Memorable, journey, Athens, Dr. Zahid Munir Amir
09 دسمبر 2020 (12:31) 2020-12-09

ہم جب یونان پہنچے تو ایتھنزوالوںنے ایسا قابوکیا کہ کہیں اورجانے کا موقع ہی نہیں ملا پاکستان سے پروفیسرڈاکٹر محمدنعیم خان  وائس چانسلر گلگت بلتستان یونی ورسٹی نے مجھے یونان کے سب سے بڑے جزیرے کریتے اور وہاں کے کچھ دوستوں سے غائبانہ متعارف کروایاتھا۔وہ وکریتے یونی ورسٹی میں زوالوجی پڑھانے کے لیے وہاں قیام فرمارہ چکے تھے۔ یونان پہنچنے کے بعد جب کریتے والوں کو میری آمدکا پتہ چلاتو وہاں سے یہ مطالبہ آنے لگاکہ میں کریتے ضرور آئوں۔ میںنے کریتے کی ایتھنزسے دوری اور ایتھنزمیں اپنی مصروفیات کا عذرپیش کیا تو کریتے والوںنے جہازکا ٹکٹ بھیجنے کی پیش کش کی تاکہ کم وقت میں کریتے کا سفر کرکے واپس ایتھنزآیاجاسکے لیکن ایتھنزمیں اس قدر مصروفیت رہی کہ کریتے جانا ممکن نہ ہوسکا۔ البتہ سفیرصاحب نے خلقیدہ کی سیاحت کے لیے پہلے سے ایک دن مخصوص کررکھاتھا۔ خلقیدہ (Chalkida.) ایتھنزسے تقریباً سترکلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ایتھنزسے یہاں جانے کے لیے بسیں اور ٹرینیں روانہ ہوتی ہیں اگر اپنی کارسے جائیں تو پون گھنٹے کا سفر ہے، سب ٹرین بھی جاتی ہے ۔

اس بات کی خوشی تھی کہ ہم ایتھنز سے نکل کر بھی یونان کو دیکھیں گے۔ اس خوشی میں کچھ تاریخی نسبتوںکے اضافے نے میرے جوش و خروش کوبڑھادیا۔ایک تویہ کہ خلقیدہ کے راستے میں کایا تریتی نامی ایک جگہ آتی ہے جہاں کے بارے میں بتایاجاتاہے کہ وہاں برناباس مدفون ہے ۔مجھے بڑااشتیاق تھاکہ میں برناباس کی قبردیکھوں لیکن معلوم کرنے پر پتا چلاکہ برناباس کی تدفین تووہاں ہوئی لیکن اب کسی کو معلوم نہیں کہ اس کا مدفن کس جگہ پر تھا۔میں نے کہاکہ ہم وہاں کے نکروتافیامیں چلے چلیں گے اور وہاںکسی سے پوچھ لیں گے۔ یونانی زبان میں قبرستان کونکروتافیاکہتے ہیںلیکن مجھے بتایاگیا کہ اس کی قبرکے بارے میں وہاں بھی کوئی نہیں جانتا ، چنانچہ یہ خواہش پوری نہ ہوسکی ۔دوسری ناگفتہ اور تکمیل ناپذیر خواہش ارسطو کا مدفن دیکھنے کی تھی ۔قارئین کرام گزشتہ اوراق میں افلاطون سے ارسطوکے تلمذ کی بابت پڑھ چکے ہیں ۔ارسطونے …افلاطون کی اکیڈیمی میں تعلیم حاصل کی، افلاطون کی وفات پر وہ مقدونیہ چلاگیا۔وہاں اسے اسکندراعظم کی اتالیقی کے فرائض انجام دیناتھے۔مقدونیہ اس کا وطن بھی تھا ۔وہاں چھ سات برس تک اسکندرکوتعلیم دینے کے بعد وہ واپس اییتھنز آیااور اس نے اپنا ادارہ ’’لائسیم ‘‘قائم کیا۔ یوں تو ایتھنزوالے مقدونیہ والوں کو اچھانہیں سمجھتے تھے لیکن اسکندر کی اتالیقی کے باعث کوئی ایتھنزوالا ارسطوکو کچھ نہیں کہہ سکتاتھا ۔ اسکندر جب تسخیرعالم کے سفر کے دوران اسہال کا شکارہوکر راہی ملک عدم ہوگیاتو یونان کی سیاسی بساط تبدیل ہوگئی۔ ایتھنزوالوںنے اپنی آزادی کا اعلان کردیا۔جس کے بعد اسکندر کے حامیوں کے لیے یہاں رہنا دشوارہوگیا ۔اس کے حامی قتل کردیے گئے یا یہاں سے بھاگ گئے ۔ارسطو چونکہ ایک معروف شخصیت کا حامل تھا اسے یوں زک پہنچانا آسان نہ تھا ۔ اس کے خلاف ایتھنزکے مقررین جوشیلی تقریریں کرنے لگے اور اس پر الزام عایدکیاگیاکہ وہ دعااور قربانی کامخالف ہے لہذااسے موت یاجلاوطنی کی سزادی جائے ۔ارسطو جہاندیدہ شخص تھا اور ایتھنزوالوں ہی سے نہیں اپنے دادااستاد سقراط کے انجام سے بھی واقف تھا۔ اس لیے وہ یہ کہہ کر یہاں سے بھاگ گیاکہ ’’میں ایتھنزکے شہریوں کو یہ موقع نہیں دے سکتاکہ وہ دوسری بار فلسفے پر ظلم ڈھائیں‘‘یہ ۳۲۲ قبل مسیح کا واقعہ ہے جب وہ ایتھنز سے نکل کر Chalcis پہنچا۔رومیوںنے اس جگہ کو Halkídha,کے نام سے پکاراجو عام زبان میں خلقیدہ کہلانے لگا ۔

اگرچہ میں یونانی پارلیمنٹ کے رکن جناب ہیری(Harry Theocharis) اورمشہوریونانی صحافی ڈاکٹر ایتھنی سیس ڈروگوس (Dr Athanasios Drougos) سے ملاقات کے دوران بھی اس سلسلے میں دریافت کرچکاتھا اور وہ دونو یہ کہہ چکے تھے کہ یہ بات کسی کو معلوم نہیں کہ سقراط اور ارسطوکہاں مدفون ہیں لیکن اس کے باوجودمیراشوق تحقیق کسی طرح ارسطوکے مدفن کا سراغ لگاناچاہتاتھا۔مشہور محققین کی آراکے علی الرغم میں مصر کے شہراسکندریہ میںاسکندراعظم کے مدفن کی جستجومیں بہت پھرا۔ وہاں میں ایک عام آدمی کی حیثیت سے جایاکرتاتھا۔عام آدمی کو یہ سہولت ہوتی ہے کہ وہ جہاں چاہے جا سکتاہے اور جہاں چاہے لوگوں میں گھل مل کر اس علاقے کے اسرارو رسوم کی جستجوکرسکتاہے۔  پروٹوکول کی زنجیریں آپ سے یہ سہولت چھین لیتی ہیں ۔یہ درست ہے کہ اسکندریہ میں اسکندراعظم کا مدفن نہ مل سکا لیکن اس جستجو کا یہ حاصل کیاکم ہے کہ میں نے اس کے دوران میں اور بہت کچھ دیکھ لیا۔ خاص طور پر امام بوصیری (م:۶۹۶ھ) کی آرام گاہ ،جس کے بارے میں ہمارے انسائیکلوپیڈیا، اردودائرئہ معارف اسلامیہ تک میں اب تک یہ لکھاہواہے کہ قاہرہ میں ہے۔ یہ ایساہی ہے جیسے ایڈیسن نے کہاتھا کہ بلب کی ایجادکے دوران میں نے بلب ایجادکرنے کاتوایک ہی طریقہ سیکھا لیکن ایسے سیکڑوں طریقوں سے آشناہوا جن سے بلب نہیں بنایا جا سکتا۔

خلقیدہ میں ارسطوکی تدفین کے خیال کا سبب یہ تھاکہ ارسطو جب ایتھنزسے نکلاتو اس نے Chalcisہی کی راہ لی تھی۔ یہ اس زمانے میں ایک خوش حال شہر تھا اور ہیلینک دور میں یہ شہر اتنا اہم ہوچکاتھا کہ مقدونیہ کے حکمرانوںنے اسے قلعہ بناکر یہاں سے یونان والوں کو قابوکیاتھا۔ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزراکہ نیویارک ٹائمزکی اشاعت ۲۶؍مئی ۲۰۱۶ء میں شائع ہونے وا لی ایک رپورٹ میں بتایاگیاتھا کہ یونان کے ایک ماہرآثارقدیمہ  Konstantinos Sismanidisنے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیاہے کہ اس نے ارسطو کا مقبرہ دریافت کرلیاہے۔اس نے کہاہے کہ اگرچہ اس کے پاس اس امر کا کوئی ثبوت موجودنہیں تاہم شواہد اس بات کے حق میں ہیں کہ وفات کے ایک عرصہ بعد ارسطو کی ہڈیاںStagira  لاکردفنائی گئی تھیں۔اس قدیم یونانی شہر کے آثار اب جدید مقدونیہ کے وسطی صوبے میں واقع ہیں۔ اس نے اس مقبرے کا ایک تخیلاتی ڈیزائن بھی جاری کیاہے ۔اگرچہ بہت سے محققین نے اس دعوے سے اختلاف کرتے ہوئے اس تحقیق پراپنے شکوک و شبہات کا ظہارکیاہے لیکن اس سے یہ بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ ارسطوکاانتقال خلقیدہ میں ہوا۔میںنے اس ماہر آثارقدیمہ کاایک انٹریو سناتوان کاکہناتھا کہ…after they transported them from Chalkis where he died  جس سے ارسطوکی خلقیدہ میں وفات کی تائیدہوتی ہے اور یہ بات تودوسرے ماخذسے بھی معلوم ہوتی ہے کہ ایتھنزسے ہجرت پرمجبور کیے جانے کے بعد ارسطو کی زندگی کے باقی ایام یہاں تنہائی اور گوشہ نشینی میںگزرے ۔وہ اسکندراعظم کے انتقال کے دوبرس بعد تریسٹھ برس کی عمرمیں تنہائی، اضطراب اور بے چینی کے عالم 

میںجہانِ فانی سے رخصت ہوگیا۔ وفات ،خلقیدہ میں ہوئی تدفین کے لیے اسے قریبی گائوں یوبیالے جایاگیا ۔ یوبیایونان قدیم کی ایک جگہ ہے جو جدید مقدونیہ کے ایک صوبے میں شامل ہے ۔

ہم خلقیدہ جانے کے لیے جلد گھرسے نکلے اسی روز یونان میں قائم ادارہ منہاج القرآن کی شاخ کے ارباب حل وعقد نے ہمیں اپنے ہاں ناشتے پر مدعوکررکھاتھا۔پہلے ہم ادارہ منہاج القرآن پہنچے ۔ یہ ادارہ ایک سہ منزلہ عمارت میں قائم ہے جہاں لائبریری، سماعت گاہ اور جائے نماز قائم ہیں ۔قارئین یہ بات جان چکے ہیں کہ یونان میں مسجدبنانے کی اجازت نہیں البتہ مختلف مسلم تنظیمیں اپنے طور پر اسلامک سنٹر کے نام سے ادارے بناسکتی ہیں ان سنٹرزہی میں نماز کے لیے جو جگہ مخصوص کر دی جاتی ہے اسے مسجدکہاجاتاہے ۔ہمیں ادارے کا دورہ کروایاگیا کچھ کتابیں پیش کی گئیں اور اکل و شرب کے مراحل طے پائے جس کے بعد مجھ سے خطاب کی فرمائش ہوئی۔یہ خطاب کسی اگلے کالم میں نذرقارئین ہوگا۔

یہاں سے رخصت ہوکر ہم براہ راست خلقیدہ کے لیے روانہ ہوگئے راستہ صاف ستھراتھا۔ یونان کا اسی فیصد علاقہ پہاڑی سرزمین پرمشتمل ہے ۔باقی علاقے جزائرپرمشتمل ہیں۔ دوہزارسے زائد جزیرے ہیںجن میں سے ایک سوستر پر آبادی ہے۔ ہم خلقیدہ پہنچے تو سب سے پہلے ایجین سمندر کی لہروں نے خوش گوار موسم کی خبر دی ۔مجھے تو معلوم نہیں تھا لیکن یہ دیکھ کر خوش گوار حیرت ہوئی کہ خلقیدہ کے بہت سے احباب سمندرکنارے ہمارا ستقبال کرنے کے لیے موجود تھے۔ ان سب سے مل کر خوشی ہوئی اوردوردیس میں اپنے ہم وطنوں کی محبت کا اندازہ ہوا ۔ سمندرکنارے سب احباب کے ساتھ تصویرکشی کی گئی،سفیرصاحب ہمارے درمیان گل سرسبدکی طرح موجودتھے۔میرے استفسار پر انھوںنے ہی بتایاکہ یہ ایجین سمندر ہے ۔ یہاں ایجین سمندرکے کنارے کھڑے ہوکریہ نظارہ پہیلی بار دیکھاکہ پانی بہ یک وقت دو مختلف بلکہ متضاد سمتوں میں رواں ہے۔سمندرکے ایک جانب پانی اگر ہمارے دائیں جانب رواں تھا تو دوسرے کنارے کی طرف اس کابہائوبائیں جانب تھا درمیان میں ایک مقام پر حدفاصل تھی ہرطرف پانی ہی پانی تھا اور درمیان میں بھی پانی …پانی کے سوا کوئی شے دونو رخوں کو جداکرنے والی نہ تھی ۔ایجین کی سطح پر تیرتی کشتیاں اگر سمندرکے درمیان میں چلی جاتیں جہاں سے پانی کا رخ تبدیل ہورہاتھاتو پانی کشتی کے رخ کو یکسر بدل کررکھ دیتاتھااور کشتی کے مسافر جو اپنی منزل کی جانب منہ کیے محوسفر ہوتے یکایک راہ روپشت بمنزل بن جاتے اور پانی کی زورآوری کے سامنے کشتی کی بے بسی دیکھ کرمجھے لال قلعہ کے مثن برج میں لکھے اشعار کا مصرعہ یاد آتا

اے راہ روِ پشت بمنزل ہشدار 

راقم اس سے پہلے بحرقلزم میں ایک ہی مقام پر گرم اورسرد پانی کے بہتے دھارے دیکھ چکا تھا،


ای پیپر