ہماری مائوں کو بھی حضرت ہاجرہؑ جیسی تڑپ کی ضرورت ہے!
09 اگست 2019 2019-08-09

ذوالحجہ کا عظیم الشان مہینہ، حج اورعید الاضحٰی کی مبارک ساعتیں لیے آچکا ہے ،یہ ماہ مقدس مسلمانوں کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے جس میں ایک طرف تو دنیا بھر سے ہررنگ و نسل کے لاکھوں مسلمان حج کا فریضہ انجام دینے خانہ کعبہ پہنچے ہوتے ہیں۔جو اسلام کی اجتماعیت کا عکاس اوراتحاد بین المسلمین کا ذریعہ ہے ۔ دوسری طرف اس موقع پر دنیا بھر کے مسلمان سنت ابراہیمی پرعمل پیرا ہوتے ہوئے اللہ کی راہ میں قربانی کرتے ہیں گویا اس ماہ مقدس میں اسلام اپنی پوری شان سے جلوہ گر ہوتا ہے ۔ ہر منظرایثار و قربانی،اتحاد، احساس اوراللہ کی رضا کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کوعیاں کرتا ہے ۔میں یہ سوچ رہی تھی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تو اللہ کی رضا کے لیے اپنے بیٹے کے گلے پر چھری رکھ دی تھی مگر ہم اللہ کی خاطر اپنی انا بھی قربان نہیں کرسکتے جو ایک پرامن معاشرہ تعمیر کرنے کے لیے لازمی عنصر ہے رہی جانوروں کی قربانی جو خالص اللہ کی رضا مانگتی ہے اس میں صرف مقابلہ اور دکھاوا آگیا ہے یا پھر اس عمل کو بھی درجہ بدرجہ مشکل اور استطاعت سے دور کیا جا رہا ہے ۔ موضوع بہت وسیع ہے مگر آج ہم ایک عظیم ماں حضرت ہاجرہ علیہ السلام کے کردارکی عظمت پر روشنی ڈالیں گے۔

استاد جی کہا کرتے ہیں، وہ ماں بھی کیا عظیم تھی ہاجرہ علیہ السلام جیسی جو صبر و استقامت کا پیکر اور ہر آزمائش میں اپنے شوہر کے شانہ بشانہ تھی جس کی مشقت سے رب کی غیرت کو جوش آیا اوربچے کی پیاس بجھانے کی تڑپ کے جواب میں اللہ نے رہتی دنیا تک ہمیں آب زم زم کی نعمت سے فیضیاب کیا۔

آج بھی ہماری مائوں کو حضرت ہاجرہ جیسی تڑپ کی ضرورت ہے !

اگر مائوں میں وہ جذبہ پیدا ہوجائے تو جابجا محبت اورخوشحالی کے چشمے پھوٹ پڑیں۔

ان کی اس بات نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا۔

حضرت ہاجرہ علیہا السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ اورحضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ تھیں۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے ہی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔ آپ نہایت باہمت اورمحبت کرنے والی خاتون تھیں۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی منشا سے حضرت ہاجرہ علیہا السلام کو مکہ کے بے آب وگیاہ ریگستان میں چھوڑ کرروانہ ہو گئے تو آپ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بار بار پوچھا کہ ہمیں کیوں چھوڑ کر جا رہے ہیں لیکن آپ نے کوئی جواب نہ دیا۔ بالآخر جب حضرت ہاجرہ علیہا السلام نے یہ بات پوچھی کہ کیا آپ ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا سے چھوڑ کر جار ہے ہیں تو آپ نے کہا ہاں۔ اس پر حضرت ہاجرہ علیہاالسلام نے خاموشی اختیار کی اور اللہ تعالیٰ کی رضا میں راضی ہوگئیں۔

حضرت ابراہیم نے حضرت ہاجرہ اور اپنے شیر خوار بیٹے حضرت اسماعیل کو مکہ میں چھوڑ تو دیا لیکن پھر آپ نے اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے دعا فرمائی جو قرآن پاک میں سورہ ابراہیم آیت ۷۳ میں موجود ہے اس کا ترجمہ کچھ یوں ہے :

’’اے میرے پروردگار میں نے اپنی بعض اولاد کو ایک بے آب و دانہ مکان میں بسا دیا ہے جوتیرے عزت والے گھر کے پاس ہے ۔ اے میرے رب تاکہ یہ نماز قائم کریں۔ تو ان کی گزر کے لئے ایسا کر دے کہ کچھ لوگوں کے دلوں کو ان کی جانب جھکا دے۔ان کو طرح طرح کے میوے کھلاتا رہ تاکہ وہ تیری شکر گزاری کریں‘‘۔اس دعا کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام واپس روانہ ہو گئے۔ حضرت ہاجرہ علیہا السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام وہیں پر رہ گئے۔

حضرت ہاجرہ علیہ السلام نے اپنے پاس موجود مشک سے حضرت اسماعیل کو پانی پلایا اور دودھ پلاتی رہیں۔ جب پانی ختم ہو گیا، بچے کو پیاس لگی اور پیاس کے مارے بے چین ہوا تو آپ پانی کی تلاش میں اِدھر اُدھر دوڑیں۔ ان کے پاس دو پہاڑ صفا اور مروہ تھے۔ آپ نے دونوں پہاڑوں کے درمیان سات چکر لگائے۔ اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضرت اسماعیل کے پاس آکر اپنی ایڑی یا زمین پر مار کر زمین سے پانی نکالا۔ ایک اور روایت کے مطابق جب حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے پاؤں کی ایڑیوں کو زمین پر مارا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے وہاں سے ایک چشمہ جاری فرما دیا۔ حضرت ہاجرہ علیہا السلام نے وہ پانی حضرت اسماعیل علیہ السلام کو پلایا اور خود بھی پیا۔آپ نے اس پانی کے گرد کی جگہ کو حوض کی مانند بلند فرمایا۔ آپ اس پانی کو اپنی مشک میں جمع کرتی جاتی تھیں اور وہ پانی جوش مارتا جاتا تھا۔ آخر کار آپ نے فرمایا۔ ’’زم،زم‘‘یعنی ٹھہرجا اور اس حد بندی سے باہر نہ نکل۔ اس پروہ پانی رک گیا۔ رسول پاکؐ نے فرمایا۔ ہے کہ اگر حضرت ہاجرہ علیہا السلام اس پانی کو یونہی چھوڑ دیتیں تو وہ بہتا ہوا چشمہ ہوتا۔

اس وقت خانہ کعبہ ایک ٹیلے کی طرح زمین سے اونچا تھا۔ دائیں طرف سے برسات کا پانی نکل جاتا تھا۔ حضرت ہاجرہ نے ایک مدت وہاں گزاری۔ کچھ عرصہ بعد قبیلہ جرہم کے لوگ وہاں سے گزرے۔ وہاں انہوں نے ایک پرندہ دیکھا۔ پرندہ دیکھ کر انہوں نے خیال کیا کہ یہاں پانی بھی ضرور ہوگا۔ انہوں نے پانی کی تلاش کی تو چشمہ کے پاس حضرت ہاجرہ کو موجود پایا۔ انہوں نے حضرت ہاجرہ سے وہاں قیام کی اجازت مانگی۔ حضرت ہاجرہ نے ان کو قیام کی اجازت دے دی۔ انہوں نے یہ اجازت حاصل کر کے اپنے بیوی بچوں اور دیگر قبیلہ والوں کو بھی بلا لیا۔ حضرت ہاجرہ علیہا السلام خود بھی چاہتی تھیں کہ وہاں آبادی ہو جائے، اس طرح مکہ میں کئی گھر بن گئے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام وہیں پر جوان ہوئے۔

انہوں نے عربی زبان جرہم کے لوگوں سے سیکھی۔ جرہم کے لوگ ان سے متاثر ہوئے اور ان سے محبت کرنے لگے۔ ان کی شادی اپنے خاندان کی ایک لڑکی سے کر دی۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی وہاں پر تشریف لائے اورکچھ عرصہ قیام کے بعد واپس تشریف لے گئے۔ حضرت ہاجرہ علیہا السلام نے اپنی بقیہ عمر وہیں پر گزاری۔

آج حج کے دوران صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی سنت ہے ۔ اس کے علاوہ اسی دوران حضرت ابراہیم کو وہ خواب آیا جس میں اللہ تعالیٰ نے ان سے ان کی عزیز ترین چیز کی قربانی مانگی۔ آپ حضرت اسماعیل سے زیادہ کسی شے کو عزیز نہ رکھتے تھے۔ اس لئے آپ نے ان کی قربانی کرنا چاہی لیکن اللہ تعالیٰ کو محض آپ کا امتحان مقصود تھا۔ چنانچہ قربانی کے وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ اللہ تعالیٰ نے ایک مینڈھا بھیج دیا۔ اس دوران حضرت ہاجرہ کو شیطان نے بھڑکانے کی کوشش کی کہ آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو روک دیں لیکن آپ نے اللہ تعالیٰ کی رضا کو قبول فرمایا اور اس طرح اپنے آپ کو ایک عظیم خاتون اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت گزار بندی ثابت کیا۔

اللہ تعالیٰ نے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کا امتحان لیا تو حضرت ہاجرہ علیہا السلام کا بھی ایک طرح سے امتحان تھا لیکن انہوں نے اپنے آپ کو ایک بلند کردار شوہر کی عظیم بیوی ثابت کیا اور آنے والے نسلوں کے لئے اطاعت گزاری کی ایک تاریخ رقم فرمائی۔ مسلمان آج بھی حج کے دوران سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے ان واقعات کی یاد تازہ کرتے ہیں۔

تمام مسلمان عورتوں کے لیے حضرت ہاجرہ علیہ السلام کی صورت میں ایک عظیم مثال موجود ہے کہ انہوں نے ایک بیوی اور ماں کے روپ میں اپنا مثالی کردار نبھایا اور ان کی اولاد کے لیے سچی تڑپ نے عرش کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔

حج کے دوران صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا ایک اہم سنت جو ہمیں اس ماں کی تگ و دو کی یاد دلاتا ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ ماں اپنی اولاد کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کس حد تک مشقت کر سکتی ہے وہ سخت سے سخت حالات کا بھی سامنا کر لیتی ہے اور جب اللہ اس کی تڑپ دیکھتا ہے تو پھر ایسے نوازتا ہے کہ رہتی دنیا تک مثال بن جاتی ہے ۔ آج ہمارے معاشرے کی بہتری اور نئی نسل کی بہترین پرورش کے لیے مائوں کے اندر حضرت ہاجرہ علیہ السلام جیسی تڑپ کی ضرورت ہے ۔


ای پیپر