عمران خان، ملکی سیاست اور حکومت کا مستقبل!
09 دسمبر 2019 (19:31) 2019-12-09

مایوسی کے گھٹا اٹوپ اندھیروں میں ڈوبی قوم کسی خوشخبری کی منتظر ہے

نعیم سلہری

بڑوں سے سنا اور کتابوں میں پڑھا ہے کہ سیاست عبادت ہے لیکن اپنے ملک کی سیاست دیکھ کر بندہ سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ کیا یہاں بھی یہ عبادت ہی ہے، دل نہیں مانتا کیونکہ ہمارے ہاں تو سیاست نعرے بازی، وعدوں، اور دعوو¿ں پر مبنی ہے، پہلے قسمیں کھائی جاتی ہیں اور وقت آنے پر طوطا چشمی کا وہ اظہار کیا جاتا ہے کہ الامان الحفیظ والامان۔ پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو اس وقت اور اس پہلے انتخابی مہم کے دوران عمران خان نے بھی عوام کی حالت بدلنے کے نعرے لگائے اور وعدے کئے تھے، مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، ان وعدوں اور دعوو¿ں کی قلعی کھلتی گئی۔ مایوسی کے گھٹا اٹوپ اندھیروں میں ڈوبی قوم کو آس کی کرن نظر آئی لیکن چھ ماہ، ایک سال بلکہ ڈھیر سال گزر گیا لیکن حالات میں بہتری آنے کے بجائے مزید خرابی پیدا ہوتی گئی، عوام مہنگائی کے پہاڑ تلے یوں دبے کہ ہوش وحواس ہی جاتے رہے۔ پیٹرول اور دیگر اشیاءکا مہنگا ہونا تو الگ عوام کو تو ٹماٹر جیسی عام سبزی بھی خواب لگنے لگی۔ حکمران خود ماننے لگے کہ خزانہ خالی ہے، اس لئے عوام کی بہتری کے منصوبوں کو پایہ¿ تکمیل تک پہنچانا مشکل ہے۔

ان حالات میں ملک کی اقتصادی حالت سے پریشان قوم کے لئے یہ ایک بڑی خوش خبری ہے کہ عالمی معاشی درجہ بندی کے ادارے موڈیز نے اپنی تازہ رپورٹ میں پاکستان کی معیشت کو منفی سے ہٹا کر مستحکم کا درجہ دے دیا ہے اور اس کی وجہ حکومت کی طرف سے بین الاقوامی ادائیگیوں میں توازن، پالیسیوں میں ردوبدل اور کرنسی میں لچک کے مثبت اقدامات بتائے ہیں۔ موڈیز نے اعتراف کیا کہ حکومت کے دانشمندانہ فیصلوں کی بدولت ملکی معیشت میں بہتری کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں اور پاکستان اب سرمایہ کاری کے اعتبار سے بھارت سے بہتر پوزیشن میں آگیا ہے۔ رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ موڈیز کی طرف سے پاکستان کے معاشی منظر نامے کو منفی سے نکال کر مستحکم میں ڈالنا ملک کے معاشی استحکام کے لئے حکومتی اقدامات کی کامیابی کی تائید ہے جبکہ مشیر اطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان کے مطابق اس کا یہ مطلب ہے کہ حکومت کے مشکل فیصلوں کے ثمرات آنا شروع ہو گئے ہیں۔

موڈیز کی رپورٹ میں پاکستان کی معیشت کے مثبت پہلو اجاگر کئے گئے ہیں جبکہ منفی پہلوﺅں کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اب بھی کم ہیں جن کے بڑھنے میں کچھ وقت لگے گا۔ اس وقت جتنا زرمبادلہ موجود ہے وہ صرف دو ڈھائی ماہ تک اشیاءکی درآمد کیلئے کافی ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مقرر کیا جانے والا ریونیو کا ہدف مکمل طور پر حاصل کرنا بھی ایک چیلنج ہو گا۔ تاہم بیرونی اقتصادی خطرات میں کمی آئے گی۔ اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی کا رجحان دیکھا گیا ہے اور ہنڈرڈ انڈیکس 10ماہ بعد 40 ہزار کی نفسیاتی حد عبور کر گیا ہے جو کاروبار میں بہتری کی علامت ہے۔ کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں کمی آئی جو درآمدات میں کمی سے مزید کم ہو گا۔ ڈیزل کے بجائے بجلی کی پیداوار میں کوئلے اور قدرتی گیس کے استعمال اور پن بجلی پر توجہ سے تیل کی درآمدات بھی بتدریج کم ہوںگی۔ اس کے ساتھ ہی تجارت میں بہتری کے لئے اقدامات کئے جاتے ہیں تو اس سے برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو گا جو تجارتی عدم توازن دور کرنے کیلئے ضروری ہے۔ مالیاتی خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کے 8.6 فیصد کے لگ بھگ رہ گیا ہے اور مستقبل میں جی ڈی پی کے تناسب سے حکومت کا ریونیو بڑھنے کا امکان ہے۔ حکام ٹیکس چوری روکنے اور سیلز ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے کے لئے انکم ٹیکس فائلنگ کا خود کار نظام متعارف کرا رہے ہیں۔ وزیراقتصادی منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ موڈیز نے 15ماہ بعد ہی حکومتی اقدامات کے نتیجے میں معیشت میں بہتری کی تصدیق کر دی ہے جو یقیناً حوصلہ افزا بات ہے اور وزیراعظم عمران خان کا یہ کہنا بھی بجا ہے کہ مشکل حالات کے باوجود ملکی معیشت میں استحکام آیا ہے مگر اصل معاشی استحکام اس وقت آئے گا جب اس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں گے۔

حالانکہ حکومت کی اب تک کی کارکردگی دیکھتے ہوئے وقت حاضر کے بہت سے سیاسی ”ولیوں“ کی پیش گوئیاں جاری تھیں،وہ کہہ رہے تھے کہ ”ان ہاو¿س“ تبدیلی ہونے والی ہے، بہت سے کہہ رہے تھے کہ بہت کچھ مائنس پلس ہونے والا ہے، بہت سے ایسے بھی تھے جنہوںنے ڈرایا ہوا تھا کہ دسمبر میں حکومت کو اُلٹا دیا جائے گا اور مارچ اپریل میں نئے انتخابات ہوں گے، مولانا فضل الرحمن تو یہاں تک کہہ چکے کہ انہیں دسمبر تک حکومت جانے کا یقین دلایا گیا اور کچھ تو یہاں تک ہاہاکار مچا رہے تھے کہ عمران خان خود ہی اقتدار چھوڑ دیں گے!

کیا ہو رہا ہے ، کیا ہونے جا رہا ہے کچھ وثوق سے کہنا مشکل ہے.... زمینی حقائق برعکس ہیں.... مگر بسا اوقات جہاں افواہیں اور قیاس آرائیاں حقیقت کا روپ دھار لیتی ہیں اور دیکھتے دیکھتے حقیقت خرافات میں کھو جاتی ہے۔ جیسے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ سپریم کورٹ بھی آرمی چیف کی ایکسٹینشن کا نوٹیفیکیشن معطل کر سکتی ہے لیکن کر دیا گیا ہے، خیر فی الوقت حالات اگرچہ ان سازشی کہانیوں کی تائید کرتے ہیں نہ اداروں کا طرز عمل حکومت کے حوالے سے مخاصمانہ ہے اور نہ ہی کوئی فکر والی بات ہے۔ موڈیر کی رپورٹ نے فی الوقت یہ احساس پیدا کر دیا ہے کہ حالات اتنے بھی برے نہیں کہ دسمبر جیسا مہینہ بھی ملک پر بھاری گزرے.... میاں نواز شریف بغرض علاج بیرون ملک جا چکے ہیں، کچھ ”لوگ“ جانے کو تیار بیٹھے ہیں، مولانا فضل الرحمن کے بیانات اور ہمنواﺅں کے تجزیوں پر اب کوئی معقول شخص سنجیدگی سے غور کرنے کو تیار نہیں، پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی سربراہی سے میاں شہباز شریف کا استعفیٰ اس بات کا اشارہ ہے کہ اب پارلیمنٹ میں معاملات خوش اسلوبی سے چلیں گے اور فوری تبدیلی کی خواہش دن میں خواب دیکھنے کے مترادف ہے۔ لہٰذاکوئی احمق ہی یہ سوچ سکتا ہے کہ ایک دو ماہ بعد سیاسی صورتحال میں ڈرامائی، تبدیلی آنے والی ہو۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت کے لیے سب اچھا ہے، مہنگائی سے لے کر کشمیر پالیسی تک ہر طرف حکومت دباﺅ کاشکار نظر آرہی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حکومت جانے والی ہے اور نہ ہی کبھی ملکی تاریخ میں ہوا ہے کہ سوا سال ہی میں حکومت کا قلع قمع ہو گیا ہو.... ہاں یہ ضرور ہوا ہے کہ عمران خان کی سیاست اب ایک اہم موڑ پر آ گئی ہے۔ وہ اپنی ممکنہ مدت کا ایک چوتھائی وقت گزار بھی چکے ہیں۔ ان کے پاس وقت اب بہت زیادہ نہیں رہا۔ اگلے سال ڈیڑھ، دو میں انہیںکچھ کر دکھانا ہے۔ عمران خان سے اب سوال ہو رہے ہیں کہ جو وعدے انہوں نے کئے تھے، ان پر کس حد تک پورے اترے؟ یہ جائز سوال ہیں، خان صاحب کو ان کا جواب دینا پڑے گا۔ صرف جذباتی نعروں اور دھواں دھار تقریروں سے بات نہیں نبھ سکتی۔ لوگ اتنے بے وقوف بھی نہیں کہ صرف لفظوں سے بہل جائیں۔ لیکن ابھی امتحان اور بھی ہیں اور دیکھتے ہیں ان امتحانات میں حکومت کتنے مارکس حاصل کرتے ہیں۔

بہرکیف سیاسی حکمت اور منطق تو یہ کہتی ہے کہ چیزوںکو دوبارہ لائن اپ کیا جائے، بعض چیزیں از سر نومرتب کی جائےں، کم ازکم پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو توفعال کیا جائے تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔ ٹیم اچھی بنائیں، کیوں کہ ان پر یہ سب سے بڑا الزام ہے کہ انہوں نے ٹیم کے انتخاب میں انتہائی بے احتیاطی سے کام لیا۔ اہم عہدوں پر بہترین لوگ نہیں لگائے گئے۔ سب سے بڑھ کر پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لئے عثمان بزدار کو لگایا۔ عمران خان کے سوا پورے صوبے میں شائد ہی دو چار لوگ ہوں گے جو عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ بنانے کا دفاع کر سکیں۔ یہ نہایت غلط فیصلہ تھا، سوا سال سے خان صاحب مگر اس پر ناحق اڑے ہوئے ہیں۔ نظام میں تبدیلی ان کا اہم ترین نعرہ تھا۔ اس حوالے سے کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ پنجاب میں پولیس گردی اہم ترین ایشو ہے۔ اس پر کچھ بھی نہیں کیا جا رہا۔ اصلاحات کے نام پر محکمہ صحت، پنجاب، کے پی کے میں فساد، انتشار برپا ہے۔ تعلیم کے حوالے سے کچھ غیر معمولی نہیں کیا جا رہا۔

ایک اور اہم امر یہ ہے کہ عمران خان کو اب اپنے مخالفین پر برسنے کے بجائے اپنے لئے نیا ایجنڈا سیٹ کرنا چاہیے، نواز شریف ،زرداری وغیرہ کو اداروں کی ثوابدید پر چھوڑ دیں، انہیں زیادہ ڈسکس کرکے انہیں ایک بار پھرلیڈربنانے سے گریز کریں۔ان کی بجائے جو نعرے لگا کر وہ اقتدار میں آئے، اب ان پر کام شروع کریں، رکاوٹیں آئیں گی، مگر ڈٹے رہے تو سال ڈیڑھ کے اندر ہی بہت کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ عمران خان کچھ کر دکھائیں، تب ہی انہیں اگلی بار ووٹ ملیں گے۔ ان کے پاس وقت کم ہے، تاخیر کی گنجائش نہیں۔ ان سب کے ساتھ کھیلوں پر بھی توجہ دیں کیوں کہ عوام اُن سے زیادہ اُمیدیں لگائے بیٹھے ہیں، کیونکہ کہ مدت ہوئی ہے عوام کو اس حوالے سے کوئی بڑی خبر نہیں ملی۔

یہ ساری باتیں بجا لیکن سردست تو غریب طبقہ مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ اسے خوش کن اعداد و شمار سے بہلایا نہیں جا سکتا۔ اس کی پریشانی اس وقت دور ہو گی جب اشیائے خوردنی سمیت ناگزیر ضروریات زندگی اس کی قوت خرید کے اندر ملیں گی۔ اس کے ساتھ ہی کاروباری طبقے کے حالات سازگار ہوں گے۔ اس کے لئے شرح سود کم کرنا بھی ضروری ہے۔ 13فیصد سے زائد شرح سود کی موجودگی میں کاروبار کے لئے قرضے لینا مشکلات میں اضافہ کرنے کے مترادف ہے اگر کاروباری حالات بہتر نہیں ہوں گے کارخانے اور فیکٹریاں نہیں لگیں گی۔ تجارت عام نہیں ہو گی تو بے روزگاری بھی دور نہیں ہو گی۔ معیشت میں حقیقی استحکام کے لئے مہنگائی، بے روزگاری اور اس طرح کے دوسرے مسائل پر قابو پانے کے لئے بھی حکومت کو مزید محنت کرنا ہو گی، ایسا نہ ہوا تو شائد سیاسی ”ولیوں“ کی پیش گوئیاں درست ثابت ہو جائیں۔


ای پیپر