ہم اپنے حصہ کا پانی پی چکے
09 دسمبر 2019 2019-12-09

پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں داخلہ لیا میں کلاسز شروع ہونے کے چند دن بعد اپنے کلاس روم میں داخل ہوا ایس ایم ناظم کا لیکچر چل رہا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ آپ کلاس میں پہلے دن آئے ہیں۔ میں نے اثبات میں جواب دیا پیچھے بیٹھے ایک کلاس فیلو کی آواز آئی آئندہ دیر سے نہ آنا میں نے پلٹ کر دیکھا ایک لڑکے کے چہرے سے اندازہ لگایا کہ اس لڑکے نے کہا ہے اس کی مسکراہٹ چہرے کے تاثرات سے اندازہ ہوا کہ یہی ہے (عثمان خان) میں نے برجستگی سے اس کو جواب دیا میں کانوں کا فاصلہ مٹا دیا کرتا ہوں۔ شاید ضیا کے پر تشدد دورمیں ایسے ہی الفاظ استعمال ہوا کرتے تھے۔ ایس ایم ناظم جن کا کافی دبدبہ تھا اور سی آر پی سی پڑھاتے تھے خاموشی سے مجھے دیکھنے لگے۔ کلاس میں سناٹا سا چھاگیا۔ کلاس روم میں دیگر لوگوں میں شاہد مبین ، عرفان قادر، ممتاز بخاری ، علی اکبر قریشی وغیرہ سے بعد میں دوستی ہو گئی۔ ہم آپس میں ایک دوسرے کے برابر کرسیوں اور بنچوں پر بیٹھتے۔ علی اکبر قریشی، ، شاہد مبین ، عرفان قادر تو مسٹر جسٹس بن گئے ۔ عرفان قادر پراسیکیوٹر جنرل نیب مسٹر جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور پھر اٹارنی جنرل آف پاکستان رہے۔ علی اکبر قریشی واحد شخصیت ہیں جو دو مرتبہ لاہور ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے۔ لاہور ہائی کورٹ میں تاریخی فیصلے کیے ۔علی اکبر قریشی مجھے موٹر سائیکل پر بھی گوجرانوالہ ملنے آتے رہے۔ موٹر سائیکل والے علی اکبر اورمسٹر جسٹس علی اکبر میں میرے لیے کچھ فرق نہ آیا۔ میں بھی ان کے ساتھ بھائیوں کی طرح تھا۔ وقت کے شروع سے پابند ہیں گلزار بھائی کی شادی پر کارڈ پر دیئے ہوئے وقت 11 بجے ہی پہنچ گئے اور میرا ناک میں دم کر دیا۔ میں نے کہا مجھے تیار ہو لینے دو اتنا وقت پر آنے کی کیا ضرورت تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھائی چارے اور دوستی میں اضافہ ہی ہوا۔ البتہ بہت عرصہ پہلے جب قریشی صاحب ابھی جناب الیاس خان صاحب کے پاس جونیئر تھے تو میں کہتا کہ قریشی میں مسٹر جسٹس علی اکبر قریشی کی نیم پلیٹ ہائی کورٹ میں دیکھنا چاہتا ہوں اور ضرور دیکھوں گا۔ اب جوڈیشل انوائرمنٹ اور واٹر کمیشن پنجاب کے چیئرمین بنا دیئے گئے ۔ ہائی کورٹ کے اختیارات کے ساتھ یہ منصب سنبھال لیا۔ ہماری دن میں کئی بار بات ہوتی ہے۔ پچھلے دنوں ایک دن کہا کہ تیرے شہر گواجرانوالہ بار والوں نے بلایا ہے۔ آپ بھی ساتھ چلو۔ پچھلے جمعہ کے دن میں اپنی ایک کتاب لینے ان کے دفتر گیا وہ موجود نہ تھے۔ میں نے فون کیا کہنے لگے کہ 5 منٹ میں آ رہا ہوں ۔ اس دوران میں نے دیکھا ایک لمبا سا آدمی ٹوپی پہنے داخل ہوا اور دیواروں پر لگی گروپ فوٹوز دیکھنا شروع ہو گیا۔ میں نے سمجھا کوئی موکل ہو گا میں قریشی صاحب کے کمرے میں اوپر چلا گیا۔ قریشی صاحب آ گئے میں نے کہا کہ مجھے کتاب اور اجازت دیںبیٹی کو کالج سے لینا ہے۔ جمعہ ہے ہاف ڈے ہے ۔ وہ کہنے لگے آپ کے شہرکا آدمی ہے۔ میں پہلے کبھی نہیں ملا ہوا۔ اس کو گوجرانوالہ سے ایک سینئر وکیل جناب فرخ محمود سلہریا نے بھیجا ہے۔ میں نے کہا سلہریا صاحب گوجرانوالہ بار کا ایک بڑ انام اور شان ہیں۔ قریشی صاحب نے کہا کہ یہ پروگرام لینے آیا ہے اور میرا تعارف لکھے گا کل تقریب میں بتانے کے لیے اتنے میں وہ صاحب سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آ گئے۔ انہوں نے اپنا نام سہیل خان بتایا۔ قریشی صاحب کی یہ سہیل کے ساتھ پہلی ملاقات تھی۔ اگلے روز گوجرانوالہ بار چلے گئے راستے میں قریشی صاحب نے معروف قانون دان جناب چوہدری عبدالماجد ایڈووکیٹ اور معروف قانون دان و صاحب اسلوب کالم نگار جناب محمد سلیمان کھوکھر کو مدعو کرنے کا کہا طاہر مسعود گل ایڈووکیٹ، ارشد روف ایڈووکیٹ، سینئر وکیل ثمینہ زریں صدیقی کو بھی مدعو کیا گیا۔ لہٰذا وہ بھی آ گئے۔ میں نے چھوٹے بھائی بابر کو بھی بلایا۔ سیشن جج جناب ہمایوں فرحت کے دفتر میں چلے گئے وہاں پر کھوکھر صاحب چودہری عبدالماجد صاحب کو دوبارہ بلایا گیا وہ بھی آ گئے اور انتہائی باوقار شخصیت سینئر سول جج رائے افضال حسین کھرل بھی موجود تھے۔ شاید قریشی صاحب کی آمد کی اطلاع مؤثر نہ تھی البتہ دوستوں سے رابطہ کیا تو ہال میں کافی رونق لگ گئی۔ میڈیا والوں کو بھی شاید اطلاع نہ تھی ورنہ قریشی صاحب کا لیکچر تو پورے ملک میں تمام چیلنجز پر لائیو دکھانے کے قابل تھا۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

جسٹس ریٹائرڈ چیئرمین واٹر کمیشن نے بتایا کہ ہم زمین کے نیچے آٹھ سو فٹ پانی میں سے اتنا استعمال کر چکے ہیں۔ اب صرف دو سو فٹ رہ گیا ہے۔ 2025ء تک پانی کا بحران قابو سے باہر ہو گا اس حوالے سے پانی کے بچاؤ کے لیے پینے کے قابل لاکھوں گیلن پانی وہ روزانہ کی بنیاد پر بچانے کی تدا بیر پر عمل جاری کروا چکے ہیں۔ جن میں لاہور کے پٹرول پمپس، فیکٹریاں، داتا دربار کی مسجد میں وضو کا استعمال ہونے والا ایک لاکھ لیٹر روزانہ سٹور کر کے پارکوں و دیگر جگہوں پر استعمال ہو گا۔ لاہور کی نہر کا پانی ضائع کرنے اور جوہڑ بنانے کی بجائے گورنر ہاؤس ریس کورس پارک وہ دیگر جگہوں پر استعمال ہو رہا ہے 17 کے قریب راستے کھلوا چکے ہیں۔ یہ سلسلہ اب گوجرانوالہ شیخوپورہ ، فیصل آباد کے بعد پورے پنجاب میں پھیلایا جائے گا۔ انہوں نے عام آدمی کے ہاتھوں روزانہ کی بنیاد پر ضائع ہونے والے پانی میں زبردست کمی کے طریقے بھی بنائے مثلاً وضو کرتے جب ضرورت نہ ہو تو پانی بند کر دیں۔ گاڑی پائپ کی بجائے بالٹی میں پانی سے دھوئیں، نہاتے وقت جب شاور کے نیچے نہ ہوں پانی بند کر دیں بہت ساری تدابیر بتائیں جن سے پینے کے پانی کو بچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے آقا کریم کی احادیث کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان کی بات جاننا تو ہمارا فرض ہے کہ اگر آپ ندی کے کنارے پر بھی ہیں تو پانی بہت ضائع کریں اور مزید کہا کہ آقا کریم ؐ برتن میں پانی لے کر وضع کرتے تھے ورنہ وہ کسی کو بھی حکم دیتے کہ معنک پکڑ کر کھڑے ہو کر بیٹھے وضو کرو ۔ انہوں نے بتایا کہ پانی بچانے کے میرے اقدامات کو ہائی کورٹ کاتحفظ حاصل ہے۔ پانی ضائع کرنا جرم نہیں گناہ ہے۔ پانی کی قلت کے حوالے سے کراچی، چنائے (انڈیا) ساؤتھ افریقہ کے کیپ ٹاؤن کی مثالیں بھی دیں۔ انہوں نے اس حوالے سے بتایا کہ جرمانوں کی حد میں 50 کروڑ روپے سے زیادہ رقم قومی خزانہ میں جمع ہو چکی ہے جو اتنی اہمیت نہیں رکھتی جو پانی کی اہمیت ہے۔ اگلے روز داتا صاحب کی مسجد کے پانی وضو میں استعمال شدہ پانی کو ذخیرہ کر کے پینے والے پانی کو بچائے۔ مختلف پارکوں اور جگہوں پر استعمال کرنے کے منصوبے کا افتتاح کیا۔ جسٹس صاحب نے پانی کی اہمیت کو اس حد تک اجاگر کیا کہ مجھے وہاں پر وقتی طور پر پانی پینا بھی جرم لگ رہا تھا۔ ایڈووکیٹ عبدالخالق انجم ، سید کمال علی حیدر ایڈووکیٹ، ڈپٹی ڈائریکٹر واسا علی اعجاز بھی ساتھ تھے۔ جناب علی اکبر قریشی نے کہا کہ ہم اپنے حصے کا پانی پی چکے جبکہ میں سمجھتا ہوں ہم اپنے بچوں کے حصے کا پانی بھی پی چکے ۔


ای پیپر