”میں نے کبھی نوازشریف کی حمایت نہیں کی“گروپ ایڈیٹر نئی بات عطائ الرحمن
09 دسمبر 2019 (19:46) 2019-12-09

ممتاز کالم نگار، تجزیہ نگار اورگروپ ایڈیٹر روزنامہ ” نئی بات “ عطاءالرحمن کی خصوصی گفتگو

”قائداعظم کے اصولوں، آئین کی حکمرانی اور سویلین بالادستی کا قائل ہوں، نوازشریف کے سیاسی اصولوں کی حمایت کرتا ہوں“

اسد شہزاد

اُٹھ کہ خورشید کا ساماں سفر تازہ کریں

نفس سوختہ شام و سحر تازہ کریں

ماضی کی یادیں، ماضی کے قصے، ماضی کی محبتیں، نفرتیں اور ماضی کے یادگار سفر اور رُفقاءکار ہر چھوٹے اور بڑے انسان کی زندگی کا محور ہوتے ہیں....پھر یہ یادیں اس انسان کی ہیں جس نے زندگی میں عزت کمانے کے لئے سفر کا آغاز کیا جو آج بھی جاری ہے، آج کی نسلوں میں اس کا احترام ہو تو پھر خدا تعالیٰ ہمارے درمیان ایک نہیں کئی عطاءالرحمن پیدا کر دیتا ہے۔

پاکستانی صحافت کی تاریخ ایسے بڑے بڑے ناموں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے قلم اور لفظ کی حرمت کی پاسداری کی اور سچائیوں میں زندہ رکھا۔ اگر ماضی میں جاﺅں تو یہ سفر مولانا ظفر علی خان اور ابوالکلام آزاد سے ہوتا ہوا آغا شورش کاشمیری تک پہنچا جن کو یاد کیے بغیر ہماری صحافتی تاریخ کا حسن سامنے نہیں آتا۔ وہ لوگ بڑے باکردار، بڑے سچے، بڑے حوصلہ مند اور آزادی صحافت کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہوئے ایک لمحہ بھی خوف زدہ نہیں ہوتے تھے۔ انہوں نے جیلوں کے اندر ہتھکڑیوںکا زیور پہنا اور اصولوں پر ڈٹ کر وقت کے آمروں سے ٹکرائے اور سومنات کے بت توڑ ڈالے۔ ہمارے ہیروز ہمارے قلم کی اقدار کے رکھوالے ہیں جن کی بدولت صحافت کی زندگی کو وفا ملی۔

موجودہ دورکی صحافت میں جو بڑے نام پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی دُنیا میں اپنی شہرت کو رواں دواں رکھے ہوئے ہیں، ان میں ایک بڑا نام، بڑا کردار، بڑا قلم اور بڑی روایات قائم کرنے والے عطاءالرحمن ہیں۔ ان کی زندگی کا سفر علم کے حصول سے شروع ہوتا ہے مگر وہ درمیان میں کتب ورسائل پڑھنے کے شوق میں صحافت کی طرف چل نکلے۔ ابتدائی زندگی میں ہی پڑھنے اور لکھنے لکھانے کا سامان کر بیٹھے۔ ایف سی کالج میں اس زمانے میں بھی امریکہ کا مشہور زمانہ میگزین ”ٹائم“ پڑھا کرتے تھے، اس وقت دو روپے میں بِکنے والا ”ٹائمز“ آج 800 روپے میں بِکتا ہے۔ والد صاحب سے 70روپے سالانہ فیس دے کر گھر لگوا لیا۔ یہی نہیں ایک انگریزی اخبار کی روزانہ گھر میں ورق گردانی کرتے کرتے طالب علمی کے زمانے ہی سے لفظ کے ساتھ کھیلنا شروع کیا اور پھر نکل پڑے پاک ٹی ہاﺅس کی طرف جہاں اس زمانے میں آغا شورش کاشمیری جیسے نامور لوگ صبح وشام قلم اور شعروشاعری کی محفلیں لگاتے تھے۔ عطا الرحمن کے دل میں کیا سُوجھی کہ وہ بھی روزانہ ادھر کا رُخ کر لیا کرتے۔ انہی دنوں آغا شورش کاشمیری نے اس نوجوان کے اندر کے قلم کار کو پہچان لیا اور اپنے میگزین ”چٹان“ کے دفتر کی سیڑھیاں چڑھا گئے اور پھر ”چٹان“ سے شروع ہونے والا سفر روزنامہ ”نوائے وقت“ تک جا پہنچا ۔ اساتذہ میں مجیدنظامی اور مجیب الرحمن شامی جیسے نامور لکھاریوں اور کہنہ مشق صحافیوں کا ساتھ ملا تو خود کو صحافتی زندگی کے حوالے کر دیا اور آج ان کا نام ایک بڑے اُستاد، ایک شفیق انسان، ایک باپ کے کردار میں ہماری موجودہ اور آنے والی صحافتی نسل کے لیے روشن مثال بن کر تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ بڑے دنوں سے ان سے ایک تفصیلی ملاقات کی خواہش تھی کہ گزشتہ دنوں قابل اور ذہین انسان محمد عثمان (ڈائریکٹر نیوز، نیو ٹی وی) نے کہا کہ بابائے صحافت کا انٹرویو اتنا ہی ضروری ہے جتنی ایک زندگی کو ایک اور زندگی چاہیے اور ان کے نام پر ایک زندگی کافی نہیں۔

قارئین! بڑے لوگوں کی زندگی کو پڑھنا، لکھنا اور سمجھنا ایک مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے اور پھر آپ کے سامنے عطا الرحمن ہوں تو یہ مرحلہ اور مشکل ہو جاتا ہے جیسے کے ٹو کا پہاڑ سر کرنا ہو۔ گزشتہ ہفتے ان سے ایک تفصیلی ملاقات ہوئی جو میرے نزدیک ادھوری زندگی کی طرح ہے جس کے سفر میں کوئی پڑاﺅ نہیں، یہ سفر یادگار تو ہے مگر تاثر مکمل نہیں۔

گفتگو کے آغاز میں میرا سوال تھا کہ بچپن میں پڑھائی سے آغاز کیا اور پھر علم کے حصول کے لیے مولانا مودودیؒ جیسے نامور مفکراسلام کا دیدار کر بیٹھے اور جوانی ہی میں آغاشورش کاشمیری کے سامنے جا ٹھہرے۔

یہ بتایئے کہ صحافتی زندگی میں داخل ہونے کا شوق تھا یا اچانک حادثہ ہو گیا اور آپ صحافت کے مشکل دروازے کھول بیٹھے؟

شوق تو بڑی تعلیم اور بڑی کتاب پڑھنے کا تھا۔ سکول ہی کے زمانے میں مولانا امیراحسن کے گھر قرآن پاک پڑھنے جاتا تھا۔ وہاں بہت سارے رسائل میرے سامنے ہوتے اور میں ان کی ورق گردانی کرتا۔ ان کے میگزین ”میثاق“ کے مقابلے میں اخبارات کی ترسیل کا سلسلہ جاری تھا۔ اس دوران قرآن کی طرف کم توجہ ہوتی، رسائل میں میری دلچسپی دیکھتے ہوئے ایک دن انہوں نے کہا کہ دیکھو عزیزمن! اگر تمہارا یہی رُجحان رہا تو تم پھر صحافت کی زندگی میں گم ہو جاﺅ گے اور دینی علم حاصل نہ کر سکو گے اور علم کے حصول کے لیے ریاضت اور محنت کرنا پڑتی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں صحافت کا چسکا اگر پڑ گیا تو پھر لگتا ہے کہ تمہاری اگلی منزل صحافت میں ہو گی۔ میں ان دنوں ایف سی کالج میں ”ٹائم“ میگزین اور ”اکنامسٹ“ پڑھنے لگا۔ دونوں میگزین پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ اس زمانے میں ”ٹائمز“ میگزین پونے دو روپے کا ہوتا تھا اور ستر روپے سالانہ فیس ہوتی تو میں نے اس زمانے میں والد سے ستر روپے لے کر سالانہ خریداری کے تحت اس کو گھر لگوا لیا۔ اس کے علاوہ ایک انگریزی اخبار بھی گھر آتا۔ اس دوران میرا رُجحان علم حاصل کرنے کی بجائے صحافت کی طرف چلا آیا۔

یہ کس سن کی بات ہے؟

1968ءمیں، میں نے ایم اے کیا۔ ان دنوں انتخابات کی گہماگہمی شروع ہو چکی تھی۔ پھر 70ءکے انتخابات آگئے۔ ایک طرف سوشلزم کے نعرے تو دوسری طرف اسلام کے نعرے بلند ہو رہے تھے۔ اس ماحول میں میری دلچسپی سیاست میں بڑھتی چلی گئی۔ اس دوران میں نے کافی ہاﺅس جانا شروع کر دیا۔ میری خوش قسمتی کہ وہاں اس زمانے کے نامور صحافی آغا شورش کاشمیری سے میری ملاقات ہوئی۔ وہ وہاں باقاعدہ آیا کرتے۔ ان کے علاوہ اور بڑے لوگوں میں جا کر مجھے کچھ سیکھنے کو ملتا اور ان کی محفلوں میں شریک ہوا، یوں آپ یہ سمجھ لیں کہ میں آہستہ آہستہ صحافت کی طرف لڑھکتا چلا گیا اور شاید مجھے میرے استاد کی بُددعا لگی کہ میں آج تک صحافت کے سفر پر رواں دواں ہوں۔

آپ نے صحافت میں باقاعدہ کب قدم رکھا، پہلا اخبار کون سا تھا؟

صحافت میں قدم رکھنے سے پہلے میں انٹرنیشنل افیئرز میں بہت دلچسپی لیتا تھا اور کافی ہاﺅس میں اکثر ان موضوعات پر بات اور بحث کیا کرتا۔ اس دوران آغا شورش کاشمیری کبھی کبھی مجھے اپنے دفتر لے جاتے اور کہتے کہ فلاں ایشو پر نوٹ لکھو اور وہ بعد میں اس کو دیکھ کر نوک پلک درس کر دیا کرتے تھے اور جب وہ شائع ہوتا تو مجھے بڑی خوشی ہوتی۔ اس کے ساتھ ساتھ ”نوائے وقت“ میں لکھنا شروع کر دیا کہ مجید نظامی کے ساتھ ان دنوں میری تھوڑی سی جان پہچان ہو گئی تھی۔ ایک دن کہنے لگے کہ تم میرے اخبار میں باقاعدہ کیوں نہیں لکھتے۔ ان کے کہنے پر میرا قلم ”نوائے وقت“ کے صفحات کی طرف چل پڑا اور ادارتی صفحہ پر میرے کالم باقاعدگی سے شائع ہونے لگے۔ اس زمانے میں عبدالقادر حسن ”نوائے وقت“ سے ”جنگ“ میں چلے گئے۔ ان کی جگہ مجیب الرحمن شامی صاحب نے لکھنا شروع کردیا اور کبھی کبھی میں اپنا تجزیاتی مضمون دے دیا کرتا۔ ہوا یوں کہ ان دونوں بڑے اور نامور صحافیوں کی موجودگی میں جہاں ملاقات ہوتی وہاں ان سے سیکھنے سکھانے کا سلسلہ بھی چلتا رہا جبکہ شامی صاحب میری حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے جبکہ مجید نظامی تو میرے ایک ایک لفظ کو پڑھتے اور جانچ پڑتال کے بعد شائع کرتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کی راہنمائی میں لکھنے کی بہتر راہیں ملیں۔ پھر یہ ہوا کہ اس دوران کچھ عرصہ کیلئے میں باہر کے ممالک چلا گیا۔

80ءکی دہائی میں واپس آیا، جب میں نے باقاعدہ لکھنا شروع کیا اور یہ سلسلہ بھی ”نوائے وقت“ہی سے چلا۔ ”نوائے وقت“ میں، میں نے بہت سال گزارے۔ یہاں ایک دلچسپ واقعہ بتاتا چلوں کہ 1992ءمیں بھارت کے عام انتخابات ہورہے تھے، یہاں میرے اندر شوق اُبھر اکہ بھارت کے انتخابات کی براہ راست کوریج کروں، یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ مجید نظامی بھارت کے ساتھ شدت سے نفرت کا پیمانہ رکھتے تھے اور وہ کہا کرتے تھے کہ میں تو ٹینک پر بیٹھ کر بھارت جاﺅں گا۔ گو کہ جب میں نے ان سے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو ان کے سامنے یہ بات کرنا ایک غیرمعمولی بات تھی، اب چونکہ وہ مجھ پر بے حد اعتماد کیا کرتے تھے انہوں نے کہا کہ تم بھارت جا کر انتخابات کو کور کرو، انہی دنوں میں بھارت جانے کی تیاری کر رہا تھا اور دہلی جانے میں دو روز رہ گئے تھے کہ خبر آئی کہ بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کو گولی مار کر قتل کردیا گیا ہے۔

ان دنوں خیال تھا کہ وہ یہ الیکشن جیت کر پھر وزیراعظم بن جائیں گے تو ایک دن نظامی صاحب میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور کہا کہ یہ پروگرام تم پہلے بنا لیتے تو شاید وہ پہلے قتل ہو جاتا۔ ان دنوں جیسے کوئی صحافی وہاں جاتا تو مسلمان بہت قدر کرتے لہٰذا بھارت گیا تو میری بڑی پذیرائی ہوئی۔ کلدیپ نائیر نے پُرجوش استقبال کیا کہ وہ کئی بار پاکستان آتے اور میری ان سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا، پھر اتفاق یہ ہوا کہ 15جون 1991ءمیں بھارت کے انتخابات ہوئے اور 16جون کو کانگرس بڑی جماعت کے طور پر اُبھر کر آئی اور انہوں نے نرسما راﺅ کو اپنا وزیراعظم نامزد کر دیا اور اسی دن دوپہر کے وقت میں کانگرس کے دفتر چلا گیا جہاں نرسما راﺅ کا آفس تھا، میں نے ان سے انٹرویو کرنے کے لیے اندر پیغام بھیجا کہ میں آپ کا انٹرویو کرنا چاہتا ہوں اور ”نوائے وقت“ لاہور کی طرف سے یہاں آیا ہوں۔ انہوں نے فوراً مجھے اندر بلالیا۔ مجھے دیکھتے ہی بولے کہ ”نوائے وقت“ سے تو ہمیں بہت ڈر لگتا ہے، یہ تو ہر مسئلے پر ہماری مخالفت کرتا ہے، تم میرا انٹرویو کیا کرو گے؟ میں نے کہا کہ میرے کچھ سوالات میں، آپ ان کا جواب دیں تو انہوں نے کہا کہ یہ انٹرویو چونکہ ”نوائے وقت“ کے لیے ہے، تم سوال لکھ کر دو میں جواب لکھ کر دوں گا۔ جب میں یہ کہہ کر ان کے دفتر سے نکلنے لگا تو انہوں نے مجھے واپس بلایا اور کہا کہ میرے ساتھ والے کمرے میں بیٹھ کر سوال لکھ لو اور کہنے لگے کہ آپ کو معلوم ہے کہ میں حیدرآباد جامعہ عثمانیہ کا طالب علم بھی ہوں اور مجھے اُردو بہت اچھی طرح آتی ہے، اس لیے آپ اُردو میں سوال لکھ کر دیں۔ پھر میں نے وہاں ساتھ والے کمرے میں بیٹھ کر سولہ سوال تیار کیے اور ان کو دینے کمرے میں گیا تو کہنے لگے کہ کل اسی وقت جواب لے جانا۔ اگلے دن انہوں نے اپنے ہاتھ سے لکھے ایک ایک سوال کا جواب دیا اور بعد میں ان کے ساتھ آف دی ریکارڈ بہت بات ہوئی۔ اسی دوران میں نے فوراً وہ انٹرویو ”نوائے وقت“ ارسال کیا، پھر وہ بھرپور کوریج کے ساتھ شائع ہوا اور مجھے اس انٹرویو سے بڑی شہرت ملی۔ اس دوران بی جے پی کے لیڈروں سے ملا۔ فاروق عبداللہ کا انٹرویو کیا، پھر 1991ءمیں جب سوویت یونین ٹوٹ رہا تھا تو میں نے مجید نظامی صاحب سے کہا کہ میں سویت یونین جا کر کوریج کرنا چاہتا ہوں تو انہوں نے کہا کہ ہم اس قدر اخراجات برداشت نہیں کر سکیں گے۔ ان دنوں پروفیسر خورشید ایک ادارہ چلارہے تھے۔ آئی پی ایس کے نام سے، ان سے بھی میں نے بات کی تو انہوں نے کہا کہ آدھا خرچہ ہم اور آدھا خرچہ ”نوائے وقت“ دے دے۔ نظامی صاحب نے فوراً یہ تجویز مان لی، یوں میں سویت یونین چلا گیا اور بطور صحافی یہ میرا کسی بڑے ملک کا دوسرا دورہ تھا۔ 12دسمبر 1991ءکو جس دن میں ماسکو ایئرپورٹ پر اُترا تو اسی دن سویت یونین جو دُنیا کی ایک بڑی طاقت تھی، ٹوٹنے کا اعلان ہو رہا تھا اور وہ طاقت بکھر گئی۔ میں نے 12دن ماسکو میں گزارے اور پھر انقلاب کے برپا ہونے کے اسباب کو جاننے کیلئے بہت بڑے اور نامور لوگوں سے ملا اور پھر ماسکو سے تاشقند آیا جو کہ ایک آزاد ریاست بن چکی تھی۔ پھر وہاں کے صدر کا انٹرویو کیا۔ وہاں میں نے مفتی اعظم جو ایک زمانے میں لاہور آتے تھے اور لاہور میں بھی مجھے ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، انہوں نے مجھے دعوت دی اور وہاں سے میں تاجکستان گیا۔ یہ دورہ میرے لیے یوں اہم تھا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے سویت یونین کو جہاں ٹوٹتے دیکھا وہاں نئی ریاستوں کو بنتے بھی دیکھا اور یوں سمجھتا ہوں کہ اگر ”نوائے وقت“ اس دور میں میری مدد نہ کرتا تو میں ایسا کبھی نہ کر پاتا۔

”نوائے وقت“ میں کتنا عرصہ گزارا؟

1995ءمیں میرشکیل کی دعوت پر ”جنگ“ لاہور چلا گیا۔ ”جنگ“ میں ادارتی صفحہ پر کالم لکھا کرتا تھا۔ پھر میں نے اسی ادارے کی طرف سے ایران کا دورہ کیا۔ ”جنگ“ میں میرے کالم پڑھ کر اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف اسلم بیگ نے ریٹائرمنٹ کے بعد جب اپنی تنظیم کے تحت چین کا دورہ کیا تو مجھے بھی وہ ساتھ لے گئے۔ اس پر امریکہ بپھر گیا۔ ابھی جنگ میں کالم نگاری کا سلسلہ جاری تھا کہ مجھے مجیب الرحمن شامی صاحب نے کہا کہ ان کے ہفت روزہ ”زندگی“ کو نئی توانائی دینے کے لیے میری خدمات چاہیئں تو ان کے کہنے پر ”زندگی“ چلا آیا اور ”زندگی“ میں بطور ایگزیکٹو ایڈیٹر ذمہ داریاں نبھانا شروع کردیں۔ دوسری طرف مجھے ایڈیٹر بننے کا جو شوق تھا وہ شامی صاحب نے پورا کردیا۔ اسی دوران جب پرویز مشرف نے شب خون مارا تو میرا خیال اُبھرا کہ مجھے ”نوائے وقت“ میں واپس چلے جانا چاہیے کہ میرے جو خیالات تھے وہ صرف ”نوائے وقت“ ہی شائع کر سکتا ہے اور پھر میں نے ”نوائے وقت“ کو دوبارہ جوائن کرلیا۔

یہ 2003ءکی بات ہے صحافت کے ساتھ ساتھ میرا تدریسی سلسلہ جاری تھا۔ پہلے پنجاب کالج میں پڑھاتا رہا۔ وہاں اس زمانے میں چوہدری عبدالرحمن صاحب بھی پڑھایا کرتے تھے۔ وہاں ان کے ساتھ اچھی دوستی کا سلسلہ شروع ہوا۔ بعد میں انہوں نے اپنے ادارے سپیریئر کا آغاز کر دیا اور مجھے کہا کہ میں آجاﺅں۔ پھر میں نے باقاعدہ سپیریئر کالج کو جوائن کرلیا۔ یہ 2004ءکی بات ہے جب کالج کا ایک وفد سوات گیا تو چوہدری عبدالرحمن اور چوہدری عبدالخالق ساتھ تھے۔ اس دوران ایک دن بات ہوئی کہ کوئی بڑا کام کیا جائے اور کیوں نہ جرنلزم کی کلاسز کا اجراءہو، وہاں تینوں کے درمیان جو فیصلہ ہوا تھا کہ پرائیویٹ سیکٹر میں بھی ایم اے جرنلزم پڑھایا جائے۔ اس سے قبل سرکاری اداروں میں جرنلزم کی کلاسز ہوا کرتی تھیں۔ میں نے کہا کہ یہ بہت مشکل کام ہو گا تو چوہدری عبدالرحمن بولے کہ مشکل کام ہی تو کرنا ہوتے ہیں۔ یہاں یہ بتاتا چلوں کہ چوہدری صاحب کی یہ خوبی ہے کہ وہ مشکل کام پر بھی ہاتھ ڈالا کرتے ہیں اور پھر اس کو کامیاب بنانے تک رُکتے نہیں۔ واپس سوات سے لاہور آئے تو کچھ دنوں کے بعد انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ اس منصوبے کا کیا بنا جو سوات میں طے ہوا تھا۔ میں نے کہا کہ یہ تو آپ نے کرنا ہے، میں حاضر ہوں لہٰذا بہت سے لوگوں نے کہا کہ پرائیویٹ شعبے میں اس کو پایہ¿ تکمیل تک پہنچانا مشکل کام ہو گا، پھر ڈاکٹر احسن اختر ناز اور مغیث الدین سے بات کی اور کہا کہ میں نے اس کا بیڑہ اُٹھا لیا ہے تو آپ لوگ میری مدد کریں۔ آپ سرکاری شعبے کا اتنا بڑا ادارہ چلا رہے ہیں لہٰذا اپنے تجربات سے ہمیں بھی مستفید کریں۔ ان دنوں پنجاب یونیورسٹی کا میرٹ بہت ہوا کرتا تھا لہٰذا وہاں جن کو داخلہ نہیں ملا وہ ہماری طرف آگئے لہٰذا سپیریئر کو یہ اعزاز ملا کہ پہلی دفعہ کسی پرائیویٹ ادارے نے ایم اے جرنلزم کی کلاسز کا اجراءکر دیا اور میں اس شعبے کا پہلا چیئرمین بنا۔

اخبار کا خیال کس کا تھا؟

چوہدری عبدالرحمن صاحب کا خیال تھا کہ اب اخبار نکالا جائے۔ یوں ” نئی بات “ کا آغاز ہوا اور میں اس کا پہلا گروپ ایڈیٹر بنا اور وقت نے ”نیوٹی وی“ اور ”لاہوررنگ“ بھی بنا دیئے، آج پورا گروپ ایک بڑے ادارے کی شکل میں آپ کے سامنے ہے۔

صحافت میں کوئی بڑا واقعہ جو ناقابل فراموش ہو؟

بھارت اور روس جانا میری زندگی کے بڑے اہم واقعات اور ناقابل فراموش کہانی ہے۔ ایک دفعہ جنگ کی طرف سے ڈاکٹر مبشر حسن کے ایک مشن میں بھارت گیا۔ اس میں آئی اے رحمان، عابد حسن منٹو، کراچی کے بڑے بڑے تھے ، ہم کلکتہ گئے اور اس گرینڈ کانفرنس میں میں نے پُرجوش انداز میں کشمیر کے مسئلے کو بھرپور طریقے سے اُجاگر کیا۔ میرے علاوہ کوئی رُکن کشمیر پر نہیں بولا حالانکہ جو لوگ پاکستان سے گئے تھے ان کو کشمیر پر بولنا چاہیے تھا لیکن نہیں بولے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کانفرنس کے آغاز پر انہوں نے میری درخواست کے باوجود سٹیج پر مجھے نہیں بلایا تو میں نے ان کو دھمکی دی کہ اگر آپ نے مجھے نہ بلایا تو کل یہاں ایک پریس کانفرنس کر کے اپنے نقطہ نگاہ کا بھرپور انداز سے اظہار کروں گا۔ اس دھمکی پر انہوں نے مجھے سٹیج پر بلایا ور پھر میں تھا اور مسئلہ کشمیر اور پھر اسی دورے کے دوران بھارتی کمیونسٹ لیڈر جو کہ بڑا نام رکھتے تھے، ان کا انٹرویو کیا۔ وہاں آئی کے گجرال سے ملا۔ ان کا بھی انٹرویو کیا جو کہ میرے لیے ایک یادگار سلسلہ بنا۔ میرے نزدیک اور بھی بہت واقعات ہیں جو میری وجہ شہرت بنے۔ بے شمار انٹرویو، تجزیئے، اداریے، ان گنت تحریریں، جب موقع ملا تو ان کو اپنی یادوں کے ساتھ ضرور سمیٹوں گا۔

آپ پر الزام ہے کہ نوازشریف کے بہت بڑے حامی ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا کسی اچھے صحافی کا جانبدار ہونا اس کی صحافت کا کھلا تضاد نہیں ہے؟

مجھے خیال تھا کہ آپ اس سوال کے ساتھ انٹرویو کے آغاز پر حملہ کریں گے۔ میں یہ بات واضح کرنا چاہوں گا کہ میں نے میاں نواز شریف کی کبھی حمایت نہیں کی اور اپنی صحافت، لفظ اور قلم کو غیرجانبدار رکھا اور میں آج بھی ان کی حمایت نہیں کرتا اور اگر میں نے جس بات کی حمایت کی تو اس کا فائدہ نوازشریف کو پہنچا تو یہ میرا قصور نہیں ہے اور میں نے اصول کی حمایت کی تھی اور آج بھی ان کے اصول کا بڑا حمایتی ہوں۔

اس اصول کا فائدہ کل بھی نوازشریف کو پہنچا اور آج بھی پہنچ رہا ہے، وہ اصول کیا تھا کہ آپ کو ان کا بڑا حمایتی کہا جاتا ہے؟

وہ اصول یہ ہے کہ قائداعظمؒ کی قیادت میں پاکستان کو آلانڈیا مسلم لیگ نے قائم کیا اور 1945-46ءکے انتخابات کے نتیجے میں یہ ثابت ہو گیا تھا کہ ہندوستان کے مسلمان پاکستان قائم کرنا چاہتے ہیں۔ قائداعظمؒ کی قیادت میں پاکستان قائم کرنا چاہتے ہیں اور قائداعظمؒ ہندوستان کے وہ رہنما تھے جو آئین کی بالادستی اور سویلین سپرمیسی کے قائل تھے۔ وہ کسی ادارے کی بالادستی نہیں چاہتے تھے۔ ایک واقعہ سناتا چلوں کہ ایک دن ایک فوجی نے آکر ان کو مشورہ دینے کی کوشش کی جب وہ گورنر جرنل تھے تو انہوں نے اس فوجی کی وردی کا ایک بٹن پکڑا اور کہا کہ وہ سیاست میں دلچسپی رکھتا ہے، واپس جاﺅ اپنی پوسٹ سے استعفیٰ دو اور دو سال کے بعد سیاست میں آﺅ اور یونیفارم پرسن کی حیثیت سے سیاست کرنے کا کوئی حق نہیں۔ قائداعظمؒ کے اس کہے کو ایک ریکارڈ بنا لیا گیا۔ پھر سردار عبدالرب نشتر نے قائداعظمؒ کو ایک خط لکھا اور یہ خط پاکستان کے آرکائیو میں موجود ہے اور اس کا جو جواب قائداعظمؒ نے دیا وہ بھی محفوظ ہے۔ خط میں گورنر جنرل کو ایڈریس کر کے لکھا کہ فلاں بریگیڈیئر ایوب خان نامی سیاست میں بہت منہ مارنے کے علاوہ بہت مداخلت کی کوشش میں سرگرداں ہے اور مجھے اس کے بارے میں گہری تشویش ہے تو قائداعظمؒ نے یہ جواب دیا کہ اس کے بارے میں مجھے کئی اور جگہوں سے بھی خبر ملی ہے لہٰذا میں فوری طور پر ا س کو مشرقی پاکستان ٹرانسفر کر رہا ہوں تاکہ وہ یہاں کے سیاست کے مرکز سے دور رہے۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ قائد اس ملک میں آئین کی بالادستی اور جمہوری اداروں کی فرماروائی چاہتے تھے۔ اب پاکستان میں کیا ہوا کہ پہلے تو پاکستان میں بار بار مارشل لاءلگے، ہمارے فوجی حکمرانوں نے اپنی نرسریاں قائم کیں اور اپنے اپنے لیڈر پالنے شروع کر دیئے۔ اسی نرسری میں نوازشریف بھی شامل تھے۔

یہ تو آپ نے کھلا اعتراف کر لیا ہے کہ نوازشریف بھی فوجی نرسری کی پیداوار ہیں؟

یہ حقیقت ہے کہ اسی نرسری میں نوازشریف پڑھا جو ضیاءالحق نے بنائی تھی۔ نوازشریف کے پہلے دور میں برسراقتدار قوتوں کا نوازشریف کو سامنے لانے میں بڑا کردار تھا اور وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالتے ہی انہوں نے محسوس کرنا شروع کردیا تھا کہ جب مجھے ان کی بالادستی اور ڈکٹیشن قبول کرنا ہو گی تو میں صفر ہو جاﺅں گا اور ان کے ہاتھ کا کھلونا بن کر اِدھر اُدھر ہوتا رہوں گا چنانچہ اختلافات کا آغاز ہوا۔ اس کے ساتھ ہی غلام اسحاق کے ساتھ بھی بات دور تک جانکلی اور اس زمانے میں حکمران قوت نے نوازشریف کو نکال باہر پھینکا۔ اس کے بعد نوازشریف نے جو تقریر کی اور ٹی وی پر آکر کھلے عام یہ کہہ دیا کہ میں کسی سے ڈکٹیشن نہیں لوں گا اور عوام میں جاﺅں گا اور دوبارہ ووٹ لوں گا، یہ وہ مرحلہ تھا جب ہم نے نوازشریف کا ساتھ دیا۔

اس اصول کے بعد آپ کی نوازشریف کے ساتھ دوستی ہو گئی؟

دوستی تو بہت بعد میں ہوئی مگر میں نے اس تقریر کے بعد ان کی حمایت شروع کر دی کہ انہوں نے واضح کہہ دیا تھا کہ ملک میں آئین کی بالادستی کروں گا اور ان قوتوں کو جو غیرآئینی ہیں اور پاکستان پر قبضہ حاصل کر لیتی ہیں اور ملک وعوام کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں، آپ یہ بھی تو دیکھئے کہ مارشل لاﺅں کے زمانے ہی میں ہمارا ملک دولخت ہوا۔ اب مارشل لاءکے دور ختم ہوئے تو ان قوتوں نے پس پردہ فرائض سنبھال لیے۔

پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے مقابلے میں کون بہتر ہے؟ آپ سمجھتے ہیں کہ الیکٹرانک میڈیا کے آنے سے پرنٹ کی افادیت اور اہمیت اب وہ نہیں رہی جو کسی زمانے میں ہوا کرتی تھی؟

میرے خیال میں بات پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے بہت آگے بڑھ گئی ہے اور دونوں کے مقابلے میں سوشل میڈیا اب بہت آگے ہے اور اس نے دونوں کو بیک فٹ پر دھکیل دیا ہے اور میرے خیال میں اب تیسرا مقابلے کے رُجحان میں آگے دکھائی دے رہا ہے۔ اب سوشل میڈیا پر خبر تصدیق اور غیرتصدیق شدہ بھی ہو سکتی ہے اور اس خبر کو تسلیم کریں نہ کریں یہ مشکل کام ہے۔ یہاں آجاتا ہے کہ پرنٹ میڈیا کا کردار، دیکھیں صرف مطبوعہ کی مضبوطی قائم ودائم ہے اور اس کو کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔ پرنٹ میڈیا میں تحقیقات اور پورا ورژن شائع ہو کر آپ کے پاس ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتی ہے جبکہ ٹی وی کی خبر سیکنڈ منٹ میں آتی اور پھر ہوا میں تحلیل ہو کر ختم ہو جاتی ہے اور اس کی کوئی تصدیق نہیں ہو پاتی۔ اکثر خبر پر معذرت آجاتی ہے۔ پاکستان کے بڑے اخبارات کے علاوہ دُنیا کے بڑے اخبارات کے ادارتی صفحات بڑے زور سے پڑھے جاتے ہیں۔

آنے والے سالوں میں دونوں میڈیم کو آپ کہاں دیکھ رہے ہیں؟

میرے خیال میں پرنٹ میڈیا کو اب ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اپنا مقام واپس لینے کے لیے خود کو منوائے اور بڑے ایشوز کو ٹارگٹ کرے۔ میرے جیسی کلاس آج بھی پرنٹ میڈیا کے لیے ایک جنگ لڑے جا رہی ہے۔ اب ٹھوس مواد کو شائع کرنے کے لیے پُرانی روایات کو دُہرانا ہو گا۔ ہر اخبار نے تمام دن آپ کے گھر پڑے رہنا ہوتا ہے لہٰذا میرے خیال میں پرنٹ میڈیم میں لفظ کی حرمت اور اس کی شناخت ہے جو آپ کوصرف اخبار میں ملتی ہے۔

٭٭٭


ای پیپر