Shakeel Amjad Sadiq columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
09 فروری 2021 (11:49) 2021-02-09

ایک شخص ایک ذبح کی ہوئی مرغی لے کر مرغی فروش کی دکان پرآیا اور کہا کہ ’بھائی ذرا اس مرغی کو کاٹ کر مجھے دے دو‘۔مرغی فروش نے کہا ’’مرغی رکھ کر چلے جاؤ اور آدھ گھنٹے بعد آ کر لے جانا‘‘ اتفاق سے شہر کا قاضی مرغی فروش کی دکان پر آ گیا اور دکاندار سے کہا کہ ’’یہ مرغی مجھے دے دو‘‘ دکاندار نے کہا کہ ’’یہ مرغی میری نہیں بلکہ کسی اور کی ہے اور میرے پاس بھی ابھی کوئی اور مرغی نہیں جو آپ کو دے سکوں‘‘ قاضی نے کہا کہ کوئی بات نہیں، یہی مرغی مجھے دے دو مالک آئے تو کہنا کہ مرغی اڑ گئی ہے ’دکاندار نے کہا کہ ’’ایسا کہنے کا بھلا کیا فائدہ ہو گا؟ مرغی تو اس نے خود ذبح کر کے مجھے دی تھی پھر ذبح کی ہوئی مرغی کیسے اڑ سکتی ہے‘‘؟ قاضی نے کہا ’’میں جو کہتا ہوں اسے غور سے سنو! بس یہ مرغی مجھے دے دو اس کے مالک سے یہی کہو کہ تیری مرغی اڑ گئی ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ تمہارے خلاف مقدمہ لے کر میرے پاس آئے گا‘‘۔ دکاندار نے کہا کہ ’’اللہ سب کا پردہ رکھے‘‘ اور مرغی قاضی کو پکڑا دی۔ قاضی مرغی لے کر نکل گیا تو مرغی کا مالک بھی آ گیا اور دکاندار سے کہا کہ مرغی کاٹ دی ہے؟‘‘ دکاندار نے کہا ’’میں نے تو کاٹ دی تھی مگر آپ کی مرغی اڑ گئی ہے‘‘۔ مرغی والے نے حیران ہو کر پوچھا: بھلا وہ کیسے؟ ’’میں نے خود ذبح کی تھی اڑ کیسے گئی ہے؟ دونوں میں پہلے نوک جھونک شروع ہوئی اور پھر بات جھگڑے تک جا پہنچی جس پر مرغی والے نے کہا کہ ’’چلو عدالت قاضی کے پاس چلتے ہیں‘‘ اور چل پڑے۔ دونوں نے عدالت جاتے ہوئے رستے میں دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں، ایک مسلمان ہے جبکہ دوسرا یہودی۔ چھڑانے کی کوشش میں دکاندار کی انگلی یہودی کی آنکھ میں جا لگی اور یہودی کی آنکھ ضائع ہو گئی۔ لوگوں نے دکاندار کو پکڑ لیا اور کہا کہ عدالت لے کر جائیں گے۔ 

دکاندار پر دو مقدمے بن گئے۔ لوگ مرغی فروش کو لے کر جب عدالت کے قریب پہنچ گئے تو مرغی 

فروش اپنے آپ کو چھڑا کر بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔ مگر لوگوں کے پیچھا کرنے پر قریبی مسجد میں داخل ہو کر مینار پر چڑھ گیا۔ لوگ جب اس کو پکڑنے کے لیے مینا رپر چڑھنے لگے تو اس نے چھلانگ لگائی تو ایک بوڑھے آدمی پر گر گیا جس سے وہ بوڑھا مر گیا۔ اب اس بوڑھے کے بیٹے نے بھی لوگوں کے ساتھ مل کر اس کو پکڑ لیا اور سب اس کو لے کر قاضی کے پاس پہنچ گئے۔ قاضی مرغی فروش کو دیکھ کر ہنس پڑا کیونکہ اسے مرغی یاد آ گئی مگر باقی دو کیسوں کا علم اسے نہیں تھا۔ جب قاضی کو تینوں کیسوں کے بارے میں بتایا گیا تو اس نے سر پکڑ لیا۔ اس کے بعد چند کتابوں کو الٹا پلٹا اور کہا کہ ’’ہم تینوں مقدمات کا یکے بعد دیگرے فیصلہ سناتے ہیں‘‘ سب سے پہلے عدالت میں مرضی کے مالک کو بلایا گیا ۔ قاضی نے پوچھا تمہارا دکاندار پر دعویٰ کیا ہے ’’مرغی والاـ: ’’جناب والا اس نے میری مرغی چرائی ہے کیونکہ میں نے ذبح کر کے اس کو دی تھی یہ کہتا ہے کہ مرغی اڑ گئی ہے‘‘۔ قاضی صاحب! مردہ مرغی کیسے اڑ سکتی ہے؟ قاضی: ’’کیا تم اللہ اور اس کی قدر پر ایمان رکھتے ہو؟ مرغی والا: ’جی ہاں کیوں نہیں قاضی صاحب‘ قاضی: ’’کیا اللہ تعالیٰ بوسیدہ ہڈیوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں۔ تمہاری مرغی کا زندہ ہو کر اڑنا بھلا کیا مشکل ہے‘‘ یہ سن کر مرغی کا مالک خاموش ہو گیا اور اپنا کیس واپس لے لیا۔ ’’قاضی: دوسرے مدعی کو لاؤ‘‘ یہودی کو پیش کیا گیا تو اس نے عرض کیا کہ ’’قاضی صاحب اس نے میری آنکھ میں انگلی ماری ہے جس سے میری آنکھ ضائع ہو گئی میں بھی اس کی آنکھ میں انگلی مار کر اس کی آنکھ ضائع کرنا چاہتا ہوں‘‘ قاضی نے تھوڑی دیر سوچ کر کہا: ’’مسلمان پر غیر مسلم کی دیت نصف ہے۔ اس لیے پہلے یہ مسلمان تمہاری دوسری آنکھ بھی پھوڑے گا اس کے بعد تم اس کی ایک آنکھ پھوڑ دینا ’’یہودی‘‘ بس رہنے دیں میں اپنا کیس واپس لیتا ہوں‘‘۔ قاضی:’’ تیسرا مقدمہ بھی پیش کیا جائے‘‘۔ مرنے والے بوڑھے کا بیٹا آگے بڑھا اور عرض کیا کہ ’’قاضی صاحب اس نے میرے باپ پر چھلانگ لگائی جس سے وہ مر گیا‘‘ قاضی تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بولا: ’’ایسا کرو کہ تم لوگ اسی مینار پر جاؤ اور مدعی اس مینار پر چڑھ کر اس مدعا علیہ (مرغی فروش) پر اسی طرح چھلانگ لگا دے جس طرح مرغی فروش نے اس کے باپ پر چھلانگ لگائی تھی‘‘ نوجوان نے کہا: ’’قاضی صاحب اگر یہ دائیں بائیں ہو گیا تو میں زمین پر گر کر مر جاؤں گا‘‘۔ قاضی نے کہا’’یہ میرا مسئلہ نہیں میرا کام عدل کرنا ہے۔ تمہارے باپ دائیں بائیں کیوں نہیں ہوا؟؟ نوجوان نے اپنا دعویٰ واپس لے لیا۔ 

قارئین یہاں پر کچھ نہیں بدلنے والا۔یہاں پر سوچ کو جالے لگے ہوئے ہیںجس ملک کے حکمران سات کروڑ کا سوٹ اپنی بیٹی کی رخصتی کے لئے بنوائے اور غریب کی بیٹی کے بال سفید ہو جائیں وہاں آپکی آواز کوئی نہیں سنے گاجس ملک کا وزیراعظم اپنی نواسی کو کروڑوں روپے کا ہیروں کا سیٹ تحفے میں دے وہاں کی عوام کا مہنگائی میں پسنا سمجھ میں آتا ہے۔ جب تک اس ملک میں آپ کے پاس قاضی کو دینے کے مرغی تو کیا مرغیاں موجود ہیں تو اس وقت تک کشمالہ طارق تو کیا؟سانحہ ماڈل ٹاؤن ،سانحہ ساہیوال،سانحہ موٹر وے جیسے دلخراش واقعات ہوا کی نذر ہوتے رہیں گے۔غریب عوام بے گناہی میں حیات کی سرحدیں پار کرتی رہے گی اور آہ و فغاں کرتے رہیں گے۔سوائے کف افسوس ملنے کے ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا..بقول رانا غلام محی الدین

اور کیا تجھ سے ترے خاک بسر مانگتے ہیں

صرف لے دے کے یہ توفیق ہنر مانگتے ہیں

اے کہ صحراؤں میں خورشیدتمازت کے خدا

ابرپارے نہیں، بس ایک شجر مانگتے ہیں

ہجرتیں فرض کفایہ نہیں رہنی اب کے

سو اپاہج بھی یہاں اذن سفر مانگتے ہیں 

اس سے کم پر نہیں آمادہ نظر آتے مجھے 

ظل سبحان! یہ لوگ آپ کا سر مانگتے ہیں 

ہم سے لاشوں کی تجارت نہیں دیکھی جاتی 

ہم فرشتے نہیں، تجدیدبشر مانگتے ہیں 

کاش ہوتا کوئی بارش کی نویدوں والا 

سب جھلستے ہوئے پیڑوں سے ثمر مانگتے ہیں


ای پیپر