مودی کے مصنوعی طلسم کی قلعی کھلنے لگی
09 دسمبر 2019 (17:52) 2019-12-09

نئی دہلی:بی جے پی کے جولوگ کل تک کانگریس مکت بھارت کا نعرہ چیخ چیخ کر لگارہے تھے اب خاموش ہیں شایداس لئے کہ اب بی جے پی کا ہی دائرہ سمٹنے لگاہے، این ڈی اے بکھررہا ہے ، مودی کے مصنوعی طلسم کی قلعی بھی کھلتی جارہی ہے اور ایک ایک کرکے ریاستیں اس کی حکمرانی کی قید سے آزادہوتی جارہی ہیں۔

تازہ صورت حال یہ ہے کہ ملک کی 29ریاستوں میں سے دس میں ہی اسے مکمل اکثریت حاصل ہیں جبکہ دیگرچھ ریاستوں میں اس نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ یا پھر کچھ دوسری پارٹیوں سے ساز باز کرکے سرکاربنارکھی ہے ، یہ ریاستیں بہار، میگھالیہ ، ناگالینڈ، تمل ناڈ، گوا، سکم اور میزورم ہیں۔بہارمیں وہ جنتادل یوکی اتحادی بنی ہوئی ہے جبکہ وہ تمل ناڈومیں سرکارمیں شامل ضرورہے مگر قانون سازاسمبلی میں اس کا ایک بھی ممبرنہیں ہے ۔

اپنی حکمرانی کا دائرہ بڑھانے کے جنون میں بی جے پی نے یہ بھی کیا کہ جن ریاستوں میں اسے اکثریت حاصل نہیں تھی وہاں بھی اس نے مرکزمیں اقتدارکا فائدہ اٹھاکر سرکاربنالی مثال کے طورپر گووامیں اسے محض پندرہ سیٹوں پر ہی کامیابی ملی تھی جبکہ کانگریس سترہ سیٹیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی مگر بی جے پی نے سب اصول اور قوانین کو بالائے طاق رکھ کر سرکاربنالی ، میزورم میگھالیہ اور ناگالینڈتو اس کی بدترین مثالیں ہیں ، میگھالیہ میں ساٹھ اسمبلی حلقوں میں اسے محض دوسیٹوں پر کامیابی ملی تھی مگر اس نے نیشنل پیپلز پارٹی ، یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک پارٹی ، پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ اور ہل اسٹیٹ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ مل کر سرکاربنالی ، میزورم میں چالیس سیٹوں میں بی جے پی کو محض ایک سیٹ ہاتھ لگی تھی مگر یہاں بھی اس نے میزونیشنل فرنٹ کے ساتھ مل کر سرکاربنائی جس نے ستائیس سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی ، ناگالینڈمیں ساٹھ اسمبلی حلقے ہیں جن میں سے بارہ حلقوں میں بی جے پی کامیاب ہوئی تھی مگریہاں بھی اس نے نیشنل ڈیموکریٹک پروگریسیوپارٹی کے ساتھ سازباز کرکے سرکاربنالی ، سکم میں بتیس میں سے بارہ سیٹوں پر بی جے پی کامیاب ہوئی مگر یہاں بھی اس نے سکم کرانتی کاری مورچہ کے انیس ممبروں کو ملا کر سرکاربنانے میں جلد بازی کامظاہرہ کیا ۔

ریاست واراگر تجزیہ کیا جائے تو جو نتائج سامنے آتے ہیں وہ اس دعوی کی قلعی کھول دیتے ہیں جو بی جے پی کے لیڈر اب تک کرتے آئے ہیں۔ پورے ملک میں مجموعی طورپر 4120اسمبلی حلقے ہیں جن میں 1322اسمبلی حلقوں میں ہی بی جے پی کو کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ این ڈی اے میں شامل دوسری پارٹیوں کے پاس 409ممبران اسمبلی ہیں ، کانگریس مکت بھارت کا خواب دیکھنے والی بی جے پی کی اصل حالت تو یہ ہے کہ آندھرامیں 175ممبران اسمبلی میں محض 2ممبربی جے پی کے ہیں ، کیرالہ کی 140سیٹوں میں محض ایک سیٹ بی جے پی کے پاس ہے ، پنجاب میں کل 177ممبران اسمبلی میں صرف 3ممبربی جے پی کے ہیں ، تلگانہ کی 119اسمبلی سیٹوں میں صرف ایک سیٹ بی جے پی کے حصہ میں ہے ، مغربی بنگال جہاں 244سیٹیں ہیں تمام تر شرانگزیوں کے باوجود بی جے پی کے حصہ میں 14سیٹیں ہی ہیں ، دہلی کی 70سیٹوں میں صرف تین سیٹیں اس کے پاس ہیں ، پانڈیچری کے 30اسمبلی حلقوں میں کسی پر بھی بی جے پی کوکامیابی نہیں حاصل ہوئی ہے۔


ای پیپر