کیا کشمیر پھر سرد خانے کی نذر ہو رہا ہے؟
09 دسمبر 2019 (19:40) 2019-12-09

اندرونی اور بیرونی احتجاج کے باوجود مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم بدستور جاری ہیں

امتیاز کاظم

imtiazkazim110@gmail.com

لیاقت علی خان اور امریکہ کے کشمیر پر واضح اختلافات ہو چکے تھے۔ اُن کی شہادت کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ جب وزیر خارجہ سرظفراللہ خان نے امریکہ کا دورہ کیا تو اس دورے کے متعلق امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ ایچی سن لکھتے ہیں کہ ”ظفر اللہ خان نے وہاں کشمیر کا ذکر تک نہ کیا“۔ لیاقت علی خان کے بعد عرصہ تک مسئلہ کشمیر سردخانے کی نذر کیوں ہوا؟ اس کا جواب ذرا مشکل ہے۔

موجودہ حکومت نے مسئلہ کشمیر اُجاگر تو خوب کیا لیکن اس کے بعد اب چار ماہ سے اُوپر کا عرصہ گزر چکا ہے تو یوں محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے کشمیر کے معاملہ کو ایک دفعہ پھر سرد خانے کی نذر کیا جا رہا ہے اور مودی کی اپنائی ہوئی ظالمانہ پالیسی کو آہستہ آہستہ تسلیم کیا جا رہا ہے اور مودی وہاں اسرائیل ماڈل کو اپنا رہا ہے۔ 3جون 1947ءکا منصوبہ بھی پنڈت جواہر لال نہرو اور لارڈ مونٹ بیٹن کی ملی بھگت کا شاخسانہ تھا جب کہ 1941ءکی کشمیر میں مردم شماری واضح طور پر گواہ ہے اور آج بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ کشمیر میں 77 فیصد سے زائد آبادی مسلمانوں کی تھی اور یہ برتری آج بھی قائم ہے۔ 75 لاکھ نانک شاہی (سکھ دور سکہ رائج الوقت) میں ایسٹ انڈیا کمپنی سے خریدی گئی ریاست کشمیر کا تقسیم ہند کے وقت کا راجہ مہاراجہ ہری سنگھ تھا جب کہ اُس وقت بھارتی ریاستوں کا سیکرٹری وی پی مینن تھا یعنی منموہن سنگھ کے دور کے خارجہ سیکرٹری شیوشنکر مینن کا والد جو اُس وقت مہاراجہ ہری سنگھ کے پاس موجود تھا۔ اُس نے کشمیر کے بھارت سے الحاق میں سرگرم کردار ادا کیا اور یہ 70 سال پر محیط مسئلہ آج بھی یواین او کی قراردادوں میں اُسی طرح موجود ہے جیسے یہ 70 سال پہلے تھا۔

بھارت خود اس مسئلہ کو اقوام متحدہ میں لے کر گیا جب کہ برطانوی نمائندوں کا اصرار یہ تھا کہ حالات معمول پر آنے کے بعد ریاست کے عوام کی جو رائے ہو گی اُسی کے مطابق فیصلہ ہو گا یعنی استصواب رائے کا وعدہ اور یہ وعدہ پنڈت جواہر لال نہرو نے بھی کیا تھا اور بھٹو نے بھی کہا تھا کہ ”کشمیری قوم کے حق خودارادیت کے لیے اور اپنے دفاع کی خاطر ہزار سال تک بھی لڑنے کو تیار ہیں۔ اگر یو این او مسئلہ کشمیر سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے قاصر رہی تو پاکستان یو این او سے الگ ہو جائے گا“۔ اب دیکھتے ہیں کہ یو این او میں یہ مسئلہ کیا حقیقت رکھتا ہے۔

مسئلہ کشمیر کے یواین او کے قانونی پہلو

یو این او کے سابق سیکرٹری جنرل ڈاکٹر بطروس غالی نے اقوام متحدہ کے محکمہ قانون سے کشمیر کے بارے میں اُن کی قانونی رائے پوچھی کہ ”کیا یو این او کے چھٹے باب کے تحت کشمیر پر قراردادیں نافذالعمل ہیں“ تو محکمہ قانون کا جواب تھا کہ ”قطعاً یقینا قابل نفاذ ہیں“۔

یو این او کے چار لڑکے چھٹے باب کے تحت پاس ہونے والی کشمیر پر قراردادیں کسی پہلو سے کمزور نہیں بلکہ نہایت قابل عمل ہیں، بس ان پر عمل درآمد یواین او اور فریقین کی مکمل ذمہ داری ہے جس سے 70 سال سے مسلسل گریز کیا جا رہا ہے اور یہ ہی مسئلے کی طوالت کا باعث ہے۔ ایک لمحے کے لیے فرض کر لیتے ہیں کہ چھٹے باب کے تحت سمجھوتہ نہیں ہو سکتا تو آرٹیکل نمبر33، 36 اور 37 کے علاوہ عمومی آرٹیکل 25 کے تحت مزید کوشش کی جا سکتی ہے اور اس کے علاوہ بھی اگر چھٹے باب کے تحت کارروائی نہیں ہو سکتی تو ساتویں باب کے دروازے کھلے ہیں۔ بھارت خود ہی اس مسئلے کو یو این او میں لے کر گیا، ان کی قراردادوں سے مکمل اتفاق کیا لیکن پھر بعد میں رُوگردانی کر گیا۔ یواین او نے اپنی قرارداد 98 میں یہ بات کہی تھی کہ انڈیا، پاکستان دونوں اپنی افواج کشمیر سے نکال لیں اور کچھ محدود تعداد میں اپنی افواج رکھیں، یہ محدود تعداد بھی دونوں ممالک کے برابر نہ تھی بلکہ پاکستان صرف تین سے چھ ہزار جب کہ بھارت 12000 سے 18000 تک کی افواج کشمیر میں رکھ سکتا تھا۔ اقوام متحدہ کے مطابق یہ ایک محدود اور انصاف پر مبنی تعداد تھی (اس بات کو دُنیا کی کوئی بھی قوم / ملک انصاف پر مبنی فیصلہ ماننے سے انکاری تھی) تاہم پاکستان نے اس پر بھی اتفاق کر لیا لیکن بھارت نے اپنی روایتی بدنیتی اور چانکیہ کی چالاکی دکھاتے ہوئے اس بات پر اصرار کیا کہ پہلے پاکستان اپنی افواج نکالے جو کہ سراسر ناقابلِ قبول اور ناقابل عمل تھی لیکن پاکستان نے پھر بھی تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے رائے دی کہ دونوں ممالک ایک ساتھ اپنی افواج نکالیں لیکن بھارت نے اس پر بھی اتفاق نہ کیا۔ بھارت جانتا ہے کہ آج بھی اُس کی سات لاکھ سے زائد فوج کشمیریوں کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکی۔ اُن کو اپنے ارادے سے باز نہ رکھ سکی۔ بس صرف جبر مسلسل جاری ہے جس میں کشمیریوں کو شہید کیا جا رہا ہے۔ چار ماہ سے زائد کا کرفیو لگا دیا گیا ہے۔ عزتوں کو پامال کیا جا رہا ہے، نوجوانوں کے خون سے وادی کی زمین کو رنگین کیا جا رہا ہے لیکن کب تک؟ اب کرفیو ہٹے گا تو جو اُبال کشمیر سے باہر آئے گا، کیا وہ بھارت سنبھال سکے گا۔ کشمیر پر ظلم وجبر کی داستان مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور سے ہی لکھی جا رہی ہے جو اُس کے بیٹے دلیپ سنگھ سے ہوتی ہوئی کشمیر کے خریدار مہاراجہ گلاب سنگھ اور آخری کشمیری راجہ ہری سنگھ تک آتی ہے۔ ہری سنگھ کا بیٹا کرن سنگھ آج بھی زندہ ہے لیکن یہ سب جبر مسلسل کشمیریوں کو اپنی آزادی کے جذبے سے ہٹانے میں ناکام ہے۔ کشمیر کا ہر گبھرو جوان کشمیر کا بیٹا ہے، اس کا سپوت ہے، اس کا سپاہی ہے، یہ بِکنے جھکنے والے نہیں۔ ان کے متعلق کہا سکتا ہے کہ ”ایہہ پُتر ہٹاں تے نئیں وِکدے“۔

کشمیر کے یہ سپوت اپنی اپنی پارٹیوں کے ذریعے ایک متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔ سب سے پُرانی پارٹی مسلم کانفرنس ہے جس کی بنیاد 1934ءمیں رکھی گئی۔ اس کے علاوہ کشمیر لبریشن فرنٹ، دختران ملت، جموں وکشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی، جماعت اسلامی، آزاد جموں وکشمیر سالوویشن موومنٹ، مسلم لیگ جموں وکشمیر، کشمیر لبریشن فرنٹ اور دیگر سیاسی پارٹیاں اور ان کے جانثار کارکن اب کرفیو ہٹنے کا انتظار نہیں کر رہے بلکہ کرفیو کی پابندیاں توڑ کر باہر نکل رہے ہیں۔ آزادی کے یہ پروانے مرمٹنے اور جام شہادت نوش کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کو بے چین ہیں۔

13جولائی کا یوم شہداءہو یا 5 فروری کا یوم یکجہتی کشمیر یا یوم سیاہ۔ کشمیر اپنے حق خودارادیت کی مسلسل جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ ثابت کر رہے ہیں کہ کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے جو حق خودارادیت / استصواب رائے کی راہ دیکھ رہا ہے۔ کشمیریوں کی جدوجہد مودی کے آرٹیکل لاگو کرنے سے ختم نہیں ہو گی اور نہ ہی انتظامی ڈھانچہ تبدیل کرنے سے ختم ہو گی بلکہ بھارت کی مزید تقسیم کا باعث بنے گی۔ بھارتی پنڈت یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ مودی پنڈتوں کو غلط طریقے سے استعمال کر رہا ہے۔ ریاست حیدرآباد دکن کا راجہ انڈیا سے الحاق کیوں توڑنا چاہ رہا ہے۔ نیچ جاتی اور OBE's اپنے حقوق کے لیے سرگرم کیوں ہو گئے ہیں۔ جاٹوں اور کسانوں کو اپنی فکر کیوں پڑی ہوئی انڈیا میں درجن بھر سے زائد علیحدگی پسند تنظیمیں کیوں سرگرم ہیں۔ نکسل باڑیوں کو اب تک کیوں نہیں دبایا جا سکا۔ تامل ٹائیگرز بے قابو کیوں ہیں۔ بھارت سکھوں اور ان کی تنظیموں سے خوفزدہ کیوں ہے۔ فاروق عبداللہ اور مفتی محبوبہ جیسا ٹولہ اب بھارت کے خلاف کیوں جا رہا ہے۔ مسلمان اور عیسائی اپنے اپنے حقوق کے لیے آواز کیوں اُٹھا رہے ہیں۔ کیا مودی اپنے بعد آنے والے وزرائے اعظم کے لیے جلتا اور سُلگتا ہوا بھارت چھوڑ کر جانا چاہتا ہے۔ 35 اے اور 370 کا خاتمہ کر کے اب کیا وہ ساری زندگی کشمیر سے کرفیو نہیں اُٹھائے گا۔ بھارتی فوجی کشمیر میں ظلم کرتے کرتے خودکشیوں پر مجبور ہو رہے ہیں۔ بھارتی فوج کرپشن کا گڑھ بن چکی ہے۔ رشوت لے کر فوج میں ٹرانسفر پوسٹنگ ہو رہی ہے۔ کشمیر جانے کے لیے کوئی فوجی تیار نہیں۔ صرف وہی فوجی کشمیری جا رہے ہیں جن کے پاس دینے کے لیے رشوت نہیں ہے۔ حاضرسروس لیفٹیننٹ کرنل رنگن ناتھ مونی کی سی بی آئی کے ہاتھوں2017ءمیں گرفتاری اس کی واضح مثال ہے اور ان کا سرغنہ ایک حاضر سروس بریگیڈیئر تھا۔ بھارتی دانشوروں کے تجزیے مودی نظرانداز کیوں کر رہا ہے۔ پورا کشمیر بارود بنتا جا رہا ہے، کس کس علاقے کا ذکر کیا جائے۔ سری نگر بڈگام گاندربل پامپور، پلوامہ، کاکہ بورہ، ترال، اسلام آباد، کھنہ بل، بجھاڑہ، کلگام، شوپیاں، حاجن، سوپورہ، بارہمولہ، سنبل، کپواڑہ، مانڈی پورہ، انڈی، سیموہ، رام پور کس کس علاقے کا ذکر کریں۔ سب کشمیری حریت پسندوں سے بھرے پڑے ہیں بلکہ وہ کشمیری ہی نہیں جو کشمیر کی آزادی نہیں چاہتا۔ ”سنگھارش ما گجرات“ کا لکھاری مودی وی ڈی سوارکر اور گول والکر کے نظریات کا پرچارک اور آرایس ایس کا بالکا بھارت کو جو زہر دے رہا ہے ہندوتوا اسی زہر سے مر جائے گا۔ 1990ءمیں ایل کے ایڈوانی کے ساتھ مل کر ”ایودھیا رتھ یاترا“ کرنے وال اور 1991-92ءمیں بی جے پی کے مرلی منور جوشی کے ساتھ مل کر ”ایکتایاترا“ کرنے والا مودی اب شاید کشمیر یاترا کے خواب دیکھ رہا ہے تو مودی کا یہ خواب ہمیشہ خواب ہی رہے گا حقیقت نہیں بنے گا۔

٭


ای پیپر