رہنماؤں نے مار ڈالا ہے
09 جنوری 2019 2019-01-09

مدینہ میں پہلی اسلامی ریاست قائم ہوئی تو نبی کریم حضرت محمدؐ نے ایک صالح اور پرامن معاشرہ ترتیب دیا اور ایسے اصول وضع کئے جن پر عمل پیرا ہو کر قیامت تک امن آشتی سکون و راحت سے زندگی بسر کی جاسکتی ہے مدینہ کی ریاست میں سبکو مساوی حقوق حاصل تھے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چودہ سوسال پہلے ان تمام امور کی نشاندہی فرمادی تھی جن سے ایک پرامن صالح معاشرہ تشکیل پاسکے نبی کریمؐ نے عرب کے بدووں کو ایسی تہذیب و تمدن رہن سہن کے طریقے سکھائے کہ دنیا نے صحرائے عرب کے شتر بانوں سے آداب معاشرت سیکھے

انگریز نے ہندوستان پر طویل عرصہ اپنا تسلط قائم رکھا انگریزوں کے مظالم اور غلامی کی زندگی سے تنگ آئے آزادی کے متوالے آزادی کے نعرہ مستانہ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے یہ وہ وقت تھا جب ایک طرف مسلمانوں کا عالمی منظر نامہ بدل رہا تھا تو دوسری طرف ہندوستان کے مسلمان بھی تبدیلیوں میں ڈھل رہے تھے پہلی جنگ عظیم کے بعد ترکی کی خلافت کا خاتمہ ہوگیا انبیاء کی سرزمین فلسطین میں دنیا کے یہودیوں کو بسانے کی باضابطہ کوششیں شروع ہوچکی تھیں فلسطینیوں کی زمینیں چھین لی گئیں مسلمانوں سے بیت الاول بیت المقدس بھی چھینا جارہا تھا انگریز اور یہودی مسلمانوں کو غلام بنانے کی سعی کررہے تھے 1920 میں یہودیوں کی حکومت کا اعلان کردیا گیا مسلمان غلامی کے گرداب میں پھنسے تھے طاغوتی اور استعماری قوتیں مسلمانوں کی گردن دبوچنے کے درپے تھیں ترکی کی خلافت کے خاتمے کے بعد اسرائیل کے قیام فلسطینیوں پر ڈھایا جانے والا مظالم کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جو ہنوز جاری ہے ادھر برطانیہ برصغیر کے سیاہ و سفید کا مالک بن چکا تھا علامہ اقبال مسلمانوں کی منزل متعین کرچکے تھے مولانا ظفر علیخان۔مولانا محمد علی جوہر اور حسرت موہانی علامہ اقبال جیسے عظیم شاعر ادیب اپنے اشعار اور تحریروں کے ذریعے مسلمانوں میں تڑپ پیدا کرچکے تھے سرسید تو دوقومی نظریہ بیان کرہی چکے تھے ہندوستان کی آزادی کے بعد مسلمانوں کا ہندووں کے ساتھ رہنا ممکن نہ تھا لہذا قائد اعظمؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں آزادی کا قافلہ رواں دواں رہا بالآخر مسلمانان ہند نے لازوال قربانیوں کے بعد پاکستان کی صورت میں مرادوں کی منزل پائی جہاں اپنا مال جان سب کچھ لٹا کرآنے والوں نے دیکھے ہوئے خوابوں کی تعبیر پائی اور سکھ کا سانس لیا قیام پاکستان کے بعد آج تک ہم عظیم قربانیوں سے حاصل ہونے والے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پاکستانیوں کے لئے کوئی منظم اصول وضع کرسکے نہ ہی کوئی انکے حقوق کی پاسداری کے لئے جدوجہد ہوسکی

قیام پاکستان کے بعد ہم مرادوں کی اس منزل کا آج تک کوئی سیاسی تعلیمی مذہبی معاشرتی ڈھانچہ تک تشکیل نہیں دے سکے ہرسیاسی جماعت خود کو اعلی و ارفع سمجھتی ہے ہر مذہبی جماعت خود کودوسری جماعت سے بہتر قرار دیتی ہے ہم کتنا ہی پڑھ لکھ جاتے ہیں لیکن اپنی اپنی ذات کے حصار سے نہیں نکلتے حالات ایسے ہیں کہ ہرکوئی دن گذرنے کے بعد شام کو گھر سلامت پہنچنے کو بڑی کامیابی سے تعبیر کرتا ہے ہم پہلی اسلامی ایٹمی قوت اور اسلام کا قلع ہیں ہم نے بقول علامہ اقبال دنیا کی رہنمائی کرنی ہے اور ابھی تک خود بھٹک رہے حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سوسال پہلے ہماری راہوں کاتعین کردیا تھا یہاں کسی کو کاروباری سہولیات میسر ہیں نہ ہی سرکاری ملازم اپنی نوکری کے حوالے سے اطمینان رکھتا ہے ہر کوئی کسی ہیجانی کیفیت کا شکار ہے بے یقینی میں مبتلا سب لوگ سرگرداں ہیں گذشتہ ماہ لاہور میں اپنے معصوم بچوں کے ساتھ ٹھٹھرتی ہوئی سردی میں بہبود آبادی کی ہیلتھ ورکرز اپنی نوکریوں کے لئے سراپا احتجاج نظر آئیں کیا ستم ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں لیڈی ہیلتھ ورکرز اپنی ملازمت کے لئے رہین منت سرکار ہیں ۔نیشنل بنک کے ریٹائرڈ ملازمین کی 70% پینشن کی ادائیگی التواء کا شکار ہے نیشنل بنک کے ہزاروں ریٹائرڈ ایمپلائز اس ادائیگی کے انتظار میں اس دنیا سے کوچ کر چکے اور اپنا استغاثہ لے کر اللہ کے حضور پیش ہو چکے ہیں اور اس دنیا میں ان کی بیوگان اور بچے کسمپرسی کی حالت میں ایڑیاں رگڑ رہے ہیں ملک کی سپریم کورٹ کا فل بنچ NBP ریٹائرڈ ایمپلائز کے حق میں فیصلہ دے چکا ہے اور اس بات کو بھی تقریبا '' عرصہ دو سال گذچکا ہے یہ لوگ عزت مآب جنابِ ثاقب نثار کی خدمت میں بھی فریاد کناں ہیں کہ اپنے فیصلے پر عملدرآمد کروائیں کیونکہ نیشنل بنک کے حکام تو یہ سوچے بیٹھے ہیں بقیہ ماندہ بزرگ پنشنرز بھی جن کا اپنا خون پسینہ اس ادارے کی بنیادوں کو مظبوط بنانے میں شامل ہے

ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صل اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو گورنر (عامل) بنا کر یمن کی طرف بھیجا تو آپ نے انہیں ہدائت فرمائی کہ اپنی رعایا کے معاملے میں اور مظلوم کی بددعا سے ڈرتے رہنا اس کے اور اللہ کی درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا:

کاش کہ یہ ہدایت جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت معاز رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر تعینات کرتے ہوئے فرمائی تھی اس کو ہمارے حکمران بھی نظر میں رکھیں

وفاقی محتسب کی تازہ رپورٹ نے معاشرتی کرداروں کو اور بھی بے نقاب کردیا ہے جس میں سانحہ قصور جنسی تشدد کیس کے 272 واقعات میں سیاستدانوں جاگیراروں وکلاء پولیس کی پشت پناہی کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے حیرت تو یہ ہے ان 272 کیسز میں صرف 5 مجرم ہی سزا پاسکے باقی انجام سے بچ نکلے زینب قتل کیس کے بعد بھی بچیاں جنسی ہوس کا شکار ہوتی رہیں ابھی کچھ دن پہلے ہی تو ایک معصوم کلی کو مسل کر قبرستان پھینک دیا گیا معاشرے کی تباہی کا یہ سلسلہ کہاں جا کررکے گا خدا جانے لیکن اتنا ضرور ہے کہ جب تک معاشرے میں ریاست مدینہ کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوگا معاشرے مسائل کی دلدل میں دھنسا رہے گا

1965اور1971اور اس سے پہلے جنگی زخمیوں کے لئے ساڑھے سولہ روپے ماہانہ مقرر کئے گئے تھے کیا ستم ہے وہ آج بھی ساڑھے سولہ روپے ہی مل رہے ہیں کمال تو یہ ہے کہ بعض بزرگوں کو ساڑھے سولہ روپے حاصل کرنے کیلئے ڈیڑھ سو روپے کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے لوگ ملک سے باہر بیٹھے ہیں اور ڈاکخانوں میں انکی پنشن وصول کرلی جاتی حتکہ مرے ہوئے افراد کی پنشن تک وصول کر لی جاتی ہے تعلیمی اداروں ہسپتالوں کے فنڈ خورد برد کرلئے جاتے ہیں یہ تو عام سی باتیں ہیں یہاں ایسی ایسی مہارت سے ایسے ایسے کام ہورہے ہیں حیران ہوئے بغیر چارہ نہ ہو جی ہاں یہاں ایسی لاتعداد قباحتیں ہیں جو ناسور بن چکی ہیں منیر نیازی سے پوچھا گیا آپ کیلئے کونسا لمحہ خوشی کا ہوتا ہے انہوں نے فرمایا جب حکومت بدلتی ہے میرے ملک میں شائید یہی ایک لمحہ خوشی کا رہ چکا ہے کہ حکومت کے بدلنے پہ ایک امید سی وابستہ ہوتی ہے کہ شائد اب کوئی کچھ بہتر کرے گا حکومتیں بدلتی ہیں لیکن حالات نہیں بدلتے واقعات بدلتے ہیں لیکن موضوعات نہیں بدلتے وہی ایک دوسرے پر الزام تراشنے کھینچاتانی ہے جسے دیکھئے اپنی ہستی کی مستی میں گم ہے مجھے اپنا ہی ایک قطعہ پیش کرنا پڑ گیا ہے

ہم کو کچھ بھی نظر نہیں آتا

کس طرح کا یہاں اجالا ہے

عزت نفس تک نہیں باقی

رہنماؤں نے مار ڈالا ہے


ای پیپر