مقبوضہ کشمیر اور ہماری بدکرداریاں!
09 فروری 2021 2021-02-09

5فروری یوم کشمیر پر میں سوچ رہا تھا کشمیریوں پر بھارتی درندگی پر دنیا، کشمیریوں کی مددکا سب سے بڑا طریقہ صرف ”بیان بازیوں“ کو ہی سمجھنے لگی ہے.... دنیا میں جتنے لوگ کشمیریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے طورپر ”بیان بازیاں“ فرماتے ہیں، اُن میں سے دس فی صد لوگ بھی اگر عملی طورپر اور مشترکہ طورپر کشمیریوں کی مدد کی ٹھان لیں کشمیر نہ صرف بھارتی تسلط سے آزاد ہو جائے گا، بلکہ بھارت میں کشمیریوں کی حکومت بھی قائم ہوسکتی ہے،.... ایک دہشت گردی وہ ہے جو بھارت نہتے کشمیریوں پر مسلسل کررہا ہے جس کے نتیجے میں سینکڑوں کشمیری اب تک شہید ہوچکے ہیں، دوسری دہشت گردی کشمیریوں پر نام نہاد ”مسلم اُمہ“ کررہی ہے جس کی مکمل اور پُراسرار خاموشی سے کشمیریوں کو اُس سے زیادہ جانی ومالی نقصان پہنچ رہا ہے جتنا جانی ومالی نقصان بھارتی درندگی سے پہنچ رہا ہے، بلکہ یوں کہا جائے زیادہ مناسب ہوگا کشمیریوں پر بھارتی درندگی میں مسلسل اضافے کا باعث مسلم اُمہ کی مسلسل خاموشی ہی ہے۔ آج اگر نام نہاد مسلم اُمہ اپنے ذاتی ومذہبی اختلاف اور مالی مفادات کو ایک طرف رکھتے ہوئے کشمیریوں کی عملی مدد کا فیصلہ کرکے کوئی مشترکہ حکمت عملی اپنالے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی تسلط اِک روز کے لیے بھی شاید برقرار نہیں رہ سکے گا، .... سچ پوچھیں صرف مسلم اُمہ ہی نہیں، گوری دنیا سے بھی مجھے گلہ ہے جس کی ”انسانیت دوستی“ کی مثالیں دیتے ہم نہیں تھکتے، جس کے بارے میں ہم یہ لکھتے نہیں تھکتے کہ وہاں انسان اور جانور کی جان کو ایک جیسا درجہ حاصل ہے، کیا یہ گوری دنیا نہتے کشمیریوں پر بھارتی درندگیوں سے بے خبر ہے؟، جس جارحانہ اور وحشیانہ انداز میں کشمیری مسلمانوں کو حق اور سچ کی آواز بننے پر شہید کیا جارہا ہے۔ گوری دنیا اندھی ہوگئی ہے؟ اُسے یہ سب دکھائی نہیں دے رہا ؟، اگر محض مسلمانوں کے ساتھ نفرت یا دیگر مفادات کی وجہ سے وہ خاموش ہے پھر اُسے انسانی حقوق کی علمبردار دنیا کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟، وہ یہ نہ سمجھے کہ اُن کے ”خدا“ اِن مظالم پر خاموش رہنے کا اُن سے حساب نہیں لیں گے، ظلم کی اجازت تو کوئی مذہب نہیں دیتا، نہ کسی مذہب میں ظلم پر خاموشی اختیار کرنے کو ”کارِ ثواب“ سمجھا جاتا ہے، .... جہاں تک ہم پاکستانیوں کا تعلق ہے ہمیں تو پھر کشمیریوں پر سالہا سال سے ہونے والے بھارتی مظالم کا اندازہ ہے کشمیریوں کی انتھک جدوجہد بھی کچھ نہ کچھ ہمیں معلوم ہے، ہماری نوجوان نسل، ہماری اگلی نسل یا ہمارے بچوں کو یہ بھی شاید معلوم نہ ہو،.... اس کا احساس مجھے اس وقت ہوا جب میرے بیٹے نے یوم کشمیر پر چھٹی کے حوالے سے مجھ سے پوچھا، یہ چھٹی کیوں ہوتی ہے، اِس کا مقصد کیا ہے؟؟.... میں نے جب اِس حوالے سے اُسے تفصیلات بتائیں وہ بڑا حیران ہوا، وہ مجھ سے کہنے لگا اگر اِس چھٹی کا مقصد نہتے کشمیریوں کے ساتھ اظہاریکجہتی ہے تو کیا یہ اظہار یکجہتی کا ہی اِک طریقہ ہے ہم چھٹی کا یہ دن تفریحی کاموں میں گزار دیتے ہیں؟، گھروں میں بیٹھ کر انڈین گانے سُن کر اور انڈین فلمیں وڈرامے وغیرہ دیکھ کر گزار دیتے ہیں؟، وہ مجھ سے کہنے لگا ” بابا شکر ہے ہمارے سینما گھروں میں انڈین فلمیں دکھانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے ورنہ دنیا کے سامنے ہم مزید ایکسپوز اس صورت میں بھی ہوجاتے کہ یوم کشمیر پر ہونے والی چھٹی کے روز سب سے زیادہ رش اُن سینما گھروں میں ہوتا جہاں انڈین فلمیں دکھائی جارہی ہوتیں.... پھر اس نے مجھ سے سوال کیا ”کیا آج یوم کشمیر پر آپ کا کالم اِس کے موضوع پر شائع ہوا ہے؟،.... میں نے عرض کیا ”بیٹا لکھنا تو میں نے اِسی موضوع پر تھا پر 5فروری یوم کشمیر سے ایک روز پہلے 3فروری کو ایک خبر میری نظروں سے گزری کہ کل چارفروری کو حضرت ابوبکرصدیقؓ کا یوم وفات ہے، لہٰذا میں نے سوچا اُن کی زندگی کے چند سبق آموز اور یادگار واقعات پر لکھنا چاہیے، میں اگلا کالم مقبوضہ کشمیر پر ہی لکھوں گا“۔ اِس برس چار فروری کو شاید پہلی بار اپنے اکلوتے بیٹے کو میں نے بڑی تفصیل کے ساتھ مقبوضہ کشمیر پر ہونے والی بھارتی درندگی کے بارے میں بتایا، اِس شرمندگی کے ساتھ بتایا کہ پہلے میں نے اُسے یہ کیوں نہیں بتایا ؟.... شاید اِس لیے نہیں بتایا کہیں وہ مجھ سے یہ نہ پوچھ لے ”بابا کشمیریوں پر بھارتی درندگی کے حوالے سے سوائے کچھ کالم لکھنے کے آپ نے عملی طورپر اب تک کیا کیا ؟،....نہتے کشمیریو....ہم سب شرمندہ ہیں.... ایک طرف بھارت مسئلہ کشمیر حل نہیں کرنا چاہتا تو دوسری طرف محض بیان بازیوں سے ہم بھی اب شاید یہی چاہتے ہیں یہ مسئلہ حل نہ ہو کیونکہ بے شمارقوتوں کی روزی روٹی اس مسئلے کے حل نہ ہونے کی وجہ سے چل رہی ہے، ....مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے پاکستانیوں کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں سب سے تھکی ہوئی وزارت یا محکمہ امور کشمیر کا سمجھا جاتا ہے، جسے کسی مجبوری کے تحت وزیر بنانا پڑ جائے اُسے وزارت کشمیر دے دی جاتی ہے، دوسری طرف امور کشمیر کا وزیر بھی یہی سمجھتا ہے کہ سب سے تھکا ہوا محکمہ اُسے سونپ دیا گیا ہے، چنانچہ اُس کی توجہ امور کشمیر پر کیا ہونی ہے وہ بے چارہ تو یہ کوشش ہی کرتا رہتا ہے اُس کا محکمہ تبدیل کردیا جائے،.... ہمارے ہاں ایک ” کشمیر کمیٹی“ بھی ہے۔ اُس کا بھی ایک سربراہ ہوتا ہے، ایک ”کاروباری مولوی“ بھی اُس کا سربراہ رہا، اِس حیثیت میں ہرقسم کے فوائد و مراعات وہ بھی صرف بیان بازیوں کے لیتا رہا،.... اِس کشمیر کمیٹی کے اللہ جانے کتنے سربراہ اب تک آئے اور چلے گئے، کسی سربراہ نے آج تک کوئی ایسی پالیسی بناکر سرکار کو نہیں دی یا اس کے مستقل حل کا کوئی طریقہ کار ڈھونڈ کر دنیا کے سامنے نہیں رکھا جس سے یہ احساس ہوکہ کشمیر کمیٹی کا سربراہ اپنا عہدہ یا مراعات وغیرہ ”حلال“ کررہا ہے ....5فروری کویوم کشمیر پر میں اپنے ماہر امراض دندان صدر مملکت عارف علوی کا اِک بیان پڑھ رہا تھا۔ اُنہوں نے فرمایا ” پاکستان، کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی واخلاقی حمایت سے اِک قدم پیچھے نہیں ہٹے گا“ .... بندہ پوچھے پیچھے تو آپ تب ہٹیں گے ناں جب آگے بڑھےں گے، پیچھے تو آپ پہلے سے کھڑے ہیں، اور پہلے والوں سے زیادہ پیچھے کھڑے ہیں، .... دوسری جانب پی ڈی ایم نے بھی یوم کشمیر کو حسب معمول اپنی ذاتی سیاست کی نذر کردیا، کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے نام پر مظفرآباد میں کیے جانے والے جلسے میں جتنا غصہ اُنہیں اپنے ”مبینہ یار“ مودی پر نکالنا چاہیے تھا اُس سے زیادہ غصہ اُنہوں نے اپنے واحد بڑے سیاسی مخالف وزیراعظم عمران خان پر نکال دیا، .... یوں محسوس ہوتا ہے وزیراعظم عمران خان اگر پی ڈی ایم کے سربراہان کو مذاکرات کی دعوت دیں، اور اُن کے سامنے یہ شرط رکھیں کہ آپ نے میرے ساتھ مِل کر کشمیریوں کی آزادی کے لیے جنگ لڑنی ہے یا این آراو لینا ہے؟ وہ سب این آراو لے لیں گے !! 


ای پیپر