”اردو سائنس بورڈ کا فکر انگیز مذاکرہ“
09 دسمبر 2018 2018-12-09

اردو سائنس بورڈ میں ان دنوں ممتاز نقاد ادیب ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے رونق لگارکھی ہے۔ ماہانہ لیکچرز ، سیمینار اور مذاکروں میں فکرانگیز موضوعات پر گفتگو کے لیے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین کو مدعو کیا جاتا ہے۔ سچی بات ہے ہم تو ناصرعباس نیر کو ایک زیرک نقاد اور ماہر تعلیم ہی سمجھتے تھے آپ تو کمال کے ایڈمنسٹریٹر بھی ثابت ہوئے ہیں۔ اردوسائنس بورڈ میں ہم نے اشفاق احمد، امجد اسلام امجد، ظفر اقبال اور خالد اقبال یاسر اور اکرام چغتائی کا زمانہ دیکھا ہے۔ یقیناً انہوں نے بھی بڑی اہم خدمات سرانجام دیں۔ نئی کتب شائع کیں مگر ناصر نے یہاں باقاعدہ کتابوں کا الگ شوروم قائم کردیا ہے جسے دیکھ کر ہمیں مصر کے شہر قاہرہ میں کتابوں کا شوروم ”دیوان“ یاد آگیا۔

دیوان بڑا صاف ستھرا کتابوں کا شوروم بنایا گیا جہاں نہایت خوبصورتی سے کتب ”ڈسپلے“ کی جاتی ہیں اور وہاں بیٹھنے اور اپنی کوئی بھی کتاب اٹھا کر پڑھنے کا ماحول بھی بنایا گیا ہے۔ آپ وہاں بیٹھ کر چائے کی چسکیوں کے ساتھ اپنے پسندیدہ مصنف کی کتاب سے بھی لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ یہ ایک اہم کارنامہ ہے۔ ناصر نے اب تک کئی اہم کتابیں شائع کی ہیں اور اپنی کتابوں سے دیگر اشاعتی کام بھی جاری وساری ہے۔ اس مرتبہ ماہانہ ”مجلس مذاکرہ کا موضوع بڑا فکر انگیز تھا :کہ پاکستان اختراعی لحاظ سے دیگر اقوام سے پسماندہ کیوں ؟“

جس پر مقررین نے اپنے اپنے زاویئے سے بڑی سیرحاصل گفتگو کی۔ بلاشبہ یہ موضوع تو ایسا ہے کہ یونیورسٹیوں کو اس پر کانفرنسیں منعقد کرانی چاہئیں ۔ آخر پاکستان اختراعی لحاظ سے دیگر ممالک سے پیچھے کیوں ہے ؟ اگر دنیا کے 126ممالک میں ہمارا 109نمبر ہے تو یہ افسوس ناک صورت حال ہے۔ ہم نے غور کیا اور اکثر لکھتے بھی رہتے ہیں کہ ہمارے حکمرانوں کو صرف اور صرف حکومت کرنے اور اپنے اختیارات استعمال کرنے کا شوق ہے۔ ان اختیارات کا مطمح نظر ”مال بنانا“ بھی ہوتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ کرپشن نے ہماری جڑوں کو کھوکھلا کردیاہے۔ سب سے کم بجٹ تعلیم کا ہوتا ہے ایسے میں تعلیمی اداروں میں ”انوویشن “ کا ماحول کیسے پیداہوسکتا ہے ؟ نئے آئیڈیاز اور پراجیکٹ پر رقم خرچ ہوتی ہے جبکہ نئے پراجیکٹ پر کام کرنے کے لیے فنڈز دستیاب نہیں اور یونیورسٹیوں میں یہ کام اسی سبب سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔

بعض بڑے ادارے اورکمپنیاں اگر نئے پراجیکٹ کے فنڈز دیتے بھی ہیں تو ان کا حصول آسان نہیں ہوتا ۔دفتروں کی بھول بھلّیوں میں محقق طالب علم بدحال ہوجاتا ہے بعض اوقات مٹھی گرم کرنے سے کچھ فنڈز حاصل کر بھی لیے جاتے ہیں پھر اگر کسی طالب علم نے کوئی نیا پراجیکٹ پیش کیا ہے تو اس کی مناسب حوصلہ افزائی نہیں ہوتی۔ اس کامیاب آئیڈیے کی نقل روکنے کے لیے قانون موجود ہونے کے باوجود سرکار کی طرف سے دلچسپی نہیں لی جاتی۔ حکومتی سطح پر Innovationکو سراہے جانے اور اس کے لیے باقاعدہ فنڈز مختص کرنے میں سنجیدگی نہیں ملتی۔ یہ کام تدریس سے آغاز ہوتا ہے تبھی ملک میں اختراعی ماحول بنتا ہے۔ ہمیں تو زندگی کی بنیادی ضروریات میسر نہیں صاف پانی، ہوا، خوراک کے علاوہ انصاف جیسے مسائل درپیش ہیں، عوام کا مہنگائی نے برا حال کررکھا ہے۔ حکمرانوں نے تو اپنے دور میں صرف اپنی”فلاح“ پر کام کرنا ہے۔ یہ جو ہم نئے آئیڈیاز اور پراجیکٹ کا رونا رورہے ہیں اس سے ہماری حکومتوں کا کوئی لینا دینا نہیں۔ تعلیم مہنگی ہے، کتابیں پڑھنے والوں کی دسترس سے دور ہیں۔ موجودہ حکومت نے کاغذا اور مہنگا کرکے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ ادھر سوشل میڈیانے ہماری نئی نسل کی مت ماررکھی ہے۔ دنیا ان کی ہتھیلی پر آگئی ہے۔ برانڈڈ دنیا میں نئی نسل اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے ہاتھ پاﺅں مار رہی ہے۔ بڑے بڑے فارم ہاﺅسز لگژری لائف کے لوازمات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ ایسے میں طلباءڈگری محض جاب کے حصول کے لیے لیتے ہیں وہ انہی مضامین میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہاں میں جن کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہیں بہترین ملازمت مل سکے۔ اس طرح بچے رات دن اکیڈمیوں میں ٹیوشنز کے لیے بھاگے پھرتے ہیں اچھے گریڈ کے لیے ....ایک او/اے لیول کی بچے کی تعلیم پر والدین کا 80سے 90لاکھ روپے تک خرچ ہوجاتا ہے اتنا خرچ کرنے کے بعد اگر بچہ گریڈ اچھا نہ لے سکے تو والدین کی ڈانٹ ڈپٹ لازم ہے۔ سوخوف اور ٹینشن میں بچے تعلیمی اداروں میں وقت گزارتے ہیں۔ ماحول کے اثرات الگ ہوتے ہیں سونئی نسل ڈپریشن کا شکار ہوکر ”خودکشی“ کی طرف ہی جائے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سطح پر تعلیم کا بجٹ بڑھایا جائے۔ درس گاہوں کا ماحول بہتر کرکے وہاں تخلیقی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔ ریسرچ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ نئے آئیڈیاز اور پراجیکٹ کے لیے ہرصورت مناسب فنڈز کا بندوبست کیا جائے تو ہم بھی 126ممالک میں اپنا درجہ بہتر کرسکتے ہیں۔

فی الوقت تو حالت دگرگوں ہیں۔ اجتماعی کی بجائے ، انفرادی سطح پر سوچا جاتا ہے۔ ہمیں صرف اپنے سے غرض ہے۔ ہم جب تک دوسروں کا خیال نہیں رکھیں گے ہمارا خیال نہیں رکھاجائے گا۔ برانڈڈ کلچرسے نکل کر ہمیں اپنے ماحول ثقافت اور فطرت کے قریب رہ کر زندگی بسر کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ اگر ہم قناعت، صبر، برداشت سیکھ جائیں تو تسلیم و رضا کے فلسفے پر کاربند ہوسکتے ہیں۔ کچھ دونمبرغذاﺅں نے ہمارا آئی کیو لیول تبادہ وبرباد کردیاہے ۔مرغن غذاﺅں اور فاسٹ فوڈز نے نئی نسل کی صحت برباد کرکے رکھ دی ہے۔ ایسے میں چاک و چوبند چست اور وہ ذہین لوگ کہاں سے آئیں گے جو نت نئی ایجادات ودریافت کا ذوق لیے ہوں ، آخر میںبلا تبصرہ نصیر احمد ناصر کی نئی کتاب ”ملبے سے ملی چیزیں“ کی ایک نظم ملاحظہ فرمائیں،

”زمینوں سے ،چپکے زمانے مجھے گھورتے ہیں

ہدف ہوں میں جن کا وہ سارے نشانے مجھے گھورتے ہیں

نئے میرے ہونے سے نالاں پرانے مجھے گھورتے ہیں

میں نیندوں کا رسیا ازل سے مجھے ایک سپنے نے گھیراہواہے

کئی ایک دشمن ہیں لیکن

مجھے ایک اپنے نے گھیرا ہوا ہے۔“


ای پیپر