عثمان بُزدارپرالزامات....حقیقت کیا ہے؟
09 اگست 2020 2020-08-09

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بُزدار کوبارہ اگست ، بُدھ کے روز قومی احتساب بیورو نے طلب کر لیا ہے اور حکومتی ترجمانوں نے واضح کر دیا ہے کہ جناب عثمان بُزدار نیب کے سامنے پیش ہوںگے۔ وزیراعلیٰ پر الزام ہے کہ انہوں نے یونی کارن پریسٹیج نام کی کمپنی کی طرف سے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے صرف آدھے کلومیٹر کے فاصلے پرنئے بننے والے ’ رائل سوئس ہوٹل‘ کو شراب کی فروخت کا لائسنس اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر جاری کیا ۔ یہ ہوٹل ملک معروف ترین کنٹریکٹر سید تحسین شاہ نقوی المعروف بھُگے شاہ کے بیٹے سید جمیل شاہ کی ملکیت ہے جن کے لئے اربوں، کھربوں روپے کے ٹھیکے لینا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اور اس سے پہلے وہ اشتہاری دعووں میں اس ہوٹل کو فائیو سٹار سے بھی کچھ آگے کی شے قرار دیتے رہے ہیں مگر اب سامنے آیا ہے کہ اس کے پاس فور اور فائیو سٹار کی کیٹیگری رجسٹریشن ہی نہیں ہے۔ بات صرف اختیارات سے تجاوز کی نہیں بلکہ یہ ہے کہ انہوں نے اختیارات سے تجاوز پانچ کروڑ روپے رشوت لیتے ہوئے کیا جس کا نیب نے اپنے الزام نامے میں واضح طور پر ذکر کیا ہے۔ یہ ایک عمومی تاثر ہے کہ بہت سارے حکومتی عمائدین، جن میں سے اکثر ہمیشہ سے برسراقتدار پارٹی کے ساتھ رہے ہیں، دن رات دیہاڑیاں لگا رہے ہیں اور جواز یہ دیا جا رہا ہے کہ اگر موجودہ حکومت چلی گئی تو اپنی ناقص ترین کارکردگی کی وجہ سے کبھی واپس نہیں آئے گی اوراس امر کے بھی امکانات کم ہیں کہ لوٹوں کو مستقبل میں زیادہ اہمیت ملے۔

ٍمعاملہ یہ ہے کہ ائیرپورٹ کے بڑے بڑے کنٹریکٹ بھُگے شاہ کے پاس ہی ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ سرکاری محکموں سے کام کیسے نکلوانا ہے تاہم سید جمیل شاہ جو ہوٹل بنا رہے ہیں وہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک وہاں شراب کی آن دی ریکارڈ اور جوئے کی آف دی ریکارڈ سہولت موجود نہ ہو۔ بار بار کے چھاپوں اور گرفتاریوں سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کا باقاعدہ لائسنس حاصل کر لیا جائے مگر آج سے گیارہ برس پہلے شہباز شریف کے دفتر سے ایک پالیسی جاری ہو چکی ہے جس کے مطابق شراب کا لائسنس اسی ہوٹل کو جاری ہو سکتا ہے جو فور یافائیو سٹار ہواوراس کے لئے پنجاب ٹورازم ایکٹ 1976 کے تحت رجسٹرڈ ہو مگر یونی کارن پریسٹیج ہوٹل انتہائی جدید اور خوبصورت ہونے کے باوجود ان شرائط کو پورا نہیں کرتا۔ حکومت نے اس پر بہت واضح موقف اختیار کیا ہے کہ اس کا اس لائسنس کے اجرا سے کچھ لینا دینا ہی نہیں ہے۔ لائسنس کا اجرا ڈائریکٹر جنرل ایکسائز کی ذمے داری ہے اور یہ لائسنس انہوں نے ہی جاری کیا تاہم جب میڈیا میں شور اٹھا توانہوں نے ایک سمری ایوان وزیراعلیٰ میں بھیج دی جس کے جواب میں سی ایم ہاوس سے کہا گیا کہ یہ معاملہ ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ اگر ہم اس سرکاری وضاحت کے ساتھ جائیں تو یہ کام ڈی جی ایکسائز کا ہی نظر آتا ہے مگر معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے کیونکہ اس میں پانچ کروڑ روپے رشوت بھی شامل ہے ۔ اب تحقیق اسی بات کی ہے کہ پاکستان کے روایتی کاروباری فرد نے ادائیگی کس کو کی تھی،وزیراعلیٰ نیب کو اپنی صفائی دیںگے مگر واقفان حال جانتے ہیں کہ ایسے تمام لائسنس محض ایک بیوروکریٹ کی مرضی و منشا پر نہیں بلکہ حکومتی رضامندی سے جاری ہوتے ہیں۔ بعض دوستوں کے مطابق ملبہ ڈی جی ایکسائز پر پھینکنے کی سیاسی اور قانونی تیاری کی جا رہی ہے ۔

عثمان بُزدار اپنی صفائی نیب کو دیں گے مگر کیا وہ بھی دوران تفتیش گرفتارہوںگے یہ سوال ایک طرف مزاحیہ بھی ہے تو دوسری طرف خطرناک بھی۔ سوال یہ بھی ہے کہ عثمان بُزدار کے خلاف اس طرح کی مہمیں کیوں چلتی ہیں جن میں کبھی ان کو عہدے سے الگ کیا جارہا ہوتا ہے اور کبھی کرپشن کے الزامات سرکاری سطح پر ہی سامنے آتے ہیں۔یہ امر دلچسپ ہے کہ نیب اس وقت وزیراعظم ہی کے ایک مشیر کے تابع کام کر رہا ہے۔ میرا سیاسی بنیادوں پر یہ تجزیہ ہے کہ جب تک وزیراعظم عمران خان، جناب عثمان بُزدار کو وزیراعلیٰ رکھنے پر مصر رہیں گے یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ عثمان بُزدار کو تین جگہوں سے شدید مشکل اور مزاحمت کاسامنا ہے۔ پہلی جگہ وہ ہے جہاں سے حکومت پر نظر رکھی جا رہی ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ پنجاب میں بہتر گورننس کی ضرورت ہے کیونکہ حکومت کی کامیابی اور ناکامی صرف عمران خان کا کریڈٹ اور ڈس کریڈٹ نہیں ہے۔ دوسری جگہ خود تحریک انصاف کی اندرونی دھڑے بندی ہے جس میں رفتہ رفتہ محروم لوگوں کا غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ وہ معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کوئی ایسا موقع جانے نہیں دیتے جب وہ اپنی ہی دی ہوئی تعریف کے مطابق پی ٹی آئی میں’ گھس بیٹھئے ‘کو ٹف ٹائم نہ دے سکیں۔ تیسری جگہ پر کچھ صحافی ہیں جن میں سے کچھ یہ سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت انہی کی وجہ سے قائم ہوئی لہذا اب کے کام ایسے ہی ہونے چاہئیں جیسے وہ خود وزیراعلیٰ ہوں۔ یہ صحافی ایس ایچ او او رپٹواری لیول سے آئی جی اور چیف سیکرٹری لیول کے کام پکڑتے ہیں اور جہاں ان کا کام رکتا وہاں انہیں میرٹ ، ڈیلیورینس اور شفافیت یاد آ جاتی ہے۔ انہی کے ساتھ کچھ وزیراعلیٰ کے آبائی علاقے کے صحافی ہیں جن کی عثمان بزدار کی فیملی، سیاست اور معاملات کی نبض پر انگلی ہے۔ مقامی سطح پر بھی وہی ایشوز اٹھتے ہیں تو وہاں کے صحافی مخصوص قسم کے روایتی ردعمل کے ڈر سے خود تو کوئی خبر نہیں دیتے مگرایشو کا پلندہ بنا کے باقی تینوں جگہوں میں جہاں بھی ہاتھ پڑے وہاں پہنچا دیتے ہیں۔

یہاں ایک اور دلچسپ سوال ہے کہ نیب نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بُزدار کا اس یونی کارن پریسٹیج کمپنی کے ہوٹل کے معاملے میں ہی انتخاب کیوں کیا تو اس کے بھی دلچسپ جواب ہیں۔ پہلا جواب یہ ہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے واضح اور دوٹوک انداز میں خبردار کیا ہے کہ پاکستانی حکومت نیب کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کر رہی ہے، وہ باز آجائے اور یہی وجہ ہے کہ نیب نے حساب برابر کرنے کے لئے پی ٹی آئی کے ایک صوبائی وزیر انصرمجید، ایک ایم این اے کرامت علی کھوکھر اور ایک ایم پی اے چھینہ کو بھی طلب کر لیا ہے۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ وزیراعلیٰ کے خلاف واقعی سنجیدہ کیس بنانا ہوتا تو آٹا، چینی وغیرہ کے معاملات اس سے کہیں زیادہ واضح تھے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ نیب نے ایک مرتبہ پھر مریم نواز کو طلب کیا ہے اور اس مرتبہ معاملہ ان کی خریدی ہوئی زمین کا ہے لہٰذا یہ ضروری تھا کہ اپوزیشن کے خلاف تازہ مہم چلانے کے لئے کچھ حساب کتاب برابر رکھا جائے۔ اس سے پہلے بھی نیب دو صوبائی وزرا کو گرفتار کر چکا ہے مگر وہ دونوں ہی اپوزیشن کے رہنماو¿ں کے مقابلے میں ایک چوتھائی مدت بھی اندر نہیں رہے ۔ ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا کے ڈائریکٹر بریڈ ایڈمز نے نیب کے حوالے سے بیس جولائی کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے تفصیلی فیصلے کا بھی ذکر کیا ہے۔


ای پیپر