برادری توں باہر شادی نئیں کیتی جاندی …؟
09 دسمبر 2019 2019-12-09

میرا اِک شعر ملاحظہ کریں ...

کل رات جس نے کاٹا تھا لوگوں کو قہر میں

آزاد پھر رہا ہے کتّا وہ شہر میں

چند سال قبل میری بھتیجی نے کینیڈا میں وہ آٹھ نو سال کی تھی ایک نظم لکھی جس کا عنوان تھا …

I have no friend…

اُس نے وہ نظم میرے بھائی مظفر الآحسن کے ذریعے شہر کے بڑے اخبار کے ایڈیٹر کو بھیج دی … اگلے دن وہ نظم شہر کے بڑے اخبار کے فرنٹ page پر چھپی …

ایک نفسیاتی معالج گھر پہنچ گیا اور اُس نے بیٹی سے پوچھا …

بیٹا تمہیں ماں باپ سے کوئی شکایت ہے …؟! کسی سے کوئی گلہ ہے …؟! کیا کوئی جسمانی تکلیف ہے …؟! کیا وجہ ہے تم نے یہ درد بھری نظم لکھ ڈالی …؟!

بیٹی نے سنجیدگی سے بتایا …!

’’نہ تو مجھے ماں باپ سے شکایت ہے نہ کسی سے کوئی گلہ ہے اور نہ ہی کوئی جسمانی مرض ہے … ہم لوگوں کو ہمارے پیارے وطن پاکستان میں دادی اماں، دادا جان، چاچو سنبھالتے تھے وہ میرے دوست تھے، ہمارے ہمسائے میں میری عمر کے بچے ہمارے گھر آ جاتے یا میں اُن کے گھر چلی جاتی ہم ایک دری پر بیٹھ کر ٹیلی ویژن دیکھتے… شام کو گلی میں لڈو پیٹھی والا آتا … ہم وہ کھاتے … گٹا الائچیاں والا … گلی سے خرید کر کھاتے … ہم پنجابی بولتے تھے … اماں کوئٹہ سے تھیں ہمارے سامنے گھر والے پٹھان تھے … میں نے ابتدائی پشتو زبان جو پنجابی سے بالکل مختلف ہے … سامنے گھر والی آنٹی سے سیکھی تھی … لاہور سے جب بھی خط آتا ہے … وہ پشتون آنٹی میرا پوچھتی ہیں … مجھے محبت بھرا سلام کہتی ہیں میں اُن کو مس کرتی ہے اُنھیں میری یاد آتی ہے … مجھے اپنے چاچو سے محبت ہے … میرے پاپا مجھے نہیں ڈانٹتے تھے … چاچو غلط کام پر ٹوکتے بھی تھے اور غصے بھی ہوتے تھے … یہاں کینیڈا میں ’’چٹے کالے‘‘ کا چکر ہے زبان اور مذہب کا رولا ہے سب اپنے موڈ مزاج میں مگن ہے اسی لیے بے ساختہ میرے منہ سے نکلا …!

I have no friend…

اُسی شام سٹیٹ کے گورنر بھی بھائی کے گھر خود تشریف لائے … اُنھوں نے بھی بیٹی سے ایسے ہی سوالات کیے اور جواب سن کر پریشان ہوئے، ششدر رہ گئے …

ایک نو سالہ بچی نے عدلِ جہانگیر کی یاد دلائی … کچھ دن پہلے ڈاکٹر گلزار جو کہ میرے جگری دوست ہیں اُس نے کئی سال پہلے سکائٹری میں سپشلائز کیا ہوا ہے اُس نے مجھے حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا …

یار … حافظ مظفر محسن میں سمجھتا ہوں ہمیں چھٹی کلاس سے سوشیالوجی کا subjectپڑھانا چاہئے میں نے تمہاری ایم۔ اے کی کچھ کتابیں پڑھی ہیں … اور ان علوم و فنون کی افادیت کا قائل ہو چکا ہوں پتہ نہیں تم بھی ہوئے ہو اب تک یا نہیں …؟ ہر ڈاکٹر، ہر انجینئر، ہر پولیس افسر ہر سیاستدان کو دوسری تعلیم کے ساتھ ساتھ سوشیالوجی Subject پڑھانا چاہئے کہ ہمارے ہاں سوشل ویلیو بدلتی چلی جا رہی ہے …

میں نے ڈاکٹر گلزار کی دوسری باتوں کی طرح یہ بات بھی خاص توجہ سے نہ سنی …

ملک میں جب سڑکوں پر تشدد کے ذریعے لوگ ہلاک ہوتے ہیں سندھ میں کارو کاری کے واقعات ہوتے ہیں ... تو مجھے اپنے نو سالہ بھتیجی کی وہ نظم یاد آ گئی … مجھے ڈاکٹر گلزار کا فلسفہ بھی یاد آیا … مجھے ایک بہت بڑے اینکر کا وہ تاریخی انٹرویو یاد آیا جس میں اُس نے کہا کہ …

’’میں بے غیرت ہوں جو چند ماہ قبل قوم کو ورغلا رہا تھا اب میں شرمندہ بھی ہوں اور خود کو لعنتی سمجھتا ہوں‘‘ …؟

’’کون لعنتی ہے … کون بے غیرت ہے … یہ اللہ جانتا ہے یا وہ لعنتی اور بے غیرت کو خود پتہ ہو گا‘‘ …

ہمیں تو یہ پتہ ہے کہ جو ڈاکٹر بنتا ہے … جو انجینئر بنتا ہے … جو اکانومست بنتا ہے یا CSS کرتا ہے … اور اُس کے بعد پولیس آفیسر بن جاتا ہے انتظامیہ کا ذمہ دار آفیسر ہو جاتا ہے یا ٹیکس وصولی کے اعلیٰ سطح کے کام پر لگ جاتا ہے …

سائنسدان، ڈاکٹر یا انجینئر … CSS کر کے پولیس کے محکمہ میں اعلیٰ عہدہ پر لگتا ہے مجرم کی نفسیات کا کیا پتہ … اُسے محبت کی شاعری کی کیا خبر … اُسے کیا پتہ …؟ انسانی جسم میں کتنی ہڈیاں ہوتی ہیں، اُسے کیا خبر تاریخ میں جب قحط پڑتا تھا تو چوری کی سزا میں کمی کر دی جاتی تھی اُسے کیا خبر جھونپڑی میں پلتا دس بارہ سال کا غریب بھی لائق فائق ہے اور منٹو بن سکتا ہے منیر نیازی بن سکتا ہے … ڈاکٹر عبدالقدیر خان بن سکتا ہے … یہاں تک کہ علامہ اقبال بھی بن سکتا ہے … اُسے کیا خبر اماں سکینہ جو لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہے اُس کی بیٹی سترہ سال کی عمر میں مدھو بالا، کترینہ کیف یا کرینہ کپور سے کہیں زیادہ خوبصورت اور حیا والی ہے …؟

میں نے ساجدہ سے پوچھا تمہاری شادی عبدالکریم سے ہو رہی ہے جو نہر کنارے کھوتی ریڑھی پر بیٹھا بیر بیچتا ہے اور مینہ بارش میں وہ یہ کام بھی کرنے سے قاصر ہوتا ہے کیونکہ ایسی قدرتی آفات دیہاڑی دار مزدوروں کے لیے آزمائش بن جاتی ہے …

اُس نے سراسمیگی کے عالم میں ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے بھیگی آنکھوں سے سر جھکاتے ہوئے آہستہ سے کہا …

’’بائو جی … ساڈے اچ برادری توں باہر شادی نئیں کیتی جاندی …‘‘

آج کے اخبار میں یہ خبر پڑھ کر دل دکھی ہوا اور اپنے سوشل سیٹ اپ کے حوالے سے پھر جذباتی ہو جا ناقدرتی امر ہے کہ ایک دن میں (6)خودکشیاں ملک میں ہو گئیں ... جن میں پانچ خواتین تھیں کیا ہم اپنی اصلاح کرنے کا نہیں سوچیں گے؟؟ کیا ہم مرد کو خوامخواہ زیادہ Powerful بن جانے سے نہیں روک سکتے ؟!!

ہمیں بہر حال نفسیات بھی پڑھانی چاہئے … سوشیالوجی … اور ملک کی اکانومی سنبھالنے کے لیے بیرونی دورے بھی تواتر سے کرنے چاہئیں … کہ ہمیں اقتدار، طاقت، وسائل کے نشے کے ساتھ ساتھ ایمان … انسانیت کی دولت سے بھی مالامال ہونا چاہیے لیکن کیا عورت عورت کی دشمنی میں کمی کر کے قوت برداشت کا مظاہرہ نہیں کر سکتی؟!! … بہت سنجیدہ بات ہو گئی … میرا ایک تازہ قطعہ ملاحظہ فرمائیں …

بیٹھ کے پاس بات کیا چھیڑی

خود بھی رویا، مجھے بھی تڑپایا

کتنے دن ہو گئے نہایا نہیں

میں نے محسوس کیا اُس نے خود بھی بتلایا


ای پیپر