’ڈونکی کِنگ ‘
09 دسمبر 2018 2018-12-09

یہ زیادہ دن پرانی بات نہیں ، اپنے چند دوستوں کے ہمراہ کھانے پر ساتھ جڑنے کا اتفاق ہوا تو لذیز پکوان کے ساتھ ساتھ سیاست کی باتیں بھی چل نکلیں۔میں اس طرح کی محافل میں کم گو ثابت ہوا ہوں لیکن سنتا سب کی رہتا ہوں۔ کھانے کی میز پرہمارے ایک شریر دوست کو عجیب دُھن سوجھی ، بولاسیاستدانوں کے نام لے رہا ہوں ، سب مختصرالفاظ میں خلاصہ کریں کہ کون کیا ہے۔اتفاق سے کھانے کی میز پر موجود تمام دوست خاصے روشن خیال اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے واقع ہوئے تھے۔گیم تھی سو سیاستدانوں یا حکمرانوں کے ناموں کا سلسلہ بطور پکار چل نکلا ۔۔ سب سے پہلے نام آیا بھٹو کا تو مشترکہ جواب آیا ۔۔ ’ کل بھی بھٹو زندہ تھا ، آج بھی بھٹو زندہ ہے‘ ۔۔ دوسرانام آیا جنرل ضیاء الحق کاتو فورا شریروں کے پورے ٹولے کی جانب سے باآواز بلند کہا گیا ۔ ۔۔ ’ مردِ مومن ۔ ۔ مرد حق ۔۔ ضیا ء الحق ۔۔ ضیاء الحق‘ ۔۔بعدازاں نواز شریف کی باری آئی تو قہقہوں کے ساتھ ’ مجھے کیوں نکالا‘ کے نعرے لگنا شروع ہوگئے ۔ بینظیر بھٹو کا نام لیا گیا تو ’ بی بی رانی ‘ کی گردان ہونے لگی ۔۔ تذکرہ ہوا پرویز مشرف کا تو ’ میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں ‘ پر سب کی باچھیں کھل اٹھیں ۔۔ آصف علی زرداری کے نام پر ’ ایک زرداری سب پہ بھاری ‘ کی گردان سننے کو ملی ۔۔ بلاول کے نام پر سب نے موصوف کو ’بلو رانی‘ کے خطاب سے نواز ڈالا ۔۔ اب باری تھی عمران خان کی ۔۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی ۔۔ جیسے ہی ان کا نام آیا تو ایک صاحب کی جانب سے ’ یوٹرن خان ‘ کا آوازہ کسا گیا جبکہ دوسرے نے ’ ڈونکی کنگ ‘کے نعرے لگانا شروع کر دیئے ۔۔ مستی مذاق کے اس ماحول کی بات یہیں تک رہتی تو شاید درگزر کردی جاتی ۔۔ لیکن جناب ہم تو پاکستانی ہیں ، اخلاقیات نام کی چیزشاید ہمارے پاس سے چھوکر نہیں گزری ۔۔ موصوف نے اپنا موبائل فون اٹھایا اوراپنے تازہ ترین اسٹیٹس کو وزیر اعظم پاکستان سے منسوب کرتے ہوئے’ ڈونکی کنگ‘ کا خطاب دے ڈالا اور ساتھ میں ایک تصویر بھی اپ لوڈ کردی جس میں۔۔ میدان کارزار۔۔ میں ایک فوجی کوگدھا۔۔اپنے کندھوں پہ اٹھائے ہوئے ہراول صفوں میں چاک وچوبند دیکھا جاسکتا تھا۔ مجھے اس حرکت پر نہ صرف شدید حیرت ہوئی بلکہ افسوس بھی کہ پڑھا لکھا طبقہ کس انداز سے ظرافت یا طنزومزاح کے نام پر تضحیک کی شمع روش کئے ہوئے ہے۔اس دن گھر لوٹا تو طبیعت خاصی بوجھل تھی ، حساس ہوں ہرواقعے پرنوکِ ابرو کو سنجیدگی سے اُٹھاتا ہوں۔۔ آج کئی دن بعد واقعے کے فلیش بیک میں گیا تو احساس ہواکہ جس ملک میں نااہل اورسزا یافتہ سابق وزیر اعظم کو بے قصور ۔۔اور ۔۔قصور ۔۔ کے ظالم چوہدریوں کو’پارسا‘ کہا جاتا ہو ۔۔ جہاں ری جیکشن کی جگہ سلیکشن اور سلیکشن کی آڑ میں کوٹے پر بھرتیاں ہوتی ہوں ۔۔ جہاں استاد کو ماسٹر کہا جاتا ہو اور ٹیلر ماسٹر کو استاد ۔۔جہاں انگوٹھا ٹیک ڈریس کوڈ میں رہتا ہو ۔۔ اور پڑھا لکھا نوجوان جی ٹی روڈ پہ ۔۔جہاں کتابیں فٹ پاتھ پر سجائی جاتی ہوں اورفلمیں ائیر کندیشنڈ سینما گھروں میں ۔۔ جہاں محنت کرنے والاطالبعلم سسک سسک کے پوزیشن لاتا ہو ۔۔ اور اَن پڑھ ، انگوٹھا ٹیک، جعلی ڈگری ہولڈر اُس پوزیشن ہولڈر کوگولڈ میڈل پہناتاہو ۔۔ جہاں چوہدریوں ، وڈیروں ، سرداروں اور زرداروں کی حکومت بنتی ہو ۔اور ان کو بھاگ بھاگ کر ووٹ دینے والی ’ ماں‘۔۔ رکشے میں بچے جنتی ہو ۔۔ جہاں بدعنوانی کا راج ہو اور بدعنوانوں سے بھی ۔۔ابتر۔۔ سماج ہو ۔۔وہاں نواز شریف بینظیربھٹو، آصف زرداری،بلاول بھٹو ، شہبازشریف ، پرویز مشرف ، یوسف رضا گیلانی اور شاہد خاقان عباسی جیسے کرداروں کے بیچ ۔۔۔عمران خان۔۔۔ کا نام کہیں سے فٹ ہوتا ہوادکھائی نہیں دے گا ۔چالیس سال کی عادتیں اور چالیس سالہ پرانا بخار اتارنے کے لئے بھی کم وبیش چالیس مہینے چاہئے ہوتے ہیں ۔۔ یہاں تو نومنتخب حکومت کو اقتدار ملتے ہی توپوں کا رخ عمران خان کی جانب موڑ دیا گیا ہے ۔سو روزہ کارکردگی پر ابتدائی تنقید میں کچھ حصہ میرا بھی ہے ۔۔ تنقید اگر تعمیری ہو اور مشعل راہ کا کام کرے تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر تنقید محض سیاسی عناد کا شاخسانہ ہو اور تضحیک میں بدل جائے تو کیا کیا جائے ۔۔ظاہر ہے کہ ہمارے نومنتخب وزیر اعظم جسمانی ساخت میں اسمارٹ ہونے کے ساتھ ساتھ عمومی زندگی میں بھی خاصے اسمارٹ ہیں جنہوں نے آج تک اپنے کردار پر بدعنوانی کا دھبہ نہیں لگنے دیا ۔ ایسا شخص جس نے ملک کے بدترین اسپتالوں میں ایک بے مثال اور شاندار اسپتال کھڑا کردیا ہو ۔ایسا شخص جس کی نہ تو کوئی ذاتی صنعت ہو اور نہ ہی کوئی ذاتی کاروبار ۔۔ ایسا شخص جس کا روپیہ پیسہ یعنی تمام سرمایہ پاکستان میں ہو ۔۔ ایسا شخص جس کا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہو ۔ ایسا شخص جسے شاندار زندگی گزارنے کے لئے سیاست میں آنے کی قطعا ضرورت نہ ہو ۔۔اور اگرایسا شخص اقتدار میں آجائے تو بہت سوں کی چیخیں ویسے ہی نکل جاتی ہیں ۔۔چلیں نصیب کو چھوڑ دیں جیسے عوام ویسے حکمران والی توجیہہ ہی کو ملحوظ رکھا جائے تو بھی یہ ہمارا ہی کارنامہ ہے کہ ہم ماضی میں ایسے حکمران چنتے آئے ہیں کہ اب ہمیں درست اور غلط یا بہتر اور بدتر کے درمیان تفریق کرنا ہی نہیں آرہا ۔میں ساری رات دنیا کی تاریخ ٹٹولتا رہا ، گوگل سرچ انجن پہ ساری ذہنی استعداد کا تیل جلا ڈالا لیکن دنیا کی سیاسی تاریخ میں عمران خان جیسی دوسری شخصیت نہیں ڈھونڈپایا ۔۔ایسی شخصیت جس نے اپنے مفادات کو بالائے طاق رکھ کے ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے لئے اتنی محنت کی ہو اور جسے بائیس سال کی انتھک محنت کے بعد تیسری دنیا کے ملک کا نیا نقشہ ازسرنو ترتیب کرنے کا موقع ملا ہو ، مجھے ڈھونڈے سے نہیں ملی ۔۔۔یہ بھی ایک عالمی ریکارڈ ہے کہ دنیا کا پہلا اسپورٹس مین سیاست میں کامیابی کے جھنڈے گاڑتے ہوئے اپنی ہی بنائی ہوئی سیاسی جماعت کے بینر تلے ملک کا وزیر اعظم بن چکا ہے ۔پاکستان کی اکہتر سالہ تاریخ میں پہلی بار اس ملک میں ریاست اور حکومت ایک ہی پیج پر ہیں ، یہ بھی اچھنبے سے کم نہیں کہ نومنتخب وزیر اعظم پرچی کا سہارا لئے بغیر سوالوں کا جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں ۔ سفارتی سطح پرپہلی بار امریکہ اور بھارت کومنہ کی کھانا پڑی ہے ۔آپ کے ملک میں پیسہ آ رہا ہے ، ڈیم بنانے کا سوچا جا رہا ہے ، کرتار پور بارڈر کھولا گیا ہے ۔۔احتساب کی شروعات ہوچکی ہے ۔۔تجاوزات گرائی جا رہی ہیں ۔۔ شیلٹر ہومز بنائے جا رہے ہیں ۔۔ مانا کہ سو دن میں جو کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا وہ من وعن پورا نہیں ہوا لیکن ہمیں اس بات کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ ہمارے وزیر اعظم کی نیت اور سمت درست ہے ، احتساب کا شروع ہونا ، تجاوزات کا ہٹایا جانا اوراعظم سواتی جیسے کھلاڑیوں کو بے حسی پر پویلین واپس بھیجاجانا ۔۔ صرف خان ہی کرسکتا ہے ۔۔ ورنہ سانحہ ماڈل ٹاون پر راناثنا ء اللہ اور زرداری کے دور میں راجہ رینٹل کو بے حسی کے باوجود اقتدار کا حصہ رکھا جانا کون بھول سکتا 

ہے ۔۔ایسا شخص جس کا دنیا بھر میں شہرہ عزت اور احترام سے کیا جاتا ہو اسے اپنے عوام کی جانب سے’ ڈونکی کنگ ‘ ۔۔ ’یوٹرن خان ‘ اور ’بھکاری‘ جیسے القابات سے نوازا جانا اور ایسے القابات کی سوشل میڈیا کے ذریعے تشہیر انتہائی شرمناک فعل ہے ۔ آپ کو اور ہمیں کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو ، ہمیں اس بات کا اندازہ ہونا چاہیے کہ عمران خان اب وزیر اعظم پاکستان ہیں ۔ہمیں ان کی شخصیت کا نہیں تو کم ازکم عہدے کا لحاظ ضرور کرلینا چاہیے ۔مثبت اور تعمیری تنقید ہم سب کا حق ہے اور ہمیں بلاتخصیص کرنی بھی چاہیے لیکن ازراہ مزاح اپنے اندر کی سیاسی رعونت نکالنا انتہائی افسوسناک ہے ۔بھارت کو مودی سے بدتر وزیر اعظم نہیں مل سکتا لیکن آپ کبھی ان کے سوشل میڈیا پر بھارتیوں کی جانب سے ایسی کوئی بات نہیں سنیں گے جو اُن کی ریاست کے بیانئے کو دھچکا پہنچاتی ہو ۔یہی نہیں۔۔ بپن راوت کی ترچھی ٹوپی پر کبھی بھارتی عوام کے تبصرے نہیں سنے ہونگے لیکن ہمارے لوگ جرنیلوں کو ۔۔۔ غفورا ۔۔ لکھ کے ملک کا کیا امیج پیش کرنا چاہتے ہیں ۔یہ ہمارے لوگوں کی ذہنیت سے واضح ہے ۔۔ یہ بات طے ہے کہ خان کی ٹیم انتہائی کمزور ہے ، وزراء کا رویہ انتہائی تشویشناک ہے ، یہ حالات کو سنبھالنے کے اہل نہیں ہیں ، معیشت کے ہچکولے انہیں سمجھ نہیں آ رہے ۔ مذہبی معاملوں کو سمجھنے میں ناپختگی ہے ، عہد کی پاسداری اور یوٹرن میں تفریق کی سمجھ بوجھ سے نابلد 

ہیں ۔۔ اس کے باوجود جو فیصلے اس حکومت نے سو دن میں لئے ہیں ان کی جگہ کوئی دوسرا ہوتا تو شاید چالیس سال میں بھی نہ کرپاتا ۔ اب بھی اگر چند کم فہم ، ناپختہ اور پست ذہنیت لوگ وزیر اعظم پاکستان کو ’ ڈونکی کنگ‘ جیسے القابات سے نوازتے رہیں تو یہ ان کی کم عقلی ہے ۔ ہمیں وزیر اعظم کے عہدے کو عزت وتکریم سے نوازنا چاہیے ۔ یہ ہماری ہی منتخب کردہ حکومت ہے ، یہ ہماری ہی ٹیم ہے ۔ اس نے پانچ سال میں کئی میچز کھیلنا ہیں ، ایک آدھ ون ڈے میں پلاننگ کا فقدان ہے تو کیا ہوا ، یہ ہمارا ہی گانا ہے ناں کہ ۔۔ ’تم جیتو یا ہارو ۔۔ ہمیں تم سے پیار ہے ‘۔۔۔ کم ازکم ہمیں اپنے کپتان کی قائدانہ صلاحیتوں اور نیک نیتی پر شک نہیں ہونا چاہیے ۔جہاں اتنے سال دوسروں کو جھیلا ، کچھ سال کا موقع انہیں بھی دے دیں اور کام آرام سے کرنے دیں تو کچھ قباحت نہیں ۔۔ دوسال بعد چاہے جتنی تنقید کرلیں ، ابھی انہیں کنفیوز نہ کریں ۔۔۔رہی بات خان صاحب کی تو جنابِ وزیر اعظم ! ہماری گذارش ہے کہ جہاں ضرورت ہو ، وہاں بولیں ۔۔ بار بار وضاحتیں نہ دیں ۔۔اور اُتنا بولیں جتنی ضرورت ہو ۔۔ بس اپنی سمت میں دوڑتے جائیں ، منزل آپ کے قریب آتی جائے گی ۔اور’ ڈونکی کنگ ‘ کے آوازے کسنے والے ۔۔ ڈونکی سے آدمی اور آدمی سے انسان میں تبدیل ہوتے چلے جائیں گے ۔ یہی آپ کی کامیابی ہوگی اور یہی نیا پاکستان ہوگا۔


ای پیپر