فیض آباد کا دھرنا کس کا کھیل تھا کیوں کھیلا گیا
09 فروری 2019 2019-02-09

نومبر 2017ء کو دارالحکومت اسلام آباد اور جی ایچ کیو کے مسکن مشہور شہر راولپنڈی کے سنگم فیض آباد پر تحریک لبیک کا جو 20 روزہ دھرنا منعقد ہوا ۔۔۔ جس نے پوری قوم کی نیندیں اڑا کر رکھ دیں۔۔۔ اس کے حوالے سے ازخود نوٹس پر سپریم کورٹ کی جانب سے تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا ہے فیصلہ کئی ماہ پہلے لکھا گیا تھا مگر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی رخصتی کے بعد سامنے آیا ہے۔۔۔ معلوم نہیں کیوں ۔۔۔ تاہم اس کے مندرجات آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں۔۔۔ اگرچہ جس روز فیصلہ شائع ہوا اس دن صوبہ پنجاب میں پی ٹی آئی کے سینئر وزیر علیم خان کی گرفتاری کی خبر زیادہ گھن گرج کے ساتھ اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر چھا گئی۔۔۔ اس کے باوجود فیض آباد دھرنے کے بارے میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ کا محاکمہ چھپائے چھپا نہ رہا ۔۔۔ اس میں دیئے گئے نکات اپنے نتائج و عواقب کے لحاظ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔۔۔ کیونکہ یہاں معاملہ صرف ایک صوبائی وزیر کا نہیں۔۔۔ اہم تر ریاستی اور حکومتی ادارے ملوث ہیں۔۔۔ دھرنے کے دوران آئین مملکت اور دستوری روایات کی روشنی میں ان اداروں کے کردار پر جو حرف آیا اسے سپریم کورٹ کے فاضل جج جناب جسٹس فائز عیسیٰ نے پوری طرح واشگاف کیا ہے۔۔۔ اس پر اپنے تعجب اور تاسف کا اظہار کیا ہے۔۔۔ حکومت اور اہم و نازک تر حساسیت کے مالک ریاستی اداروں کے ذمہ داران کو باقاعدہ حکم دیا ہے۔۔۔ وہ اپنے ان افراد کے خلاف باقاعدہ کارروائی کریں۔۔۔ جنہوں نے دھرنے کے دوران طے شدہ آئینی حدود کو عبور کیا۔۔۔ اس کے ساتھ قوم اور دنیا کو حیران کن حد تک باور کرایا کہ وہ جب چاہیں یا پسند کریں آئینی پابندیوں کو خاطر میں نہ لا کر ایک غیرقانونی دھرنے اور اسے منعقد کرنے والوں کی کھلم کھلا حمایت، یہاں تک کہ مظاہرین اور ان کی قیادت کی جانب دستِ تعاون بھی بڑھا سکتے ہیں۔۔۔ یہ سب کچھ فیض آباد کے دھرنے کے دوران ہوا۔۔۔ چشم فلک نے اس کا نظارہ کیا اور قوم سارے منظر کو تقریباً بے بسی کے عالم میں دیکھتی رہ گئی۔۔۔ نہ صرف 20 دن تک اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والی سڑکوں پر آمدورفت کو بند کیا گیا ۔۔۔ ملازمین اپنے دفاتر کو نہ پہنچ سکے۔۔۔ کار سرکار بری طرح متاثر ہوا ۔۔۔ کاروباری حضرات ذمہ داریاں نہ ادا کر سکے اور چھوٹے بڑے بچوں کے لیے سکول، کالج جانا محال ہو گیا ۔۔۔ دھرنے والوں نے اسلحہ اپنے پاس نہ صرف جمع کر رکھا تھا اس کی نمائش میں بھی عار محسوس نہ کرتے تھے۔۔۔ وہ سول اور منتخب حکومت کی جانب سے بھیجے جانے والی پولیس کو سرعام للکار رہے تھے۔۔۔ تم ہمارے قریب آ کر دیکھو کیسے زخموں سے چور کر کے واپس بھیجیں گے۔۔۔ ایسا ہوا بھی۔۔۔ دھرنے کے لیڈروں میں سے کچھ آگے بڑھ کر اپنی غیرقانونی کارروائیوں کے خلاف سول اور منتخب حکومت کے ایکشن کا مقابلہ کرنے کے لیے باقاعدہ مسلح حالت میں سینہ تان کر کھڑے ہو گئے۔۔۔ وہ شاید اہم تر لوگوں کی خفیہ یقین دہانی سے سرشار نظر آتے تھے۔۔۔ اسی لیے انہیں اسلام آباد پولیس کے مقابلے میں صف آرا ہونے میں دیر نہ لگی ۔۔۔

ٹی وی چینلز یہ تمام مناظر قوم اور دنیا کو براہ راست دکھا رہے تھے پاکستان کے دارالحکومت کے سنگم پر قانون کی دھجیاں کچھ اس انداز سے اڑائی جا رہی تھیں کہ اس کا تماشا آئین و قانون کی پاسداری کے تقاضوں کو شرمسار کر گیا ۔۔۔ قانون نافذ کرنے والی سول حکومت عملاً بے

بس ہو گئی۔۔۔ جن ٹی وی چینلز نے اس تمام تر ’’نظارے‘‘ کے منفی اور غیرقانونی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی جسارت کی۔۔۔ کیبل آپریٹروں نے معلوم نہیں کس کے خفیہ اشارے پر ان کی نشریات بند کر دیں۔۔۔ دو بڑے چینل تو ایسے ہیں جن کا نام لے کر سپریم کورٹ کے فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ زیرعتاب ہونے کی وجہ سے چھاؤنیوں کے علاقے میں ان کی نشریات پر پابندی ہے جبکہ خدا کے فضل سے ایک چینل ایسا بھی تھا جس کے مالکان کی جانب سے دھرنے کے شرکاء کو کھانا بہم پہنچایا جا رہا تھا ۔۔۔ ظاہر ہے انہیں بھی کسی کی سرپرستی حاصل تھی۔۔۔ اس سب پر متضاد یہ کہ حالات جب انتہائی نازک شکل اختیار کر گئے تو سول حکومت نے آئین کی دفعہ 245 کے تحت فوج سے تعاون کی مدد چاہی ۔۔۔ جواب دیا گیا کہ ہم اپنے لوگوں کے خلاف کوئی اقدام نہیں کر سکتے ۔۔۔ پھر ایک بڑی ایجنسی کے افسرانِ بالا نے باقاعدہ مداخلت قبول کر کے حکومت اور دھرنے کی قیادت کو ایک مقام پر ٹھہرا کر دونوں میں معاہدہ کرا دیا اور جیسا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں تاسف کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک باوردی افسر نے بنفس نفیس شرکاء میں واپس گھر جانے کے لیے پیسے تقسیم کیے۔۔۔ دھرنے والوں کا یہ مطالبہ تسلیم کر لیا گیا کہ اس وقت کے وزیر قانون زاہد حامد سرکاری حلف نامے میں ختم نبوت کے عظیم ترین اور مقدس ترین عقیدہ اسلام کے حوالے سے ناجائز ترمیم کے ارتکاب کی بنا پر مستعفی ہو جائیں ۔۔۔ اسے تسلیم کر لیا گیا ۔۔۔ وہ تو خیریت گزری ورنہ ماقبل ان سمیت دو تین مزید وزراء کی گردنیں مانگی جا رہی تھیں۔۔۔ یہ ترمیم وہ غلطی تھی جس کا سامنے آتے ہی ازالہ کر دیا گیا تھا ۔۔۔ حکومت کی جانب سے حلف نامے کو اپنی اصلی حالت میں بحال کرنے میں ذرا برابر تاخیر نہیں رکھی گئی تھی لیکن اس کی توبہ قبول کی گئی نہ متعلقہ وزیر کی۔۔۔ اس سب کے باوجود چونکہ وقت کی حکومت کی ناک رگڑنے اور اسے ختم نبوت کے نام پر رسوا کرنا مقصود تھا ۔۔۔ اس لیے فیض آباد دھرنے کا وہ ناٹک رچایا گیا جس کا سپریم کورٹ کے در رکنی بنچ نے سخت ترین الفاظ میں نوٹس لیا ہے اور حکومت سمیت جملہ ریاستی اداروں کے سربراہان کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ اس میں ملوث تمام اہلکاروں کے خلاف باقاعدہ کارروائی کریں۔

حیرت کی بات ہے فیض آباد دھرنے کی نیم خواندہ لیکن عوام کے مذہبی جذبات سے کھیلنے والی واعظین کی قیادت جو اس وقت پولیس اور دیگر اداروں کے لیے ناقابل تسخیر نظر آتی تھی۔۔۔ حکومت اس کے سامنے بے بس ہو کر رہ گئی تھی۔۔۔ لیکن جب آسیہ کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ سامنے آیا اور یہی واعظین دوبارہ سڑکوں پر آئے تو کچی اینٹوں کی دیوار ثابت ہوئے پرانی حکومت رخصت ہو گئی تھی اور نئی کا زمانہ تھا ۔۔۔ جملہ ریاستی ادارے بھی اس حکومت کی پشت پر کھڑے تھے، لہٰذا ناموس رسالتؐ کے نام پر ہنگامے برپا کرنے والے مظاہرین کرام کو دوبارہ سڑکوں پر آنے پر دو تین روز کے اندر پابند سلاسل کرنے میں زیادہ عرصہ لگا نہ بڑی رکاوٹ پیش آئی۔۔۔ تقریباً تمام کے تمام جیلوں میں بند کر دیئے گئے اگرچہ فیصلہ صادر کرنے والوں کے خلاف کفر اور قتل کے فتوے دے رکھے تھے۔۔۔ حکومت اور پولیس کے اقدامات کے سامنے ان کی کوئی حیثیت باقی نہ رہی۔۔۔ بلبلے کی مانند بیٹھ گئے انہیں جہاں سے سٹیم مہیا کیا جاتا تھا وہاں کا ایندھن ختم ہو گیا تھا ۔۔۔ اب تک مقید ہیں۔۔۔ ملک بھر میں ان کے حامیوں کو سختی کے ساتھ خبردار کر دیا گیا ہے کہ اگر کسی نے باہر نکلنے، کسی قسم کی ناپسندیدہ تقریر کرنے یا آسیہ کی رہائی کے خلاف کوئی مظاہرہ کرنے کی جرأت بھی کی تو قانون اس طرح حرکت میں آئے گا کہ ان کے ناک میں دم کر کے رکھ دے گا۔۔۔ چنانچہ تحریک لبیک کے قائد مولوی خادم حسین رضوی جن کی تقریروں سے کل تک دھرتی کانپ اٹھتی معلوم ہوتی تھی اور ان کے دست راست پیر افضل قادری اپنے اہم ساتھیوں سمیت جیل کی کوٹھڑیوں میں بند ہیں۔۔۔ اہم پیشیاں بھگت رہے ہیں۔۔۔ وہ دانشور جو ان کے حق میں لکھتے اور ٹی وی پر بولتے نہیں تھکتے تھے لب بدنداں ہیں۔۔۔ وہ ادارے جو ان کی پشت پر کھڑے محسوس ہوتے تھے منہ موڑ چکے ہیں۔۔۔ سپریم کورٹ کے فیصلے نے بہت کچھ بے نقاب کر کے رکھ دیا ہے۔۔۔ حیرانی بلکہ حد درجہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ وطن عزیز کے اندر جسے اسلام کا قلعہ قرار دیتے نہیں تھکتے، کیسے ختم نبوتؐ اور ناموس رسالتؐ جیسے مقدس ترین اسلامی عقائد کو سیاسی مقاصد کے لیے اور ایک خاص حکومت کو بدنام اور زیرنگیں کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ۔۔۔ اس مقصد کی خاطر کچھ نام نہاد مذہبی پیشوا اور چند اخباری اور ٹی وی چینلز پر نمودار ہونے والے دانشوروں سے کیا کیا کام نہ لیا گیا ۔۔۔ اسلام کی حرمت کا مذاق اڑا۔۔۔ اور امت مسلمہ کے دینی عقائد کو وقتی سیاست کی نذر کر کے رکھ دیا گیا ۔۔۔ آئین کی کوئی حیثیت باقی نہ رہی۔۔۔ معلوم نہیں سپریم کورٹ کے فیصلے کے ذریعے جن اہلکاروں کے خلاف باقاعدہ کارروائی کا حکم دیا گیا ہے ان کے بارے میں کیا کارروائی عمل میں آتی ہے ۔۔۔ یا اس کے دفتر کو بھی چوم کر طاقِ نسیاں پر رکھ دیا جائے گا۔


ای پیپر