ڈاکٹرفوادسیزگین اور علوم کی آبنائے
09 جنوری 2019 2019-01-09

آبنائے باسفورس ایشیااور یورپ کی حدوں کو جداکرتی ہے ۔ استنبول میں وہ جگہ جہاں سے BEYKOZ جانے کے لیے معدیہ یعنی فیری چلتی ہے ایمی اونوکہلاتی ہے ۔ہم نیلی مسجدسے نکلے تو ہماری اگلی منزل ایمی اونو تھی۔ مسجد سے نکلتے ہی ڈاکٹر درمش بلغرکا فون آگیا جو وہاں ہماراانتظارکررہے تھے ۔چنانچہ احمداور جہات ہمیں لے کر ایمی اونوکی طرف روانہ ہوگئے۔ جب ہم آیا صوفیہ، نیلی مسجداور توپ کاپی کے اسکوائرسے نکلے تو راستے میں ایک عمارت پر لگے ہوئے ایک چھوٹے سے بورڈ نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ۔اس بورڈ پر جامعہ سلطان محمد فاتح (وقف)پروفیسرڈاکٹر فوادسیزگین ،ادارۂ تاریخ اسلام لکھاہواتھا (Fatih Sultan Mehmet Vakif Universitesi۔Prof Dr Fuat Sezgin Islam Bilim Tarihi Enstitusu)میں چونک کررکا ۔۔۔ارے ڈاکٹر فوادسیزگین کانام ۔ ایک شاندار عمارت، جس کی پیشانی پر چھ کالموں میں عربی رسم الخط اور فارسی اندازمیں اشعار لکھے ہوئے تھے۔ بلندی کے باعث اشعار پڑھے تو نہیں جاسکتے تھے البتہ ان کی خطاطی کے حسن اور تناسب کو ضرور محسوس کیاجاسکتاتھا ۔اس عمارت اور ڈاکٹرفوادسیزگین کے نام میں میری دل چسپی دیکھ کر احمد اور جہات حیران ہوئے۔ مجھ سے پوچھنے لگے کہ کیا آپ ڈاکٹر فوادسیزگین کو جانتے ہیں ۔۔۔؟یہ ان کا دفتر ہے ۔میں نے کہالیکن وہ تو فرینکفرٹ میں رہتے تھے ۔ان کا خیال تھا کہ شایدیہاں بھی ان کا دفتر رہا ہے جس کی یادمیں ان کے نام کی تختی یہاں آویزاں ہے ۔اگرچہ یہ بھی ہوسکتاہے کہ اس ادارے کو ان کے نام سے منسوب کیاگیاہو تاہم میرے لیے یہ بات وجہ مسرت تھی کہ میں ترکی میں جدید ترکی کے ایک بڑے عالم کے نام کی تختی اور ان سے منسوب ادارے یا ان کے دفترکو دیکھ رہاہوں ۔ڈاکٹر فوادسیزگین ترک نژادتھے۔انھوں نے ۲۴۹۱ء سے ۷۴۹۱ء تک استنبول میں مشہورمستشرق ریٹر(H Ritter )سے تعلیم حاصل کی ۔ریٹر عربی اور اسلامی علوم کے بارے میں بروکلمان کی تحقیقات سے جوان کی معروف کتاب Geschichte der Arabischen Litteraturکی صورت میں اہل علم میں متداول ہے، مطمئن نہیں تھے ۔خیال یہ تھاکہ عربی واسلامی علوم کی تاریخ اس وقت تک نہیں لکھی جاسکتی جب تک مختلف علوم میں مسلمانوں کے کام کی ایک فہرست تیار نہ ہوجائے بہ قول فوادسیزگین خود اس کام سے پہلے بعض جزئی مسائل کامطالعہ بھی ضروری ہے جس میں کم از کم ایک صدی صرف ہوجائے گی۔

۱۵۹۱ء میں استنبول میں منعقدہونے والی مستشرقین کی عالمی کانفرنس نے بھی اس موضوع پر ایک کمیٹی بنائی کہ بروکلمان کے کام میں موادکے دائرے کی توسیع ہونی چاہیے تاآنکہ وہ تمام دنیامیں عربی سرمائے کے مخطوطات پر حاوی ہوجائے۔بروکلمان کے کام کے بارے میں اس عدم اطمینان نے فوادسیزگین کے ہاں بروکلمان کے کام کی تکمیل کے خیال کو جنم دیا ۔وہ ساٹھ کی دہائی تک اس کام میں لگے رہے لیکن پھراس نتیجے پر پہنچے کہ ان کے کام کو بروکلمان کی کتاب کے ذیل کی حیثیت سے نہیں بلکہ الگ

حیثیت سے سامنے آناچاہیے چنانچہ انھوں نے اپنے کام کو’’ تاریخ التراث العربی ‘‘جیسے بڑے منصوبے کاروپ دے دیا۔اس منصوبے کو انھوں نے تمام ترمشکلات اور رکاوٹوں کے باوصف محض اپنی ’’قوت ایمانی جو تمام رکاوٹوں اور دشواریوں سے قوی تر‘‘تھی اوراحساس ذمہ داری کے سبب جس میں’’ یاس سے زیادہ قوت تھی ‘‘مکمل کرلیاان کا یہ کام جرمن زبان میں Geschichte der Arabischen Litteraturکے عنوان سے شائع ہو چکا ہے۔

وہ ترکی سے جرمنی چلے گئے اور وہاں جاکر گوئٹے یونی ورسٹی فرینکفرٹ میں ادارہ تاریخ علوم عربیہ و اسلامیہ کے سربراہ ہوگئے ۔وہ۴۲؍اکتوبر ۴۲۹۱ء کو ترکی میں پیداہوئے اور گزشتہ برس ۰۳؍جون کو استنبول میں جان عزیز،جان آفرین کے سپردکردی۔وہ انٹرنیشنل اسلامک کلوکیم میں شرکت کے لیے پاکستان بھی آئے تھے جو ۹۲؍دسمبر۷۵۹۱ء سے ۸؍جنوری ۸۵۹۱ء تک پنجاب یونی ورسٹی کے زیراہتمام لاہورمیں منعقدہواتھا۔راقم کے پاس اس کلوکیم میں شرکت کے لیے ان کی جانب سے ارسال کردہ اسٹوڈیو کی بنی ہوئی تینتیس سالہ پر شباب فوادسیزگین کی ایک تصویربھی محفوظ ہے ۔ہم کچھ دیر ان کے احترام میں اس یادگاری تختی کے پاس کھڑے رہے۔ فوادسیزگین بحرالعلوم تھے ،ہمیں اب بحرعلوم سے ’’بحر باسفورس‘‘ کی جانب جاناتھاہم نے’’ بحرعلوم‘‘ سے منسوب عمارت کی تصویربنائی اورباسفورس جانے کے لیے ایمی اونو کی سمت روانہ ہوگئے ۔

ایمی اونو میں ڈاکٹردرمش صاحب ہمارے منتظرتھے یہاں لوگوں کا ازدحام تھا۔ کھوے سے کھواچل رہاتھا ۔احمداور جہات ہمیں درمش صاحب کے سپردکرکے ہم سے جداہوگئے ۔درمش صاحب نے اس ہجوم میں ہماراہاتھ تھامااور ہجوم کو چیرتے ہوئے ساحل کی سمت بڑھے ۔اس سفر میں درمش صاحب ہمارے لیے خضرراہ کا کرداراداکررہے تھے لیکن شکر ہے کہ انھوں نے خضر کی طرح کشتی میں سوراخ نہیں کیا ورنہ تو ہم بھی بہ زبان حافظ یہی کہہ رہے ہوتے کہ

تہیدستانِ قسمت را چہ سود ازرہبرکامل

کہ خضرازآبِ حیوان تشنہ می آردسکندررا

یہی مضمون غالب نے حافظ سے لیااوراسے اپنے مشہور شعرمیں یوں سمودیاکہ ’’کیاکیاخضرنے سکندرسے228اب کسے راہ نماکرے کوئی ‘‘بہ ہر حال ہمارے سامنے ٹھاٹھیں مارتی آبنائے باسفورس تھی ۔نیلی مسجد سے آنے والے اب نیلے پانیوں کا سامناکررہے تھے ۔فاسفورس میں فیریاں اپنی بہاردکھارہی تھیں ۔مجھے مصریاد آیا جہاں ہم نے سمندروں اور نہروں میں فیریاں دیکھیں اور ان میں سفر کیے ۔ ٖferryکے انگریزی لفظ کواردومیں ناؤہی کہاجاسکتاہے لیکن ناؤایک عام لفظ ہے جو کسی بھی کشتی کے لیے استعمال کیاجاسکتاہے ۔فیری توگویا پورا بحری جہازہوتاہے جس میں انسان کیا پوری پوری سڑک کی ٹریفک سماجاتی ہے ۔نہرسویزپرکہیں کوئی پل نہیں بنایاگیاہے ایساکرنے سے عالمی تجارت کی راہ میں رکاوٹ پیداہوجاتی ۔نہرکے دونو کناروں پر آبادشہروں کو ملانے کے لیے فیریاں چلتی ہیں جو ایک جانب کی سڑک کی پوری ٹریفک گاڑیوں بسوں ٹرکوں اور انسانوں سمیت اٹھاکر نہر کے دوسرے کنارے پہنچادیتی ہیں ۔عربی میں فیری کو’’ معدیہ‘‘ کہاجاتاہے اور ان میں سوار ہونے کے لیے کسی ٹکٹ کی ضرورت نہیں۔ہم نے مصرکے شہراسماعیلیہ میں ایک سے زیادہ بارمعدیہ میں سفر کیاجس کی رودادمیں اپنے سفر نامے’’ نہرسویزکے ساتھ ساتھ ‘‘میں بیان کرچکاہوں۔ترکی میں معدیہ کا سفر مفت نہیں اس کا باقاعدہ ٹکٹ لیناہوتاہے۔اس ٹکٹ کی ادائیگی اسی کارڈ کے ذریعے ہوگئی جو ہم نے بسوں اور گاڑیوں میں سفر کے لیے لے رکھاتھا ۔یہاں اتنا ہجوم تھا کہ ہم کسی راہ نماکے بغیرہوتے تو ہمیں کئی فیریاں گزرجانے کے بعدبھی سوارہونے کا موقع نہ ملتا لیکن ڈاکٹردرمش صاحب اپنی واقفیت اور مہارت کے باعث ہمیں پہلی ہی فیری میں سوار کروانے میں کامیاب ہوگئے ۔یہ ایک بحری جہازکی طرح تھی، بڑا ہال کمرہ جس میں ہوائی جہاز کی طرح سیٹیں اس کے باہر کھلے آسمان تلے بیٹھنے کی سہولت،سیڑھیاں چڑھ کر اوپر چلے جائیں تو عرشے سے ہرجانب پانی میں ڈوبی ہوئی دنیا کا نطارہ ۔ہم کچھ دیر بڑے ہال میں بیٹھے لیکن اس کی کھڑکیوں سے سمندر یوں دکھائی دے رہاتھا جیسے ہوائی جہاز کی کھڑکی سے آسمان ۔ہم جلد ہی اپنی نشستیں چھوڑ کر باہر آگئے ،تیز ہوا نے ہمارااستقبال کیا۔ملبوسات اوربال اڑنے لگے اور کیمرے متحرک ہوگئے۔ لوگ تصویریں بنانے میں مصروف تھے۔ حذیفہ نے بھی کیمرہ تان لیا اور ادھرادھر ہر جانب پھیلے نیلے پانی کی تصویریں بنانے لگا ۔ہرطرف پانی ہی پانی تھا، دور کہیں مرمرہ کی پہاڑیاں تھیں جن پر پراناشہر آباد تھا ۔


ای پیپر