Omar Khan Jozvi columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
09 فروری 2021 (11:44) 2021-02-09

صبح ہاتھ منہ دھونے اوراٹھنے سے پہلے ہی ہم بستروں پرلیٹے لیٹے حکمرانوں کوبرابھلااورگالیاں دیناشروع کردیتے ہیں۔۔ہمارے نزدیک حکمرانوں سے بڑھ کراس مٹی پراورکوئی بلانہیں۔۔ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ حکمران کوئی دودھ کے دھلے ہوئے یاکوئی آسمانی مخلوق ہے۔۔ماناحکمران برے بہت برے ہیں لیکن نیک اوراچھے توہم بھی نہیں۔۔ حکمران یہ تورعایاکیلئے ایک آئینے کی شکل رکھتے ہیں۔۔عوام نے اپنے آپ کو دیکھنا ہو تو وہ اپنے حکمرانوں کودیکھیں۔۔یہ تو قانون فطرت ہے کہ جیسے عوام ہوں گے ویسے ان پرحکمران مسلط کئے جائیں گے۔۔آج حکمرانوں کو تو برا بھلا سب کہتے ہیں ۔۔گالیاں بھی سب دیتے ہیں لیکن اپنے گریبان میں جھانکنے کی کوشش کوئی نہیں کرتا۔۔یہ جوروزہاتھ منہ دھونے سے پہلے حکمرانوں کو برا بھلا اور  گالیاں دینے کاکام شروع کرتے ہیں۔۔ ان لوگوں میں سے کسی ایک نے بھی کبھی ہاتھ منہ دھونے سے پہلے اپنے گریبان میں کبھی جھانکا ہے۔۔؟دوسروں کی طرف توہم سب بڑی ڈھٹائی اور  جلدی سے انگلی اٹھاتے ہیں لیکن کیاہم نے یہ سوچنے کی زحمت بھی کبھی گوارہ کی کہ یہ جوانگلی ہم دوسروں کی جانب اٹھارہے ہیں اس ایک انگلی سے جڑی باقی چارانگلیوں کارخ خودہمارے اپنے ہی طرف ہے۔۔ کئی سال پہلے کی بات ہے ہم ایک شادی تقریب میں شرکت کیلئے اپنے آبائی ضلع بٹگرام گئے ہوئے تھے۔۔وہاں ہماری ملاقات بٹگرام کی نامورسیاسی وسماجی شخصیت صدرالزمان خان سے ہوئی۔۔ صدرالزمان خان کا بٹگرام میں ایک بڑانام ہے۔۔ بغیرکسی عہدے اور منصب کے اس شخص نے بٹگرام بالخصوص اپنے علاقے میں قیام امن اورترقی کے لئے جوکام کئے ہیں وہ خدمت خلق کے ان نام نہادعلمبرداروں کے لئے ایک مثال ہے۔ خیر۔۔ ملاقات کے دوران باتوں باتوں میں بات جب سیاست اورحکمرانوں تک پہنچی توہم نے بھی عام لوگوں کی طرح ہاتھ منہ دھونے سے پہلے حکمرانوں کودھوتے ہوئے انہیں ناصرف اس ملک میں ہر گناہ کا ذمہ دار قرار دے دیا بلکہ ساتھ یہ سوال بھی داغ دیاکہ ایسے حکمرانوں کے ہوتے ہوئے اس ملک کاکیابنے گا۔۔؟ ۔ہماری یہ بات سن کرصدرالزمان خان پہلے ہنسے پھرکہنے لگے۔جوزوی صاحب۔۔ بات صرف حکمرانوں کی نہیں ۔یہاں توہرشخص فرعون بنا پھرتا ہے۔۔ پھراس نے ایک واقعہ سنایاکہ چارپانچ سال پہلے تھانوں کی سطح پرنئے سرے سے مصالحتی کمیٹیاں بنائی جارہی تھیں۔۔ میرا چونکہ لوگوں سے بہت قریبی تعلق ہے اس لئے اس طرح کی کمیٹیوں پرمیری خصوصی نظرہوتی ہے۔اس دوران یہاں ایک تھانے کی 

جومصالحتی کمیٹی بنی۔ایک ایسا شخص اس کمیٹی کاممبربناکہ اس کے بارے میں سن کرآپ بھی کانوں کوہاتھ لگائیں گے۔ آپ مجھے بتائیں جس شخص کواس کے اپنے والدنے عاق کیاہوکیاوہ کسی مصالحتی کمیٹی کاممبربننے کااہل ہو سکتا ہے۔۔؟ جو شخص اپنے گھرمیں مصالحت نہیں کراسکتاوہ باہرکسی کے درمیان کیامصالحت اورکیاراضی نامہ کرائے گا۔۔؟ہماری اوراس ملک کی تباہی وبربادی کا آغاز اوپر سے نہیں یہاں سے ہوتا ہے۔۔ اپنی تباہی کی بنیادہم خودرکھتے ہیں۔۔ گالیاں پھرہم حکمرانوں کو دیتے ہیں۔۔میں یہ نہیں کہتاکہ ہمارے حکمران کوئی برے نہیں ۔ نواز شریف۔۔ آصف علی زرداری۔۔ پرویز مشرف سمیت اس ملک میں جتنے بھی حکمران آئے وہ سب برے بہت برے ہوں گے لیکن کام ہمارے بھی کوئی اچھے نہیں۔ آپ دیکھیں نا۔۔ان برے لوگوں کوسپورٹ بھی توہم کرتے ہیں۔۔ جو جتنا بڑا چور اورڈاکوہوتاہے اسے ہم اپنا رہبر و رہنما بنادیتے ہیں۔۔ دنیا کا وہ کونسا گناہ۔۔ جرم اور ظلم ہے جوہم نہیں کرتے۔۔؟ مسلمانیت کالبادہ اوڑھ کر جھوٹ۔۔ فریب۔۔ دھوکہ۔ چوری چکاری۔۔ ڈاکہ زنی اورظلم کے بازارہم گرم کرتے ہیں۔۔ پھر گالیاں ہم اوروں کودیتے ہیں۔۔جوزوی صاحب۔۔ میرے سراورداڑھی کے یہ بال ان لوگوں کے درمیان سفید ہوئے۔۔میں روزانہ کئی لوگوں اور خاندانوں کے درمیان راضی نامے کراتا ہوں۔۔ میں نے اس قوم اورلوگوں کوجتنے قریب سے دیکھا اتنا شائد کہ کسی نے دیکھا ہو۔۔میں نے اس ملک میں اپنے آپ کوبڑے ولی۔۔ ایماندار اور فرشتے سمجھنے اور کہنے والے لوگ توبہت دیکھے لیکن آپ یقین کریں کہ ایساکوئی شخص آج تک میں نے نہیں دیکھاجواپنے گریبان میں بھی جھانکتا ہو۔۔ حکمرانوں کو برا بھلا کہنے اورگالیاں دینے سے یہ ملک کبھی ٹھیک نہیں ہوگا۔اس ملک کوٹھیک کرنے کیلئے میرے اورآپ سمیت ہرایک شخص کواپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا۔۔ آج اپنی اورقوم کی وہی بدحالی اورملک کی وہی تباہی اور  بربادی کودیکھ کرہمیں صدرالزمان خان کی کئی سال پہلے کی جانے والی وہ باتیں یادآنے لگتی ہیں۔۔ ہمارے جیسے جھوٹوں۔۔ مداریوں۔۔ بد دیانت اورمکاروں کے ہوتے ہوئے واقعی اس ملک کاکچھ نہیں بننے والا۔۔آج حکمرانوں کو تو برا بھلااورگالیاں ہم سب دیتے ہیں لیکن اپنے گریبان میں کوئی ایک بھی نہیں جھانکتا۔۔جس ملک میں اکثریت کو جھوٹ کی بیماری لاحق ہو۔۔جہاں قدم قدم پرمنافقت کاکھیل کھیلاجاتاہو۔۔جہاں پائوڈر اور خالص پانی کودودھ کانام دیکرسرعام فروخت کیا جاتا ہو۔۔ جہاں کتابیں چوکوں اورچوراہوں پربکھری پڑی ہواورجوتے شوکیس و شیشوں میں رکھے جاتے ہوں۔۔جہاں سبزی و فروٹ کو گردووغبار اور آلودگی کاتڑکالگاکرریڑھیوں پر بیچا جا رہا ہو اور سگریٹ۔۔ نسوار۔۔چرس وشراب کواعلیٰ کوالٹی کی شاپنگ بیگ اورڈبوں میں پیک کرکے سیل کیا جاتا ہو۔۔ جہاں چوروں اورڈاکوئوں کوعہدے دے کر وزیر۔۔ مشیر و افسر اور ایمانداروں کوہتھکڑیاں لگا کر سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جاتا ہو۔۔ جہاں ایک روپیہ کی چوری پرغریب مرغااورامیرڈان بنتا ہو۔۔جہاں غریب کابچہ روٹی کے ایک ایک نوالے کو ترستا اور امیر شہر کے کتے۔۔ بلیاں۔۔گھوڑے اور گدھے تک راج کرتے ہوں۔۔ جہاں مسجد کا امام۔۔ خطیب۔۔ قاری ۔۔ مولانا اور مفتی سے زیادہ ایک زانی اورشرابی کی عزت وتکریم کی جاتی ہو۔۔ جہاں انسانیت سے زیادہ مال۔۔ دولت۔۔ عزت و شہرت کااحترام کیا جاتا ہو۔۔ جہاں انصاف ملتانہیں بکتا ہو۔۔ جہاں صحت وتعلیم کوکاروبارکادرجہ حاصل ہو۔۔جہاں ڈاکٹر قصائی اورقصائی ڈاکٹروں والے کام کرتے ہوں۔۔ جہاں ہرشخص جھوٹ کوسچائی کے پلیٹ میں رکھ کرپیش کرتاہو۔۔جہاں نماز۔۔ روزہ ۔۔حج وعمرہ کرنے میں شرم اورشراب و کباب کی محفلیں سجانے پرفخرمحسوس کیا جاتا ہو۔۔ جہاں زکوٰۃ دینے کے بجائے غریبوں۔۔ مظلوموں۔۔ بے سہارا اور یتیموں کے مال کو کھاناثواب سمجھا جاتا ہو۔۔ جہاں دوسروں کو حقیر فقیر اور خود کوخان۔۔نواب اورچوہدری تصور کیا جاتا ہو۔۔ جہاں مظلوم کے مقابلے میں ظالم کاساتھ دینے کوانصاف گردانا جاتا ہو۔۔ جہاں بھائی بھائی کے خون کاپیاساہو۔۔جہاں ماں باپ اوربہن بھائی کے رشتے سے زیادہ دولت وپیسے کوسلام کیاجاتاہو۔۔جہاں نوجوان نسل کے ایک ہاتھ میں موبائل اور دوسرے ہاتھ میں سگریٹ ہو۔۔جہاں گوشت اوردودھ کی رکھوالی پرانسانی بلے اوربلیاں مامور ہوں۔۔ جہاں جہلاء کو عالم۔۔ مفسر۔۔ مبلغ۔۔ سکالراوردانشورکے نام والقابات اورعلماء کوجہالت کے طعنے دیئے جاتے ہوں۔۔جہاں دوسروں پرسنگ باری۔۔بہتان تراشی اور طعنہ زنی توسب کرتے ہوں لیکن اپنے گریبان میں کوئی نہیں جھانکتاہو۔۔ سوچتا ہوں۔۔ ہمارے ہوتے ہوئے اس ملک کاواقعی کچھ بننے والا نہیں۔۔ وزیراعظم عمران خان کیا۔۔؟مولاناطارق جمیل۔۔ مفتی تقی عثمانی اورمفتی منیب الرحمن ہی اس ملک کے حکمران کیوں نہ بنیں ۔۔جب تک یہ بیماریاں اورخصلتیں ہم میں ہیں ۔۔اس وقت تک اس ملک اوراس میں رہنے والوں کاکچھ بھی نہیں بنے گا۔۔اس ملک کاتوتب ہی کچھ بنے گا جب ہم خودکچھ بنیں گے فی الحال توہم سب خودہی جھوٹ۔۔ فریب۔۔ دھوکہ۔۔ظلم وستم اورمنافقت کے سواکچھ نہیں۔ ایسے میں یہ ملک کیابن پائے گا۔۔؟


ای پیپر