غربت کا خاتمہ اور مرغی پال سکیم
09 دسمبر 2018 2018-12-09

ہمارے سیاسی اور غیر سیاسی رہنماؤں کو بغیر تیاری اور تحقیق کے تجاویز دینے اور پیچیدہ مسائل کا انتہائی سادہ حل پیش کرنے میں کمال حاصل ہے۔ ہم لوگ مسائل کو گہرائی سے دیکھنے اور ان کے جدت پسندانہ حل ڈھونڈھنے کی بجائے سطحی گفتگو کرنے اور حل پیش کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ عقل مند لوگ وہ نہیں ہوتے جو غلطی نہیں کرتے بلکہ عقل مند وہ لوگ ہوتے ہیں جو نہ صرف اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں بلکہ دوسروں کے تجربات سے بھی سیکھنے اور استفادہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب غربت کے خاتمے کے لیے وزیراعظم عمران خان کی مرغی پال اور کٹے پال سکیم کو ہی دیکھ لیجیے۔ وزیراعظم کے اقتصادی مشیروں، پالیسی سازوں اور مشیروں نے انہیں جو بتایا وہ انہوں نے قوم کے سامنے پیش کر دیا۔ وزیراعظم کو جن لوگوں نے اس سکیم کی افادیت اور غربت کے خاتمے میں اس کے کردار پر بریفنگ دی ہو گی انہیں چاہیے تھا کہ وہ مختلف ممالک میں مرغی پال سکیموں کے نتائج کا مطالعہ کر لیتے۔ وہ ذرا اسی بات پر تحقیق کر لیتے کہ بل گیٹس نے افریقہ کے ممالک میں مرغی پال سکیم کے جو تجربات کیے وہ ناکام کیوں ہوئے۔ وہ کونسی وجوہات تھیں جن کی بنیاد پر یہ سکیم ناکام ہوئی اور کروڑوں ڈالر ضائع ہوئے مگر یہاں ایک مسئلہ تھا کیونکہ اس سکیم کا خیال دنیا کے امیر ترین شخص بل گیٹس کی طرف سے سامنے آیا تھا کیونکہ ہمارے حکمرانوں کا کامیابی اور ناکامی کا واحد معیار دولت اور عہدہ ہے اس لیے دنیا کے امیر ترین شخص کی طرف سے پیش کیا گیا خیال اور منصوبہ ناکام تو نہیں ہو سکتا۔ ہم جس عہد میں رہتے ہیں یہ نیو لبرل ازم کا عہد ہے۔ نیو لبرل ازم میں دولت کے انبار ہی کامیابی کا سب سے بڑا معیار ہے۔ اس عہد میں یہ بات اہمیت نہیں رکھتی کہ دولت کیسے جمع کی گئی ۔ اس کے لیے کتنے انسانوں کا استحصال کیا گیا۔ کتنوں کے ساتھ نا انصافی اور ظلم کیا گیا۔ اخلاقیات ، نظریات اور اعلیٰ انسانی اقدار کو کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں۔ مجھے تو اس بات پر حیرت ہے کہ حکومت کے معاشی ترجمان جو کہ بذات تجربہ کار ماہر معیشت اور تجزیہ نگار ہیں کی موجودگی میں وزیراعظم نے اس ناکام سکیم کا اعلان کیسے کر دیا۔ ڈاکٹر فرخ سلیم کو تو کم از کم وزیراعظم کو حقائق سے آگاہ کرنا چاہیے تھا۔ اور اگر وزیراعظم کی تقریر کے بعد ان کے منصوبے پر ہونے والی تنقید کو سنجیدہ لیتے ہوئے حقائق کا کھوج لگایا جاتا اور ایک قابل عمل منصوبہ پوری تیاری کے ساتھ قوم کے سامنے رکھا جاتا تو وزیراعظم کا مذاق نہ اڑایا جاتا۔

وزیراعظم عمران خان محض تحریک انصاف کے وزیراعظم نہیں ہیں بلکہ پاکستان کے وزیراعظم ہیں ۔ کوئی ان کے سیاسی خیالات اور نظریات سے اختلاف رکھتا ہے اور میری طرح ان کا نقاد ہے مگر وہ میرے بھی وزیراعظم ہیں۔ اس لیے جب ان کا تمسخر اڑایا جاتا ہے تو اس کا افسوس ہوتا ہے۔

اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ مرغی پال سکیم بل گیٹس کے زر خیز ذہن کی پیداوار نہیں ہے بلکہ ان سے پہلے بھی کئی ممالک نے اس طرح کے تجربات کیے جو کہ سب کے سب ناکام رہے۔ بل گیٹس نے یہ منصوبہ 2016ء میں پیش کیا مگر افریقی ملک موزمبیق نے 2005ء اور 2006ء میں اس طرح کی سکیم کا تجربہ کیا جو کہ مکمل طور پر ناکام رہا۔ بل گیٹس کا خیال تھا اگر ایک لاکھ مرغیاں غریبوں میں مفت تقسیم کر دی جائیں تو سینکڑوں خاندان ایک ہزار ڈالرسالانہ تک کما سکیں گے مگر یہ منصوبہ ناکام ثابت ہوا۔ پانچ مرغیاں اور چند انڈے غربت جیسے پیچیدہ اور بڑے مسئلے کو حل نہیں کر سکتے۔ غربت کا تعلق لوگوں کی قسمت سے کم اور رائج معاشی اور سماجی ڈھانچے سے ہوتا ہے۔ غربت کا تعلق دولت کی غیر منصفانہ تقسیم سے ہوتا ہے جس معاشرے میں دولت کی تقسیم جتنی کم غیر منصفانہ ہو گی اس معاشرے میں طبقاتی تفریق اور غربت اور امارت کے درمیان فرق اسی قدر کم ہو گا۔ لہٰذا معاشی ڈھانچے ریڈیکل اصلاحات لائے بغیر اور ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت کے ڈھانچے اور نظام کو تبدیل کیے بغیر غربت کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ معاشی پالیسیاں تبدیل کیے بغیر اور ریاستی وسائل کا رخ حکمران طبقات سے محروم و محکوم طبقات کی طرف موڑے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح کی سکیمیں اور چھوٹے قرضے غربت کو ختم نہیں کرتے بلکہ غربت میں رہتے ہوئے لوگوں کی آمدن میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ اس سے غریب لوگ غربت کی پستی چکی سے باہر تو نہیں نکل سکتے مگر وہ فاقوں مرنے سے بچ جاتے ہیں۔ ریاست کی براہ راست مداخلت، سرپرستی اور جدت پسندی پر مبنی منصوبوں اور پالیسیوں کے نتیجے میں ہی غربت میں کمی لائی جا سکتی ہے اور عام لوگوں کی آمدن کو قابل لحاظ حد تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ چھوٹے کسانوں، تاجروں، مرغی اور مویشی پالنے والوں کو منڈی کی اندھی قوتوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ انہیں ریاست کی مدد درکار ہوتی ہے۔ چھوٹی سطح پر کام کرنے والے بڑے کاروباروں سے مقابلہ کر سکتے۔ انہیں تحفظ درکار ہوتا ہے جو کہ صرف ریاست انہیں فراہم کر سکتی ہے۔

اس حوالے سے لندن سکول آف اکنامکس کے سینئر ریسرچ فیلوز جوزف ہین لین اور ٹرسبا سمارٹ نے موزمبیق اور برازیل کے تجربات پر تحقیق کی ہے۔ اگر تحریک انصاف کی حکومت اس حوالے سے سنجیدہ ہے تو وہ اس تحقیق سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ موزمبیق اور برازیل کے تجربات سے اہم سبق سیکھا جا سکتا ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق موزمبیق کی حکومت اور بل گیٹس کے تجربات اس لیے ناکام ہوئے کہ چھوٹے کسانوں اور مرغیاں پالنے والے منڈی میں بڑی مرغیاں پالنے والوں کا مقابلہ نہیں کر سکے۔ موزمبیق میں مقامی سطح پر پیدا ہونے والی مرغیاں برازیل اور جنوبی افریقہ سے درآمد ہونے والے گوشت سے مہنگی ہیں۔ مقامی مرغیاں ذرائع اور غذائیت میں بہت بہتر ہیں مگر مہنگی بھی ہیں۔ اس طرح چھوٹی سطح پر مرغیاں پال کر کسان یا غریب خاندان 100ڈالر سے 150ڈالر سالانہ تو شاید کما سکے مگر 1000 ڈالر تو بہت دور کی بات ہے۔

اس تحقیق کے مطابق برازیل نے بالکل مختلف ماڈل اختیار کیا۔ حکومت نے سخت قواعد و ضوابط کے ذریعے اس سکیم کا اطلاق کیا۔ برازیل اس سکیم کے تحت دنیا کا دوسرا بڑا پولٹری پیدا کرنے والا ملک بن گیا۔ برازیل کے لاکھوں کسان خاندان مرغیاں پالتے ہیں مگر وہ معاہدے کے تحت ایسا کرتے ہیں۔ پوری صنعت اور منصوبہ نجی شعبے نے پروان نہیں چڑھایا۔ بلکہ ریاست نے مسلسل طویل المدتی سرمایہ کاری کے ذریعے اسے ممکن بنایا۔ چھوٹے کسان خاندانوں کو اپنی مرغیاں سستے داموں مقامی منڈی میں فروخت نہیں کرنا پڑتیں بلکہ ریاست نے انہیں منڈی کی اندھی قوتوں سے بچایا اور مکمل سپلائی چین فراہم کیا۔ برازیل نے کامیابی کے ساتھ اس سکیم کو آگے بڑھایا اور اسے کامیاب منصوبے میں تبدیل کیا۔ نجی شعبے نے اس منصوبے میں اس وقت دلچسپی لی جب ریاست نے سرمایہ کاری کر کے اسے تیزی سے پٹڑی پر چڑھا دیا تھا۔ اس کے لیے برازیل کی ریاست نے نقصانات برداشت کیے اور زیادہ پیدا وار والی مرغی کی اقسام متعارف کروائیں۔ اس ماڈل میں خاندان مرغیاں پالتے ہیں اور ایک مرکزی کمپنی انہیں چھوٹے چوزے ، ادویات ، خوراک اور منڈی فراہم کرتی ہے۔

یہ ماڈل موزمبیق میں بھی متعارف کروایا گیا جس کے نتیجے میں موزمبیق کے چھوٹے کسان خاندان سالانہ 750 ڈالر کما رہے ہیں مگر یہ پانچ مرغیوں کی بنیاد پر نہیں ہوا اور نہ ہی قرضے لے کر مرغیاں پالنے سے ہوا ہے بلکہ یہ ان خاندانوں کو سینکڑوں چھوٹے چوزے، خوراک اور دیگر ضروریات اور سہولیات فراہم کر کے ممکن ہوا ہے۔ موزمبیق کے یہ خاندان اب برازیل سے آنے والے گوشت سے سستی مرغیاں فراہم کر رہے ہیں۔ پانچ مرغیوں والے بل گیٹس کے ناکام منصوبے کی بجائے جدید اور سائنسی بنیادوں پر مرغیاں پالنے اور کھپت کا پورا نظام وضح کر کے کامیاب ماڈل بن سکتا ہے۔


ای پیپر