جلتا کشمیر عالمی سازش کا شکار
09 اگست 2019 2019-08-09

بھارت نے کشمیر ہڑپ کرلیا، انتہا پسند ہندوئوں کی نمائندہ پارٹی بی جے پی نے کھلے بندوں پاکستان اور اسلام دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت الگ پرچم اور آئین کا اختیار ختم کرتے ہوئے پورے علاقے کو بھارت یونین میں شامل کرنے کا اعلان کردیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی واضح قرار دادیں مٹی میں مل گئیں، باہمی سمجھوتوں، شملہ معاہدے کی دستاویزات پرزے پرزے ہو کر ہوا میں تحلیل ہوگئیں۔ بھارت نے پنڈت نہرو اور واجپائی کے نظریات کو دفن کرتے ہوئے اپنے آئین کی دفعات 370 اور 35 اے منسوخ کر کے متنازع ریاست کی 82 فیصد مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا۔ کشمیر سیٹ اپ اپ سیٹ ہوگیا۔ انتہا پسند عالمی دہشت گرد نریندر مودی نے کشمیریوں کو شٹ اپ کال دے دی۔ پوری وادی میں غیر معینہ مدت کا کرفیو، شہر خموشاں کی سی ویرانی،مزید 70 ہزار فوجی تعینات، دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم پوری کشمیری قیادت نظر بند یا گرفتار، لوک سبھا اور راجیہ سبھا نے چشم زدن میں بل منظور کر کے کشمیر پر قبضہ کی توثیق کردی۔ کسی نے کہا انتہا پسند ہندوئوں نے پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا۔ اہل درد نے کراہتے ہوئے تصحیح کی کہ پیٹھ میں نہیں سینے میں چھرا گھونپا ہے۔

سب کچھ کیسے ہوگیا؟ چند دن پہلے تو امریکی صدر ٹرمپ نے ہمیں ثالثی کی خوشخبری سنائی تھی۔ ہم نے بغلیں بجائیں خوشی سے نڈھال ہوگئے۔ فتح و کامرانی کے نعرے لگا لگا کر ہمارے گلے بیٹھ گئے۔ ٹرمپ راتوں رات ہمارا محبوب لیڈر بن گیا۔ ہم نے اسے پاکستان کے دورے کی دعوت دے دی اور ایئر پورٹ سے وزیر اعظم ہائوس تک راہ میں آنکھیں بچھانے کے منصوبہ کو حتمی شکل دیتے رہے۔ طویل راستے پر 22 کروڑ عوام بچھنے کو تیار، ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ پردے کے پیچھے کیا ہو رہا ہے۔ سب کچھ محض اتفاق نہیں تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی امریکا نے اسے بھارت کا ’’اندرونی معاملہ‘‘ قرار دے دیا۔ ٹرمپ کو چپ لگ گئی۔ اسی لمحے آئی ایم ایف نے پاکستان کو وارننگ دے دی کہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر نکلنے میںناکامی کی صورت میں پاکستان کی غیر ملکی مالیاتی ضمانتوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ہم کتنے سادہ لوح بلکہ ’’بھولے بادشاہ‘‘ ہیں کہ ہمیں پتا ہی نہ چل سکا کہ بھارتی وزیر خارجہ نے آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرنے سے پہلے امریکی وزیر خارجہ پومپیو کو اعتماد میں لے لیا تھا کچھ عرصہ قبل بھارتی قومی سلامتی کے مشیر نے امریکی ہم منصب کو کشمیر ہڑپ کرنے کے ارادے پر بریفنگ دی تھی۔ کمال ہے ٹرمپ کو کسی نے نہیں بتایا کہ اندر کھاتے کیا ہو رہا ہے۔ وہ ہمارے وزیر اعظم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے خلوص و محبت سے ثالثی کا لولی پاپ دے رہا تھا۔ ہم ثالثی کے پیغام پر کتنے خوش تھے ہم نے ٹرمپ کا دل جیت لیا تھا گویا پوری دنیا کو فتح کر کے لوٹے تھے اے بسا آرزو، کشمیر عالمی سازش کا شکار ہوا ہے۔ مودی اس منڈل اور دھما چوکڑی میں اکیلا نہیں اسلام اور پاکستان دشمن قوتیں اس کی ڈھال ہیں۔ حضرت علامہ اقبال نے ایک صدی قبل کہا تھا۔

ستیزہ کا رازل سے رہا ہے تا امروز

چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی

منافقت کی انتہا کہ راجیہ سبھا میں بل کی منظوری کے روز امریکا کو سانپ سونگھ گیا۔ کئی گھنٹوں بعد دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ صورتحال پر غور کر رہے ہیں۔ معاملہ پر تشویش ہے کہ بھارت نے ہم سے مشاورت نہیں کی۔ اطلاع نہیں دی حالانکہ مودی نے جاپان کے دورے کے دوران ہی ٹرمپ کو اپنے منحوس ارادے کے بارے میں اعتماد میں لے لیا تھا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی بھی اسی طرح عالمی سازش کا شاخسانہ تھی۔ امریکی بحری بیڑہ آتے ہوئے راستہ بھول گیا تھا۔ امریکا اور دیگر طاقتوں کو کھلے بندوں مکتی باہنی کے روپ میں بھارتی فوج کی در اندازی اور قتل و غارت نظر نہیںآ ئی تھی۔ سلامتی کونسل کے سارے مستقل ارکان منہ سر لپیٹے خاموش پڑے رہے۔ ہمارے سینے پر کاری زخم لگا تھا 47 سال بعد زخم سے پھر خون رسنے لگا۔ اس سے پہلے حیدر آباد دکن اور جونا گڑھ پر بھی بھارتی قبضے کے زخم ابھی تک نہ بھر سکے۔ زخم پہ زخم لگائو تمہیں ڈر کس کا ہے، کیاکر سکتے ہیں’’ ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات‘‘۔

امن کے نام پہ رہ رہ کے چیخنے والو

سنو، تمہی نے فضائوں میں زہر گھولا ہے

ہم اتنے ہوشیار، خبردار، الرٹ، چوکس (سارے الفاظ ختم) بے خبری ہمارے قریب سے نہیں گزرتی۔ روز اجلاس میں قومی سلامتی اور اردگرد کی صورتحال پر بریفنگ، پل پل کی خبریں، وزیر خارجہ کے مسلسل دورے، ملاقاتیں، یقین دہانیاں، اس سب کے باوجود ہمیں مودی کی خباثت بھری حرکت کا علم نہ ہوسکا۔ پورا علاقائی سیٹ اپ اپ سیٹ ہوگیا۔ ہمیں کانوں کان خبر نہ ہوسکی، ہم ثالث کی آمد کا انتظار کرتے رہے۔ لاکھوں کشمیریوں اور ہزاروں پاکستانیوں کی قربانیاں رائیگاں چلی گئیں؟ 70 سالوں سے پوری سیاست کا محور مسئلہ کشیر ہی تو ہے۔ اب کسے دیکھ کر آپ گرمائیے گا۔ اب کیا کریں؟ کر تو رہے ہیں ہر روز اجلاس، اجلاسوں میں تقریریں مذمتی قرار دادیں تقریروں میں مودی کو دھمکیاں کہ

تو ایٹمی طاقت پہ جو اترانے لگا ہے

تو نے ابھی اسلام کا لشکر نہیں دیکھا

اسلام کا لشکر کہاں ہے؟ وزیر خارجہ او آئی سی میں دہائی دیتے رہے اسلامی ممالک کی عجیب تنظیم ہے کہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔ صرف طفل تسلیاں، اسرائیلی ماڈل کے اقدام پر خاموشی وزیر خارجہ نے کہا 28 ممالک کو بھارتی اقدام کے بارے میں بتا دیا کسی نے کچھ کیا؟ پہلے کیا کیا ہے۔ فلسطینی اپنی ہی سر زمین پر اجنبی، اپنے ہی ملک میں غیر ملکی، مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے پر پابندی، وہی جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات، لیڈر نصف صدی تک ہاتھوں میں پتھر تھمائے رہے۔ اس عرصہ میں اسرائیل ایٹمی طاقت بن گیا۔ فلسطین پر یہودیوں کے قبضہ پر کسی کو دکھ تکلیف نہ ہوئی، پاکستانی اسلام سے محبت کے نام پر رو پیٹ کر چپ ہوگئے۔ کشمیری بھی برسوں سے بھارتی فوج پر پتھرائو کر رہے ہیں۔ جواب میں سیدھی گولیاں سینے چھلنی کرتی ہیں۔ کشمیری مجاہدین کے سر پر ہاتھ کون رکھے؟ ہماری اپنی مصلحتیں مجبوریاں ہیں ہم 70 سالوں سے بھارتی سامراج کے انسانیت سوز مظالم کا شکار کشمیر بھائیوں کی صرف سفارتی سیاسی اور اخلاقی حمایت کرتے آئے ہیں۔ 71ء میں کوشش تو کی تھی قسمت نے ساتھ نہیں دیا۔ دشمن چوٹیوں پر آ بیٹھا ہزاروں بار خلاف ورزیاں کرچکا ہے۔ ہمارے پاس اعداد و شمار موجود ہیں۔ کس کو بتائیں، سلامتی کونسل کے 5 مستقل ارکان، چین کے سوا کوئی سر پر ہاتھ رکھنے والا نہیں، کس کو سنائیں غم دل، اب کیا کریں؟ قراردادیں، تقریریں، پوری قیادت یک زبان لیکن کیا بھارت اپنی کمینگی سے باز آجائے گا۔ ہم جلسوں ریلیوں اور دعائوں کے سوا کیا کرسکتے ہیں، دعائیں کر رہے ہیں یا الٰہی بھارتی توپوں میں کیڑے پڑ جائیں گولے گل سڑ جائیں بھارتی فوجیوں میں ہیضہ کی بیماری پھوٹ پڑے اور 8 لاکھ فوجی جہنم روانہ ہوجائیں، یا اللہ جنگ میں ہماری مدد کے لیے فرشتے ہی بھیج دے جو دشمنوں کو کھائے ہوئے بھوسے کی طرح تباہ کردیں۔ شیخ رشید نے 3 سے 6 ماہ میں جنگ شروع ہونے کی پیشگوئی کردی ہے یہ بھی کہا ہے کہ بھارت آزاد کشمیر پر حملہ آور ہوگا۔ ہم پر مشکل وقت آن پڑا ہے۔ مودی کا ہاتھ نہ کاٹا گیا اعلان منسوخ نہ ہوا تو چند دن بعد ہندو بنیے آزاد کشمیرکو مقبوضہ علاقہ قرار دے کر اپنی ملکیت کا دعویٰ کریں گے۔ گلگت، بلتستان کو متنازع قرار دے کر اپنے عالمی آقائوں کو مطلع کریں گے پھر جو ثالثی کے لیے سر گرم عمل نظر آئیں گے لیکن در پردہ اس واحد اسلامی ایٹمی طاقت کیخلاف اپنی ازلی دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نقصان پہنچانے کی سازشیں کریں گے۔ ہمیں سینیٹ میں ضمیر فروشوں، غداروں، کرپشن کے الزام میں ملوث جیلوں کے قیدیوں سے سہولتیں واپس لینے ، عید کے بعد کروڑوں ڈالر کی ریکوری کی کوششوں،مخالفین کی گرفتاریوں اور تباہ حال معیشت کو سنبھالا دینے کے اقدامات سے فرصت نہیں۔ محسن احسان نے جانے کن وقتوں میں کہا تھا کہ

ایسے خورشید کی بھی ہم نے پزیرائی کی

جو دم صبح نکلتا ہے شب تار کے ساتھ

ہماری بہادر افواج دشمن کیخلاف الرٹ ہیں۔ اللہ کے فضل و کرم سے وہی ہماری سلامتی کی ضامن ہیں۔ ہم عہد کریں کہ اللہ کے ان سپاہیوں کے شانہ بشانہ لڑیں گے۔ ان کے ساتھ رہے ہیں ان کے ساتھ رہیں گے اللہ ہمارا اور ہمارے پیارے ملک پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔


ای پیپر