چند معاشی و مالیاتی اصطلاحات اور عمران حکومت
09 دسمبر 2018 2018-12-09

1۔ تجارتی خسارہ 

ملکی درآمدات اور برآمدات میں فرق اگر منفی ہو یعنی درآمدات زیادہ ہوں۔ برآمدات کم ہوں تو اسے تجارتی خسارہ کہتے ہیں۔ اس وقت پاکستان کا تجارتی خسارہ 37 ارب ڈالر کے قریب ہے جس نے ہمارا ادائیگیوں کا توازن خراب کر رکھا ہے۔ ہماری درآمدات 61 ارب ڈالر جبکہ برآمدات 24 ارب کے قریب ہیں۔ پاکستان کی درآمدات میں پٹرول، کھانے کا تیل ، مشینری، موبائل فونز ، چیز ، لگثری اشیاء اور کاسمیٹکس شامل ہیں جبکہ برآمدات میں چاول ، کپاس ، چینی ، گندم ، کنوں ، آم ، سبزیاں، سرجیکل اشیاء ، کھیلوں کا سامان ، کپڑا، چمڑا، سنگ مرمر ، ٹائلیں، سوفٹ وئیر ، الیکٹرانک اشیاء ، گوشت ، چکن ، سمندری خوراک، قالین وغیرہ شامل ہیں۔ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی اور چند مخصوص سیکیورٹی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کی برآمدات نہ ہونے کے برابر تھیں لیکن عمران حکومت کو اس وقت ایسی کوئی مشکل پیش نہیں۔ درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافہ کرکے یہ تجارتی خسارہ کم کیا جا سکتا ہے۔ 

2۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 

کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تجارتی خسارے کی مانند ادائیگیوں کے توازن کے اندر شامل ہے۔ پاکستان کو اس وقت تقریباً 19 ارب ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ میں مندرجہ ذیل ہیڈز شامل ہیں۔ 

1۔ تجارتی خسارہ 2۔ فیکٹر انکم 3۔ سود 4۔ قرضوں کی قسطیں 5۔ تارکین وطن کی ترسیلات زر 6۔ سرمایہ کاری 7۔ بانڈز 8۔ سونا 9۔ زرمبادلہ 10۔ سٹاک مارکیٹ 

یاد رہے یہ تمام معاملات دو طرفہ ہیں یعنی جو سرمایہ اور خدمات باھر گئیں اور جو سرمایہ اور خدمات واپس ملک میں آئیں۔ ان کے مائنس پلس سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ یا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس طے کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان کا تجارتی خسارہ 37 ارب ڈالر ہے لیکن ہر سال تارکین وطن ترسیلات کی مد میں تقریباً 20 ارب ڈالر پاکستان بھیجتے ہیں۔ اسی طرح باقی ھیڈز کو مائنس پلس کرکے اصل کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 18، 19 ارب ڈالر رہ جاتا ہے۔ پاکستان نے اگلے ایک سال میں 13 ارب ڈالر کا سود اور قرض واپس کرنا ہے جس سے ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مزید بگڑ سکتا ہے۔ 

3۔ ادائیگیوں کا توازن 

بیلنس آف پیمنٹ ھر قسم کی اندرون ملک و بیرون ملک انفرادی ، کاروباری اور حکومتی ٹرانزیکشن کو بتاتا ہے جو باھر گیا وہ ڈیبٹ، جو آیا وہ کریڈٹ ، یہ اصولی طور پر برابر ہونا چاہیے لیکن سرپلس کی صورت میں ریاست کی آمدن میں اضافہ جبکہ خسارے کی صورت میں نقصان کا باعث بنتا ہے۔ ادائیگیوں کے توازن میں کرنٹ اکاؤنٹ کے تمام ہیڈز کے علاوہ کیپیٹل اکاونٹ اور فائنینشیل اکاونٹس بھی شامل ہوتے ہیں جن کے مائنس پلس سے ادائیگیوں کے توازن کا فرق نکلتا ہے۔ پاکستان کو اس وقت ادائیگیوں کے توازن میں تقریباً دس سے بارا ارب ڈالر کا خسارہ ہے۔ 

یعنی 37 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ یا 19 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو کر ادائیگیوں کے توازن میں دس سے بارا ارب ڈالر تک رہ جاتا ہے۔

یہی وہ اصل خسارہ ہے جس کے لیے پوری عمران حکومت پچھلے سو دن سے بوکھلاء پھر رھی ہے۔ بولاء پھر رھی ہے۔ کبھی سعودیہ، کبھی چین ، کبھی یو اے ای، کبھی ملائشیا اور کبھی آئی ایم ایف سے قرض مانگتی پھر رھی ہے۔ اس دوران یہ حکومت یہ خسارہ کم کرنے یا ختم کرنے کے لیے ، ریاست کی آمدن بڑھانے کے لیے کوء معاشی و مالیاتی پالیسی یا میکنزم لانے میں مکمل ناکام رھی۔

4۔ ترسیلات زر 

تارکین وطن ھر سال دنیا کے مختلف ممالک سے جو رقوم پاکستان بھیجتے ہیں۔ وہ تقریباً 20 ڈالر سالانہ ہیں۔ ان ترسیلات زر کو تارکین وطن کو دیے گئے کسی پرکشش اور محفوظ پیکج سے خاصا بڑھایا جا سکتا ہے۔ 

5۔ زرمبادلہ کے ذخائر 

ن لیگ حکومت نے 17 بلین ڈالرز کا جو زرمبادلہ چھوڑا تھا۔ وہ گھٹتے گھٹتے سات ارب ڈالر رہ گیا۔ سعودی ایک ارب ڈالر آنے کے بعد وہ 8 ارب ڈالر ہوا اور اب پھر ساڑھے سات ارب ڈالر رہ گیا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت اس زرمبادلہ میں ہونے والی کمی کو روکنے میم مکمل ناکام رھی۔

6۔ ڈالر کی پرواز 

منی لانڈرنگ اور کرپشن کے نام پر سرمایہ داروں اور تاجروں کو اتنا ڈرایا گیا کہ ڈالر بیرون ملک فرار اڑ گیا۔ دنیا کا ہر ملک اپنے سرمایہ داروں اور تاجروں کو تحفظ اور عزت دیتا ہے لیکن یہاں با لکل ہی الٹ صورت حال دیکھنے کو مل رہی۔ وزیراعظم اور چیف جسٹس دنیا بھر میں یہ بتاتے پھر رہے۔ پاکستان میں لوٹ مار مچی ہے۔ 

7۔ روپے کی قدر 

رہی سہی کسر روپے کی قدر میں کمی نے پوری کر دی۔ ن لیگ حکومت نے ڈالر 115 روپے پر چھوڑا تھا جو اس وقت 139 کا ہے۔ 24 روپے کی اس گراوٹ اور بے قدری نے مہنگائی اور بے روز گاری میں اضافہ تو کیا ہے۔ صنعت اور تجارت کا پہیہ بھی سست کر دیا ہے اور پاکستان کے موجودہ قرضوں میں اسی شرح سے اضافہ کر دیا ہے۔ ابھی آئی ایم ایف کے قرض کا اضافہ ہونا باقی ہے۔ 

8۔ انفلیشن ریٹ 

جولائی 2017 میں نوازشریف کی نااہلی سے پہلے مہنگائی کی شرح 2.9 فیصد تھی۔ جو جولائی 2018 میں 5.84 فیصد اور پھر نومبر 2018 میں 6.5 فیصد ہو گئی یعنی ایک طرف مہنگائی بڑھ رھی ہے تو دوسری جانب پیسے کی قوت خرید کم ہو رھی ہے۔ 2013 میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 7.9 فیصد تھی۔

معاشی ترقی کی شرح 

2018 میں پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح پانچ سالوں میں تین فیصد سے بڑھ کر 5.78 فیصد ہو چکی تھی۔ خیال تھا اس شرح کو سات فیصد تک چلے جانا تھا لیکن اب واپس 4.5 فیصد تک گرنے کے اشاریے سامنے آ رھی ہیں۔

10۔ شرح سود 

اسٹیٹ بینک نے شرح سود 8.5 سے بڑھا کر دس فیصد کر دی ہے حالانکہ جب روپے کی قدر گر رہی ہو تو شرح سود بڑھانے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اب یہ دونوں محرکات اکھٹے مل کر معاشی صورتحال پر اپنا اثر ڈالیں گے۔ 

11۔ اور سٹاک مارکیٹ کا جو کریش ہوا ہے اور ن لیگ حکومت کے 54000 سے جس طرح انڈیکس گر رھا ہے۔ آنے والے حالات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔


ای پیپر