” لو فیر آیا جے غوری ۔۔ “
09 فروری 2020 2020-02-09

لو آیا جے فیر غوری “، ہمارے قبلہ و کعبہ مُرشد خادم حسین رضوی کا مشہور زمانہ ڈائیلاگ ہے جس میں انہوں نے بین الاقوامی قرضوں کا حل دنیا کو یہ بتانا تجویز کیا ہے کہ ہمارے پاس ابھی انہیں واپس کرنے کے لئے کوئی پیسے نہیں ہیں اور اگر کوئی آگے سے چوں چاںکرے تو کہہ دیا جائے، لو آیا جے فیر غوری ، بہت ساروں کی نظر میں یہ غوری میزائل کا سب سے بہترین استعمال ہے مگر میں جس وقت مہنگائی کے خلاف رکشہ ڈرائیوروں کی ایک بہت بڑی ریلی میں لینڈ کروزر کے سن روف سے سرباہر نکال کر مجید غوری سے بات چیت ریکارڈ کر رہا تھا تو مجھے مولوی خادم حسین کے ساتھ ساتھ اروند کجری وال یاد آ رہا تھا جو ہندوستان میں دلی کا وزیراعلیٰ ہے، اس نے بھی کرپشن کے خلاف جہاد کا نعرہ لگاتے ہوئے پری ورتن یعنی تبدیلی کے نام پر مقبولیت حاصل کی۔

یہ ممکن نہیں کہ آپ لاہور میں رہتے ہوں اور یا لاہور آتے جاتے ہوں اور مجید غوری سے بائی فیس واقف نہ ہوں۔ لاہور میں بے شماررکشوں کے پیچھے لگی فلیکس پر مجید غوری کی تصویر موجود ہے۔مجھے یاد آیا جب نیازی ٹرانسپورٹ لاہور میں چلا کرتی تھی تو ہمارے دوست ارشد خان نیازی کی بھی ان کی ہر بس کے پیچھے تصویر ہوا کرتی تھی۔ وہ تمام رکشے جن پر مجید غوری کی تصویراور ٹریفک اصولوں پر عملدرآمد بارے فلیکس لگی ہے ان سب کا تعلق عوامی رکشہ یونین سے ہے جو اب صرف لاہور تک محدود نہیں ہے۔ میں نے آپ کو بتایا کہ گزشتہ اتوار کو جب مہنگائی کے خلاف ٹھوکر نیازبیگ سے ریلی نکالی جا رہی تھی تو میں وہاں موجود تھا۔ اس ریلی میں بلاشبہ سینکڑوں کی تعداد میں رکشے اور ہزاروں کی تعداد میں نعرے بلند اور پھول نچھاور کرتے غریب لاہورئیے موجود تھے۔ میں انہیں دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ اگر لاہور کی کی دونوں مقبول سیاسی جماعتوں مسلم لیگ نون اور پی ٹی آئی کی مقامی قیادتوں کو ریلیاں نکالنی پڑجائیں تو اتنی بڑی نہ ہوں۔ رکشوں کی ریلی میں سب سے آگے ایک ٹرک اور تین ایمبولینسیں تھیں جو مجید غوری کے نام کے ترانے بجا رہی تھیں،بے شمار رکشے اورمزدے وغیرہ تھے جن کی قیادت چارقیمتی لینڈ کروزریں کر رہی تھیں۔

سوال یہ ہے کہ یہ مجید غوری کون ہے تو اس کا جواب ہے کہ عوامی رکشہ یونین کے ساتھ ساتھ عوامی پاسبان کے سربراہ، بنیادی طور پر تعلق جماعت اسلامی سے ہے ، جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما میاں مقصود احمد کے داماد ہیں مگر اطلاعات کے مطابق سات، آٹھ برس جماعت سے دور ہیں۔ دوستوں کے ساتھ شکوہ کرتے ہیں کہ جماعت اسلامی کام کرنے والوں کو سپیس نہیں دیتی ۔ مجھے یوں لگ رہا ہے کہ جماعت اسلامی ایک مرتبہ پھر امید سے ہے، ایک اور لیڈر کو جنم دینے والی ہے۔ اس جماعت کو اعزاز حاصل ہے کہ یہ سیاسی کارکنوں کی تربیت کرتی ہے، انہیں نظم و ضبط ، محنت اور کردار ہی نہیں بلکہ سیاسی اونچ نیچ بھی سکھاتی ہے اور جب وہ سیکھ جاتے ہیں تو یہ اپنے پلے پلائے کارکن اور رہنما تنگی داماں کی بنا پر دوسری سیاسی جماعتوں کوہدیہ کر دیتی ہے۔جاوید ہاشمی سے لے کر بہت سارے دوسرے لیڈر جناب مودودی مرحوم کی نظریاتی گھٹُی ( پنجابی میں گڑھتی) لے کر پیدا ہوئے۔ اسلامی جمعیت طلبا، پاسبان یا شباب ملی کی گود میں کھیلے اور پھرجماعت اسلامی سے نکل بھاگے۔

میں نے ابتدا میں کجری وال کا بھی ذکر کیا،میں نے مجید غوری کی تقریریںسنی ہیں اور مجھے اس کے انداز سب کے سب کجری وال والے ہی لگتے ہیں جیسے وہ’ کاشانہ ‘کے معاملے کو لے کر ہائی کورٹ پہنچ گئے۔ ایک وقت تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے غریبوں کوروٹی ، کپڑا اور مکان کانعرہ لگا کر جگایا تھا اور اس کے بعد نواز لیگ مڈل کلاس کی جماعت بن کے سامنے آئی تھی۔ ہمارے معاشرے میں اپر مڈل اورممی ڈیڈی کلاس نے حال ہی میں تحریک انصاف کو جنم دیا ہے۔بتانا یہ مقصود ہے کہ پیپلزپارٹی کے پنجاب سے نکل جانے کے بعد اب یہاں کے غریبوں کی جماعت کوئی نہیں ہے۔ مجید غوری نے رکشہ ڈرائیوروں کے ذریعے اپنی تنظیم سازی مکمل کر لی ہے اور اب ان یونٹوں کو عوامی پاسبان میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ کیا یہ دلچسپ امر نہیں ہے کہ اس وقت عوام کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہے مگر اپوزیشن کی دونوں سیاسی جماعتیں اس پر کوئی ایکٹی ویٹی نہیں کر رہیں یہ ایکٹی ویٹی پچھلے کئی مہینوں سے عوامی رکشہ یونین اور عوامی پاسبان کے پلیٹ فارم سے ہو رہی ہے۔ میرے لئے یہ امر بھی حیران کن تھا کہ عثمان بُزدار جیسے طاقت ور وزیراعلیٰ کی حکومت ، عوامی پاسبان کی ریلی سے اس حد تک خوفزدہ ہوئی کہ اس نے کینال پر بیرئیرز لگا کر ریلی کو مال روڈ پر واقع ایوان وزیراعلیٰ کی طرف جانے سے روک دیا۔ ا س موقعے پر ہنگاموں سے نمٹنے والی فورس بھی طلب کی گئی۔ بوکھلاہٹ کا عالم یہ تھا کہ کینال کے انڈر پاس کو بند کرکے جلوموڑ جانے والے راستے کو بھی بند کر دیا گیا تھا۔ بوڑھی خواتین اور عام شہری دہائیاں دے رہے تھے ۔ موقعے پر موجود سب سے بڑے دو پولیس افسران دو ڈی ایس پی حضرات تھے جو مال روڈ تو ایک طرف دھرمپورہ اور مغلپورہ کی طرف جانے کی اجازت دینے سے بھی گھبرا رہے تھے، منہ چھپا رہے تھے۔

ہم سب نے لاہور سے امیروں کی جماعت تحریک انصاف کو پیدا ہوتے دیکھا ہے۔ یہ سیاسی جماعت لاہور کے مینار پاکستان پر اوپر سے نازل کی گئی تھی اور پوش ایریاز سے ممی ڈیڈی خاندانوں نے اس کے پہلے جلسے میں جوق در جوق شرکت کی تھی اور اب مجید غوری نے اس مہینے کے آخر تک مہنگائی ختم نہ ہونے کی صورت میں عوامی پاسبان کا موچی دروازے میں جلسہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جی ہاں، وہی موچی دروازہ جو ستر اور اسی کی دہائی تک تاریخی سیاسی جلسوں کا مرکز رہا ہے۔ اطلاعات مل رہی ہیں کہ نچلی سطح پر رکشہ ڈرائیوروں جیسے غربت کے مارے عام پاکستانیوں کو ساتھ لے کر عوامی پاسبان والے بلدیاتی انتخابات میں بھی جانے والے ہیں ۔ پولیٹیکل سائنٹسٹ کے طور پر میری نظر میں رکشہ ڈرائیوروں کی قیادت میں پارٹی ایک نیا سماجی اور سیاسی تجربہ ہوگی۔ یہ سوشل میڈیا پر خصوصی توجہ دیتے اور اپنی ریلی میں لینڈ کروزروں کو شامل کرتے نظر آتے ہیںجس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ تمام لازمی ٹرینڈز سے اچھی طرح واقف ہیں۔ مجھے کچھ دوستوں نے کہا کہ یہ غریب نہیں ہیں بلکہ کرپٹ لوگ ہیں مگر میر اجواب یہ تھا کہ مخالفت میں کوئی نئی بات کی جائے کہ عمران خان کے حامیوں کے نزدیک زرداری اور نواز شریف کیا ہیں، اسی طرح نواز شریف کے ووٹر اور سپورٹر عمران خان کو کیا سمجھتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟

میں بطور چشم دید گواہ یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ جب مہنگائی، بے روزگاری اورگیس کی لوڈ شیڈنگ جیسے عذابوں پر اور عفریتوں کی وجہ سے عوام کی چیخیں نکلی ہوئی ہیں تو مسلم لیگ نون، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی جیسی جماعتیں خاموش ہیں مگر یہی رکشہ ڈرائیوروں کی تنظیم عوامی جذبات کی ترجمانی کر رہی ہے ۔ عوام کو اس وقت ایسی ہی قیادت کی ضرورت ہے، ایسی قیادت جو اپنے مسائل سے زیادہ سے ان کے مسائل پرہل جُل کر سکے، شور مچا سکے، باہر نکل سکے، توجہ دلا سکے۔میں نہیں جانتا کہ رکشہ ڈرائیوروں اور ان جیسوں بہت سارے غریب غربا کی یہ مجوزہ سیاسی جماعت کتنی کامیاب ہو گی اور کتنی نہیں ہوگی مگر اتنا ضرور جانتاہوں کہ سیاست میں ایک تھرل ضرور پیدا ہو گا جب جاگیرداروں، صنعتکاروں اور کھلاڑیوں کے ناکام ہونے پر رکشہ ڈرائیور خود کو قوم کی قیادت کے لئے پیش کریں گے۔ میں قبلہ خادم رضوی کی زبان میں ہی ان تمام کو انہی الفاظ میں متنبہ کر سکتا ہوںکہ’ لو فیر آیا جے غوری ‘۔


ای پیپر