مسئلہ افغانستان اور اس کا پائیدار حل
09 دسمبر 2018 2018-12-09

مسئلہ افغانستان اور اس کے دیر پا حل کو ممکن بنانے کے لیے پاکستان اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں۔۔۔ امریکی صدر ٹرمپ اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کے مابین ٹویٹر پر ہونے والے مباہلے کے بعد دونوں نے مفاہمت کے کسی فارمولے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔۔۔ ہمارے وزیراعظم کو چونکہ خارجہ پالیسی اور دفاعی امور کے میدان میں فوج یا ملک کی فیصلہ ساز قوت کی پشت پناہی حاصل ہے اس لیے امید کرنی چاہیے ان کی مساعی کامیاب ہونگی۔۔۔ ننگی آنکھ کو نظر آنے والے حقائق یہ ہیں کہ 17 سال کی طویل جنگ امریکہ نہیں جیت سکا۔۔۔ افغان طالبان نے اندرون وطن اپنی طاقت کا لوہا منوا لیا ہے۔۔۔ امریکہ وہاں سے اپنی فوج نکالنا چاہتا ہے لیکن شکست کا داغ لگوا کر نہیں بلکہ اپنے بقول ایک قابل عزت اور پر امن سمجھوتے کے تحت۔۔۔ یہ سمجھوتہ کس سے کیا جائے امریکی حکومت ، اس کے پالیسی ساز اور عسکری ماہرین تقریباً متفق ہو گئے ہیں کہ انہیں افغانوں کی اسی داخلی طاقت کے ساتھ مفاہمت یا معاہدہ امن کرنا ہو گا جس کے خلاف وہ 17 سال تک جنگ لڑتے رہے مگر اس کو نیست و نابود کرنا تو درکنار معمولی درجے کی شکست سے بھی دو چار نہ کر سکے وہ ہیں طالبان!۔۔۔ امریکی یہ سمجھنے پر بھی مجبور نظر آتے ہیں کہ ملک افغاناں کے سب سے اہم ہمسایہ ملک پاکستان کے اثر و رسوخ سے فائدہ حاصل کیے بغیر طالبان کے ساتھ کوئی قابل عمل مفاہمت یا مؤثر سمجھوتہ نہیں ہو پائے گا۔۔۔ دوسری جانب پاکستان جس کے دفاعی اور خارجہ امور میں افغانستان کے ساتھ ایسے مفادات جڑے ہوئے ہیں کہ وہ اس ملک کے حالات سے بے اعتناء نہیں رہ سکتا۔۔۔ 2600 کلو میٹر سے زائد لمبی مشترکہ سرحد ہے۔۔۔ صدیوں پیچھے تک پھیلے ہوئے دینی، تہذیبی، لسانی اور تاریخی تعلقات ہیں جو شاید کسی اور ہمسایہ ملک کے ساتھ نہیں، اسی طرح افغانستان بھی مشترکہ وجوہ کی بناپر پاکستان کے ساتھ اس طرح منسلک ہے کہ اس کا بھی کوئی دوسرا ہمسایہ ملک اتنی زیادہ اہمیت نہیں رکھتا جتنا پاکستان ہے۔۔۔ چنانچہ پاکستان اور امریکہ دونوں کے مفادات متقاضی ہیں کہ مشترکہ لائحہ عمل طے کر کے مسئلہ افغانستان کا ایسا حل تلاش کیا جائے جس کے نتیجہ میں ملک افغاناں کے اندر داخلی امن بھی قائم ہو اور دنیا کو بھی بتایا جا سکے کہ ایک اہم ترین حل تلاش کر کے اسے نافذ العمل بنا دیا گیا ہے۔۔۔ سات سمندر دور بیٹھی لیکن عہد حاضر کی سب سے مؤثر سپر طاقت امریکہ کا مخمصہ مگر یہ ہے افغانستان جہاں سے اس نے 80 کی دہائی میں اپنے رقیب اور سابق سوویت یونین موجودہ روس کی افواج قاہرہ کو واپسی کا رخ اختیار کر لینے پر مجبور کیا تھا اور اس کام کی خاطر پاکستان کی مدد حاصل کی تھی مگر بعد میں بے یارومددگارچھوڑ دیا۔۔۔ ردعمل میں طالبان کی مزاحمتی قوت پیدا ہوئی اور اس نے اپنے یہاں اسامہ بن لادن کو پناہ دی اور پھر نائن الیون کا واقعہ ہوا۔۔۔ افغانستان امریکیوں کی نگاہ میں ان کے خلاف دہشت گردی کا سب سے بڑا مرکز بن گیا۔۔۔ تب امریکی فوجی آئی اور مقامی طالبان کے ساتھ نئی جنگ چھڑ گئی ۔۔۔ اب امریکی چاہتے ہیں ان کی اس طرح واپسی ہو کہ یہ سرزمین دوبارہ ان کے علاقائی مفادات کے لیے خطرہ نہ بن پائے۔۔۔ دوسری جانب کسی بھی پائیدار حل میں مددگار بننے کے لیے پاکستان کی سب سے بڑی شرط یہ ہے کہ وہاں پر قابض امریکی فوجوں کی چھتری تلے بھارت نے امریکہ نواز افغان حکومت کے ساتھ مل کر جو اپنے اثر و رسوخ کو جو بڑھایا ہے۔۔۔ کئی ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے مسلسل پنجے گاڑھنے میں مصروف ہے تو یہ امر پاکستان کی سلامتی کی راہ میں بڑا خطرہ بن سکتا ہے کیونکہ ہماری مشرقی سرحد پر تنازع کشمیر کی بنا پر بھارت 

کے ساتھ مسلسل کشیدگی کی فضا ہے۔۔۔ چار جنگیں لڑی جا چکی ہیں اور اس کے مملکت پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم ڈھکے چھپے نہیں۔۔۔ اگر شمال مشرقی سرحد پر بھی بھارت نے اپنے جارحانہ وجود کا احساس دلانا شروع کر دیا تو یہ امر پاکستان کا گھیرا تنگ کر دینے کے مترادف ہو گا۔۔۔ امریکی فوجوں کے انخلاء کے بعد پاکستان کو ایسی صورت حال کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔۔۔ لہٰذا وہ امریکہ کے ساتھ طالبان کا سمجھوتہ کرانے کی خاطر اپنا اپنے رسوخ بروئے کار لانے پر تو آمادہ ہے مگر اس لازمی شرط کے ساتھ کہ امریکیوں کے ملک افغانستان سے چلے جانے کے بعد جو نظم مملکت وہاں وجود میں آئے اس میں بھارت کے اثرات کم سے کم ہوں۔۔۔ظاہر یہ امر نئی افغان حکومت کے اندر طالبان کے عنصر غالب درجہ دیے بغیر ممکن نہیں ۔ 

پاکستان نے امریکیوں کے سامنے اپنے یہ تحفظات رکھ دیئے ہیں اور اس امر کو بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ طالبان کو نتیجہ خیز مذاکرات پر تو آمادہ کر سکتا ہے لیکن اس کا اتنا اثر و رسوخ نہیں جتنا امریکہ سمجھتا ہے اور وہ طالبان سے امریکہ کی ہر شرط منوا لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔۔۔ اور یہ کہ امریکہ کو بھی طالبان کے جائز مطالبات تسلیم کرنے ہوں گے کیونکہ اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ لمحۂ موجود کے اندر خطۂ ارض کی سب سے بڑی فوجی طاقت اور بے پناہ اقتصادی و سیاسی رسوخ رکھنے کے باوجود امریکہ طالبان کو زیر نہیں کر سکا امریکہ بہر صورت ایک خارجی قوت ہے۔۔۔ اس کے علاقائی مفادات یقیناًہوں گے لیکن افغان عوام کے لیے اجنبی اور دور دراز کا ملک ہے۔۔۔ اس کی صدیوں پرانی تہذیب وتمدن کے ساتھ کوئی لگاؤ نہیں رکھتا۔۔۔ دوسری جانب طالبان اپنی اس حیثیت کو منوانے میں پوری طرح کامیاب رہے ہیں کہ وہ داخلی لحاظ سے افغانستان کی سب سے مؤثر قوت ہیں۔۔۔ اگرچہ انہیں بھی اپنے ملک کی جملہ آبادی اور تمام نسلی گروہوں کا سو فیصد اعتماد یا مکمل نمائندگی حاصل نہیں وہ عنصر جسے کبھی شمالی اتحاد کہا جاتا تھا آج بھی اس ملک اندر بڑا رسوخ اور اہم آبادی کی نمائندگی رکھتا ہے لیکن بہر صورت طالبان ایک غالب افغان طاقت کا درجہ رکھتے ہیں۔۔۔ ان کا امریکہ سے سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ وہ پہلے ان کے ارض وطن سے اپنی افواج کو واپس لے جائے۔۔۔ جارحانہ قبضہ ختم کر لے۔۔۔ اس لازمی وعدے اور ٹائم ٹیبل سامنے رکھ کر اس سے مذاکرات کیے جا سکتے ہیں مگر امریکیوں کو خدشہ ہے اگر اس کی فوج نے فوراً ملک افغاناں کو چھوڑ دیا تو ایک بڑی خانہ جنگی شروع ہو جائے گی جس سے اس ملک کا داخلی امن اس مزید تاراج ہو کر رہ جائے گا اور امریکیوں کے خیال کے مطابق دہشت گردی بھی زیادہ قوت کے ساتھ سر اٹھا لے گی کیونکہ وہاں پر داعش بھی اپنے پنجے جما چکی ہے۔۔۔ اگر وہ اور طالبان مل گئے تو امریکہ کے علاقائی مفادات کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔۔۔ یہ ہے وہ نکتہ جہاں پر امریکہ پاکستان کے تعاون کا طالبگار ہے کہ وہ طالبان کو اس کے اور مقامی افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر آمادہ کرے تا کہ افغانستان کے لیے ایک پائیدار نظام حکومت کے قیام پر اتفاق رائے ہو پائے۔۔۔ ایسی حکومت جس میں طالبان کو بھی نمائندگی ہو مگر وہ امریکہ کے مفادات کے لیے خطرہ نہ بنے مگر جیسا کہ سطور بالا میں عرض کیا گیا ہے کہ پاکستان اپنا کردار اد اکرنے کے لیے تیار ہے مگر ان لازمی شرائط کے ساتھ کہ امریکیوں کے چلے جانے کے بعد وہاں پر بھاریتوں کو کسی قسم کا غلبہ یا غیر معمولی رسوخ حاصل نہ ہو اور طالبان کو مؤثر داخلی سیاسی قوت کے طور پر تسلیم کر لیا جائے۔۔۔ طالبان آج بھی سر زمین افغانستان کے 45 فیصد حصہ پر قابض ہیں۔۔۔ 2 ہزار سے زائد امریکی فوجی ان کے ہاتھوں قتل ہو چکے ہیں اور واحد سپر طاقت گزشتہ 17 سال کے دوران کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود انہیں زیر دام نہیں لا سکی۔۔۔ اس سلسلے میں پاکستان کی شرائط کس حد تک منظور کی جاتی ہیں اور طالبان کیا کچھ منوانے کے بعد مذاکرات کی میز پر آئیں گے اس کا اندازہ تو آنے والے دنوں میں لگایا جا سکے گا تاہم کسی حل کی خاطر سفارتی سرگرمیاں عروج پکڑ رہی ہیں افغانستان کی داخلی صورت حال اور معروضی زمینی حقائق کا ایک اور پہلو بھی ہے جسے کسی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ طالبان کا وہاں کی سب سے بڑی داخلی قوت ہونا امر مسلمہ ہے لیکن ان کا سب سے زیادہ رسوخ افغانوں کی پختون آبادی میں ہے جو کل کا 49 فیصد ہے۔۔۔ 35 فیصد کے لگ بھگ شمالی افغانستان کے تاجک اور ازبک ہیں۔۔۔ باقی شیعہ اور دیگر گروہ !۔۔۔ پختونوں کے اندر بھی ایک مؤثر طبقہ ان افغان قوم پرستوں کا ہے جو شاہی دور سے وہاں حکمرانی کرتے چلے آ رہے ہیں اور آج بھی کابل کی امریکہ نواز انتظامیہ میں صدارت سمیت دوسرے اہم عہدوں پر چھائے ہوئے ہیں۔۔۔ افغانستان میں دیر پا اور پائیدار قیام امن کے لیے ان تمام گروہوں کے درمیان ایک مشترکہ نظم مملکت اور قابل عمل آئین پر اتفاق رائے از بس لازمی ہے۔۔۔ تاریخ کا ہر طالب علم واقف ہے کہ 18 ویں صدی کے وسط میں خطۂ افغانستان پر حکمرانی کرنے والے فاتح اور مدبر احمد شاہ ابدالی نے پشتونوں، تاجکوں ، ازبکوں اور دیگر مؤثر گروہوں کو ملا کر جدید افغان ریاست کو عملی وجود بخشا اور ایک زبردست داخلی اتحاد قائم کیا ۔۔۔ آج کے حالات بھی تقاضا کرتے ہیں کہ موجودہ افغانستان کے اندر پائیدار سمجھوتہ امن کے قیام کی خاطر ایسے ہی اتحاد کو از سر نو وجود میں لایا جائے۔۔۔ یہ اہم فریضہ کون سر انجام دے گا یہ بنیادی طو رپر افغان قوم اور اس کی نمائندگی کرنے والے مختلف گروہوں کی اپنی ذمہ داری ہے۔۔۔ باہر کی کوئی قوم خواہ دور دراز کا امریکہ ہو یا نزدیک ترین پاکستان اس فریضے کو سرانجام نہیں دے سکتا۔ 


ای پیپر