عقل کی مانیں یا دل کی 
09 دسمبر 2020 2020-12-09

میاں نواز شریف کی پرانی باتوں کو میں کبھی خلجان سمجھ کر دھیان نہیں دے رہاتھا،تاہم گردش ایام کووہم وگمان میں جگہ دینے کے بجائے، سبق حاصل کیے بغیر فراموش تو نہیں کیا جاسکتا۔ 

غالباً یہ 2013ءکے قریب کی بات تھی، محمد نواز شریف نے کہا تھا، کہ ان کی جماعت کے رہنماﺅں کو نیب کی جانب سے ڈیفالٹر قرار دینے کی شرارت اوپر سے ہوئی ہے، اور ان میں چارکاٹولہ ملوث ہے، اور اس میں میڈیا کا ایک حصہ بھی شامل ہے، ا ب تھوڑا سا کام آپ بھی کرلیں کہ اس وقت حکومت کس کی تھی ہمارے خیال میں میاں محمدنواز شریف، اور میاں شہباز شریف میں یہی فرق ہے، وہ کئی سال تک چالیس چوروں کی بدعنوانیوں اور دھاندلیوں کو بے نقاب کرتے رہے، جبکہ محمد نواز شریف کی وجہ شہرت ، سادہ دلی اور معصومیت ہے، جومشہور میزبان وسیم بادامی والی نہیں، جو مذہبی پروگراموں کے علاوہ عائشہ عمر جیسی اداکارہ کو عوام کے سامنے پھوٹ پھوٹ کر رُلا دیتے ہیں، اور رقص موسیقی کے پروگرام کے بھی میزبان بن جاتے ہیں، اور سیاسی پروگرام بھی بڑے ہی معصومانہ انداز میں کرلیتے ہیں، جس کو کبھی بھی میں شاطرانہ نہیں کہہ سکتا بہرحال محمد نواز شریف، دوستوں کے بارے میں حسن ظن اور حددرجے کا اعتماد بعض اوقات ان پر تنقید کی وجہ بنتا ہے۔ مگر میاں شہباز شریف اس معاملے میں حددرجے تک محتاط ہیں، اوروہ سیاست میں رہ کر مریم نواز کو بھی مذاکرات کا دروازہ بند نہ کرنے کی تلقین کرتے ہیں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اعتماد ایک روح کی طرح ہوتا ہے، ایک دفعہ چلا جائے، تو دوبارہ اعتماد کرنا ممکن نہیں رہتا، شاید وہ شیخ سعدیؒ کے فرمان پر عمل پیرا ہیں، کہ آزمائے ہوئے کو دوبارہ آزمانے والے کی غلطی ہوتی ہے، اس لیے وہ چالیس کی بات کرتے ہیں۔ 

مگر میاں محمدنواز شریف ملک کی تباہی کے ذمہ دار صرف چار کے ٹولے کو کہتے تھے۔ چار کے ٹولے کے سابقہ بیانیے اور موجودہ بیان میں قارئین کوئی زیادہ فرق تو نہیں، تو پھر اس کو اتنا زیادہ کیوں اچھالا جارہا ہے؟، اور جماعت اسلامی بھی دور موجود میں دیئے گئے بیانیے کی طرح چار کے ٹولے کو ہی ہدف تنقید بتاتے تھے، سیاسی تاریخ سابقہ میں چار کا ٹولہ کون تھا، یہ بھی کھل کر قوم کو بتانے کی ضرورت ہے، جبکہ ہم تو یہ سمجھتے ہیں، کہ چارکے ٹولے کو بھی اس وقت کی میاں نواز شریف کی اپوزیش کی شرافت کی وجہ سے کروڑوں انسانوں کی قسمت اور مستقبل کو تاریک کرنے کا موقعہ ملا، شاید میاں محمدنواز شریف شہنشاہ ہمایوں والا دل رکھتے ہیں جب انہیں مخالفین کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مشورہ دیا جاتا تھا، تو وہ کہتے تھے کہ میرا دماغ بھی یہی کہتا ہے، مگر میرا دل نہیں مانتا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نواز شریف کو بار بار جلاوطن ہونا پڑا، اور اپنی زندگی کے سال ملک سے باہر گزارنے پڑے۔جب عقل ودل میں تصادم شروع ہوجائے، تو حضرت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ 

ہرخاکی ونوری پہ حکومت ہرخرد کی

باہر نہیں کچھ عقل خداداد کی زد سے 

 عالم ہے، غلام اس کے جلال ازلی کا 

 اک دل ہے ، کہ ہرلحظہ الجھتا ہے خرد سے 

جب عقل محدود کا انسان خاکی خالق موجودات کے بارے میں عقل ودل کی کسوٹی پہ پرکھنا شروع کردیتا ہے تو پھر اپنی عقل وفکری کم یائیگی کا احساس اسے آہ وبکا کے بجائے تسلیم ورضا پہ رضامند کردیتا ہے اور پھر جب میاں نواز شریف سے سوال کیا گیا تھا، کہ انتخابات میں کامیابی کے کتنے امکانات ہیں، تو وہ نہایت انکساری سے جواب دیتے تھے، کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ بہتر جانتا ہے، ہم تو ناچیز انسان ہیں۔ 

یہ انکساری اور معصومیت ایک ایسی خوبی ہے، کہ جو ہرایک کو بھاتی اور اچھی لگتی ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ معصومیت والا ہتھیار ہرجگہ کام آتا ہے، کیونکہ اس میں منافقت نہیں ہوتی، اور اگر روح بیدار ہو اور فطرت معصوم ہو تو انسان بہت جلد اپنی غلطی بھی تسلیم کرلیتا ہے ،اور میاں نواز شریف کی ان اخلاقی اقدار سے ہمیں پیار ہے جس اخلاق کا درس ہمیں حضور نے دیا تھا مگر ہمیشہ جمہوریت کو بچانے کی غلطی کروڑوں پاکستانیوں کو بہت ہی مہنگی پڑی کیونکہ اس سے جمہوریتتو بچ جاتی ہے، مگر انسانیت، اور انسانی اقدار مٹی میں مل کر ملیا میٹ ہوجاتی ہیں، کیونکہ ہمارا دین تو کہتا ہے کہ ایک انسان کی حرمت اس قدر زیادہ ہے کہ وہ حرمت کعبہ سے بھی زیادہ ہے۔ 

مگر کیا کیا جائے، کہ ہمارا وطن عزیز ایسی صورت حال سے دوچار ہے، کہ جہاں لمحوں میں کچھ سے کچھ ہوجاتا ہے، اسی لیے میاں نواز شریف ٹھیک ہی کہتے ہیں، کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، مگر ہم اتنا جانتے ہیں کہ ان کی شریف اپوزیشن کی تعریف شہید بے نظیر بھٹو بھی کرتی بے شک یہ پہلا موقعہ تھا کہ کسی ملک میں قائد حزب اختلاف نے وزیراعظم کو اپنی بہن بنا لیا تھا، اور پھر وزیراعظم کی شہادت کے موقعے پر ایک بھائی اپنی بہن کی لاش دیکھ کر زاروقطار روتا رہا۔ اب اس سادہ دل انسان کو کون سمجھائے کہ میڈیا کے کچھ لوگوں سے گلہ کرنا اور شکوہ کرنا جس کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ سیاست میں آنے کے سابق اخلاقی ضابطے، پرکاری کی نذر ہوگئے ہیں، اب صرف ساتھی ہی نہیں، ساجھی بھی ساجھی سے مل جاتے ہیں، اب تو فریقین ، دھونس، دھمکیوں سے ایک ہو جاتے ہیں، اور بیج میں پڑنے والوں کو خفت اٹھانی پڑتی ہے، آج کل کی سیاست منافقت کی نذر ہوگئی ہے، اگر دیار عزیز سے سندیسہ آئے، تو پھر چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الٰہی کے دل میں بھی بادل نخواستہ نرمی آجاتی ہے، پون صدی گزرجانے کے باوجود کروڑوں عوام اس معمے کو سلجھانے میں ابھی تک بھی نامراد رہے ہیں، کہ وہ کونسی طاقت ہے کہ جو ہمارے وطن عزیز میں اقتدار کی مسند پر ہما کس کے کاندھے پر بٹھا دیتی ہے؟ بحیثیت مسلمان ہم تو یہ سمجھے تھے، کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے، اسے حکمران بنادیتا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی سمجھا دیا ہے کہ جیسے عوام ہوں گے، ویسے ہی اس کو حکمران ملیں گے، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان جلیلہ کو ہم مسلمان صدق دل سے تسلیم کرتے ہیں،حضرت عثمانؓ بھی فرماتے ہیں کہ دنیا کی محبت دل کا اندھیرا ہے، اور دین کی محبت دل کا نور ہوتی ہے، جیسے بقراط فرماتے ہیں، کہ قدرت نے دماغ کو دل سے اونچی جگہ دی ہے، اس لیے جذبات کو ہرحالت میں ہمیشہ تمیز ، تحمل اور اخلاق کے تابع رکھنا بہت ضروری ہے، نواز شریف کے بیانیے کے بارے میں کروڑوں ہم وطن آزاد ہیں، خواہ وہ دل کی مانیں یا دماغ کی کیونکہ سنا ہے کہ ہم پون صدی سے آزاد ہیں۔ 


ای پیپر