وہ تکبر کو علم کہتے ہیں
09 اگست 2019 2019-08-09

پاکستان کے سرکاری اداروں میں ایک بہت بڑی تعداد خودمختار اداروں کی ہے۔ یہ ادارے مالی اور انتظامی طور پر بااختیار ہوتے ہیں ۔ اس آزادی کا مقصد بیوروکریسی کے ٹریپ سے بچ کر بہترین رزلٹ پروڈیوس کرنا ہوتا ہے۔ ان خودمختار اداروں میں ایک بڑی تعداد علمی، تحقیقی اور تعلیمی اداروں کی ہے۔ اگر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ خودمختاری کی طاقت کے باوجود ان میں سے بیشتر ادارے اعلیٰ سطح کی کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ بعض جگہوں پر اداروں کے اندر کوالٹی کنٹرول کے نام سے ڈیپارٹمنٹ بھی قائم کیے گئے ہیں مگر کارکردگی تو وہیں کی وہیں ہے البتہ ملازمین کی سختیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ان اداروں میں کام کرنے والے ملازمین مایوسی اور ڈپریشن کا شکار ہونا شروع ہوگئے ہیں ۔ اس ڈپریشن کے باعث کبھی کبھار وہاں رونما ہونے والا کوئی ناخوشگوار واقعہ میڈیا میں آجاتا ہے۔ تھوڑی دیر شور بلند ہوتا ہے پھر نوکری کے ہاتھوں مجبور لوگ چپ کر جاتے ہیں ۔ اگر کوئی غیرجانبدار نیشنل یا انٹرنیشنل سروے کرنے والی فرم ڈیٹا اکٹھا کرے تو پتہ چلے گا کہ ان اداروں کے ملازمین میں غصے اور مایوسی کا ایک خاموش سمندر موجود ہے۔ یہ بات بہت تشویش کی ہے کہ سرکاری خزانے سے ملنے والی بڑی رقم سے ان اداروں میں نفسیاتی مریض بنائے جارہے ہیں ۔ اس کی وجہ شاید وہاں کے سربراہان ہیں کیونکہ یہ خودمختار ادارے اپنے سربراہان کی مرضی سے چلتے ہیں ، انہی کی بنائی ہوئی پالیسیوں پر عمل کرتے ہیں اور وہاں فردِ واحد کا ہی حکم مانا جاتا ہے۔ ان اداروں میں سرکاری قانون کی بجائے سربراہان کا موڈ اور خواہشات ہی قانون ہوتا ہے۔ ایسے سربراہان کی تقرری عموماً کنٹریکٹ کے ذریعے ہوتی ہے۔ بعد ازاں بیشتر اداروں میں کنٹریکٹ میں ایکسٹینشن حاصل کرنے کے بعد ان افسران کی عارضی مدت ملازمت ایک لمبی مدت ملازمت بن جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ان میں سے بیشتر افسران ریگولر ریٹائرمنٹ کے بعد بھی انہی عہدوں پر قابض رہتے ہیں ۔ مطلق العنان یہ افراد دن رات مزید بااختیار ہوتے چلے جاتے ہیں کیونکہ وہ اپنے اختیارات استعمال کرکے اپنے سینئر افسران، سیاست دانوں، میڈیا اور دیگر بااثر شخصیات کو ذاتی طور پر زیر احسان لاتے ہیں جس سے ان کی لابی بہت مضبوط ہو جاتی ہے۔ ان کے تعلقات جگہ جگہ ایسے بن جاتے ہیں جیسے ایک زمانے میں برطانوی شاہی خاندان کی رشتہ داریاں روس کے زار خاندان سے بھی تھیں، آسٹریلیا اور کینیڈا کے حکمرانوں سے بھی تھیں اور برصغیر میں بھی انہی کے نمائندے تھے۔ مذکورہ اداروں کے سربراہان کی سنگین پبلک ریلیشننگ کے باعث انہیں سوسائٹی میں ایک لائق اور قابل احترام شخصیت سمجھا جانے لگتا ہے جبکہ ان کی دانش مندی، خوش اخلاقی، نرم مزاجی، انسان دوستی اور انتظامی صلاحیتوں کے بارے میں وہاں کے ملازمین خوب جانتے ہیں کیونکہ اپنے ماتحتوں کے ساتھ بدکلامی، خواتین سے بدتمیزی اور بات بات پر آگ بگولہ ہو جانا ہی ان کا اصل روپ ہے۔ چونکہ وہاں کے ملازمین سے میڈیا اور ارباب اختیار براہِ راست رابطے میں نہیں ہوتے، اس لیے جھوٹ، خوشامد اور مطلب کے یہ پیکر سوسائٹی میں دیوتا کا درجہ حاصل کرلیتے ہیں ۔ یہ سربراہان قوانین میں راستے بناکر اپنے وفادار، پسندیدہ اور اکثر نااہل افراد کو بھرتی کرتے ہیں جس سے میرٹ کی عزت سربازار تارتار ہو جاتی ہے۔ یہ بھاری بھرکم افسران غریب خزانے پر بوجھ تو ہیں ہی، خدا کی دھرتی پر بھی بوجھ بنے پھرتے ہیں ۔ ماتحت ملازمین ان کی ملازمت کی ایکسٹینشن ختم نہ ہونے سے مایوس ہوکر اپنی یا ان کی زندگی ختم ہونے کی دعا کرتے ہیں ۔ یہ سربراہان کسی ایک حکومت کے بھی وفادار نہیں ہوتے بلکہ اپنے کنٹریکٹ کے لیے ہر حکومت ِوقت سے اپنی وفاداری ظاہر کرتے ہیں ۔ اس افسوس ناک صورتحال سے نمٹنے کے لیے چند تجاویز پیش خدمت ہیں ۔ ۱)علمی و تحقیقی اداروں میں ملازمت کے لیے کنٹریکٹ یا ایکسٹینشن غیرقانونی اقدام نہیں ہے تاہم ایکسٹینشن کی طوالت کو مکروہ عمل قرار دیا جائے کیونکہ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ملک بھر میں مذکورہ شخص کا کوئی متبادل نہیں ہے یعنی وہ ناگزیر ہے۔ اس طرح یہ ملک کے دوسرے اہل علم لوگوں کی توہین اور حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ۲)ایسے کئی چھوٹے بڑے خودمختار تعلیمی و علمی ادارے ہیں جن کے سربراہان کی تقرری کے لیے بیوروکریسی امیدواروں کے ناموں کا ایک پینل بناتی ہے جو عموماً میرٹ اور ٹرانسپیرنسی کی بجائے تعلقات کی بناء پر بنتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض اوقات امیدواروں کی فائل میں تعلیمی اسناد کی بجائے ممکنہ امیدوار کا صرف وزٹنگ کارڈ ہی لگا ہوتا ہے۔ اس پینل کی روایت کو ختم کرکے خالی آسامیوں کی تقرری کے عمل کو فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی سفارشات سے مشروط کیا جائے۔ ۳)ایسے ادارے جہاں بے مہار سربراہان موجود ہیں ، ان کی کارکردگی کے بارے میں ان کی بھیجی ہوئی موٹی موٹی رپورٹوں پر اطمینان کرلینے کی بجائے حکومت یا خفیہ ادارے اپنے خاموش آبزرورز کے ذریعے ان کی پرفارمانس کو چیک کریں جیسے کہ کئی بین الاقوامی ادارے کرتے ہیں ۔ ۴)سرکاری ملازمت میں سینئر افسر اپنے ماتحت افراد کی اے سی آر لکھتے ہیں ۔ ماتحت افراد اس اے سی آر کے خوف سے متعلقہ افسران کے بارے میں کوئی اظہار خیال نہیں کرسکتے۔ یہ انگریزوں کا بنایا ہوا قانون ہے تاکہ وہ اپنے تابع ملازمین کو غلامی پر مجبور رکھ سکیں۔ اگر ایک نئے قانون کے ذریعے جونیئر ملازمین سے بھی اپنے افسران کے بارے میں اے سی آر لکھوائی جائے تو بہت سے معاملات خودبخود حل ہو جائیں گے۔ اگر ہم جیل خانہ جات میں اصلاحات اور انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں تو پھر ایسے علمی اداروں پر بھی فوری توجہ دینی چاہیے جہاں کے ملازمین کا فرسٹریشن اور ڈپریشن کے باعث نفسیاتی مریض بن جانا ایک انسانی المیہ بن رہا ہے۔ لہٰذا حکومت ِوقت اور سول بیوروکریسی کو اس بگاڑ کی بہتری کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔ آج کل عدالتوں کے دروازے انصاف فراہم کرنے اور کرپشن کو روکنے کے لیے کھلے ہیں تو پھر انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں، وکلاء برادری یا سول سوسائٹی میں سے کوئی آگے بڑھے اور ان اداروں کا کیس عدالت تک لے جائے یا پھر معزز عدالت ان معاملات کا ازخود نوٹس لے۔ کشف المحجوب میں تحریر ہے ’’ہم ایسے زمانے میں پیدا ہوئے ہیں جب لوگ جاہ و جلال کو عزت، ریاکاری کو تقویٰ، دل میں کینہ چھپانے کو نرم گوئی، جھگڑے کو عظمت اور تکبر کو علم کہتے ہیں ‘‘۔


ای پیپر