ہائبرڈ جنگ، تیاری کے لیے چند تجاویز
09 جنوری 2019 2019-01-09

ہفتہ 22دسمبر 2018 کو محترم آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نیول اکیڈمی کراچی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہم ہائبرڈ جنگ کے بڑھتے خطرات کا شکار ہیں ۔ دشمن کی نئی چالوں کو سمجھ کر ان کا جواب دینے کے لیئے ہمیں ہمہ وقت تیار رہنا ہوگا ۔ غیر اعلانیہ جنگ کے نئے خطرات کے مرکزی کردار پہلے کی طرح ہمارے اپنے ہی لوگ ہیں ۔ جو نفرت ، خواہشات، زبان ، مذہب اور سوشل میڈیا کے ذریعے گمراہ ہو گئے ہیں ‘‘۔ یہ اس خطاب کا ایک مختصر سا اقتباس ہے ۔ جنرل صاحب کا یہ پیغام درحقیت قوم کو خواب غفلت سے جگانے کے لیئے پیشگی warning ہے کہ اب بھی وقت ہے سنبھل جاؤ ، ورنہ لیبیا ، شام ، یمن اور عراق کی صورت حال آپ کے سامنے ہے ۔

عسکری ماہرین کے مطابق ہابئرڈ جنگ ( Hybrid warfare) ایک ایسی خاموش جنگ جو بیک وقت روائتی ، غیر روائتی ، خفیہ ، ظاہری ، غیر رسمی ، جس میں عسکری قوت کا استعمال بہت کم ہو لیکن ابہام کے پہلو کو ہمیشہ باقی رکھا جائے ۔ اس کو اس وقت تک جاری رکھا جاتا ہے جب تک مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو جائیں یا پھر باقاعدہ جنگ میں تبدیل نہ ہو جائے ۔ جس میں سب سے بڑا ہدف عوام کو بنایا جاتا ہے، ہائبرڈ جنگ ( ہمہ گیر جنگ ) کہلاتی ہے ۔ یعنی ایک ایسی غیر روایتی جنگ جس میں ایک جارح قوم دوسری قوم کو چت کرنے کے لیئے اپنی طاقت کے تمام غیر روائتی ذرائع قانونی اور غیر قانونی طریقے سے استعمال کرتی ہے ۔ پراکسی ، افواہیں ، پروپیگنڈہ ، جھوٹی خبریں ، غیرملکی تخریبی، معاشی اور فکری مداخلت ،میڈیا، سوشل میڈیا ، سائبرکا بھر پور استعمال ، سفارتی ، تجارتی اور ثقافتی محاذ کے علاوہ عوامی مورال کو ڈاؤن کرنے کے لیئے دھمکیاں ہائبرڈ جنگ کے بنیادی ہتھیار ہیں ۔

اس کا مطلب مسلمانوں کے خلاف ہائبرڈ جنگ کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی اسلام کی تاریخ ۔ جس کی ابتداء سیدنا عثمانؓ کی شہادت سے ہوئی ، جس کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیا گیا ۔ پھر اس شہادت کی آڑ میں اس کے ماسٹر مائنڈوں نے فکری ( شیعہ ، سنی اختلافات ) گروہوں میں تبدیل کر دیا ۔ المیہ یہ ہے کہ اسلام دشمن طاقتیں ان اختلافات کی آڑ میں فتنوں (عبداللہ بن سبا، زندیق، حسن بن صبا ، مکتی باہنی ، داعش، الحشد الشعبی ، داعش ، ٹی ٹی پی ، تکفیریت، رافضیت اور خوارج ) کے ذریعے مسلمانوں میں خلیج دراز کرتے جارہے ہیں ۔ موجودہ دور میں سقوطہ ڈھاکہ ، عرب بہاریہ اس کی بدترین مثالیں ہیں ۔

اب سوال یہ ہے کہ جب اس قسم کی جنگ کا ہدف خود عوام ہیں تو جب تک وہ اس کی ہولناکیوں کا ادراک نہیں کر پائیں گئے ، تو وہ اس کے مہلک اثرات سے کیسے بچ سکیں گئے ؟۔چونکہ ہائبرڈ جنگ کی بنیادی پالیسی کا محور، نظریات، خیالات اور فکری سوچوں کو اپنے حق میں کرنے کے ساتھ ساتھ ابہام و تخریب کاری کی جانب گامزن کرنا ہوتا ہے ۔ جس میں خود متعلقہ شخص کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی منزل کیا ہے ۔ ؟ اس لیئے ہمیں سب سے پہلے فکری سوچوں کو ایک قومی دھارے میں جمع کرنا ہو گا ۔جنرل صاحب کے اس بیان کے تناظر میں کچھ تجاویز پیش خدمت ہیں ۔

1۔ اس حساس پہلو ( Hybrid warfare )سے متعلق سب سے پہلے ہر قسم کے تعلیمی ( دینی ، عصری اور سیکورٹی) اداروں سمیت مدارس کے خطباء کو مکمل آگاہی دینا ہو گی بلکہ انتہائی منظم طریقے سے ایک جامع مہم چلانی ہو گی ۔2۔ آفیسران تو کسی حد تک جانتے ہوں گئے لیکن عام اہلکار کو بھی سمجھانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ گذشتہ سالوں میں ایسے ہی لوگ شرپسندوں کے لیئے ترنوالہ ثابت ہوئے ہیں ۔3۔ صوبائی ، وفاقی گورنمنٹ اور پرائیوٹ سیکٹر میں کھولے گئے تمام سکولوں کا تعلیمی نصاب ایک جیسا یعنی یکساں ہونا چاہیے ۔ تاکہ فکری نہج کو ایک نقطے ( پاکستانیت ) پر مرکوز کیا جا سکے ۔4۔ اس نصاب میں سب سے زیادہ اہمیت معاشرتی علوم کو دی جائے ۔ جس میں ان عظیم ہستیوں ، ان کے کارناموں اور ہجرت کے دوران دی جانے والی قربانیوں کا بکثرت کے ساتھ ذکر کیا جائے ۔تاکہ نوجوانوں کے اذہان میں پاکستان کی اہمیت اور محبت کو راسخ کیا جا سکے ۔ 5۔ اسی طرح انگلش نصاب میں بھی ایسی ہستیوں اور پاکستان کی تاریخ اور اہمیت کے حوالے سے مضامین شامل کیئے جائیں ۔ 6۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے خلاف جاری proxy اور سازشوں کے حوالے سے معلوماتی مضامین شامل کیئے جائیں ، جیسے 1971 کی بین الاقوامی سازش ، ڈیموں کی مخالفت ، تکفیریت، رافضیت اور خوارج کا فتنہ ۔

7۔ پاکستان کے محب وطن دینی حلقوں کی مشاورت سے ، پہلی جماعت سے لیکر ایم اے تک اور اسی طرح میڈیکل اور انجینئرنگ کے پانچ سالہ کورسز کے لئے بھی اسلامیات کا نصاب مرتب کیا جائے ۔ 8۔ تمام دینی مدارس سے درس نظامی اور اس کے ساتھ سائنس میٹرک فرسٹ پوزیشن پاس کرنے والے طالب علموں کے لیئے تمام حکومتی اور سیکورٹی اداروں کے کالجوں میں سپیشل سیٹیں رکھی جائیں ، جہاں ان کی عصری تعلیم کے تمام اخراجات حکومت وقت اٹھائے ، تاکہ ان کو قومی دھارے میں لایا جا سکے ۔

9۔ ہنگامی بنیادوں پر تمام طبقوں اور حلقوں کی مشاورت سے سوشل میڈیا کو کنڑول کرنے کی پالیسی مرتب کی جائے ۔ جس میں کسی بھی مسلک اور ملکی سلامتی کے خلاف کوئی بھی پوسٹ یا مواد تعزیرات پاکستان کے تحت ناقابل ضمانت جرم قرار دیا جائے ۔ 10۔ فرقہ واریت پر مبنی لٹریچر ، تقاریر سمیت امہات المؤمنینؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علھیم اجمعینؓ پر طعن وتشنیع کو بدترین دہشت گردی کی دفعات میں شامل کیا جائے ۔ 11۔ تمام صوبائی اسمبلیوں سمیت ، قومی اسمبلی اور سینٹ میں ایک قرار داد پاس کر کے اسے قانونی شکل دی جائے کہ آج کے بعد پاکستان میں لسانیت ، صوبائیت اور فروعی سیاست کو شجرہ ممنوع قرار دیا جائے ۔ تاکہ پاکستان کو ہر پہلو سے امن کا گہوراہ بنایا جا سکے ۔ 12۔ سیاست دانوں سمیت سول اور سیکورٹی اداروں میں جو بھی شخص رشوت یا کرپشن میں ملوث پایا جائے ، اس پر تاحیات سیاست اور گورنمنٹ جاب پر پابندی لگا دی جائے ۔

ملکی سلامتی سے متعلق پالیسیاں بناتے وقت ایک بات ہمیشہ ذہن نشین رہنی چاہیے کہ کرپشن ( حرام کی کمائی) اور حب الوطنی کبھی بھی ایک سوچ ، ایک فکر اور ایک جسم میں اکٹھی نہیں ہو سکتی ۔


ای پیپر