کرتار پور امن کی راہداری
09 دسمبر 2018 2018-12-09

کرتارپور پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع نارووال کی تحصیل شکر گڑھ میں واقع ہے۔ یہ علاقہ پاکستان اور ہندوستان کے بارڈر کے ساتھ منسلک ہے۔ یہ علاقہ 1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگوں سے شدید متاثر ہوا ہے۔ کرتار پور بارڈر 14 اگست 1947 میں خون ریزی کی وجہ سے بھی شہرت رکھتا ہے۔یہاں کے لوگوں کی مادری زبان پنجابی ہے۔ یہاں کی مشہور ذاتیں گجر، جٹ اور راجپوت ہیں۔لیکن زیادہ آبادی مسلمان گجر برادری کی ہے۔ 1947 میں بھی یہاں سکھ اور ہندو برادری اقلیت میں آباد تھیں اور مسلمان اکثریت میں تھے۔ تقسیم کے بعد زیادہ تر ہندو اور سکھ ہندوستان ہجرت کر گئے اور مسلمان ہندوستان سے پاکستان آ کر کرتار پور میں آباد ہو گئے۔

کرتار پور کو بابا ناننک دیو جی نے 1522 میں آباد کیا تھا۔ زندگی کے آخری اٹھارہ سال وہاں قیام کیا اور 22 ستمبر 1539 میں وفات پائی۔ ان کی وفات کی جگہ پر گردوارا تعمیر کیا گیا۔یہ سکھ کمیونٹی کا سب سے پہلا گردوارا ہے۔ پٹیالہ کے مہاراجہ بھوپندر سنگھ نے 135,600 روپوں میں گردوارے کی موجودہ عمارت تعمیر کروائی۔ جسے حکومت پاکستان نے 1995 میں مرمت کیا اور 2004 میں مکمل طور پر اپنی اصلی حالت میں بحال کر دیا۔ جنگل اور دریائے راوی کے قریب ہونے کے باعث اس کی دیکھ بھال مشکل کام ہے۔

متروکہ وقف املاک بورڈ کے سابق چئیرمین جناب صدیق الفاروق سے بات کرتے ہوئے یہ حقائق بھی سامنے آئے کہ کرتارپور بارڈر کھولنے کے مطالبے میں جان اس وقت پڑی جب 1999 میں بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی دوستی بس کے ذریعے براستہ واہگہ بارڈر پاکستان آئے۔

1999 سے پہلے پاکستان میں موجود بابا گُرو نانک کے گردوارے کو بھارتی سکھوں کی ایک تنظیم شر ومنی گرودوارا پر بندھک کمیٹی چلاتی تھی۔جنم دن کے موقع پر جو چندہ ڈبوں(سکھ اسے ''گو لکھ'' کہتے ہیں) میں اکٹھا ہوتا تھا وہ بھارتی سکھ تنظیم اپنے ساتھ ہندوستان لے جاتی تھی۔ گردوارے پر رقم خرچ نہیں ہوتی تھی اور گردوارے کی حالت بہت خراب ہو رہی تھی۔1999 میں حکومت پاکستان نے پاکستان سکھ گردوار پر بندھک کمیٹی بنائی اور تمام انتظامات شرومنی گرودوارا پر بندھک کمیٹی سے لے کر پاکستان سکھ گردوار اپر بندھک کمیٹی کے سپرد کر دیے۔ بھارتی سکھوں نے کچھ دیر احتجاج کیا لیکن بعد میں معاملات معمول پر آگئے۔ حکومت پاکستان نے گو لکھ میں جمع ہوئے کروڑوں روپے لگا کر اس گردوارے کی حالت کو بہتر بنایا۔

صدر پرویز مشرف نے سن 2000 میں کرتارپور بارڈر آئیڈیا کی منظوری دی اور اس کی تعمیر کے لیے بیشتر ٹینڈر جاری کیے۔ لیکن اٹھارہ سال تک یہ منصوبہ پاک بھارت کشیدہ تعلقات اور دہشت گردی کی نظر ہوتا رہا۔ستمبر 2018 میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کی تقریب حلف برداری میں پاکستانی آرمی چیف جزل باجوہ نے بھارت کے سیاحت کے وزیر نوجوت سنگھ سِدّھو کو کرتار پور بارڈر کھولنے کا عندیہ دیا تو پوری دنیا کی بارہ کروڑ سکھ کمیونٹی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ جب وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سرکاری طور پر کوریڈور کھولنے کا اعلان کیا تو نوجوت سنگھ سِدّھو نے اسے خوش آمدید کہا اور وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا۔

ہندوستانی سکھ کمیونٹی اور پاکستانی حکومت کی مشترکہ کوششوں کے باعث 28 نومبر 2018 کو وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اس تاریخی راہدری کا سنگ بنیاد رکھ دیا اور اسے پاک بھارت تعلقات میں خوشگوار موڑ قرار دیا۔ اس راہداری کو‘‘ امن کی راہداری’’کا نام دیا گیاہے۔

اس کوریڈور کی کل لمبائی چھ کلومیٹر ہے۔چار کلومیٹر پاکستان اور دو کلومیٹر ہندوستان میں تعمیر ہو گا۔پاکستان کے چار کلومیٹر کے راستے میں دریائے راوی آتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت دریائے راوی پر ایک پل بنایا جائے گا۔ہندوستان کی جانب سے ڈیرہ بابا نانک سے پاکستان ہندوستان کرتار پور بارڈر کا فاصلہ دو کلو میٹر ہے۔ کرتارپور بارڈ کے ہندوستانی سائیڈ پر درشن ستھان قائم ہے جہاں سے دوربین کی ذریعے سکھ کرتار پور میں بابا گرونانک کے گردوارے کا نظارہ کرتے ہیں۔جو سکھ بابا گرونانک کے گردوارے پر آتے ہیں وہ واہگہ بارڈر کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ سکھ کمیونٹی بس یا ٹرین کے زریعے واہگہ بارڈر سے لاہور آتے ہیں اور لاہور سے 120 کلومیٹر کا سفر طے کر کے کرتار پور پہنچتے ہین۔زیادہ تر سکھ بس کے ذریعے یہ سفر کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان نے ہوائی جہاز سے سفر کرنے کی سہولت بھی دے رکھی ہے۔ لاہور ائیرپورٹ سے سیالکوٹ ائیر پورٹ تک جہاز میں سفر کرنے کی بھی سہولت موجود ہے۔سیالکوٹ سے کرتار پور کار یا بس میں سفر بہت آسان اور آرام دہ رہتا ہے۔واہگہ بارڈر سے پاکستان آنے والے سکھوں کو سرکاری کمپلیکس میں رہائش کی سہولت بھی دی جاتی ہے لیکن وہ تمام سکھوں کے لیے ناکافی اور نا ممکن ہے۔ لہذا ان کے رہنے کے مسائل بہت سنجیدہ ہیں۔ اسی وجہ سے وہ انتہائی کم عرصہ کے لیے پاکستان آ پاتے ہیں۔کرتارپور کوریڈور بننے سے گھنٹوں کا سفر منٹوں میں طے ہو گا۔ کرتار پور جانے کے لیے واہگہ بارڈر آنے کی ضرورت نہیں پڑیگی۔120 کلومیٹر کا سفر صرف چار کلومیٹر میں تبدیل ہو جائے گااور کسی ویزے کی بھی ضرورت نہیں ہو گی۔

کرتار پور کوریڈور مکمل ہونا پوری دنیا کے سکھوں کے علاوہ پاکستان اور بھارت کے امن کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو گا۔ کرتار پور پانچ سو سال پہلے بھی اہم تھا اور آج بھی اہم ہے اور جب تک سکھ کمیونٹی کا ایک فرد بھی موجود ہے کرتارپور کا نام پوری دنیا میں گونجتا رہے گا۔


ای پیپر