نبی اکرم ﷺ نے حضرت حمزہ ؓ کو ایسی چادر کا کفن پہنا یا کہ جان کر آپ ۔۔۔
09 جنوری 2019 (17:14) 2019-01-09

حافظ محمد عمر:

اللہ تعالی نے امام الانبیاءوالمرسلین کی نسبت گرامی کے سبب حضرات اہل بیت کرام و صحابہ عظام رضی اللہ تعالی عنہم کو امتیازی شان اور خصوصی فضیلت عطا فرمائی۔ ان کے سروں پر عظمت و رفعت کا تاج سجایااور انہیں شرافت وبزرگی کی نعمت لازوال سے مالامال فرمایا۔ اللہ تعالی نے حضرات اہل بیت کرام ؓ کو پاک وصاف رکھا اور ان کی پاکی وطہارت کے بیان میں آیت کریمہ نازل فرمائی:

ترجمہ: بیشک اللہ تعالی تو یہی چاہتا ہے اے نبی ( ) کے گھرانے والو کہ تم سے ہر ناپاکی کو دور رکھے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کر دے۔ (سورة الاحزاب)

اور حضرات صحابہ کرام ؓ سے متعلق اپنی رضا وخوشنودی کا اس طرح اظہار فرمایا:

ترجمہ:” اللہ تعالی ان تمام (صحاب کرامؓ ) سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ تعالی سے راضی ہوگئے، اور اللہ تعالی نے ان کے لئے (بہشت کے ) ایسے باغ تیار کئے ہیں؛ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

(سورة التوبہ)۔ اسی طرح سورة نساءمیں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ترجمہ: ” اور اللہ تعالی نے تمام صحابہ کرام سے جنت کا وعدہ فرمایا ہے“۔

ہمارے لئے سعادت اور نجات کا ذریعہ یہی ہے کہ ہم اپنے دلوں کو حضرات اہل بیت کرام ؓکی محبت سے آباد کریں اور حضرات صحابہ کرام ؓ کی محبت سے اپنے قلوب کو روشن ومنور کریں،کیونکہ یہی وہ مقدس حضرات ہیں جو ہماری نجات کا ذریعہ بھی ہیں اور ہمارے لئے ہدایت کا معیار بھی ہیں۔

ان ذوات قدسیہ میں بعض وہ مقدس ہستیاں ہیں جنہیں خالق کائنات نے حضور اکرم کی قرابت کے شرف سے بھی نوازا ہے اور صحابیت کے درجہ باکمال سے بھی بہرہ مند فرمایا ہے، انہی مقدس باکمال و بے مثال عبقری شخصیات میں ایک صاحبِ عظمت ورفعت ہستی، سید الشہداء،شیر خدا سیدنا ابو عمارہ امیر حمزہ ؓ کی ذات گرامی نمایاں حیثیت کی حامل ہے۔

سید الشہداءحضرت سیدنا حمزہ ؓ کو شرف صحابیت کے ساتھ ساتھ رحمتہ للعالمین سے نسبت قرابت بھی حاصل ہے اور رشتہ رضاعت بھی۔ آپ ؓ نسبی رشتہ کے لحاظ سے حضوراکرم کے چچا جان اور دودھ کے لحاظ سے رضاعی بھائی بھی تھے۔ حضرت سیدنا امیر حمزہ ؓ بہادر، سخی، نرم مزاج والے، خوش اخلاق، قریش کے دلاور جوان اور غیرت مندی میں انتہائی بلند مقام کے مالک تھے۔ رسول کریم نے جو پہلا جھنڈا تیار کیا وہ سید الشہداءؓ ہی کے لئے تھا۔ جب 2 ہجری میں حضور سید عالم نے انہیں قوم جھینہ کے علاقے سیف البحر کی طرف (ایک دستے کے ہمراہ) بھیجا، ”رسول اللہ کے حکم پر آپ ؓ پہلے تلوار چلانے والے تھے جس کے سر پر جھنڈا تھا۔

آپ ؓکا اسم گرامی سیدنا امیر حمزہ ، کنیت: ابوعمارہ ہے۔ آپ ؓ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے: سیدنا حمزہ ؓ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب لوئی بن غالب۔۔۔۔، آپؓ کی والدہ کا اسم گرامی ہالہ بنت اھیب بن عبد مناف بن زہرہ۔ حضرت ہالہ نبی کریم کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہؓ کی چچازاد بہن تھیں۔ سیدنا امیر حمزہ ؓ نبی اکرم کے چچا اور رضاعی بھائی ہیں۔ ابولہب کی آزاد کردہ کنیز ثوبیہ نے ان دونوں ہستیوں کو دودھ پلایا تھا۔ حضرت حمزہ ؓ کی عمر نبی اکرم سے دو سال یا چار سال زیادہ تھی۔آپ ؓ بعثت کے دوسرے سال سلام لائے، اسلام لانے کے دن آپ ؓ نے سنا کہ ابو جہل نبی مکرم کی توہین کہہ رہا ہے تو آپؓ نے حرم مکہ میں اس کے سر پر اس زور سے کمان مار ی کہ اس کا سر پھٹ گیا ، اور حضرت حمزہ ؓ نے نبی مکرم سے گزارش کی کہ بھتیجے اپنے دین کا کھل کر پر چار کیجئے! اللہ تعالیٰ کی قسم ! مجھے دنیا بھر کی دولت بھی دی جائے تو میں اپنی قوم کے دین پر رہنا پسند نہیں کروں گا۔ آپ ؓ کے اسلام لانے سے رسول اللہ کو تقویت حاصل ہوئی اور مشرکین آپ کی ایذار سانی سے کسی حد تک رک گئے بعد ازاں ہجرت کر کے مدینہ منور ہ چلے گئے۔

رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ گزشتہ شب جب میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ جعفر طیارؓ جنت میں فرشتوں کے ساتھ پرواز کر رہے ہیں اور حضرت حمزہ ؓ ایک عظیم تخت پر ٹیک لگائے بیٹھے ہیں۔ (المستدرک للحاکم) حضرت علی مرتضیؓ سے روایت ہے، آپؓ نے فرمایا کہ جس دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کو جمع فرمائے گا ان میں سب سے افضل انبیاءو مرسلین ہی رہیں گے اور رسولوں کے بعد سب سے افضل شہداءکرام ہوں گے اور یقینا شہداءکرام میں سب سے افضل حضرت حمزہ ؓ ہوں گے، بحوالہ جامع الٓا حادیث للسیوطی)

حضرت جابرؓ روایت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالی کی بارگاہ میں حضرت حمزہ ؓ بن عبدالمطلب شفاعت کرنے والوں کے سردار ہیں بحوالہ مستدرک للحا کم۔ ۔ صحابہ کرام ؓ نے فرمایا کہ جب سیدنا امیر حمزہ ؓ شہید ہوئے تو حضرت رسول اللہ ارشاد فرمانے لگے” آپ ؓکی جدائی سے بڑھ کر میرے لئے کوئی اور صدمہ نہیں ہو سکتا، پھر آپ نے حضرت فاطمہؓ اور اپنی پھوپھی جان حضرت صفیہ ؓ سے فرمایا : خوش ہو جاﺅ! ابھی جبریل امین میرے پاس آئے تھے، انہوں نے مجھے خوشخبری سنائی کہ یقینا حضرت حمزہ ؓکا نام مبارک آسمان والوں میں لکھا ہوا ہے، سیدنا حمزہ ؓ اور اللہ اور اس کے رسول کے شیر ہیں (المستدرک للحا کم)

غزہ احد میں آپ ؓ نے 31 مشرکوں کو جہنم رسید کیا، پھر آپ ؓکا پاﺅ ں پھسلا تو آپؓ تیر اندازوں کی پہاڑی کے پاس واقع وادی میں پشت کے بل گر گئے، زرہ آپ ؓ کے پیٹ سے کھل گئی، جبیر بن مطعم کے غلام و حشی بن حرب نے کچھ فاصلے سے خنجر پھینکا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھوں آپ ؓکو مرتبہ شہادت سے سرفراز فرمایا۔ بعدازاں مشرکین نے آپ ؓکے اعضاءکاٹے اور پیٹ چاک کیا، ایک عورت نے آپ ؓکا جگر نکال کر چبایا لیکن اسے اپنے حلق سے نیچے نہ اتار سکی ناچار اسے تھوک دیا، جب رسول کو یہ اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا: اگر یہ جگر اس کے پیٹ میں چلا جاتا تو وہ عورت آگ میں داخل نہ ہوتی۔ کیونکہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں میرے حمزہ کی اتنی عزت ہے کہ ان کے جسم کے کسی حصے کو آگ میں داخل نہیں فرمائے گا۔ جب رسول اللہ تشریف لائے اور آپ ؓکے مثلہ کیے ہوئے جسم کو دیکھا تو یہ منظر آپ کے دل اقدس کے لئے اس قدر تکلیف دہ تھا کہ اس سے زیادہ تکلیف دہ منظر آپ کی نظر سے کبھی نہیں گزرا تھا۔ نبی کریم نے فرمایا : اے چچا آپ ؓپر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو، کیونکہ آپ ؓجب تک عمل کرتے رہے بہت نیکی کرنے والے اور بہت صلہ رحمی کرنے والے تھے۔ پھر آپؓ کے جسد مبارک کو قبلہ کی جانب رکھا اور ان کے جنازے کے سامنے کھڑے ہوئے اور اس شدت سے روئے کہ قریب تھا آپ پر غشی طاری ہو جاتی، نبی کریم فرما رہے تھے اے اللہ کے رسول( ) کے چچا اللہ اور اس کے رسول ( )کے شیر ، اے حمزہ ! اے نیک کام کرنے والے ! اے حمزہ ! مصیبتوں کو دور کرنے والے، اے حمزہ رسول اللہ ( )کے دفاع کرنے والے یہ بھی فرمایا ہمارے پاس جبرائیل تشریف لائے اور ہمیں بتایا کہ حضرت حمزہ ؓ کے بارے میں ساتوں آسمانوں میں لکھا ہوا ہے: ” حمزہ بن عبدالمطلب ، اللہ اور اس کے رسول کے شیر ہیں “۔

نبی اکرم نے آپؓ کو ایسی چادر کا کفن پہنایا کہ جب اسے آپ ؓکے سر پر پھیلاتے تو پاﺅں ننگے ہو جاتے اور پاﺅں پر پھیلاتے تو سر ننگا ہو جاتا، چنانچہ وہ چادر آپ ؓکے سر پر پھیلا دی گئی اور پاﺅ ں پر اذخر (خوشبودار گھاس ) ڈال دی گئی، آپؓ کو ایک ٹیلے پر دفن کیا۔ چالیس سال کے بعد شہداءاحدکی قبریں کھولی گئیں تو ان کے جسم ترو تازہ تھے، ان کے ہاتھ پاﺅں مڑ جاتے تھے اور ان کی قبروں سے کستوری کی خوشبو آتی تھی، حضرت حمزہ ؓ کے پاﺅں پر کدال لگ گیا تو اس سے خون بہنے لگا، حضرت جابرؓ کے والد ماجد ( حضرت عبداللہ انصاریؓ ) کا ہاتھ چہرے کے زخم سے ہٹایا گیا تو وہاں سے خون بہنے لگا، ہاتھ دوبارہ اسی جگہ رکھ دیا گیا تو خون بند ہوگیا۔ نبی کریم نے شہداءاحد کے بارے میں فرمایاکہ جو شخص قیامت تک ان کی زیارت کرے گا اور ان کی خدمت میں سلام عرض کرے گا تو وہ اسے جواب دیں گے۔

انسان کی خوش بختی اور سعادت مندی یہ ہے کہ وہ دامن اسلام سے وابستہ رہے ، ایمان کے انوار سے اپنے دل و جان کو روشن و منور کرے، اسی لئے بندة¿ مومن کی عین آرزو وتمنا یہی ہوتی ہے کہ جب تک وہ زندہ رہے اسلام پر ثابت قدم رہے اور موت بھی آئے تو ایمان کی حالت میں آئے اور اس کا خاتمہ بالخیر ہو۔ یہ تو عمومی طور پر تمام اہل ایمان کی کیفیت ہے لیکن سیدنا امیر حمزہ ؓ کی ذات قدسی صفات وہ ہے ، جن کے سینہ کو اللہ تعالی نے اسلا م کے لئے کھول دیا تھااور اُسے نورایمان سے معمور فرما دیا تھا۔

فاطمہ خزاعیہ کا بیان ہے کہ میں ایک دن حضرت سید الشہداءجناب حمزہ ؓکے مزار اقدس کی زیارت کے لئے گئی اور میں نے قبر منور کے سامنے کھڑے ہو کر ”السلام علیک یا عم رسول اللہ “ کہا تو آپ ؓ نے بآواز بلند قبر کے اندر سے میرے سلام کا جواب دیا جس کو میں نے اپنے کانوں سے سنا۔ہفتہ 15شوال المکرم 3 بمطابق 624 عیسوی کو آپ ؓکی شہاد ت ہوئی اس وقت آپ ؓکی عمر 57 سال تھی، ایک قول کے مطابق آپ ؓکی عمر شریف 59 سال تھی۔

فضائل حضرت حمزہ ؓ

سیدنا امیر حمزہ ؓ نے حضرت جبریل ؑ کا دیدار کیا۔ سیدنا امیر حمزہ ؓ نے بحالت ایمان حضرت رسول اکرم ؓ کا چہرہ انور دیکھ کر صحابیت کا عظیم مرتبہ حاصل کیا اور اسی نبی برحق کی خدمت بابرکت میں ایک معروضہ کیا کہ وہ وحی الہی کے امین، سدرة المنتہی کے مکین حضرت جبریلؑ کو ان کی حقیقی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں، حضور اکرم نے اس درخواست کو منظور فرما یا۔ جب روح الامین بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئے توسیدنا امیرحمزہ ؓ سے ارشاد فرمایا کہ اوپر دیکھو! سیدنا امیر حمزہ ؓ نے جب نگاہ اٹھائی توکیا دیکھتے ہیں کہ سامنے حضرت جبریل ؑ، چنانچہ امام بیہقی ؒ نے ”دلائل النبوة“ میں روایت نقل کی ہے:

ترجمہ: ” حضرت عمار بن ابو عمار ؓ سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عبد المطلبؓ نے عرض کیا: یارسول اللہ ! مجھے جبریل امین ؑ کا ان کی حقیقی صورت میں دیدار کروائیے! تو آپ نے ارشاد فرمایا: آپ انہیں حقیقی صورت میں نہیں دیکھ سکتے! انہوں نے عرض کیا: یقینا میں نہیں دیکھ سکتا، لیکن آپ مجھے دکھائیے!آپ نے ارشاد فرمایا:بیٹھ جاو¿! جب وہ بیٹھ گئے،تو حضرت جبریل ؑ خانہ کعبہ کی اس لکڑی پر اتر آئے جس پر مشرکین طواف کے وقت اپنے کپڑے ڈالا کرتے، پھر حضرت نبی اکرم نے ارشاد فرمایا: اپنی نگاہ اٹھاو¿ اور دیکھو! انہوں نے اپنی نگاہ اٹھائی اور حضرت جبریل ؑ کے دونوں قدموں کو دیکھا جو زمرد کی مانند سبز کھیتی کی طرح دکھائی دے رہے تھے۔ تو(کثرت انوار کی وجہ سے)آپ ؓ پر بے خودی طاری ہوگئی۔

(دلائل النبوة، نزول الوحی علی رسول )

٭٭٭


ای پیپر