سیاست میںجمع تفریق کے فارمولے
09 دسمبر 2019 2019-12-09

دو سوال ملک کی سیاست کا پیچھا کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے آرمی چیف کے تقرر کا معاملہ سیاستدانوں یعنی پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا ہے جسے چھ ماہ کے اندر قانون سازی کرنی ہے۔ دوسرے پارلیمنٹ کی نوعیت کہ ان ہائوس تبدیلی ہو یا درمیانی مدت کے انتخابات۔سوال یہ ہے کہ ملک کو درپیش مسائل اور بحران حل کرنے میں موجودہ پارلیمنٹ ناکام رہی ہے یا موجودہ حکومت؟ موجودہ حکومت سے مراد وزیراعظم ہی لیے جاتے ہیں۔گزشتہ ہفتے تک الیکشن کمیشن میں تقرریوں کا معاملہ وجہ تنازع بنا ہوا تھا۔ وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ اپوزیشن سے رابطہ ہوچکا ہے، چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کی تقرری کا فیصلہ بدھ تک ہو جائیگا۔ ایسا ہی اشارہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے دیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی، حکومت سے پرخلوص بات چیت کرنے کو تیا رہیں۔ لگتا ہے کہ یہ معاملہ اصولی طور پر حل کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی مدت پر اپوزیشن سے بات نہیں ہوئی، اس کیس کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد حکومت لیگل ٹیم سے مل کر فیصلہ کرے گی۔ لیکن اس معاملے میں مختلف آپشنز پر کابینہ غور کر چکی ہے، اور غیر رسمی رابطے کئے گئے ہیں۔ عددی گنتی پارلیمنٹ میں ہوگی لیکن لگتا ہے کہ اس سے پہلے جمع تفریق کے فارمولے استعمال کئے جارہے ہیں۔

اِن ہائوس تبدیلی اپوزیشن کے لئے کوئی اچھا مطالبہ نہیں تاہم ایک آپشن کے طور پر یہ مطالبہ بھی رہا ، وہ اس لئے کہ نظریہ تسلسل اگر برقرار رہتا ہے تو پارلیمنٹ بھلے رہے، صرف حکومتی تبدیل لائی جائے۔ لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے نے خود نظریہ تسلسل پر سوالیہ نشان ڈال دیا ہے لہٰذا ابھی تک یہ نہیں طے ہو پارہا ہے کہ یہ نظریہ کس حد تک زندہ ہے؟ مسلم لیگ نواز کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال کہتے ہیں کہ ہمارا کوئی مائنس ون ایجنڈا نہیں شفاف انتخابات چاہتے ہیں، عمران خان اپنے ساتھ پی ٹی آئی کو بھی نیچے لے کر جارہے ہیں، عمران خان وزیراعظم رہتے ہیں تو ہمیں سوٹ کرتا ہے۔ جبکہ اپوزیشن کا دوسرا بیانیہ اِن ہائوس تبدیلی کا بھی ہے کہ پارلیمنٹ میں حکومت کی اپنی بقا کے لالے پڑے ہوئے ہیں، وہ آرمی ایکٹ سے متعلق کیا قانون منظور کرے گی۔ حکمران جماعت کے بااثر وزیر پرویز خٹک سمجھتے ہیں کہ اِن ہاؤس تبدیلی کا امکان نہیں، حکومت 5 سال پورے کرے گی، انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ پارٹی ارکان یا اتحادی وزیراعظم سے نالاں نہیں، گلے شکوے ہوتے رہتے ہیں اس کا مطلب تختہ الٹنا نہیں۔

مسلم لیگ نواز کا موقف احسن اقبال کے ذریعے سامنے آیا ہے کہ نئے انتخابات کے دو راستے ہیں ایک وزیراعظم خود اسمبلی تحلیل کر کے نئے انتخابات کی راہ ہموار کریں،عمران خان رکاوٹ بنتے ہیں تو نیا وزیراعظم لایاجائے جو قومی اصلاحاتی ایجنڈے پر کام کرے، اتفاق رائے سے دو تین ماہ کیلئے عبوری وزیراعظم لایا جائے جوتمام جماعتوں کی مشاورت سے عام انتخابات کا اعلان کرے۔ اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ قومی حکومت قسم کی کوئی چیز بنائی جائے۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کہتے ہیں کہ الیکشن اور ان ہائوس تبدیلی کے حالات نظر نہیں آرہے ہیں، تاہم اپوزیشن چاہے تو کوشش کرسکتی ہے۔پی ٹی آئی کے جہانگیر ترین اور پرویز خٹک جیسے بااثر رہنمائوں کا کہنا ہے کہ پارٹی مائنس عمران خان کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا‘ ۔

احسن اقبال نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت کیلئے قانون سازی اتفاق رائے سے ہونی چاہئے۔ لیکن ا نکے بیان سے لگتا ہے کہ نئی پارلیمنٹ ہی آرمی چیف سے متعلق قانون بنائے۔ حکومت سمجھتی ہے کہ اپوزیشن چاہے کچھ بھی کہتی رہے اس کو بہرحال آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حق میں ووٹ دینا پڑے گا۔ یہ بات اپوزیشن بھی سمجھتی ہے کہ وہ اس حساس معاملے کی مخالفت میں زیادہ عرصے تک کھڑی نہیں رہ سکتی۔ لہٰذا وہ دو چیزیں ضرور چاہے گی کہ اس کو مستقبل کے حوالے سے بعض یقین دہانیاں اور بعض ضمانتیں دی جائیں، دوسرے یہ کہ فوری طور پر زیادہ سے زیادہ ریلیف حاصل کیا جائے۔جہانگیر ترین تک نے اشارہ دیا ہے کہ زرداری بھی بیماری کے باعث بیرون ملک جا سکتے ہیں۔ جماعت اسلامی کا خیال ہے کہ آرمی چیف کی تقرری کو پی ٹی آئی دوبارہ قومی اسمبلی میں تماشا بنا چاہتی ہے۔یعنی جماعت اسلامی اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لانے کے حق میں نہیں لگتی۔

نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کے بعد زرداری کا معاملہ پکا ہو چکا ہے۔ حکومت میں بیٹھے بعض لوگ اس کے حق میں بھی ہیں اور اس کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔ دوسری طر ف مریم نواز کی والد کی تیمارداری کیلئے باہر جانے کی درخواست سامنے آئی ہے۔ اس درخواست پر بھی حکومت عدالت کی آڑ لینا چاہتی ہے۔ مریم نواز کی اس درخواست کے بعد یہی کہا جارہا ہے کہ مریم نواز کے بیرون ملک جانے کی صورت میں نواز لیگ مائنس ٹو ہو جائے گی۔ اور ملک کی ایک بڑی اور اہم جماعت کا مزاحمتی بیانیہ ختم ہو جائے گا۔ حکومت یا مقتدر حلقوں کے لئے پنجاب سیاسی طور پر مشکل پڑ رہا تھا، جس کا کوئی توڑ نہیں نکل رہا تھا۔ مقتدر حلقوں کے حق میں ہے کہ مریم نواز اور آصف علی زرداری دونوں ملک سے باہر ہوں۔ ان کی غیر موجودگی میں سیاست ان حلقوں کے لئے آسان ہو جائے گی۔ حکمران جماعت کا کہنا ہے کہ عمران خان نہیں اب مریم نواز مائنس ہونے جارہی ہے۔

فضل الرحمان کا خیال ہے کہ ان کے احتجاج کی وجہ سے حکمرانوں کی اکڑختم ہوگئی۔ یہ بات جزوی طور پر صحیح بھی ہو سکتی ہے کہ ان کی وجہ حکمرانوں کی صفوں میں دراڑیں واضح ہوئیں۔ اب صورتحال یہ نظر آرہی کہ حکومت کو پہلے جیسی سپورٹ حاصل نہیں ہے۔ اگر تین چار ماہ تک ادارے غیرجانبدار ہوجائیں تو اپوزیشن حاوی ہو سکتی ہے۔ سوال وہی پرانا کھڑا ہے کہ کیا یہ صورتحال مقتدر حلقوں کو سوٹ کرتی ہے؟ کیاا پوزیشن مضبوطی کے ساتھ اپنے موقف پر کھڑی رہ سکتی ہے؟


ای پیپر