اب کیا جانا ٹھہر گیا ہے؟
09 دسمبر 2018 2018-12-09

وزیر اعظم نے ایک بات کہی لوگوں نے اس کے افسانے بنا لیے، رضی اختر شوق نے کہا تھا

دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی

لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے

100 دن ہی تو گزرے ہیں اقتدار کی عمارت کچی پکی ہے، عمارت جلدی میں بنی ہے، میٹریل بھی اسٹینڈرز کے مطابق نہیں ،جلدی کے کام ایسے ہی ہوتے ہیں عمارت میں رہائش اختیار کرنے والوں کو خود بھی رہنے کا طریقہ اور سلیقہ نہیں آتا تھا، 100 دنوں میں بھی نہیں آیا ،جگہ جگہ سے پلستر اکھڑنے لگا ہے، بار بار یو ٹرن تبدیلیوں کی علامت، تبدیلیاں بے یقینی اور بد اعتمادی کا مظہر، اقتدار کا ٹوئن ٹاور 3 ماہ ہی میں ڈولنے لگا ہے ،کہتے ہیں دیوار کی پہلی اینٹ ٹیڑھی لگ جائے تو عمارت آسمان تک اٹھا لیں ٹیڑھی ہی رہے گی ،کمال ہے کسی نے دیکھا ہی نہیں، مائنس فائیو یا مائنس آل کی اتنی جلدی تھی کہ فیصل شہر سے داخل ہونے والے پہلے شخص کو پکڑ کر اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھا دیا گیا، اب احساس ہو رہا ہوگا کہ قدم قدم پر مشکل پیش آرہی ہے ،کشکول لیے ’’ملکوں ملکوں پھرا مسافر‘‘ کسی نے ایک سکہ تک کشکول میں نہ ڈالا، 100 دنوں میں نئے پاکستان کا میک اپ اتر گیا، وزیر اعظم کے منہ سے نادانستہ مڈ ٹرم الیکشن کا فقرہ نہیں نکلا رد عمل دیکھنے کے لیے منہ میں ڈالا گیا ہوگا، لوگ اسی دن سے کہانیاں گھڑرہے ہیں شیخ رشید جیسے لوگوں کی بات چھوڑیے کہ انہیں منتوں مرادوں کے بعد وزارت نصیب ہوئی ہے انہوں نے مڈ ٹرم الیکشن کا بھی برا نہیں منایا حالانکہ مڈ ٹرم الیکشن ہوگئے تو وہ کہاں ہوں گے ’’کچھ اپنا ٹھکانہ کرلیں ‘‘کہنے لگے وزیر اعظم کی مرضی ہے 6 ماہ میں الیکشن کرا دیں یا3 سال میں، پرچی نکل آئی شیخ صاحب کبھی کبھار علامتی گفتگو میں سچ بول جاتے ہیں ، کیا واقعی 6 ماہ میں مڈ ٹرم الیکشن کا ڈول ڈالا جائے گا؟ لگتا تو نہیں پر شاید، لوگ کیا کیا افسانے تراش رہے ہیں، جتنے منہ اتنی باتیں بلکہ منہ کم باتیں زیادہ، سوشل میڈیا پر بھانت بھانت کے تبصرے ،کسی نے کہا ’’علی الصبح ملکی معیشت کو دھچکا اکلوتے مرغ کو بلی کھا گئی مرغا ملکی معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کرنے والا تھا‘‘ ایک اور نے لکھا ’’مرغیوں کی جان بخشی ہوگئی کراچی میں چکن بریانی شارٹ ہوگئی مرغیوں کا کام اب صرف انڈے دینا ہے زیادہ سے زیادہ انڈے دیں اور ٹھاٹھ سے پر سکون زندگی گزاریں مرغوں کی قدر و منزلت بڑھ گئی‘‘ ایسی باتیں کیوں کی جاتی ہیں جن کا بتنگڑ بنا لیا جائے اور تضحیک کا پہلو نکلے،مرغی سے انڈے، انڈوں سے چوزے، چوزوں سے مرغیاں، مرغیوں سے پھر انڈے، انڈے گندے نکل آئے تو کیا ہوگا، حضرت علامہ نے کہا تھا’’ اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں، نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے‘‘ گندے انڈے پہلے ہی سنبھالے نہیں جا رہے جوں توں گزارہ چل رہا ہے، بھینسوں سے کٹے، کٹوں سے بھینسیں، حلال گوشت، برآمدات میں اضافہ، زر مبادلہ بڑھے گا لیکن کیا کٹے اگلے 100 دنوں میں جوان ہوجائیں گے؟ ’’کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک‘‘

مڈ ٹرم الیکشن کا سوال کیوں پیدا ہوا؟ جن کے ذہنوں میں سوال اٹھا انہوں نے کچھ تو سوچا ہوگا ان کی اپنی مجبوری، مڈ ٹرم الیکشن آسان نہیں اربوں کا کھیل ہے، 3 ماہ پہلے ہی تو کھیلا کھلایا گیا کیسے منسوخ کریں گے اپنے بھی کالعدم قرار نہیں دیں گے جنہیں چنا ان ہی سے کام چلایا جائے گا مخالفین چیختے چلاتے رہیں انہیں ویسے بھی دیواروں میں چنوایا جار ہا ہے اس پر بھی یہ گلہ کہ نیب ہمارے ما تحت ہوتا تو 50 بڑوں کو جیل میں ڈال دیتے اتنا کچھ تو کر رہے ہیں ’’پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیں‘‘ نوآموز کسی بھی فیلڈ میں رسک ہوتے ہیں، چل گئے تو پوبارہ ٹھس ہوگئے تو اپنا چوبارہ ،جا بے جا تنقید اچھی نہیں، 6 ماہ تک ترقی کا روشن پہلو اجاگر کیا جائے، پہلے بھی عرض کیا تھا کہ نو آموز حکمران نیک نیت ہیں تو’’ بھیگے سروں سے بھی ذرا پرواز کر کے دیکھ ‘‘کے فارمولے پر عمل کر کے اسپیڈ پکڑ لیں گے یہ فرمان امروز کا مثبت پہلو ہے لیکن کیا کیا جائے ذہین لوگ ہر پہلو پر نظر رکھتے ہیں، پیپلزپارٹی کے غالبا واحد نظریاتی اور قابل احترام لیڈر رضا ربانی ایک اور فکر انگیز سوچ لے کر آئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ لگتا ہے مڈ ٹرم الیکشن کرا کر عمران خان کو دو تہائی اکثریت دلائی جائے گی،’’ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی‘‘ پانچ سال کی محنت مشقت، مار دھاڑ، دھرنوں کی سیریل، حکمرانوں پر سب وشتم، کنٹینر سے محبت بھری گالیوں کے تبادلے، کرپشن کے لا متناہی الزامات، پیدائش سے اب تک کے 69 سالوں کی تحقیقات کے مطالبات اور پوری مخلوق کو مخالف بنا دینے والے بیانیوں کے باوجود آنے والی حکومت پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل نہ کرسکی، مانگے تانگے کی دس سیٹوں پر چل رہی ہے متحدہ کے رہنما ہتھے سے اکھڑنے لگے ہیں 100 دنوں میں گلے شکوؤں کی نوبت آگئی ان کے مطابق جو معاہدہ ہوا تھا اس پر عملدرآمد نہ ہوسکا، جنوبی پنجاب صوبے والے بھی مایوس ہیں ، کیا کہہ دیا کہ جنوبی پنجاب صوبہ کا قیام طویل مرحلہ ہے، جو ہاتھوں میں سرسوں جمائے ن لیگ سے بھاگ آئے تھے وہ بھی پینترا بدل رہے ہیں مایوسی پھیل گئی تو موسمی پرندے پھر سائبیریا کاشغر کے پرواز کر جائیں گے، بلا سوچے سمجھے گرم علاقوں کی طرف آگئے تھے جنوبی پنجاب صوبہ فوری ممکن نہیں ممکن ہوتا تو ن لیگ کی حکومت ہی میں بن جاتا اس دور کی صوبائی اسمبلی نے تو صوبہ کے حق میں قرار داد بھی منظور کرلی تھی، حالات بدل رہے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ابھی سے بدل رہے ہیں ، 100 دنوں کی کارکردگی پر دعوؤں، وعدوں کی نوبت نہ آتی تو بہتر تھا، ماہرین نے برملا کہا کہ 100 دنوں کی کارکردگی پر شور مچا کر شرمندگی اٹھانی پڑی کتنے لفظوں کا ثواب ملا، 100 دنوں کی کارکردگی پر اتنی مایوسی کہ معاملہ مڈ ٹرم الیکشن تک پہنچ گیا، اللہ کی باتیں اللہ ہی جانے ،کہتے ہیں مقبولیت کم ہو رہی ہے صرف 23 فیصد نے کارکردگی کی حمایت کی، 49 فیصد سے زیادہ عوام مخمصے اور الجھاؤ کا شکار ہوگئے کہ مزید چند دن انتظار کر کے رائے قائم کریں گے۔ مشتے چند یعنی 7 فیصد نے تبدیلی کا نعرہ لگایا، تین ماہ کے دوران لاکھوں افراد بے روزگار ہوگئے مڈ ٹرم الیکشن ہوئے تو وہ کیسے ووٹ دیں گے کسے ووٹ دیں گے، مہنگائی، بجلی گیس، پیٹرول سب مہنگا، ڈالر کی اونچی اڑان، مقبولیت کیسے بڑھے گی، کبھی سنجیدگی سے سوچا شاید کبھی نہیں لیکن ان قوتوں نے شاید خطرہ بھانپ لیا ہے جن کی قوت شامہ عام لوگوں سے تیز ہے وہ خطرات کو سونگھ کر آگے قدم بڑھاتے ہیں ،صورتحال بڑی حد تک واضح ہو رہی ہے، افسانے بتدریج حقیقت میں ڈھل رہے ہیں وزیر اعظم لاکھ کہتے رہیں کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا عوام بد اعتمادی کا شکار ہیں ، ایک دوست نے بالواسطہ بہت سے سوال پوچھ لیے کہا کہ مقاصد کے حصول کے لیے منصوبہ بندی کرلی؟ منزل تک پہنچنے کے لیے سمت کا تعین کرلیا گیا؟ منزلوں کی کھوج میں صعوبتیں جھیلنے کا ہنر آتا ہے؟ صبر کا مادہ کتنا ہے؟ کار سرکار چلانے کے لیے درکار صلاحیتیں کس حد تک ہیں؟ ہم سفر اور مشیر کس حد تک معاون ثابت ہو رہے ہیں؟ جواب سوجھ رہا ہے یا نہیں، سیاسی شعبدے بازیوں سے زیادہ دیر کام نہیں چل سکتا حالت یہ ہے کہ

سوچتے کچھ ہیں عمل کچھ ہے نتیجہ کچھ ہے

ایسی صورت میں کوئی مسئلہ حل کیسے ہو

اگر شاخ ہی ہری نہیں تو ثمر کی امید فضول، تب تو مڈ ٹرم الیکشن ناگزیر ہوجائیں گے۔


ای پیپر