامات پر عملدرآمد نہیں کرنے دیتی، بلکہ لاہور میں ”بہتات سگاں “ دیکھ کر پارٹی کی ساکھ بحال کرنا چاہتی ہے۔

میں نے ریحام کی کتاب نہیں پڑھی اس لیے ”معذوری سخن“ ہے، فی الحال صبح کی نشریات ”نئی صبح“ کا آغاز رقص وسرودپہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، جس میں ناظرین بالکل نوعمر بچیاں ہوتی ہیں، جو تھرک تھرک کر ”نیاپاکستان“ بنانے کے لیے لوٹ پوٹ ہورہی ہوتی ہیں ، خدارا نئی نسل کے مستقبل کو بچا لیجئے، اور یہی سچ ہے، بقول مظفر علی شاہ

سچائی کو حاصل ہے بقا روز ابدتک

ویسے تو یہ ہردور میں مصلوب ہوتی ہے


ای پیپر