المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ|
09 دسمبر 2019 2019-12-09

یہ ایسا دور آ گیا ہے کہ کوئی کسی کا نہیں، بس آپا دھاپی ہر سمت دیکھنے کو ملتی ہے سب کو اپنی اپنی پڑی ہوئی ہے۔ بات سوچنے کی ہے کہ پھر یہ معاشرہ یہ ملک کیسے آگے بڑھے گا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ابھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو دوسروں کے لیے جی رہے ہیں۔ اس ملک کو مستحکم کرنے میں مصروف ہیں۔

المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ ایک ایسی تنظیم ہے جو انسانیت کی خدمت کا فریضہ سر انجام دے رہی ہے اس کے چیئر مین جناب عبد الرزاق ساجد ہیں ان کے ساتھ محترم نواز کھرل بھی سر گرم عمل ہیں۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان میں وہ غیر معمولی طور سے فعال ہیں تو غلط نہ ہو گا وہ آئے روز اور انسانی خدمت کے حوالے سے کہیں نہ کہیں ضرور دکھائی دیتے ہیں گویا انہوں نے رات دن ایک کیا ہوا ہے انسانیت کے لیے ۔ یقینا یہ بہت بڑا کام ہے جو وہ کر رہے ہیں۔ وگرنہ جیسا کہ میں نے آغاز میں عرض کیا کہ اس وقت کوئی کسی کا نہیں۔ مگر اس کے با وجود کچھ لوگوں نے اپنی زندگیاں وقف کر رکھی ہیں۔ بے بس، مجبوروں اور غریبوں کے لیے لہٰذا حالات کیسے بھی ہوں وہ اپنا فرض ادا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اس میں انہیں بے حد تسکین ملتی ہے ۔

المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ کا مرکزی دفتر لندن میں واقع ہے جہاں سے ان کے منتظمین انسانی بھلائی کے پروگرامز ترتیب دیتے ہیں اور پھر جہاں ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ انسانیت سسک رہی ہے وہاں پہنچ جاتے ہیں۔

وطن عزیز میں ان کی زیادہ تر توجہ آنکھوں کی بینائی پر مرکوز ہے ہزاروں لوگ ان کے اس پروگرام سے مستفید ہو چکے ہیں وہ ایک لاکھ کا ہدف مکمل کرنے کے لیے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

اس میں انہیں یقینی طور سے کامیابی حاصل ہو گی ۔ ان کی اس سوچ سے آہستہ آہستہ بہت سے اہل ثروت اتفاق کرتے ہوئے ان کے ساتھ چلنے کو آمادہ و تیار ہو چکے ہیں ہو رہے ہیں۔ ان کی جھلک واضح طور سے دیکھی جا سکتی ہے کہ ایک صبح المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ کے انتہائی مخلص ، انسان دوست اور سرگرم عہدیدار جناب نواز کھرل کی طر ف سے ایک فری آئی کیمپ جس کا اہتمام رئیس مارکی کے مالک رئیس اقبال نے کیا تھا میں مدعو کیا وہاں ملک کی نامور کالم نگار و شاعرہ محترمہ رابعہ رحمان کے علاوہ جناب ناصر بشیر جو ملک کے قد آور شاعر، ادیب اور کالم نگار کے علاوہ پروفیسر بھی ہیں مدعو تھے۔

مجھے بتایا گیا تھا کہ جن مریضوں کے آپریشن ہو چکے ہیں آج ان کی پٹیاں کھلنی ہیں انہیں آپ لوگ دوائوں کے پیکٹ اور سیاہ چشمے پیش کریں گے سو ہم لوگوں نے ایسا کیا۔ وہاں ہال کے اندر سینکڑوں کی تعداد میں آنکھیں بنوانے والے خواتین و حضرات موجود تھے۔ مارکی وسیع و عریض رقبے پر پھیلی ہوئی تھی۔ ہمیں بتایا گیا کہ ہفتہ اور اتوار کے روز ہی شادی بیاہ کی بکنگ کی جاتی ہے مگر اب یہ دونوں دن آنکھوں کے مریضوں کے لیے وقف کر دیئے گئے ہیں کتنی بڑی بات ہے کہ جن دنوں کا روبار ہوتا ہے اور لاکھوں میں ہوتا ہے انہیں انسانیت کی خدمت کے لیے رئیس اقبال اور ان کے خاندان نے مختص کر دیا۔ اس سے پہلے بھی وہ ایسا کرتے چلے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔ وہاں ایک صاحب بتا رہے تھے کہ یہ لوگ بڑے خداترس ہیں مستحق افراد کی ہر طرح سے مدد و تعاون کرتے ہیں۔ بیوائوں ، یتیموں اور نادار لوگوں کی خدمت کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔

یہ ہوتے ہیں انسانیت کے لیے اپنے دل میں تڑپ رکھنے واے لوگ جو سیاسی و غیر سیاسی حالات کی پروا کیے بغیر انسانیت کی خدمت کے یے متحرک رہتے ہیں ۔ آج کے دور میں جب لوگ چھینا جھپٹی میں لگے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ایسے لوگوں کا دم غنیمت ہے اللہ انہیں سلامت رکھے اور یہ یونہی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھتے رہیں۔

دوبارہ آتے ہیں المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب برادرم نواز کھرل بتا رہے تھے کہ ان کی تنظیم کے چیئر مین عبد الرزاق ساجد لوگوں کی فلاح و بہبود سے متعلق بڑے بے چین رہتے ہیں۔ مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر بے حد دکھی دیکھے گئے ہیں۔ لہٰذا ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ جہاں تک ممکن ہو سکے ان کے غم میں شریک ہوں۔ وہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کے خلاف بھی رنجیدہ خاطر ہیں۔ انہوں نے ’’ سیو آور چلڈرنز ان کشمیر ‘‘ ایک مہم شروع کر رکھی ہے۔ وہ پاک بھارت تنازعات سے بالا تر ہو کر خالصتاً انسانی بنیادوں پر کشمیری بچوں کی قیمتی جانیں بچانے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں ’’ ریلیف مشن فار چلڈرن ‘‘ کے آغاز کے لیے بھی آواز اٹھا رہے ہیں۔ مگر افسوس بھارتی حکومت کی طرف سے کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں ملا۔ اس تنظیم کی طرف سے دنیا بھر کے سر براہان مملکت کو خطوط لکھ کر مدد کی اپیل بھی کی گئی اور اسلام آباد و لندن میں مقیم سفیروں کو بھی خصوصی مکتوب پہنچایا گیا ۔

المصطفیٰ ٹرسٹ نے فیصلہ کیا کہ وہ متاثرہ کشمیری بچوں کے لیے اشیائے خوردونوش اور ادویات پر مشتل کم و بیش ایک سو ٹرکوں کا کاررواں بھیجے گی ۔ لہٰذا اس نے چھبیس اکتوبر کو مظفر آباد ( آزاد کشمیر) سے براستہ چکوٹی سری نگر بھیجنے کا پروگرام بنایا مگر بھارتی حکومت نے اس کی اجازت نہیں دی ۔ وہ کہہ رہے تھے کہ پھر انہوں نے یہ کیا کہ وہ تمام اشیاء وزیر اعظم آزاد کشمیر کے حوالے کر دیں جس روز ہم چکوٹھی کے مقام پر جمع تھے ہمارا کاررواں موجود تھا اس دن وزیر اعظم کشمیر بھی ساتھ تھے۔ہائوس آف لارڈ کے دو ارکان، صحافی، دانشور، کالم نگار ریڈ کراس اور عالمی ہیومن رائٹس کے لوگ بھی موجود تھے۔

المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ جہاں آنکھوں کی روشنی کے لیے فکر مند ہے تو وہاں وہ صاف پینے کے پانی کے لیے بھی اپنی خدمات پیش کر رہی ہے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں وہ بھر پور طور سے اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ کراچی اور لاہور کے علاوہ پسماندہ علاقوں میں تعلیم ادارے کھولے جا رہے ہیں۔ ہسپتال تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ جہاں غریب لوگوں کا بلا معاوضہ علاج ہو گا اسی طرح تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم کے حصول کو ممکن بنایا گیا ہے ۔ یہ تنظیم شام، عراق اور روہنگیا میں بھی کام کر چکی ہے ۔ اب بھی انسانی بنیادوں پر متاثرین کو سہولیات بہم پہنچانے کے لیے متحرک ہے ۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ جب سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور کشمیریوں کو بزور بازو احتجاج کی راہ سے ہٹایا جا رہا ہے اور پیلٹ گن کا استعمال بے دریغ کیا جا رہا ہے تب سے سماجی فلاح و بہبود کی تنظیم المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ نے ان کی آنکھوں کی روشنی کی بحالی کا بیڑا اٹھا رکھا ہے ۔ یوں یہ تنظیم احترام آدمیت کی مثالیں قائم کر رہی ہے ۔ عبد الرزاق ساجد جو اس کے چیئر مین ہیں لاچاروں کی خدمت کے لیے مسلسل اپنے ڈونرز سے رابطے میں ہیں اور وہ ان پر اندھا اعتماد کرتے ہوئے دل کھول کر تعاون کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھی بھی ان کی طرح پر خلوص اور دیانت دار ہیں لہٰذا اس تنظیم کا موجودہ صورت حال میں انسانیت کے لیے دل پسیجنا بہت بڑی نیکی ہے ہمیں بھی چاہیے کہ اس کے ساتھ شریک سفر ہو جائیں!


ای پیپر