ہمارا ادبی اثاثہ !
09 جنوری 2020 2020-01-09

(دوسری وآخری قسط)

گزشتہ کالم میں، ملک کے ممتاز شاعر وڈرامہ نگار امجد اسلام امجد کے بارے میں، میں عرض کررہا تھا ”اُن کی ساری عمر لوگوں سے محبت کرتے گزری، اُن کی ساری شاعری بھی محبت ہی کے اِردگرد گھومتی ہے۔ جوشخص لوگوں سے صرف محبت کرنا ہی جانتا ہو، اُس شخص سے نفرت کرنے کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا، مجھے یاد ہے چند برس قبل نوائے وقت کے ”فیملی میگزین“ کے لیے میرا انٹرویو کرنے والی خاتون صحافی نے مجھ سے پوچھا ” آپ کو کس سے محبت ہے؟“ میں نے عرض کیا ”کسی ایک سے نہیں ہے“ .... بے شمار دوسری چیزوں کی طرح ہم نے محبت کو بھی ایک ہی پنجرے میں قید کررکھا ہے، ....بچپن میں ہمیں یہ شعر بڑا پسند تھا ”چاندنی چاند سے ہوتی ہے ستاروں سے نہیں ....محبت ایک سے ہوتی ہے ہزاروں سے نہیں“ ....ذرا بڑے ہوئے تو امجد اسلام امجدنے ہمیں بتایا ” محبت ایک ایسا دریا ہے، کہ بارش روٹھ بھی جائے، پانی کم نہیں ہوتا“ ....میں تو محبت کو ایک سمندرسمجھتا ہوں جس سے کئی دریا نکلتے ہیں، اللہ جانے کیوں ہمارے ہاں کچھ لوگ صرف ایک لڑکی اور لڑکے کے درمیان ہونے والی محبت کو ہی محبت سمجھتے ہیں ؟یہ محبت بھی اب زیادہ تر مخصوص مقاصد کے لیے ہی رہ گئی ہے۔ اصل محبت کسی ایک سے نہیں اللہ پاک کی ہرنعمت سے ہونی چاہیے۔ اِن نعمتوں میں آپ کے ”خونی رشتے“ بھی آتے ہیں، بلکہ سب سے پہلے خونی رشتے ہی آتے ہیں، وہ بھی کوئی انسان ہے جس کے فیس بک پر پانچ ہزار ”فرینڈز“ ہوں، اور گھر میں سگے بھائی سے اُس کی بول چال بند ہو؟۔ اور سب سے زیادہ محبت کرنے کے لیے اللہ ہے، اور رسول اللہ ہیں، ....انٹرویو کرنے والی خاتون نے یہ بھی پوچھا ”آپ کو کس سے نفرت ہے؟“،عرض کیا ”مجھے نفرت سے نفرت ہے“ ....ہاں کبھی کبھی خود سے ضرورنفرت ہوتی ہے، جب اللہ کے احکامات پر عمل نہیں کرپاتا، جب کبھی کبھی شیطان ، ایمان پر حاوی ہو جاتا ہے .... جہاں تک امجد اسلام امجد کا تعلق ہے اُن کا شمار دنیا کے ”دولت مند ترین “ لوگوں میں ہوتا ہے، محبت سے بڑھ کر ”دولت“ بھلا کیا ہوسکتی ہے؟۔ اِس کے باوجود کہ وہ عطا الحق قاسمی کے بہت قریب رہے، اُنہوں نے لوگوں سے ” ملاوٹی محبت“ نہیں کی، محبت اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکی، البتہ محبت نے اُن کا اتنا کچھ سنوار دیا دنیا کی شاید ہی کوئی نعمت ہوگی جس کی تمنا یا طلب اُن کے دل میں رہ گئی ہو، اِس سے شاندار کامیابی کسی کے مقدر میں کیا ہوسکتی ہے کہ جہاں اپنے ملک میں اُن کی خدمات کا ہر فورم پر اعتراف کیا گیا وہاں غیر ممالک بھی اُن کے گرویدہ ہیں، ابھی حال ہی میں ترکی کی حکومت نے اُنہیں ”نجیب فاضل ایوارڈ“ سے نوازا۔ نجیب فاضل ترکی کے مشہور شاعر تھے جو 1904ءمیں پیدا ہوئے، 25مئی 1983ءکو انتقال فرما گئے ۔یہ بہت ہی قابل قدر جذبہ ہے کوئی حکومت اپنے کسی بڑے ایوارڈ کو اپنے ایک بڑے شاعر سے منسوب کرے.... پاکستان میں بھی بڑے بڑے ادیب گزرے، اِک جہان اُن کی خدمات کا معترف ہے، مگر پاکستانی حکومت کو یہ توفیق نہیں ہوئی اپنے کسی قومی ایوارڈ کو اپنے کسی بڑے شاعر یا ادیب کے نام سے منسوب کرے، البتہ پچھلی حکومت نے کچھ سڑکوں کو کچھ قلم کاروں کے نام سے منسوب کرکے نیک نامی ضرور حاصل کی .... اب ترکی کی حکومت نے اُنہیں اتنے بڑے اعزاز سے نوازا ہے تو ہماری حکومت کو چاہیے وہ بھی کسی قومی ایوارڈ کو امجد اسلام امجد کے نام سے منسوب کردے، یا لاہور میں کوئی شاہراہ ہی اُن کے نام سے منسوب کردے، اُن کا زیادہ عرصہ لاہور کے علاقے گڑھی شاہو میں گزرا، کراﺅن سینما کے ساتھ ایک سڑک اندر جاتی ہے جہاں ایک گلی میں اُن کا گھرتھا، اُس سڑک کا نام ”امجد اسلام امجدروڈ‘، یا ”شاہراہ امجد اسلام امجد“ رکھ دینا چاہیے۔ جیسا کہ مجھے خوشی ہے گلبرگ میں جہاں ہمارے ایک عظیم کارٹونسٹ جاوید اقبال رہتے ہیں اُس شاہراہ کو اُن کے نام سے منسوب کردیا گیا، ایسے اقدامات سے حکومتوں کی اپنی ہی نیک نامی ہوتی ہے، ....جہاں تک امجد اسلام امجد کی شاعری کا تعلق ہے وہ بھی منافقوں سے پاک ہے، اُن کے کردار کی طرح ....ورنہ وہ بھی ایسے ہی شعر کہتے ” خوشبوﺅں کا اِک نگر آباد ہونا چاہیے ،....اس نظام زرکو اب برباد ہونا چاہیے “....بھئی آپ خوشبوﺅں کا کوئی نگر دل سے آباد کرنا چاہیں گے، تو ہوگا ناں .... اِس نظام زر

کو آپ دل سے برباد کرنا چاہیں گے تو ہوگا ناں .... جس بدبودار نگر اور نظام زر سے کوئی ساری زندگی فائدہ اُٹھاتا رہا ہو، اُس نگر اور نظام کو برباد کرنے کی خواہش اصل میں ”احسان فراموشی “ ہے ....امجد اسلام امجد کو ایوارڈ ملنے کی خوشی میں فلاحی کاموں میں فعال ادارے ”غزالی فاﺅنڈیشن نے برادرم سید عامر محمود صاحب کی میزبانی میں ایک خوبصورت تقریب کا اہتمام کیا، جس میں میرے علاوہ ارشاد احمد عارف، حفیظ اللہ نیازی، شعیب بن عزیز، خالد مسعود، ڈاکٹر صغریٰ صدف، بشریٰ اعجاز ، پروفیسر نعیم مسعود، قاسم علی شاہ، امیر العظیم، سلمان عابد، اسرار رانا، سید نور، افتخار ٹھاکر سمیت کئی اہم شخصیات شریک ہوئیں۔ اوریا مقبول جان نے امجد اسلام امجد کے حوالے سے اپنی کچھ یادیں تازہ کرتے کرتے ایک گلہ کیا ہماری حکومتیں اپنے لوگوں کی قدر نہیں کرتیں، دیگر کئی حوالوں سے یہ بات درست ہے مگر امجد اسلام امجد کے حوالے سے اس لیے درست نہیں کہ پاکستان کا شاید ہی کوئی بڑا ایوارڈ ہو جو حکومت پاکستان کی جانب سے اُنہیں نہ ملا ہو، اس کا اعتراف تو خود امجد اسلام امجد بھی کرتے ہیں ،ویسے بھی جیسی ہماری حکومتیں ہوتی ہیں، اور جیسے ہمارے حکمران ہوتے ہیں، اُن کی جانب سے ملنے والے ایوارڈز اتنی توقیر کا باعث نہیں ہوتے، جس ملک میں سرکار، مہوش حیات جیسی عورتوں کو ایوارڈ دے رہی ہو، اور حریم شاہ بھی اُمیدوار ہو وہاں کسی سرکاری اعزاز یا ایوارڈ کی کیا توقیر یا قدرباقی رہ جاتی ہے؟۔ حکومتی ایوارڈز یا اعزازات اتنے اہم نہیں ہوتے جتنی لوگوں کی محبت اہم ہوتی ہے، یہ ”اعزاز“سارے سرکاری اعزازات پر بھاری ہے، .... امجد اسلام امجد کو ایوارڈ دینے کی تقریب میں ترکی کے مقبول صدر طیب اردگان نے ان کے لیے جو خوبصورت کلمات کہے وہ سن کر کلیجے میں ٹھنڈ پڑ گئی ،....غزالی فاﺅنڈیشن کی جانب سے منعقدہ تقریب کے بعد میں گھر آیا، میرے بیٹے نے مجھ سے پوچھا”بابا، انکل امجد اسلام امجد کی عمر آپ کے خیال میں کتنی ہوگی؟۔ میں نے اندازاً اُسے بتایا ” چوہترپچھتر برس شاید ہو“ ....اُس نے دوسرا سوال پوچھا”اتنی عمر میں اُن کی اتنی اچھی صحت کا راز کیا ہے ؟۔ میں نے کہا ”اُن کا دماغ، اُن کا دل ، خصوصاً اُن کے ”گٹے گوڈے“ ودیگر اعضاء،شوگر کا پرانا مریض ہونے کے باوجود اب تک صحیح کام کررہے ہیں تو اول وآخر یہ اللہ پاک کی رحمت ہے، جو شاید اِس لیے ہے کہ وہ لوگوں کا بُرا نہیں سوچتے، اکثر دیکھنے میں آیا ہے جس کی نیت ٹھیک ہوگی، اس کی صحت بھی ٹھیک ہی ہوگی !!


ای پیپر