ایٹمی طاقت اور مرغی انڈوں کی ٹوکری
09 دسمبر 2018 2018-12-09

تھائی لینڈ جنوب مشرقی ایشیا کا مرکزی ملک ہے۔ معاشی اعتبار سے یہ ایشیاء کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ اس کی جی ڈی پر کیپٹا (GDP Per Capita) 6593.82 یو ایس ڈالر ہے۔ جبکہ وطن عزیز پاکستان کی یہی جی ڈی پی صرف 1547.85 یو ایس ڈالر ہے۔ تھائی لینڈ کی معاشی مضبوطی کی بڑی وجہ بہت دلچسپ ہے۔ اور وہ یہ کہ تھائی لینڈ میں فارن کرنسی اکاؤنٹ نہیں کھولا جاسکتا۔ یعنی اگر آپ کے پاس وہاں کہیں سے ڈالر یا کوئی ملکی اور غیرملکی کرنسی آگی ہے تو آپ کو اسے وہاں کی کرنسی بھات میں تبدیل کرانا ہوگا۔ چنانچہ وہاں کا ملکی زرمبادلہ ہے کہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ مجھ ناچیز کا ایک مشورہ یہ ہے کہ اگر ہماری حکومت یہی اصول وطن عزیز میں رائج کردے تو یہاں کی معاشی حالت بہت بہتر ہوسکتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ فیصلہ ایسا ہوگا جس پہ ہمارے وزیر اعظم کو یوٹرن بھی لینا نہیں پڑے گا۔ دوسرا ایک مشورہ میں وزیر اعظم صاحب سے استفسار کرتے ہوئے دینا چاہتا ہوں وہ کچھ یوں کہ جناب وزیر اعظم صاحب آپ میں جو فنڈ اکٹھا کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے بے شک ایک اچھی بات ہے، لیکن حضور یہ فرمائیے گا کہ کیا اس ملک میں جو کچھ بھی کریں گے وہ عوام ہی کریں گے؟ بجلی کے بڑھتے ہو ئے بل عوام دیں، ٹیکس عوام دیں، و و ٹ لا ئنو ں میں کھڑ ے ہو کر عوام دیں، خون عوام دیں، لاشیں عوام دیں، مگر عوام کو بدلے میں صرف دھکے ملیں؟ جناب وزیر اعظم صاحب اگر آپ نے کچھ ہمت ہے اور آپ واقعی عو ا م کیلئے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو پھر سابق صدور سے، سابق وزرائے اعظم سے، سابق وزراء سے، سابق ممبران قومی و صوبائی اسمبلی سے فنڈ اکٹھے کریں۔ پھر آپ دیکھیں گے کہ یہاں ڈیم بھی بنیں گے اور پاکستان کا اور کچھ نہیں تو 25 فیصد قرض بھی اتر جائے گا۔ اس طرح اس ملک کے بیس کروڑ عوام کو پتہ چلے گاکہ آپ اور ہمارے سیاستدانوں نے اس ملک کی غریب عوام کی خدمت کی ہے۔ ورنہ آپ دیکھیں تو سہی کہ ایک طرف تو یہ ملک دنیا کی بہت بڑی ایٹمی طاقت ہے اور دوسری طرف آپ اسے مرغی انڈے کی تجارت میں دھکیلنا چاہ رہے ہیں۔ میں تو کہتا ہوں جہاں آپ نے تمام عمر یوٹرن لیے ہیں، ایک اور یوٹرن مرغی انڈے کی معیشت پہ لیکر نہ صرف خود کو مذاق کا نشانہ بننے سے بچائیں بلکہ عو ا م کا وقت اس سے جڑے لطیفوں پہ ضائع ہونے سے بچائیں۔ غضب خدا کا خان صاحب! کیا آپ کے پاس اس ملک کا مذاق اڑوانے کا کوئی اور طریقہ نہیں بچا؟ آج دنیا میں سائنس کی نئی سے نئی ایجادات سے فائدہ اٹھا کر ہر ملک اپنے زرمبادلہ میں اضافے کی راہیں ڈھونڈ رہا ہے۔ کہیں ہوا کی طاقت سے بجلی پیدا کی جارہی ہے، تو کہیں سورج کی روشنی سے فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔ مگر آپ اس ملک کو مرغی پہلے آئی تھی یا انڈا کے زمانے میں واپس لے جانا چاہ رہے ہیں۔ یاد رکھیے! ضد پہ اڑ کر مسئلے حل نہیں ہوسکتے۔ مگر آپ ہیں کہ آپ اپنی ضد پہ کچھ یوں اڑے ہوئے ہیں کہ خود آپ کی پارٹی کے لوگ بھی آپ کے ساتھ نہیں ہیں۔ جی ہاں! یہ بات ہے ملک کے اہم ترین صوبے پنجاب کی ۔ ذرا ایک آدمی کا نام بتادیجئے جو عثمان بزدار کو اس ملک کے سب سے اہم صوبے کا وزیر اعلیٰ بنانے سے متفق ہو؟ مگر آپ ہیں کہ زمین جنبد نہ جنبد گل محمد کی مانند رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ بطور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا انتخاب بہترین انتخاب ہے۔ جو شخص ماضی میں بھی اعلیٰ عہدے پہ فائز ہونے کے باوجود اپنے گھر میں بجلی نہ لگواسکا، وہ اس صوبے کے مسائل کیا حل کرے گا؟ اور خان صاحب ہیں کہ کرکٹ کی دنیا سے آگے بڑھ ہی نہیں پارہے۔ لوگ بھوک سے مر رہے ہیں اور وہ ہر مثال کرکٹ کی اصلاحات سے دیتے ہیں۔ عثمان بزدار کی مثال بھی وہ وسیم اکرم اور وقار یونس سے دیتے ہیں۔ وسیم اکرم اور وقار یونس نے کرکٹ کے میدان میں کیا کیا؟ یہ میرا موضوع نہیں۔ مگر کیا یہ ملک اس قدر خوشحال ہوچکا ہے کہ یہاں تھر کے بھوک سے مرتے بچے، کراچی کی گندگی، روپے کی بیرونی کرنسیوں کے مقابلے میں تذلیل وغیرہ جیسے مسائل سرے سے موجود ہی نہیں جو عثمان بزدار کی مثال کرکٹ کی پرکشش دنیا سے دی جارہی ہے؟ خان صاحب ذرا بتائیے کہ چیف جسٹس صاحب آپ کے بارے میں اقرباء پروری کی بات کیوں نہ کریں؟ آپ میاں نواز شریف کو پانامہ کیس میں پھنسوانے کا کریڈٹ اپنی ذات کو دینا چاہ رہے ہیں۔ مگر جب علیمہ خان کی بیرون ملک دولت کی بات ہوتی ہے تو آپ یوں خاموش ہوتے ہیں کہ لگتا ہے آپ کے ہونٹ سلے ہوئے ہیں۔

یہاں جب پچھلی بار پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تھی تو اس کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ملک میں توانائی کا مسئلہ حل کرنے کی غرض سے انرجی سیور برآمد کرنے کو ملک کے مسئلوں کا حل بتایا تھا۔ اب آپ نے اس ملک کو خود کفیل بنانے کے لیے مرغیاں پالنے کا حل بتایا ہے۔ یعنی ہم لوگوں کی قسمت میں یہی کچھ رہ گیا ہے۔ یاد آیا بچپن میں شیخ چلی کی مرغی کے انڈوں سے بچے نکلوا کر رئیس بن جانے والے خو ا ب کی حکایت سنی تھی۔ دِن کی رو شنی میں جب شیخ چلی انڈے بیچتے وقت رئیس بن جانے کا خواب دیکھ رہا تھا تو اس نے دیکھا کہ رئیس بن جانے کے بعد اس کے حاسد محلے دار اس کے پاس مالی امداد طلب کرنے آئے تو اس نے انہیں کیسے لات رسید کی ۔ یہ لات محلے داروں کو تو کیا لگنا تھی، البتہ انڈوں کی ٹوکری پہ لگ کر سب انڈوں کو توڑنے کا سبب بن گئی۔ یوں شیخ چلی پھر خالی ہاتھ گھر لوٹا۔ دیکھ لیجئے خان صاحب، کہیں آپ بھی ضد پر اڑ کر انڈوں کی ٹوکری پہ لات نہ مار بیٹھیں۔ یوں بھی آپ کے لیے پہلے سے عثمان بزدار، اسد عمر اور جہانگیر ترین وغیرہ کے مجسم مسئلے کیا کم تھے کہ آپ نے انڈو ں کی ٹوکری بھی اپنے گلے میں ڈال لی۔ڈ الر اِن دنو ں 140روپے کے ارد گرد چہل قد می کر رہا ہے اور شدت سے 150روپے کی منز ل تک پہنچنے کے لیئے بے چین ہے۔ افسو س کی بات یہ ہے کہ جب اپنی چہل قد می کے دوران آگے کی چھلا نگ ما رتا ہے تو آ پ اپنی آ نکھیں بند کر لیتے ہیں، مگر جیسے ہی وہ عا ر ضی طو ر پر نیچے آ تا ہے تو آ پ ڈو بتی معیشت پہ قا بو پا لینے کی با تیں شر وع کر دیتے ہیں۔ آ پ عوا م کو دلا سا دیئے جا رہے ہیں کہ ڈر نے کی کو ئی ضر ورت نہیں۔ مہنگا ئی اور بے روز گا ری سے تنگ آ کر پو ری کی جگہ آ دھی رو ٹی کھا کر سو جا نے وا لے کیسے ڈر نے سے محفو ظ رہ سکتے ہیں؟ عوا م تو اب ایسے بھی مر رہے ہیں اور ویسے بھی۔ اور وہ یو ں کہ

تیرے وعدے پہ جیئے ہم تو یہ جان جھو ٹ جانا

کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا


ای پیپر