’’ تم کبھی امریکہ گئی ہو ۔۔۔؟ ‘‘
09 دسمبر 2018 2018-12-09

کزن کا فون آیا۔ ’’ ہادی ہزاروی۔ بول رہا ہوں بھابھی فوت ہو گئی ہیں‘‘؟! ۔۔۔ ویسے ہادی ہزاروی امرتسری لکھا کرتے تھے میرے سمجھانے پر امرتسر سے تائب ہو گئے۔ میں نے سمجھایا تھا کہ دو ملکوں سے ایک ساتھ ایسا تعلق کسی مشکل میں پھنسا دے گا ۔۔۔

’’اِنِّا لِلّہِ وَ اِنِّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ‘‘ ۔۔۔ میرے منہ سے نکلا اور پھر میں نے حیرت سے پوچھا ’’ ہادی کونسی بھابھی‘‘؟! ۔۔۔

اوئے میاں بھابھی تبت سنو فوت ہوگئی ہیں۔ رات بارہ بجے جب شہر میں برفیلی ہوائیں چل رہی تھیں کہ مرحومہ نے محض اِس خوشی میں صحن کا فرش رات بارہ بجے دھونا شروع کر دیا کہ بجلی بھی آ رہی ہے، پانی بھی موجود ہے اور سونے پر سہاگہ گیس بھی ۔۔۔ (دیکھئے ہماری محرومیاں ۔۔۔ اور ہماری ننھی منی خواہشیں) سنا ہے ہماری ان ننھی منی خواہشوں کو دبانے سے کچھ لوگوں کے سوئس اکاؤنٹس میں اربوں ڈالر کا اضافہ ہو جاتا ہے بلکہ لگاتار ہوتا رہتا ہے ۔۔۔

سخت سردی میں ٹھنڈا پانی اور پھر جو لگی سر کو سردی تو بے ہوش ہو گئیں۔ گھر والوں نے کہا پانی لاؤ۔ بیٹی فریج سے پانی کی بوتل نکال لائی۔ یخ پانی حلق سے نیچے اترا۔ ہوش تو کیا آنا تھا منہ نیلا ہو گیااور پھر ہسپتال لے جانے کی نوبت ہی نہ آئی۔ یہ بھابھی کی وہ بیٹی تھی جو ہمیشہ بھابھی سے ریاضی کا سبق پڑھتے ہوئے مار کھاتی تھی اُس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے ہمیشہ بڑی رقم نیچے رکھی اور چھوٹی رقم اوپر اور بھابھی کے سامنے اُس کو منفی کرنے کی کوشش کی یعنی چھوٹی رقم سے بڑی رقم منفی کرنے کی کوشش کی اور جواب کرتے کرتے ہمیشہ بھابھی سے پھینٹی پڑی اگر آپ کو میری یہ منطق سمجھ نہیں آ رہی تو 4422 سے 8824 منفی کر کے دکھائیں اُمید ہے آپ میری بات سمجھ گئے ہوں گے ۔۔۔ ہمارے دوست چوہدری شریف صاحب کو آج تک میری یہ بات سمجھ نہیں آئی حالانکہ ایک بہت بڑے ادارے کے مالی معاملات اُن کے ہی سپرد ہیں۔۔۔ ’’ساس نے ہی ڈیکلیر کر دیا کہ بہو’’ بھابھی تبت سنو‘‘ ہماری تو نہ ہو سکیں اللہ کو پیاری ہوگئیں! ۔۔۔ ساس کے منہ سے یہ اعلان ۔۔۔ کیا منظر ہو گا ۔۔۔ اور ساس کا اندازِ بیان بھی ۔۔۔ دیکھنے والا ہو گا ۔۔۔ ذرا تصور کر کے دیکھیں ۔۔۔ کرختگی کس خوبصورت انداز میں ٹپک رہی ہو گی ۔۔۔

ساس کی بات پر دوسروں نے اعتبار نہ کیا۔ اور پھر جب ڈاکٹر بلایا گیا تو اُس نے بھی ’’ دائیں بائیں دائیں سر ‘‘ ہلایا تو سب نے سکھ کا سانس لیا کہ ساس نے پہلی بار بجا فرمایا کہ ’’ بھا بھی تبت سنو‘‘ واقعی فوت ہو چکی ہیں ۔۔۔ یعنی اُن کے ہاں سے ہی نہیں ۔۔۔ دنیا سے بھی کوچ کر چکی ہیں اور سونے پر سہاگہ یہ کہ ۔۔۔ ہمیشہ کے لیے ۔۔۔ کوچ کر گئی ہیں ۔۔۔ بھابھی تبت سنو ۔۔۔

کئی سال پہلے جب بھابھی تبت سنوکی شادی ہوئی تو موصوفہ ’’ اندھیوں میں کانی رانی ‘‘ یعنی بی ۔ اے پاس تھیں اور باقی سب .....؟! بھابھی تبت سنو اِس بات پر بھی خاصی خوش تھیں کہ اُن کے میاں کئی سال امریکہ میں انجینئر رہے۔ اور وہ بھی دو بار امریکہ جا چکی تھیں ۔۔۔

چھوٹی بھابھی کہتی کہ ’’ میں آپ سے زیادہ خوبصورت ہوں ‘‘ تو بھابھی تبت سنو جھٹ بولیں ’’ تم کبھی امریکہ گئی ہو‘‘۔۔۔

’’ نہیں‘‘ ۔۔۔ وہ بے چاری شرماکے کہتی اور بھابھی تبت سنو قہقہہ لگاکے آگے چل پڑتیں۔

منجھلی بھابھی نے اِک دن ٹکر لی ’’میں چھ فٹ دو انچ ہوں۔۔۔

بھابھی تبت سنو جھٹ بولیں۔ ’’ تم کبھی امریکہ گئی ہو‘‘ ۔۔۔

’’ نہیں‘‘۔ وہ پریشان ہو کے کہتی اور بھابھی تبت سنو قہقہہ لگا کے آگے چل پڑتیں ۔۔۔ ہے نہ اترا نے والی بات ۔۔۔؟؟

اِک دن کھانے کی ٹیبل پہ سب سے بڑی بھابھی کی آٹھ سالہ بیٹی نے بُرا منہ بنا کے کہا ’’ امی ڈونگے میں بوٹی نہیں ہے‘‘ ۔۔۔

’’ نہیں ‘‘۔ بڑی بھابھی نے غصے سے کہا اور پھر بولیں ’’ تم کبھی امریکہ گئی ہو‘‘۔ سب قہقہے لگانے لگے سوائے ۔ بھابھی تبت سنو کے ۔۔۔ (اکثر وہ سمجھداری کا مظاہرہ کرتی ہیں) ۔۔۔

چیونٹی آٹو رکشے میں بیٹھی اور ایک پاؤں باہر رکھا۔۔۔

ڈرائیور ۔۔۔ میڈم جی پاؤں اندر رکھو ۔۔۔ !!

چیونٹی ۔۔۔ راستے میں ہاتھی ملے تو لات مارنی ہے کل سالا آنکھ مار کے گیا تھا ۔۔۔ چیونٹی نے ہنس کر کہا ۔۔۔

’’بھابھی تبت سنو‘‘کا نام در اصل ارشاد بیگم تھا اور وہ گاؤں فتو والا کی رہنے والی تھیں وہ فتووالے سے روزانہ تانگہ پر گیارہ میل کا فاصلہ طے کر کے گاؤں ککڑی پور آتیں جہاں سے ایک پرانے زمانے کی پھٹچر بس پر بیٹھ کر وہ شرقپور سے لاہور پڑھنے جاتیں۔ یعنی اُنھوں نے بی۔اے تک تعلیم حاصل کرنے کے لیے تقریباً یا اندازاً لاکھوں میل کا سفر بھی طے کیا۔ جب موصوفہ شادی کے بعد شہر میں اپنے سسرال تشریف لائیں تو ساس صاحبہ نے شام کو بڑے شوق سے جو نہاری پکائی تھی وہ کھانے کو پیش کی۔ چار و ناچار کھانے لگیں اور قے کر ڈالی ۔۔۔ پھر اگلے دن ’’فیملی فنکشن‘‘ ایک چائنیز ریسٹورنٹ میں تھا جہاں سوپ کا پہلا چمچ منہ میں ڈالا اور وہیں پھر قے کر ڈالی اور ساتھ ہی غصے میں بولیں ’’پتہ نہیں ۔۔۔ غلطی سے صابن میں کیا ڈال کے پینے کو رکھ دیا ہے ظالموں نے‘‘ ۔۔۔؟!

اُن کے شوہر امریکہ سے اپنی شادی کے لیے بہت سا سازو سامان بڑی خوشی اور محبت سے لائے تھے جس میں سب سے اہم چیز اُن کا بیوٹی بکس تھا جس میں دنیا جہان کی خوشبوئیات، لپ اسٹک وغیرہ وغیرہ موجود تھیں جب بھابھی ارشاد بیگم بی۔اے کو وہ بڑے سائز کا نہایت نفیس، عالیشان بیوٹی بکس پیش ہوا تو اُنھوں نے خوب الٹ پلٹ کے اس بیوٹی بکس کو دیکھا ۔۔۔ اُن کے چہرے اور حرکات و سکنات سے لگتا تھا کہ اُنھیں یہ میک اپ کے سامان سے لیس بیوٹی بکس دیکھ اور ٹٹول کر خاصی مایوسی بلکہ شدید پریشانی ہوئی ہے۔ شوہر نے پوچھا (محبت سے، حسرت سے، کسی اچھے جواب کی اُمید میں) ارشاد بیگم بی۔اے کیسا ہے یہ ہمارا پیش کردہ خوبصورت سا بیوٹی بکس؟! ۔۔۔ جو میں بڑے شوق اور محبت سے ڈالر خرچ کر کے آپ کے لیے لایا ہوں؟! ۔۔۔

تو وہ غصے سے دیکھتے ہوئے با آواز بلند بولیں ’’بکواس ہے یہ بیوٹی بکس، پتہ نہیں کس جاہل نے کہاں سے خریدا ہے، اس میں تو تبت سنو نہیں ہے‘‘ ؟! ۔۔۔

آج اُن کے جنازے پر جاتے ہوئے میں یہ محسوس کر رہا ہوں کہ اچھی تھیں وہ سادہ دل عورتیں ۔۔۔ جو وینا ملک کی بے حیائیاں، بگ باس کی فحش لباسیاں اور بھارتی چینلز پر چلنے والے ہزاروں قسطوں والے ڈراموں کی فریبی مکار عورتیں دیکھنے سے پہلے ہی دنیا سے چلی گئیں ۔۔۔

تبت سنو کو تو شاید آنے والے دنوں میں لوگ بھول جائیں لیکن بھابھی تبت سنو کو خاندان والے ہمیشہ یاد رکھیں گے کہ محبت سے رکھے گئے یہ نِک نیم کبھی پیچھا نہیں چھوڑتے اور اصلی نام ان کے نیچے دب کر رہ جاتے ہیں ۔۔۔ اپنے ارد گرد غور کریں آپ کو بہت سے بلو ۔۔۔ پپو ۔۔۔ ٹومی ۔۔۔ ٹونی ۔۔۔ اور بوبی ملیں گے ۔۔۔ اُنھیں سمجھائیے گا کہ یہ نام چالیس سال یا اس سے تھوڑا زیادہ عمر تک تو چل سکتے ہیں ۔۔۔ اُس کے بعد بندے کو اپنے اصلی نام کی طرف رجوع کر لینا چاہئے ۔۔۔ شکریہ ۔۔۔!!!


ای پیپر