کشمیری خواتین مالِ غنیمت نہیں ہیں
09 اگست 2019 2019-08-09

بغاوت خانہ جنگی یا چھاپہ مار کارروائی کا سیاسی سرگرمیوں سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ یہ اعلانیہ نہیں ہوتیں نہ ان میں تاریخ کا اعلان کیا جاتا ہے ۔ اور نہ ہی مقام کا تعین ہوتا ہے اور نہ ہی اپنا مشن دشمن پر واضح کیا جاتا ہے ۔ جو لوگ جموں وکشمیر پر انڈیا کے constitution کے جواب میں حکمت عملی کے اعلان کا انتظار کر رہے ہیں انہیں سمجھنا چاہیے کہ کشمیر کشمیریوں کا ہے اور وہی اپنی تقدیر کا فیصلہ کریں گے کیاانہوں نے انڈیا کے Charter of slavery یا غلامی کی دستاویز جو آرٹیکل 35 اور 370 کے خاتمے کی مشکل میں کشمیریوں پر مسلط کر دی گئی ہے اس کا مقابلہ کیسے کرنا ہے۔ پاکستان چونکہ اس معاملے میں ایک اہم فریق ہے لہٰذا اس پر رد عمل ظاہر کرنے میں کشمیریوں کے بعد دوسرا نمبر پاکستان کا ہے کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور معاہدہ شملہ کو بالائے طاق رکھ کر کسی طرح انڈیا نے عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیر دی ہیں ۔ جموں کشمیر میں ایک طرح سے غیر اعلانیہ مارشل لاء نافذ کیا جا چکا ہے اور بنیادی شہری آزادیوں پر سنگین پابندیاں عائد ہیں ۔ پاکستان کی طرف سے ایک رد عمل تو سفارتکاری کا ہے جو سب کو نظر آ رہا ہے جس میں دوست ممالک کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ جاری ہے وزیر خارجہ اس وقت چائنہ گئے ہوئے ہیں ملائیشیا ترکی سعودی عرب کے سر براہان سے رابطہ کیا گیا ہے۔ ایک رد عمل وہ ہے جسے ہم بیک چینل ڈپلومیسی کہتے ہیں ۔

آپ نے سنا ہو گا کہ انڈین اعلان کے فوراً بعد امریکہ کی اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ ایلیس ویل گزشتہ کئی دنوں سے اسلام آباد میں ہیں اور ان کی مصروفیات کی کوئی میڈیا کوریج جاری نہیں کی جا رہی نہ وہ کسی پریس کانفرنس میں نظر آتی ہیں پاکستانی حکام کے ساتھ ان کی بات چیت کا مقصد ہی کشمیر ہے ۔ انہوں نے اسلام آباد سے صرف اتنا بیان جاری کیا ہے کہ امریکہ کو 5 اگست کے انڈین فیصلے کا پیشگی علم نہیں تھا ۔ پاکستان کا اعتراض یہ ہے کہ جب دورہ امریکہ میں عمران خان کو اتنا پروٹوکول دیا جا رہا تھا اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو امریکی فوجی ہیڈ کواٹر پینٹا گون میں 21 توپوں کی سلامی دی جا رہی تھی تو امریکہ کو علم تھا کہ چند دن بعد کیا ہونے والا ہے ۔ ایلیس ویل نے اس تاثر کی تردید کی ہے۔ ایلیس ویل کی اسلام آباد موجودگی کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ پاکستان فوری رد عمل کے طور پر کشمیر میں کوئی فوجی کارروائی نہ شروع کر دے۔ دو نیوکلیئر ہمسایوں کے درمیان کشیدگی پر ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا خدشہ امریکیوں کے لیے ہمیشہ باعث تشویش رہا ہے۔ امریکیوں کو یہ بھی خدشات ہیں کہ جس طریقے سے انڈیا نے آئینی اقدام اٹھایا ہے کہیں جموں کشمیر میں بھی تحریک طالبان نہ قائم ہو جائے ورنہ انڈیا کے لیے لا متناہی مسائل پیدا ہو جائیں گے۔افغان طالبان بھی معاملے کو بغور دیکھ رہے ہیں مگر خاموش ہیں ۔

چائنا کی طرف سے جو مذمتی بیان جاری کیا گیا ہے اس میں لداخ کو انڈیا کا حصہ بنانے پر اعتراض ہے جس میں چائنا کی Territorial خود مختاری کی خلاف ورزی کی بات کی گئی ہے اور دوسرے نمبر پر پاکستان کا ذکر کیا گیا ہے ۔ یاد رہے کہ لداخ کی آبادی صرف اڑھائی پونے تین لاکھ ہے جبکہ جموں کشمیر کی آبادی سوا کروڑ ہے۔ لداخ کا زیادہ حصہ بنجر اور بے آباد ہے جبکہ جموں کشمیر سر سبز اور قدرتی وسائل سے لبریز ہے۔ یاد رہے کہ لداخ کا رقبہ 59196 مربع کلو میٹر ہے جبکہ جموں کشمیر کا رقبہ 222,236 مربع کلو میٹر ہے ۔ لداخ میں اکثریت بدھ مذہب سے تعلق رکھتی ہے جبکہ جموں کشمیر مسلم اکثریتی ریاست ہے۔ اس طرح لداخ کو کسی طرح بھی کشمیر سے مماثل قرار نہیں کیا جا سکتا ۔ کشمیر میں سیاحت سے ہونے والی آمدنی کا تخمینہ انڈیا کے کسی بھی علاقے سے زیادہ ہے بشرطیہ خطے میں امن قائم ہو۔

کشمیر کے حالیہ بحران کا سب سے افسوسناک پہلو بی جے پی کے اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے MLA و کرم سیانی کا وہ بیان ہے جس پر انڈیا کی خواتین تنظیمیں سراپا احتجاج ہیں اس منحوس ممبر پارلیمنٹ نے کشمیر کی نام نہاد فتح کا جشن منانے کے لیے منعقدہ ایک عوامی ریلی میں کشمیر فتح کرنے کے فوائد بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب گورے رنگ کی خوبصورت کشمیری دو شیزائوں سے شادیاں کر سکتے ہیں ۔ اس نے ہندو نو جوانوں کو کہا کہ وہ کشمیر جائیں اور وہاں سے اپنی مرضی کی خوبرو لڑکیوں سے شادیاں کریں۔ وکرم سیانی کے اس بیان پر انڈیا کی خواتین تنظیموں نے شدید اختجاج کیا اور دہلی میں ریلیاں نکالی جا رہی ہیں یا د رہے کہ اب تک کی صورت حال یہ ہے کہ مودی کے غلط فیصلے پر پاکستان سے زیادہ سخت احتجاج انڈیا کے اندر دیکھنے میں آ رہا ہے۔

یہاں ایک اور MYTH کو واضح کرنا ضروری ہے کہ پاکستان میں اپوزیشن کی جانب سے یہ اعتراض سامنے آیا ہے کہ پاکستانی اداروں اور حکومت کو مودی کے اس فیصلے کی پیشگی اطلاع کیوں نہیں ہوئی ہماری انٹیلی جنس کیا کر رہی ہے۔ یہ اعتراض اتنا وزن نہیں رکھتا اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کوئی ملٹری آپریشن نہیں تھا جس کی خفیہ رپورٹ پہلے سے حاصل ہوتی یہ ایک سیاسی اور آئینی اعلان تھا جو حکومت پہلے کئی بار دھمکی بھی دے چکی تھی کہ وہ کشمیر کے خصوصی درجہ کو منسوخ کر دیں گے اس فیصلے کو اسامہ بن لادن والے آپریشن کے ساتھ جوڑنا غیر منطقی اور بلا جواز ہے اس میں کوئی سکیورٹی یا انٹیلی جنس Failure والی کوئی بات نہیں ہے ۔ سیاسی فیصلے اور فوجی آپریشن میں فرق ہوتا ہے۔

کشمیر کو ماورائے آئین اقدام کر کے زبردستی ضم کرنا اتنا سادہ اور آسان نہیں ہے ۔ میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ اگر یہ معاملہ انڈین سپریم کورٹ میں چلا گیا تو وہ اس اقدام کو ویسے ہی غیر آئینی قرار دیدے گی۔ پاکستان اس معاملے کو بین الاقوامی عدالت انصاف اور اقوام متحدہ اور سکیورٹی کو نسل میں اٹھا رہا ہے جس پر اگر شدت سے سفارتکاری کی جائے تو بہتر نتائج حاصل ہو سکتے ہیں ۔ یہاں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے دہلی میں سفیر نے کشمیر کو زبردستی شامل کرنے پر اس کو انڈیا کا اندرونی معاملہ قرار دیدیا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مسلم ممالک مسئلہ کشمیر پر کیا رد عمل دکھا رہے ہیں ۔ حد یہ ہے کہ ابھی تک کسی ملک کی طرف سے بھی کشمیر میں شخصی آزادی پر عائد پابندیوں کے خاتمے کی اپیل نہیں کی گئی جو کہ قابلِ افسوس ہے۔ اس سے اقوام متحدہ اور رکن ممالک کے دوسرے معیار کی عکاسی ہوتی ہے۔


ای پیپر