مثبت یو ٹرن
09 دسمبر 2018 2018-12-09

وزیر اعظم عمران خان کا انٹر ویو پاکستان کی سفارتی تاریخ کا سب سے بڑا مثبت یو ٹرن ہے۔ کوئی اور مانے نہ مانے قلم مزدور اس پالیسی شفٹ کوخوش آمدید کہے گا۔

یہ بات درست ہے کہ پاکستان کو پراکسی سٹیٹ کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ہمارے سر فروشوں کو کرائے کے سپاہی اور عوام کوپرائی جنگوں کا ایندھن بنایا گیا۔ماضی کی ان پالیسیوں نے اقتصادی معاشرتی،سیاسی ہر لحاظ سے ایک ایسا معاشرہ بنا دیا جس کی کوئی سمت نہیں ہوتی۔ اس مزدور کی مانند جو ہر روز صبح سویرے فٹ پاتھ پر بیٹھتا ہے۔ کوئی صاحب ثروت ضرورت مند آئے اور اس کو ہائر کر کے لے جائے۔ ماضی کے حکمرانوں نے بھی اپنے ہی ملک کو اسی مزدور کی طرح چوراہے پر بٹھا دیا۔ اس کے بدلے میں پاکستان کو کیا ملا؟ کچھ بھی نہیں۔ ہاں البتہ تباہی، بربادی، انتشار ضرور ملا۔ کوئی معاشی فائدہ ملا؟ نہیں۔کوئی اقتصادی پیکج ملا؟ نہیں۔کوئی بیل آؤٹ پیکج؟بالکل نہیں۔ اگر کچھ ملا بھی تو بعض تجوریوں میں گیا۔یہ تجوریاں کس کی ہیں۔ ان کرداروں سے کون واقف نہیں۔ان میں ماضی کے غیر منتخب قابض حکمران بھی ہیں۔ اہل سیاست بھی صاحبان،جبہ ودستار بھی۔ حکمران طبقہ کے دسترخوان سے ریزے چن کر اپنا پیٹ بھرنے والے حاشیہ بردار بھی۔ پاکستان کو بنے ہوئے اکہتر برس بیت گئے۔ ان سات دہائیوں میں تین بار ایسا فیصلہ کیا گیا جس نے پاکستان کو سفارتی گمراہی کی تاریکی میں دھکیل دیا۔ پھر ایک غلطی کو چھپانے، اس کے ازالے کیلئے دوسری، تیسری اور چوتھی غلطی سرزد ہوتی گئی۔ پاکستان کا امریکہ کی جانب جھکاؤ تو قائد ملت لیاقت علی شہید کے دور میں ہوا۔ لیکن بہر حال وہ ابتدائی دور تھا۔ جو افرا تفری کی نذر ہو گیا۔ لیکن پاکستان کی سفارتی غلطیوں کے تینوں میجرفیصلے اتفاق کے بات ہے جرنیلوں کے دور حکومت میں ہوئے۔ ایوب خان نے تختہ الٹ کر اقتدار سنبھالا کچھ عرصہ بعد وہ صدر مملکت کے عہدہ پربھی براجمان ہوگئے۔ اور فیلڈ مارشل کا تمغہ بھی اپنے کشادہ سینے پر ہی سجا لیا۔ ایوب خان کے دور میں بھی پاکستان نے بہت بڑا یو ٹرن لیا اور ان معاہدوں کاحصہ بن گیا۔ جس نے سرد جنگ کے ابتدائی دور میں ہی پاکستان کو امریکی بلاک میں دھکیل دیا۔ سیٹو اورسینٹو معاہدات کے تحت ہمارے کئی خفیہ اڈے امریکہ کے حوالے ہو گئے۔ پاکستان کمیونسٹ بلاک کے مخالف شمار ہوا۔ انڈیا نے اس دور میں روسی بلاک میں شمولیت اختیار کی۔ خوب فوائد حاصل کیے۔ دفاعی ساز و سامان بھی خریدا اور اقتصادی ثمرات بھی سمیٹے۔اس دوران صاحبان اقتدار نے عوا م کو لالی پاپ دیا کہ پاکستان کو کوئی خطرہ ہوا تو امریکی بحری بیڑہ ہماری مددکو آئے گا۔وہ بحری بیڑہ خلیج فارس میں لنگر انداز تھا۔ بھارت نے مشرقی پاکستان پر حملہ کیا تو ہمارے حکمرانوں نے حوصلہ دیا کہ فکر مند نہ ہوں۔وہ طیارہ برادر بحری بیڑہ چل پڑا ہے۔ وہ جلد ہی دشمن کے دانت کھٹے کر دے گا۔ مشرق پاکستان بھی جدا ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔لیکن وہ بحری بیڑہ تلاش کے باوجود نہ ملا۔ اس سارے دور میں امریکی سر پرستی، امریکی صدور کی پاکستان آمد ان کی حسین و جمیل بیگمات کے ساتھ قربتوں کا فائدہ اگر کسی نے اٹھایا ہے وہ فیلڈ مارشل صاحب تھے۔ باقی اہل پاکستان کو لارے لپے ہی ملے۔ عام انتخابات کے بعد پاکستان میں پہلی جمہوری حکومت قائم ہوئی۔ ترقی کرنے اور قومی حمیت ثابت کرنے کا مختصر سا موقع ملا۔ اس دور میں قوم نے، ملک نے بے تحاشہ ترقی کی۔ آج کا موضوع اس دور کی کامیابیوں کے متعلق نہیں۔بس اتنا بتا کر آگے بڑھوں گا کہ وہ ایٹم بم جو آج ہماری حفاظت کی ضمانت بن چکا۔جس کے بل بوتے پر دشمن کو ہماری طرف دیکھنے کی جرات نہیں ہوتی۔ اس کی بنیاد اس مختصر دور میں رکھی گئی۔ اس ایٹمی پروگرا م کے خالق کے ساتھ حالات زمانے اور آنے والے حکمرانوں نے کیا تاریخ اس پر ہمیشہ آنسو بہاتی رہے گی۔ پاک امریکہ تعلقات کا دوسرا دور اس وقت شروع ہوا جب ضیاء الحق نے 5جولائی 1977ء کی شب ملک پر قبضہ کیا۔ایک مرتبہ پھرقابض حکمران تنہا تھا۔ اس کو اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے جواز درکارتھا۔ ارد گرد نظریں دوڑائیں تو اپنے ہمسائے ملک میں ایک موقع نظر آیا۔ سوویت یونین،افغانستان کی زہریلی دلدل میں قدم رکھ چکا تھا۔ امریکہ ویت نام کی شکست کا بدلہ لیتے سرخ ریچھ کو نکیل ڈالنے کا منصوبہ بنا چکا تھا۔ اس کو افغانستان کے ہمسایہ میں لانچنگ پیڈ اور اسلحہ کا گودام درکار تھا۔ ادھر پاکستان میں بر سر اقتدار ضیاء الحق کو اقتدار کی طوالت چاہیے تھی۔ انہوں نے اپنی خدمات پیش کیں۔ امریکہ کی تو چاندی ہو گئی۔ پاکستا ن سے بن مانگے بہت کچھ مل گیا۔ افرادی قوت، اڈے، اسلحہ خانہ۔ امریکہ نے دس سال پاکستان کی مدد سے جنگ لڑی۔ آخر کار سوویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے ہوئے تو امریکہ نے بھی اپنا سامان سمیٹا۔ اب اس کو اتحادی کی بھی ضرورت نہ تھی۔ لہٰذا اپنے سفیر کی قربانی دیکر چشم دید گواہ کو بھی ختم کر دیا۔ ضیاء الحق کو تو دس سال کا عرصہ اقتدار تو مل گیا۔ لیکن پاکستان کو اگلے سو سال کیلئے ایسے بگاڑ کی دلدل میں ڈال گیا جس کی گہرائی کا آج بھی کسی کو اندازہ نہیں۔بس معاشرہ اس دور کی غلطیوں کی قیمت آج بھی ادا کر رہا ہے۔ اور نہ جانے کب تک ادا کر تا رہے گا۔ ایک مرتبہ پھر دس سال نسبتاً امن و امان، سکون سے گزرے۔ 12 اکتوبر 1998 کو پاکستان میں ایک اور مارشل لا لگا۔ اس دور میں پھر وہی کہانی دہرائی گئی۔ نائن الیون ہوا۔ امریکہ اور پرویز مشرف کی دوستی ہو گئی۔

دونوں ایک دوسرے کیلئے لازم وملزوم ہو گئے۔ پرویز مشرف رچرڈ آرمٹیج کی ایک ٹیلی فون کال پر ڈھیر ہوئے۔ پاکستان کو امریکہ کی پراکسی وارکاہیڈ کوارٹر بنا دیا گیا۔اقتدار کے مزے پرویز مشرف نے لوٹے۔ بلکہ اب بھی لوٹ رہا ہے۔ امریکہ کے اپنے سٹریٹجک مقاصد تھے۔ جن کی تکمیل ہو رہی ہے۔ لیکن پاکستان نے 80 ہزار جانوں کی قربانی دی۔ ڈیڑھ سو بلین ڈالر کا معاشی خسارہ برداشت کیا۔ خود کش حملے، دہشت گردی، انتہا پسندی ایسی بیماریاں لاحق ہوئیں۔ پاکستان نے ان تینوں ادوار کی بڑی بھاری قیمت ادا کی۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑی۔ انتہا پسندی کے بیانیہ کے خلاف قوم اس جنگ میں ابھی بھی مصروف ہے۔ آخر فتح قوم کی ہوگی۔ فیصلہ سازوں کو اب احساس ہو چکا ہے کہ ماضی میں فاش غلطیاں ہو ئیں۔ اب ان غلطیوں کا ازالہ کیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ ہو چکا کہ ا ب کسی کی جنگ کا حصہ نہیں بننا۔ امریکہ ہو یا کوئی برادر اسلامی ملک اپنی سر زمین پر کسی کو پراکسی وار کی اجازت نہیں دینی۔ عمران خان کہہ چکے ہیں کہ ہم کرائے کی بندوق نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ اعلان لاتعلقی مستقل ہو عارضی نہ ہو۔


ای پیپر