2019 ء عمران خان کے لیے چیلنجز
09 جنوری 2019 2019-01-09

نیا سال نئے پاکستان کے لیے چیلنجز لے کر طلوع ہوا ہے جس میں تحریک انصاف کی حکومت کو بہت سے محاذوں پر بیک وقت نبرد آزما ہونا پڑے گا اور کرکٹر وزیر اعظم عمران خان کی اصطلاح میں آخری وقت تک گیند پر نظر رکھنی پڑے گی اور لائن اینڈ لینتھ کا خاص خیال رکھنا ہو گا ۔ اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت کو محتاط کھیل کا مظاہرہ کرنا ہو گا اور زیادہ سے زیادہ وقت گراؤنڈ میں رہنا ہو گا تاکہ وہ اپنا ایجنڈا مکمل کریں اور عوام سے کیے گئے عہد و پیماں پر کچھ ڈیلیور کریں۔

اس سلسلے میں سب سے بڑا چیلنج معاشی اصلاحات کا ہے تا کہ عام آدمی کا طرز زندگی بہتر ہو سکے۔ روپے کی بے قدری کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا جو نیا طوفان اٹھا ہے اس میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 30 فیصد تک اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ جس نے غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ حکومت نے اقتدار میں آنے سے لے کر اب تک 1200 ارب روپے سے زائد کے نئے کرنسی نوٹ چھاپ کر عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے جو کہ بیمار معیشت کی علامت ہے۔ قرضوں کے حجم میں ڈالر اوپر جانے کی وجہ سے راتوں رات 900 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ اس میں امید کی کرن یہ ہے کہ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور چائنہ سے زر مبادلہ کی امداد ملنے اور عرب دوستوں سے ادھار پٹرول کی سہولت کی وجہ سے کچھ بہتری آئی ہے مگر عام آدمی تک اس کا اثر نہیں پہنچا۔ اس تک آئی ایم ایف سے نئے قرضے کی حصول اور 12 ارب ڈالر کی گزشتہ قسط کا معاملہ جوں کا توں ہے۔ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس پر شرح سود دنیا بھر کے بینکوں اور ریاستی قرضوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے مگر ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ یہ قرضے ملک کی ترقی پر خرچ ہونے کی بجائے چور دروازوں سے ملک سے باہر بھیج دیئے جاتے ہیں۔

معیشت کی بات چلتی ہے تو ملکی خزانے سے ہونے والی Bleeding ہی دراصل پاکستان کے اقتصادی ڈھانچے کی تباہی کی ذمہ دار ہے اور پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن ہی اس وعدے پر جیتا ہے کہ وہ حکومت میں آ کر قوم کا لوٹا ہوا مال واپس لائیں گے۔ اس سلسلے میں نیب کا عمل جاری ہے۔ شریف فیملی میں نواز شریف کو سزا دی جا چکی ہے اور شہباز شریف کے خلاف مقدمات میں اتنی طاقت ہے کہ انہیں بھی یقینی سزا ہونی ہے۔ دوسری طرف سندھ میں اومنی گروپ کے توسط سے ملک سے اربوں روپے کے جعلی اکاؤنٹ کی مدد سے منی لانڈرنگ کے ثبوت منظر عام پر آ چکے ہیں جس میں آصف زرداری اور فریال تالپور پر فردِ جرم ہفتوں کا معاملہ ہے ایٹمی ملک کو دو طاقتور ترین پارٹیوں کے خلاف اس طرح کی کارروائی bockfire ہو سکتی ہے۔ اس وقت ملکی سرمائے کا بڑا حصہ (ن) لیگ اور پی پی پی کی قیادت اور ان کے حمایت یافتہ سرمایہ داروں کے قبضے میں ہے اور اگر وہ اس حکومت کو فیل کرنا چاہیں تو وہ ملک کی سٹاک مارکیٹ پر لرزہ طاری کر سکتے ہیں لہٰذا حکومت کو دیکھنا ہو گا کہ احتساب کے عمل کی بازگشت کہاں تک پہنچتی ہے۔ یہ پارٹی مہنگائی کو بنیاد بنا کر ملک گیر احتجاج کو سپانسر کر سکتی ہیں جس سے عمران خان کو حکومت کے لالے پڑ سکتے ہیں۔ اس لیے اسے اس بات کو دیکھنا ہو گا کہ وہ اپنی ٹرم پوری کرنے کی کوشش کرے۔ اس ضمن میں اقتصادی لحاظ سے دیکھا جائے تو نوا زشریف اور آصف زرداری کو قید کرنے سے عوام کو کچھ نہیں ملے گا اصل بات لوٹی ہوئی رقم کی واپسی ہے اور یہ کام ناممکنات میں نظر آتا ہے۔ لہٰذا حکومت کو سوچنا ہو گا کہ وہ آؤٹ آف کورٹ کوئی ایسی settlement کر لیں جس سے دونوں بڑی پارٹیوں کی قیادت کی جان بخشی بلکہ جیل بخشی کے عوض Plea bargain کی طرز پر جو بھی مل جائے وہ لے کر معاملے کو رفع دفع کریں ان کے سامنے جدہ پیکٹ کی مثال موجود ہے۔ اس پس منظر میں ہم نے تو یہ سرگوشیاں بھی سنی ہیں کہ عمران خان کے دورۂ ترکی کے دوران طیب اردوان نے انہیں reconsiliation کی تجاویز دی ہیں۔ طیب اردوان کا شمار نوا زشریف کے ذاتی دوستوں میں ہوتا ہے اور وہ شریف فیملی کی مشکل کشائی چاہتے ہیں۔ ترکی میں بھی پاکستانی سیاستدانوں کی خفیہ جائیدادوں کے امکانات سننے میں آ رہے ہیں۔

اقتصادیات کے بعد اہم مسئلہ خارجہ تعلقات کا ہے جس کی حالت معاشی پرفارمنس سے زیادہ خراب ہے۔ لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ عمران خان نے پاکستان کے دو دیرینہ دوست سعودی عرب اور امارات جو پاکستان سے روٹھے ہوئے تھے انہیں منا لیا ہے ان میں ایک تو یمن جنگ میں نوا زشریف کی جانب سے فوج بھیجنے سے معذرت کی وجہ سے کشیدگی پیدا ہوئی تھی دوسرا Expo 2020 کی میزبانی کے معاملے پر امارات اور ترکی کے درمیان مقابلے میں پاکستان نے امارات کو نظر انداز کر کے ترکی کو ووٹ دیا جو ہار گیا یہ آصف زرداری کے دور میں ہو اتھا۔ گویا عمران خان نے نواز شریف اور آصف زرداری کی جانب سے ناقص سفارتکاری کو کور کرتے ہوئے ان دونوں ممالک سے تعلقات بحال کر لیے ہیں۔ سفارتی سطح پر اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اپریل میں انڈیا میں نئے انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور پاکستان انڈیا مذاکرات سالہا سال سے بحران کا شکار ہیں وہاں پر رائے عامہ سے لگ رہا ہے کہ آنے والے الیکشن راہول گاندھی جیت کر وزیراعظم بنیں گے اگر ایسا ہوتا ہے تو حکومت کے لیے انڈیا کے ساتھ مذاکرات کرنا زیادہ آسان ہو جائے گا۔ اس سے قبل پاکستان نے سکھوں کے لیے کرتارپور کاریڈور بنا کر بارڈر پار بہت سے سکھوں کے دل جیت لیے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ پاکستان تعلقات ایک عرصے سے بحران کا شکار ہیں اور ڈونالڈ ٹرمپ نے کئی بار پاکستان کو سنگین دھمکیاں دیں ہیں مگر عمران خان حکومت کے برابری کی سطح پر جوابی بیانات نے کام دکھایا اور اب ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ پاکستانی قیادت سے بات چیت کرنے پر آمادہ ہیں ۔ افغانستان میں جنگ بندی اور طالبان کو سیاسی دھارے میں لانے کے لیے پاکستان کو باہر رکھ کر کامیابی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ اب امریکہ نے یہ محسو س کر لیا ہے۔ یہ بھی اتفاق کی بات ہے کہ سعودی عرب ، امارات اور پاکستان ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں یہ وہی تین ممالک ہیں جنہوں نے 1996ء میں بننے والی طالبان حکومت کو تسلیم کیا تھا۔ یہ ایک دفعہ پھر مل کر افغانستان میں اپنا کردار ادا کر یں گے۔اس طرح چائنہ کے ساتھ CPEC میں شراکت اقتصادی اور علاقائی سکیورٹی کی خاص ہے جسے مزید مضبوط کرنے کے لیے پاکستان کو چین کا اعتماد بحال کرنا ہو گا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ گزشتہ ماہ چینی قونصلیٹ پر حملے میں شہید ہونے والے پاکستانی پولیس اہلکاروں کے لیے چین میں عوام نے چندہ جمع کر کے ان کی فیملیز کو دیا ہے۔ اس سے انہیں دو ممالک کے درمیان تعلقات کا اندازہ ہو جانا چاہیے ۔ اس تعلق کو مزید آگے لے جانا ہو گا۔

پاکستان کی داخلی حکمرانی میں دو فیکٹر ہمیشہ بڑے اہم ہوتے ہیں عدلیہ اور آرمی ۔ نئے سال میں 18 جنوری ہی کو نئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اپنے عہدے کا حلف اٹھانے جا رہے ہیں وہ ایک سال تک چیف جسٹس ہوں گے اور ان کے دور میں ہی احتساب کا عمل مکمل ہو گا ان کی شہرت اور پس منظر سے لگتا ہے کہ وہ اپنے فرائض کماحقہٗ انجام دیں گے۔ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے نومبر میں ریٹائر ہونا ہے۔ عمران خان نے اپنے صوابدیدی اختیارات کے ذریعے موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع یا نئے آرمی چیف کا تقرر کرنا ہے جو ان کے لیے دور رس نتائج کا حامل ہو گا۔

آخری بات یہ ہے کہ ڈیم فنڈ کے لیے چلائی گئی مہم میں کچھ سستی آ چکی ہے۔ اس پر نئے سرے سے کام کا آغاز کرنا ہو گا اور درمیانی عرصے میں انڈیا کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اپنے حصے کا پانی حاصل کرنے کے لیے سفارتکاری تیز کرنا ہو گی۔جہاں تک سندھ میں صوبائی حکومت کی تبدیلی کا معاملہ ہے یہ کام اتنا آسان نہیں ہوگا فاطمہ بھٹو اور ذوالفقار جونیئر کی پی ٹی آئی میں شمولیت کی خبریں ہیں مگر انہیں سندھ میں مقبولیت حاصل کرنے میں وقت درکار ہے۔ اگر سندھ میں غیر آئینی راستہ اختیار کیا گیا تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔


ای پیپر