Asif Inayat columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
09 فروری 2021 (11:46) 2021-02-09

شاید دو برس ہوئے ہوں گے کہ پروفیسر سلمان طارق بٹ نے جو کہ معروف شاعرہ محترمہ ناز بٹ کے بیٹے ہیں نے فون کیا کہ بھارت سے ڈاکٹر کیول دھیر تشریف لا رہے ہیں جن سے نشست ہو گی لہٰذا آپ بھی ضرور آئیں۔ 

برادرم ناصر اقبال خان اخبار کے ایڈیٹر تھے جبکہ میگزین ایڈیٹر محترمہ ناز بٹ نے انٹرویو کرنا تھا۔میں مقررہ وقت پر اخبار کے دفتر پہنچ گیا۔ میزبان موجود تھے تھوڑی دیر بعد پتہ چلا کہ اسلام آباد سے مہمان آ گئے ہیں۔ دفتر فرسٹ فلور پر تھا مہمانوں کو سیڑھیوں پر ہی خوش آمدید کہا گیا۔ ایک بہت ہی نستعلیق خوش پوش شخصیت جنہوں نے ہاتھ ملاتے ہی تعارف کروایا سلیم اختر۔ مجھے اندازہ ہوا کہ یہ نہیں برابر والی شخصیت جناب کیول دھیر ہیں انہوں نے دل میں اتر جانے والے انداز میں آداب کیا دعائیں دیں اور سب سے ملنے کے بعد سامنے واش روم چلے گئے کہ منہ ہاتھ دھو لوں۔ واش روم کا دروازہ کھلا تو کیول دھیر جس تولیہ سے چہرے کو خشک کر رہے تھے وہ غالباً جب سے دفتر بنا تھا دھلا نہیں تھا مگر انہوں نے غیر محسوس انداز سے چہرہ اور ہاتھ خشک کیے اور آ کر پیش کی گئی نشست پر بیٹھ گئے۔ تولیہ کی حالت نے مجھے بہت دیر تک پچھتاوے سے بھری سوچوں میں گم رکھا کہ اگر مجھے پہلے پتہ چل جاتا تو کسی صورت تولیہ استعمال نہ کرنے دیتا تولیہ کی حالت دراصل اخبار کے مالک کی اپنی حالت اور ظرف کی عکاس تھی۔جناب ڈاکٹر کیول دھیر سے بات چیت شروع ہو گئی۔ وہ انٹرویو اخبار کے میگزین میں شائع ہوا، ادبی حلقوں اور دیگر لکھاریوں میں زبردست پذیرائی ہوئی۔ انٹرویو کے دوران میں کبھی کبھار جناب ڈاکٹر کیول دھیر سے کوئی سوال کر لیتا۔ چائے وغیرہ اور کھانے کے بعد محترم سلیم اختر اور جناب کیول دھیر فوٹو سیشن کے بعد رخصت ہوئے۔ انٹرویو سے ہٹ کر میں نے ڈاکٹر کیول دھیر جو اب کیول بھائی پکارنے میں آسانی تھی ۔ انہیں ناشتہ کی دعوت دی مگر سلیم اختر صاحب نے کہا کہ ناشتہ میری طرف ہے کیول بھائی سے وعدہ ہوا کہ وہ اگر کچھ دن رکے تو مجھے خدمت کا موقع دیں گے۔ بعد میں کبھی کبھار فون پر بات ہوتی اور کبھی سوشل میڈیا پر حاضری لگتی رہی۔ 

خاکہ نگاری یا کسی کے بارے میں لکھنا مجھے مشکل لگتا ہے مگر کیول بھائی کی دل و دماغ اور روح و قلب میں گھر کر جانے والی شخصیت پر اظہار کیے بغیر اپنا آپ ادھورا اور بخیل لگنے لگا کہ ایسی شخصیت جو 

جس انسان سے ملے اس کے طرز زندگی پر عمیق اثرات چھوڑے ہوں پر اظہار نہ کرنا اپنی روح سے زیادتی ہے۔ متحدہ ہندوستان میں گگو منڈی میں پیدا ہونے والے کنول کرشن دھیر جن کے پتا جی لاہور میں ڈاکٹر تھے دادا ستلج کاٹن ملز تب تحصیل اوکاڑہ ضلع منٹگھمری (ساہیوال) میں منیجر تھے گو کہ کنول کرشن دھیر کو چہ جبوکہ گگو منڈی پیدا ہوئے لیکن ساہیوال اوکاڑا اور اس کے گردو نواح شہروں ، قصبوں ، ضلعوں میں والد اور داداکے ساتھ جاتے آتے رہے۔ 10 سال کے لگ بھگ عمر تھی کہ بٹوارے کے بعد بھارت چلے گئے ملو پوتا، بھگواڑہ، جالندھر اور پھر آج کل عرصہ ہوا لدھیانہ کے لوگ ان کے مسکن و علم ، فضل و محبت سے مستفید ہو رہے ہیں۔ 

ڈاکٹڑ کیول کرشن دھیر جب میٹرک کے داخلے جا رہے تھے تو سکول ماسٹر نے اپنی آسانی اور بھرپور علم و عقل کو استعمال کرتے ہوئے داخلے کے لیے نام لکھا تو کیول دھیر لکھ کر اپنا فرض منصبی ادا کر دیا تب سے کنول کرشن دھیر کیول دھیر ہو گئے۔ پیشہ کے اعتبار سے اپنے والد کی تقلید کی اور میڈیکل ڈاکٹر بننے کے بعد درجنوں کتابیں لکھیں جو ٹیکسٹ بک میں کالجز کے مضامین کا حصہ بنیں،درجنوں ادبی کتابوں کے مصنف ہوئے ۔ بھارت فلم انڈسٹری کے لیے فلم کہانیاں لکھیں جن میں ہم دونوں ’’مجھے یاد ہے ، ٹی وی ڈرامے لکھے سیریز لکھیں 13/13قسطوں والی سیریل دیں گویا کنول جو گگو منڈی میں کھلا تھا وہ بٹوارے کے بعد کیول ہو گیا اور کوئی ثانی نہ ہو سکا۔ اب تک 150 سے اوپر کتابوں کے مصنف ہیں۔ 

ڈاکٹر کیول بھائی کا مذہب تو ظاہر ہے مختلف بلکہ میرے مذہب کے بالکل برعکس ہے لیکن انسانیت، خوش اخلاقی، ملنساری، عجز و انکساری، مذاہب ، سرحدوں، فرقوں اور نسلوں کی پابند نہیں ہوتیں ۔ خوش اخلاقی، عجز و انکساری ہی ایسی دولت ہے جس سے مین ہٹن نیو یارک میں کوئی پلازہ تو نہیں خرید سکتا لیکن دل ضرور موہ لیتا ہے۔ڈاکٹر کیول بھائی روح پر خوش آئند اثرات چھوڑتے ہیں میں بنیادی طور پر نہ نہ کرتے بھی صوفی ازم کا قائل ہوں۔ جس کی محفل میں انسان کو سکون میسر آئے اورہ روح خاص روح ہوتی ہے ۔ڈاکٹر کیول بھائی کے ساتھ جتنا وقت گزرا مجھے زبردست روحانی تسکین اور قلبی اطمینان میسر رہا۔ علم اور عاجزی کا امتزاج ، خوش اخلاقی اور خوش گفتاری کا سنگم حلیم و علیم شخصیت کہ میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا جو سرشاری اور محویت میں آج تک محسوس کرتا ہوں ، کہتے ہیں آنکھیں انسان کی شخصیت کی عکاس ہوتی ہیں۔ انسانوں کے دل سمیٹتی اور مسکراہٹیں بکھیرتی ، علمیت ، شعور، سکون ، استقلال ، صبر ،ا نسان دوستی، علم و ہنر پروری نہ جانے کیا کیا انمول خزانے ان کی آنکھیں ہی بانٹتی پھرتی ہیں۔ اس پر عجز و انکساری اور دل میں اترنے والی گفتگو اور گفتگو میں زیر زبر پیش بھی ایسی سچی کہ کیول بھائی کو ایک بار ملنے والے انہیں ساری زندگی بھلا نہیں سکتے۔ اللہ کریم انہیں سلامتی اور عافیت میں رکھے آج تک ان کی محفل میں بیٹھنے کی سرشاری اور سحر مجھ پر طاری ہے ایسے لوگ افسانوں ، کتابوں، ضرب المثل ، کہانیوں، صوفیوں کی حکایتوں، گفتگوؤں کی مثالوں میں مل سکتے ہیں مگر حقیقت میں ان سے ملاقات ایک خواب اور خوبصورت خواب سے کم نہیں۔

اللہ کریم نے انسان بنا کر خوبصورت شاعری تخلیق کی ہے جس کا دل دریاؤں اور سمندروں سے گہرا جبکہ روح تک رسائی ہی ممکن نہیں۔ میرا ایک رشتے دار کہتا تھا کہ لدھیانہ امرتسر، یوپی ، سی پی، جالندھر وغیرہ یا بھارت سے بٹوارے کے بعد آنے والے لوگ ہمیشہ وہاں کی بات سنائیں گے ۔ میں نے اس کو بتایا کہ 40 سال گزر گئے اپنے آبائی گھر کے ہی خواب آتے ہیں لہٰذا روح اپنا مسکن نہیں چھوڑتی۔ جب امریکہ تھا تو پاکستان کی باتیں کرتا تھا۔ میری تحریروں میں گوجرانوالہ اور وہاں کے دوستوں، بزرگوں کا ذکر تکرار کے ساتھ پڑھ کر میرے ایک دوست آغاز سہیل نے اصلاح کی کہ آپ گوجرانوالہ کا بہت ذکر کرتے ہیں جبکہ موصوف ایک عرصہ کراچی رہے اور خود بھی اپنے آبائی شہر کی باتیں ہی کرتے رہتے میں سوچوں کہ ڈاکٹر کیول دھیر بھائی پنجاب، اس دھرتی، اوکاڑہ، منگھمڑی ، ساہیوال،پنجابی، اردو، نہر، راجباہ، کھیت کھلیان اور وطن عزیز کی ہر بات کا ذکر اس قدر محبت ، حسرت ، اداسی ،چاشنی سے کیوں کرتے ہیں ان کا لہجہ انڈین فلم انڈسٹری اور دیگر موضوعات سے جب ان کے باپ دادا کے شہروں جب وہ بچے تھے کی طرف سخن و سماعت ہوتی ہے تو ان کی کیفیت کیول بدل جاتی ہے جیسے محبوبہ نے پہلی بار سوال کا جواب ہاں میں دیا ہو۔ 

دراصل بٹوارہ ہم نے تو دیکھا نہیں جن لوگوں نے انگریز کی آزادی کے وقت ہجرت کی اس بٹوارے میں ان کے دلوں کا بٹوارہ بھی ہو گیا تھا جس میں یادوں کا بٹوارہ ایک وجود کے اندر ناقابل بیان کیفیت پیدا کرتا ہو گا۔ آزادیاں ملیں کہ نہ ملیں شاید یہ بٹوارہ بہت حسین ہوتا اگر کشت و خون دشمنی اور سازشوں کی آگ اس بٹوارے میں حائل نہ ہوتی۔ 


ای پیپر