طریق کوہکن میں بھی۔۔۔
09 دسمبر 2018 2018-12-09

حکومت ہاتھ میں لینے کا شور و غوغا، بے تابی بے قراری اتنی تھی کہ ہم دم سادھے منتظر تھے کہ دیکھئے اس بحر کی تہ سے اچھلتا ہے کیا! خیال تھا کہ زبردست ہوم ورک ہو گا۔ بہترین ذہین وفطین ماہرین کی ٹیمیں آ کر ہر شعبۂ زندگی میں انقلاب برپا کر دیں گی۔ معیشت پر سے قرض خواہی کے دھبے دھلیں گے۔ ایک پیج پر بیٹھنے والے مقتدرین اور فدوی سویلین ملک کا مقدر بدل دیں گے۔۔۔ لیکن سب ٹائیں ٹائیں فش۔ مسلسل متنازع فیصلے، اکھاڑ پچھاڑ، ادھیڑ بن، افراتفری۔ آسمان سے تارے تو کیا توڑ لائے جاتے۔ صرف روزگار، کاروبار، دکانیں، تھڑے، ٹھیلے، غریب کی ریڑھیاں توڑی الٹائی گئیں۔ تجاوزات کے نام پر ملک بھر میں تہلکہ برپا ہے ۔ ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر تو دیوانے کا خوب ٹھہرے۔ البتہ ایمپریس مارکیٹ کراچی کے ہلے میں 800 دکانیں گرائیں، 2000 خاندان بے روزگار ہوئے۔ گورنر ہاؤس لاہور کی دیواریں بھی ڈھے چلی تھیں۔ کورٹ کے حکم امتناعی نے جلد ہی بکھرتی اینٹیں رکوا دیں ورنہ انہی اینٹوں کو اکٹھا کر کے نیا پاکستان تعمیر ہونا تھا! 

ایمپریس مارکیٹ تو یوں بھی ایک تاریخ رکھتی تھی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ستمبر 1857ء میں برطانوی تسلط کے خلاف جنگ آزادی کے سپاہی توپوں کے دہانوں سے باندھ کر اڑائے گئے۔ یہیں سے اس دور کے گوانتاناموبے، کالا پانی کے لیے جہاز جاتے رہے۔ باشعور لوگ شہداء کی یاد میں جنگ آزادی کی قتل گاہ اسے جان کر یہاں اکٹھے ہوتے رہے۔ کسی یادگار کے بن جانے کے اندیشے میں ملکہ وکٹوریہ کے نام پر یہاں 1887ء میں ایمپریس مارکیٹ بنا دی گئی۔ اب ڈھائی جانے والی دکانوں پر یکایک قیامت ٹوٹی۔ پیشگی اطلاع، نوٹس، سامان بچا لینے کی کوئی سبیل، کچھ بھی نہ ہوا۔ سبھی کچھ بلڈوزروں کا لقمہ بن گیا۔ اچانک دھاوا بول کر اسرائیل بمقابلہ اہل غزہ کی یاد تازہ ہو گئی۔ باپ دادا کے زمانوں کا، کاروبار یک لخت اجڑ گیا۔ دکاندار نے کہا ۔۔۔ مجھے قتل تو نہیں کیا مگر میر اسبھی کچھ لٹ گیا۔ وہ اس کا کرایہ اگرچہ باقاعدہ ادا کرتے رہے۔ اگر غیر قانونی تھا تو کرائے کیوں وصول کیے جاتے رہے؟ گرانے والے ، چرانے کے در پے رہے۔ ڈیپ فریزر، چھرے قصابوں کے غائب ہو گئے۔ (جو آگے کٹوں کے کاروبار میں کام آئیں گے؟) البتہ خوش خوشحال طبقہ فرانسیسی شہزادی کی طرح ایمپریس مارکیٹ کی اصل صورت نکل آنے، خوبصورتی بحال ہو جانے پر خوش ہو رہا ہے۔ رہے بیروزگاری کی بھینٹ چڑھنے والے تو وہ روٹی تو نہ ملی تو کیک، برگر، پیزا کھا لیں! شہر خوبصورت ہو گیا۔ برطانوی ملکہ کی یادگار پھلے پھولے! رہے بے چارے مسلمان، تو یہ جگہ تو تھی ہی جائے شہادت! اب دکانوں کا خون ہو گیا۔ ادھر روپیہ یکایک بے ہوش ہو کر ڈالر کے قدموں میں جا پڑا جس پر ایک انگریزی اخبار نے سرخی لگائی : ’’کراچی سٹاک ایکس چینج خون میں نہا گیا‘‘۔۔۔ ایک ہی جھٹکے میں 210 ارب کا نقصان کتنے کاروباریوں کو ڈبو گیا۔ ملک کمبوڈیا سے بھی پیچھے چلا گیا۔ قرضوں میں یک لخت اضافہ ہو گیا لیکن خاطر جمع رکھیئے۔ یہ قصور سارا پچھلی حکومت کے کھاتے میں ڈال کر ، حکومت وقت نہائی دھوئی اجلی ہے! آپ یہ دیکھیں کہ پٹرول مبلغ دو روپے، نصف جس کا ایک روپیہ ہے، سستا کر دیا گیا۔ ادھر ہم نے اشرف غنی کی رعایا کے لیے افغانستان کو ایک ارب 70 کروڑ کی گندم تحفے میں دی ہے، بالواسطہ امریکہ کو خوش کرنے کو۔۔۔ جہاں تک روپیہ گرنے کا سوال ہے وزیراعظم کا کیا قصور؟ وہ تو کہتے ہیں کہ نہ ان سے پوچھا گیا نہ بتایا گیا وہ تو بھلا ہو ٹیلی وژن کی خبروں کا۔ پھر تو کف افسوس ملنے میں وہ ہمارے برابر کے شریک تھے۔ سو اسی تجاہل عارفانہ پر حکومت چل رہی ہے۔ ساتھ ساتھ وزیراعظم صاحب عارفانہ کلام سے 

پریس کانفرنس ، انٹرویو کی صورت نوازتے رہتے ہیں۔ عالمی ایجنڈوں میں بھی ساتھ ساتھ رنگ بھرا جا رہا ہے۔ رینڈ کارپوریشن کی رپورٹوں میں ایک تشویش کا اظہار 2002ء سے چلا آرہا ہے۔ وہ یہ کہ ہمارے ہاں 15 سال تا 35 سال کے نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان میں سے بھی 5 لاکھ مدارس میں پڑھ رہے ہیں۔ سو اس پر خوب سینہ کوبی رہی۔ اب جب مشرف کے ادھورے ایجنڈے ایک پیج پر بیٹھے ہوؤں کے ہاتھوں پورا ہونے کا وقت آیا ہے ، تو تحدید آبادی فطری ہدف ہے! چیف جسٹس صاحب، آسیہ سے عہدہ برأ ہو کر ، ڈیم کا بندوبست کر کے اب اگلا بند باندھنے چلے ہیں آبادی پر ۔ ’رولا‘ ڈالنے کو ایشوز تو چاہیے ہی ہوتے ہیں۔ اگرچہ گزشتہ 17 سالوں میں کم خرچ بالا نشین کے اصول پر گورے نے 400 ڈرون حملوں میں اپنے خرچے پر ہماری آبادی جنت مکانی بنانے کا اہتما م کیا۔ اس کی جنگ (وزیراعظم کے فرمان کے مطابق) لڑنے میں 75 ہزار پاکستانی جان بحق ہوئے۔ بے روزگاری پر ہونے والی خودکشیاں ، روشن خیالی کے نتیجے میں اگنے والی عشق عاشقی میں ناکامی پر خودکشیاں ہوتی رہیں۔ کراچی کی آبادی گھٹانے کا کام بھی ٹارگٹ کلرز کو ٹھیکے پر دیئے رکھا۔ گھروں سے بھاگ کر والدین کا گھر، خاندان اجاڑ کر نئے گھر بسانے والوں کو ظالموں نے غیرت کے نام پر قتل کر کے آبادی کم کر دی۔ موجودہ سیٹ اپ میں تو ہارٹ فیل ہونے کے امکانات اور بڑھ گئے ہیں۔ سو مصنوعی بند باندھنے کی ضرورت بھی کیا ہے تحدید آبادی کے لیے؟ ثاقب نثار نے کانفرنس میں فرمایا کہ اس بلا پر 60 سالوں میں توجہ نہیں دی گئی۔ کھانے والے منہ بڑھ رہے ہیں وسائل ختم ہو رہے ہیں‘۔ (کیا اب دو مونہوں والے بچے پیدا ہو رہے ہیں؟) حالانکہ اگر 60 سال پہلے کہیں یہ توجہ دے دی گئی ہوتی تو آج جو زر مبادلہ آپ کی ڈوبتی معیشت کا ایک بڑا سہارا ہے یہ نہ ہوتا! یہ ہماری آبادی کی نعمت ہے جسے برآمد کر کے ہمارے بچے کھچے چولہے آج چل رہے ہیں۔ یورپی ممالک کی مجبوری ہے کہ انہوں نے تجدید آبادی کر کے اپنے ملک خالی کر لیے۔ آج دنیا بھر کی لیبر اور مہاجرین ان کے ملک چلا رہے ہیں! کیا ہمارے بڑے یہ نہیں جانتے کہ ان کے ہاں اب اولاد پیدا کرنے پر بونس، پلاٹ (اٹلی میں)، مراعات کا لالچ دے دے کر، اکسایا جاتا ہے۔ عیش کوش، نفس پرست آبادیاں نہ شادی کی ذمہ داری نہ بچے پالنے کی کھکھیڑ اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔ سو آپ چاہتے ہیں پاکستان بھی ان کی طرح کتے، بلیوں والا ملک بن جائے؟ ان کے ہاں گودوں میں ہمکتے بچوں کی جگہ ہاتھ میں کتے کی زنجیر ہوتی ہے!اور یہ جو بار بار ’ریاست مدینہ‘ کی حاکمیت اعلیٰ والے رب کا حکم قرآنی ہے۔ ’اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو۔ ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی۔ درحقیقت ان کا قتل ایک بڑی خطاء ہے‘۔ (بنی اسرائی:31) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ’تم بہت محبت کرنے والی، زیادہ بچے جننے والی عورت سے شادی کرو۔ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے کہہ سکوں گا کہ میرے پیروکاروں کی تعداد دوسری امتوں سے زیادہ ہے‘۔ (ابو داؤد) اس کی جیتی جاگتی مثال کوئٹہ کے ایک ڈاکٹر اور تاجر کی سامنے آنے والی ویڈیو ہے جو تین بیویوں سے 35 بچوں کا باپ ہے۔ ماہانہ بچوں پر ایک لاکھ خرچ کرتا ہے۔ خوش خوشحال بچوں میں گھر ا ہے۔ دنبے ذبح کر کے انہیں کھلاتا ہے! رازق نے تو اسے کمی نہ دی۔ اللہ رحم کرے کہیں اس کی تجارت تجاوزات والوں کے ہتھے نہ چڑھ جائے! مغرب کو مثال نہ بنائیں۔ جرمنی گرتی شرح پیدائش کے ہاتھوں حواس باختہ ہوا 150 بلین یورو سالانہ خاندان، بچوں کے لیے مختص کیے ہوئے ہے۔ گورا ہمیں آبادی روکنے کے لیے جو فنڈز دے رہا ہے وہ حقیقی فلاح و بہبود آبادی پر خرچ ہوں۔ وسائل کی درست تقسیم ہو۔ ایک طرف ہیلی کاپٹروں میں کتے (بروزن خاتون اول، کتائے اول) سفر کریں دوسری طرف پیدل چلنے کو جوتا بھی میسر نہ ہو۔ مسئلہ معاشی نا انصافی اور لوٹ کھسوٹ کا ہے۔ طریق کوہکن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی! بڑے ملکوں کی ترقی یافتگی؟ انسانی سطح پر جاپان کا حال یہ ہے کہ پہلے جاپانی سالہا سال لنڈورے پھرتے ہیں طلاق کے خوف سے شادی نہیں کرتے۔ پھر طلاق اور افلاس کے خوف سے شادی کے بعد بچے پید انہیں کرتے۔ سو ایڑیاں اٹھا اٹھا کر باہر دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ بچے کم، بدحال گھرانا! یہ کہنا کہ ’جہالت، علم کی کمی سے آبادی بڑھ گئی‘؟ استغفراللہ! اقبال اس علم پر تین حرف بھیج چکے۔ اللہ، رسولؐ کی تعلیمات کو شعر میں پرو کر۔۔۔ جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن، کہتے ہیں اسی علم کو ارباب نظر موت۔ اور یہ بھی کہ کیا یہی ہے معاشرت کا کمال، مرد بے کار و زن تہی آغوش! سواللہ گودوں میں بچے مہکتے، ہمکتے رکھے۔ پھلواریاں پھلیں پھولیں۔ عورت کی نسوانیت اور مرد کی مردانگی کی خیر مانگتے ہیں خالق ، رب اور رازق سے ، جس پر ایمان، ’ریاست مدینہ‘ کا عنوان ہے! رہا بے چارہ رابرٹ مالتھس اور اس کے آبادی کے فلسفے، تھیوری پر ایمان اور لاریب قرآن کی نفی؟ مالتھس غلط ثابت ہو چکا ۔ ڈارون ہی کی طرح! 1798ء میں تیرتکے لگانے والا کہاں ، اور ازل تا ابد الاباد جہانوں زمانوں کے خدا کے علم و حکمت کی لازوال وسعتوں کی دائمی سچائیاں کہاں ! ژولیدہ فکری کی کوئی انتہا تو ہو! یہ فکر آپ کے ذمے نہیں۔ پاکستان کی آبادی کفر کی آنکھ کا کانٹا ہے۔ اس کے ایجنڈے ہمیں نہ پڑھائیے۔ صرف آبادی کے زور پر امریکہ، یورپ میں مسلمان بڑھ جانے کو ہیں اور اسی سے وہ سہمے بیٹھے ہیں!سیدہ ہاجرہ کے نقش قدم پر عمروں میں سعی کو جزو عبادت بنانا۔ اللہ کا ماں اور مامتا کو خراج تحسین ہے! صرف ننگے پاؤں روضہ مبارک پر نہ جائیں فکر و عمل کی حقیقی دنیا آباد کریں۔


ای پیپر