Lahore jalsa, fate, government, PDM, politicians resignations
09 دسمبر 2020 (12:20) 2020-12-09

٭… لاہور جلسہ آر یا پار… مریم نواز

٭ آج سوال یہ نہیں ہے کہ حکومت کیا کر رہی ہے اور اپوزیشن جماعتیں کس طرف بڑھ رہی ہیں۔ اگرچہ حکومت کا بیانیہ ہے کہ اپوزیشن جو چاہے کر دیکھے این آر او نہیں ملے گا۔؟ جبکہ آزادی مارچ سے شروع ہونے والی گیارہ  سیاسی جماعتوں پر مبنی احتجاج یہ ہے کہ وہ آئین، جمہوریت، اسلام کی حفاظت اور ووٹ کی عزت کے لئے میدان عمل میں اترے ہیں۔ بلکہ آپ کو یاد ہو گا کہ پی ٹی آئی حکومت ابھی صفیں سیدھی کر رہی تھی کہ اپوزیشن جماعتوں نے آل پارٹیز کانفرنس میں جولائی 2018 کے انتخابات کو جعلی قرار دیتے ہوئے نئے انتخابات کا ڈھول پیٹ دیا تھا بلکہ محترم فضل بھائی نے تو اپوزیشن جماعتوں کے جیتنے والے معزز ارکان اسمبلی سے اسمبلیوں کی رکنیت کا حلف نہ اٹھانے کی بھی اپیل کی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی بات کسی نے نہ سنی، اس میں بھی شک نہیں کہ حکومتی ’’تکبر‘‘ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ کیونکہ دن رات کی تگ و دو کے بعد جناب پرویز خٹک وزیر دفاع کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی اور تحریک انصاف کے سلجھے اور سنجیدہ سیاستدان جناب اسد عمر وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے بھی اس احتجاج کے سیاسی مضمرات سے بچائو کے لئے انتھک محنت کی تھی۔ مگر افسوس کہ یہ کمیٹی پی ٹی آئی کے چند غیرسنجیدہ افراد کی باندی بن کر رہ گئی لہٰذا سیاسی فساد آگے بڑھنے لگا اور حکومتی حماقتوں کے باعث اپوزیشن اور حکومت کے مابین سیاسی تعلقات نیا در نیا رخ اختیار کرنے لگے اور یوں وہ لوگ جو چند جملے ہی نہیں بول سکتے تھے ایسے ایسے جملے کسنے لگے کہ کنویں 

میں چھلانگ لگانے کے مترادف تھے حالانکہ اسی دوران یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ مجھ جیسے معمولی کالم نگار نے بھی حکومت کے اہم اور معزز ترین وزراء کو مفت مشورے دیے اور دن رات یہی کہا کہ ہمارا ملک سیاسی انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا لہٰذا اپوزیشن کی ہر ایک مخالفت پر بھی حکومت کو حکمت سے کام لینا ہو گا اور سیاسی مضمرات سے خود کو بچانا ہوگا۔ مگر افسوس کہ حکومت اپنی آرام و آسائش کی سیاست میں مگن رہی۔ اب سوال یہ نہیں ہے کہ جناب بلاول، جناب فضل بھائی اور محترمہ مریم نواز صاحبہ کیا کیا کچھ کہہ رہے ہیں، کیونکہ یہ تو ہماری جمہوریت کا المیہ ہے ’’کہ اگر میری حکومت ہے تو جمہوریت ورنہ…؟‘‘ آپ 1960 سے شروع ہو جائیں۔ یہی کچھ ہوتا رہا ہے۔ لہٰذا آج سوال پاکستان کا ہے اور میری طرح پاکستان کے عوام ایسی دوغلی سیاست کے ہاتھوں پریشان ہیں اور پریشان کیوں نہ ہوں، وطن عزیز کی محبت ان کے دلوں میں خون کی طرح دوڑتی ہے۔ پاکستان ان کی روحوں میں بستا ہے۔ شاید اس لئے آج ہر فرد مضطرب ہے۔ سوچ رہا ہے کہ ہم مجرمانہ غفلتوں کے شکار کیوں ہیں۔ کہیں ہماری احتجاجی سیاست سے ہمارا ازلی دشمن کوئی فائدہ نہ اٹھا لے کیونکہ جونیا منظرنامہ ہے اس کے اصل حقائق بہت تلخ ہیں جبکہ ہم اس چکر میں تقسیم ہیں کہ حکمران طبقے کا منصوبہ کامیاب رہا یا اپوزیشن کااحتجاج کامیاب رہا۔؟ خدا کا واسطہ، وقت عذات الٰہی ہے۔ ہر کوئی اپنی اپنی حدود میں رہے اور سچی توبہ کرے۔ نہ حزب اختلاف کو کچلنے کی کوشش کی جائے نہ حکومت کو غیرآئینی طریقے سے ڈرایا جائے ورنہ وہ بااثر طاقتیں جو کتے بلی کی حالت زار پر شور مچا دیتی ہیںآپ کی حالت پر محض بیان دے کر خاموش ہو جائیں گی یا چپ چاپ تماشا دیکھتی رہیں گی۔؟

انقلابی شاعر سر علامہ اقبالؒ نے کہا تھا:

کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوں

فکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوں

نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں

ہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں

…………………

٭… پاکستان پر بھارت کو ترجیح دینا غلطی تھی، محبوبہ مفتی

٭ بسااوقات انسان عجیب و غریب خیالات میں محو سفر کہاں سے کہاں نکل جاتا ہے اور ناقابل تلافی نقصان اٹھاتا ہے مگر جب حقیقت سامنے آئے یا اس کی محبت کونفرت کا دیو نگل جائے یا وہ حالات کے کسی خونی طوفان میں گھر جائے تو پھر اسے عقلی راستہ دکھائی دیتا ہے۔ بہرحال مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ ہم غلطی پر تھے ہماری قیادت نے 1947 میں بھارت کے ساتھ الحاق کیا تھا مگر اب ہماری آنکھیں کھلی ہیں اور معلوم ہوا ہے کہ ہم پاکستان پر بھارت کو ترجیح دینے میں غلطی پر تھے۔ انہوں نے بی بی سی کو دوران انٹرویو کہا کہ بھارت نے مظالم کی انتہا کر دی ہے جبکہ اب تو ہمیں بولنے کی بھی آزادی نہیں ہے۔ لیکن یاد رہے کہ دنیا میں دوسرا بڑا طاقتور گروہ ظالم حکمرانوں کا ہے اگرچہ وہ ہمیشہ لات و منات کی طرح منہ کے بل گرتے ہیں مگر مظالم سے باز نہیں آتے۔روس نے افغانستان میں قبضہ جمایا اور پھر اس کا مزہ پایا بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ امریکہ نے ویت نام پے مظالم کے پہاڑ توڑ 


ای پیپر