Selfishness,  spiritual powers, world , abundance
09 دسمبر 2020 (12:04) 2020-12-09

انتشار کا رخ کثرت کی طرف ہوتا ہے اور یکسوئی کا وحدت کی طرف! منتشر خیال ہونا دراصل منتشر حال ہونا ہے اور منتشر حال  ہونا افعال اور کردار کو منتشر کر دیتا ہے۔ یہ حال صرف کیف اور کیفیت والا حال نہیں بلکہ زمانے والا حال بھی ہے۔ حال  میں انتشار ماضی اور مستقبل دونوں کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ ماضی کے اچھے کام یک قلم‘ قلم زد کر دیے جانے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ایک بار اپنے صاحب، یعنی صاحبِ حال حضرت واصف علی واصفؒ کی محفل میں بیٹھا تھا، یہ نجی محفل تھی‘ یعنی گلشن ِ راوی کے آفس میں۔ ایک ایسی بات تھی جس پر یہ طالب علم بضد تھا، قال سے توبہ کرتا تھا ، خیال سے نہیں، یعنی خیال بدستور اسی دیوان کے طرف مائل تھا جس کی طرف جانے سے صاحب ِ اَمر کی طرف سے حکمِ امتناعی جاری ہو چکا تھا…باطن میں میری ضد کو دیکھتے ہوئے آپؒنے جلال میں فرمایا’’ ضبط کر لو اِس کی کتاب‘ اگر یہ ضد سے باز نہیں آتا تو…‘‘ اس وقت یہ ناچیز ’’پہلی کرن‘‘ کتاب کا مصنف بن چکا تھا، کتاب منظر ِ عام پر بھی آ چکی تھی…کامران شاہین نے پوچھا کہ حال کے بدحال سے ماضی کیسے خیر سے محروم ہو گیا؟ عرض کیا ‘ جیسے حال میں حسد کیا جائے تو ماضی کی نیکیاں جل جاتی ہیں۔ اگر حال کا کلمہ ماضی کا کفر مٹا سکتا ہے تو حال کا کفر بھی ماضی کے ایمان پر قلم پھیر سکتا ہے، آپؒ فرمایا کرتے : 

بھریا اس دا جانیے جیدھا توڑ نبھے

بہرطور راقم کے لیے اس مذکورہ ممنوعہ دیوان کی طرف جانے سے ممانعت میں دیوانگی ہی معاون ثابت ہوئی،وگرنہ رکنا اپنے بس کی بات ہرگز نہ تھی۔ شکر ہے بال بال بچت ہو گئی، مرشد کا خصوصی تصرف شامل ِ حال ہوا اور دل طوف ِ کوئے ملامت کو جانے سے بچ گیا، وگرنہ ایک کتاب ہی کیا، سب کچھ ہی ضبط ہو جاتا۔ یعنی آنے والی کتابیں بھی بحقِ صاحب و سرکار ضبط ہوجاتیں۔ ظاہر ہے‘جب خیال ضبط ہوجاتا تو قلم اور کتاب سب کچھ ہی اٹھا لیا جاتا۔ ظاہر میں نظر آنے والے ضابطے بھی باطن میں مقرر کیے جاتے ہیں۔ باطن میں سرِ مُو  انحراف ‘ ظاہر میں سربسر انحراف کا باعث بن جاتا ہے۔دراصل انعطاف بھی ایک درجے کا انحراف ہی ہوتا ہے۔ یہ بات ہے منشور کی! صرف انعکاس ہی روشنی کی حقیقت  سے روشناس کرتا ہے۔ دراصل بات سمجھنے کی ہے، باطن اور ظاہر میں حائل صرف وقت کا 

حجاب ہوتاہے، جونہی وقت کا پردہ اُٹھتا ہے‘ باطن ظاہر ہوجاتا ہے۔ اس لیے وہ وقت کی حد آنے سے پہلے ہی تائب ہو جانا چاہیے۔ اس وقت سے ڈرنا چاہے ‘جب وقت کا پردہ مزید پردہ پوشی نہ کر سکے۔ وقت کے اِس پردے کا مہلت بھی کہہ سکتے ہیں۔

انتشار اور یکسوئی میں وہی فرق ہے ‘جو موت اور زندگی میں ہوتا ہے۔ انتشار موت ہے… کسی بھی فکر کی، عمل کی اور پھر کردار کی!  یک سوئی سے حیات جنم لیتی ہے۔ فکر و افکار کی جنم گاہ بھی یکسوئی ہے۔ یکسوئی کو انتشار میں بدلنے والی چیز خواہشِ نفس ہے۔ نفس انتشار کا خوگر ہے، روح یکسوئی کی دلدادہ ہے۔ روح جہاں یکسوئی کا آسن دیکھتی ہے‘ مرتکز ہو کر بس وہیں کی ہو رہتی ہے۔ روح کی قوت شاملِ حال نہ ہو تو جسم کا تسویہ نہ ہو سکے۔ کسی مزکی نفس کی توجہ نہ ہوتو نفس کا تزکیہ نہ ہوسکے۔ ایسا لگتا ہے جیسے روح اپنے لیے جسم خود تیار کرتی ہے۔روح روٹھ جائے تو زندگی روٹھ جاتی ہے۔ یہ فیصلہ کرنا دشوار ہے کہ پھول کی پتیوں سے خوشبو برآمد ہوتی ہے  یا  پھر خوشبو اپنے اظہار کے لیے پھول میں پتیوں کی ترتیب مرتب کر لیتی ہے۔ 

 زندگی کیا ہے ‘ عناصر میں ظہورِ ترتیب 

موت کیا ہے‘ اِنہیں اجزأ کا پریشاں ہونا

خواہش ِ نفس ہماری روحانی قوتوں کو منتشر کرتی ہے اور اسے عالمِ کثرت کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ روح سفیرِ وحدت ہے۔ عالمِ اجسام کے اس اجنبی دیس میں روح مضمحل ہوجاتی ہے… اس لیے تازہ دم ہونے کے لیے اسے کبھی نیند اور کبھی موت کی ضرورت پیش آتی ہے۔کثرت میں روح کو وحشت ہوتی ہے۔ اسے وحدت میں سکون میسر آتا ہے۔یکسوئی ‘مائل بہ وحدت ہے… انتشار‘مائل بہ کثرت !!

یکسوئی میں مداومت کا نام استقامت  ہے۔ استقامت کرامت نہیں ‘ فوق الکرامت ہے۔ جہاں بندۂ استقامت دیکھیں ‘ سمجھیں وہیں کہیں راہِ مستقیم بھی ہے۔ راہِ مستقیم بندہ ٔاستقامت کے پاس خود چل کر پہنچ جاتی ہے۔گویا صراطِ مستقیم استقامت والوں کے قدموں کے نیچے ہوتی ہے۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ انعام یافتہ بندے کی راہ ‘راہِ استقامت ہے یا استقامت کی راہ اختیار کرنے والوں پر انعام نازل کیا جاتا ہے۔ بہر حال یہ مالک کے فیصلے ہیں ‘ جسے چاہے راہِ ہدایت دے، جسے چاہے ہادیؐ کے قدموں کی دھول بنائے اور جسے چاہے راہِ ہدایت کا سنگِ میل بنائے۔ 

انتشار لغو ہے، یکسوئی خشوع ہے۔ جب دل جھک جائے ‘ مکمل تسلیم کی حالت میں آجا ئے ‘ تسلیم میں پورے کا پورا داخل ہو جائے‘  تو یکسوئی حاصل ہو جاتی ہے۔ یکسوئی کسی مراقبے میں مشغول ہونے کا نام نہیں بلکہ کسی اَمر اور صاحب ِ اَمر کی متابعت میں غیر مشروط  اطاعت میں ڈھل جانے کانا م ہے۔خود ساختہ مراقبہ و ریاضت و مجاہدہ بالعموم نفس کو طاقت ور کرنے کا باعث بنتا ہے۔ نفس کا شیش ناگ کسی جوگی کا ہنر ہی پکڑ پاتا ہے۔ کوئی بالناتھ میسر آئے تو مجاز سے حقیقت کا رخ سامنے آئے۔ ٹلاں جوگیاں پر یکسوئی کا آسن  لگانے والابالناتھ سب رانجھوں  کے مقدر میں کہاں!! 

مومن یکسو ہوتا ہے، منافق دو مونہہ! مومن اپنے رب کے ساتھ ایک عہد اور پھر اس عہد پر استقامت کی مالا پہنے ہوئے ہوتا ہے۔ منافق در درکی خاک چھانتا ہوا ‘ دربدر ! مومن کا تعلق ذات سے ہوتا ہے، منافق صرف صفات کی مالا جپنے والا موقع پرست!!  قیام ذات کو حاصل ہے، صفات رنگ رنگ ہیں، صفات متغیر بھی ہیں اور متضاد بھی!  زمان و مکاں کی گردش سے نکلنے کا طریق دائرہ  صفات سے نکل کر ذات کے محور میں داخل ہونا ہے۔ ذات محور و مرکز ہے، محور میں گردش تھم جاتی ہے۔  دانۂ گندم ہو یا اسے کھانے والا ‘ ‘اگر چکی  کے کیل میں داخل ہوگیا تو پسنے سے بچ گیا۔  

انتشار پہلے خیال میں رونما ہوتا ہے‘ پھر عمل میں! خیال میں یکسو ہونا عمل میں استقامت عطا کرتا ہے۔ اس لیے اصلاح کے باب میں پہلے خیال کی اصلاح کی بات کی جاتی ہے۔ اگر نیکی کا ذوق پیدا ہوگیا تو برائی سے اَزخود وحشت ہو جائے گی۔ احبابِ ذی ذوق! برائی کا نام نہ لو! بس نیکی کی  بات کرتے جاؤ، خوشبو کی بات کرو، بدبو کے تذکرے سے محفل کو بدمزہ نہ کرو!! پاک محفل ڈھونڈو! پھر اس محفل کا حصہ  بن جاؤ… اپنی تنہائی آباد کرو، محفل کو اپنی تنہائی تک لے جاؤ! جب تنہائی آباد ہو گئی تو خلوت اور جلوت میں فرق نہ رہے گا۔ مرشدی واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے کہ مومن وہ ہے جس کی تنہائی مومن ہے۔ 

معصیت انتشار کی طرف لے جاتی ہے… 


ای پیپر