قومی اسمبلی مچھلی منڈی میں تبدیل
09 اگست 2019 (16:12) 2019-08-09

اسلام آباد : قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے شدید شورشرابہ کے باعث ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کر نے لگا ،مسلم لیگ (ن)کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور خواجہ محمد آصف مریم نواز کی گرفتاری پر حکومت پر برس پڑے جس پر وفاقی وزیر شفقت محمود اور وزیر مملکت علی محمد خان نے اپوزیشن کو بھرپور جواب دیا ، حکومتی اور اپوزیشن اراکین ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے رہے ،ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری اراکین کو اپنی نشستوں پر بیٹھنے اور خاموش رہنے کی ہدایت کرتے رہے تاہم اراکین نے نعرے بازی کا سلسلہ جاری رکھا۔

قومی اسمبلی کااجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی زیر صدارت ہوا ۔ اجلاس کے دور ان اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے مریم نواز کی گرفتاری پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہاکہ ایک مرتبہ پھر لیگی رہنماؤں کی گرفتاری ثابت کرتی ہے کہ نیب اور نیازی کا گٹھ جوڑ ہے۔ شہباز شریف کی تقریر کے دور ان چند حکومتی ارکان کی جانب سے نعرے بازی بھی کی جارتی رہی تاہم ڈپٹی اسپیکر نے اراکین کو خاموش رہنے کی ہدایت کی ۔ شہباز شریف کی تقریرکے جواب میں جب شفقت محمود نے اپنی تقریر شروع کی تو مسلم لیگ (ن)کے اراکین نے ’’مک گیا تیرا شو نیازی ‘گو نیازی گو نیازی ‘‘ کے نعرے لگائے ۔ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی ہدایت کو نظر انداز کرتے ہوئے اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی کا سلسلہ جاری رکھا ۔

شفقت محمود کی تقریر کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے مسلم لیگ (ن)کے پارلیمانی لیڈر خواجہ محمد آصف کو مائیک دیا تو حکومتی ارکان نے شدید ہنگامہ آرائی شروع کر دی ،ڈپٹی اسپیکر کی ہدایت کے باوجود حکومتی ارکان مسلسل نعرے بازی کرتے رہے جواب میں اپوزیشن ارکان نے بھی نعرے بازی شروع کر دی ۔حکومت ارکان ’’گلی گلی میں شور ہے، مریم کا بابا چور ہے ‘‘ کے نعرے لگائے اس پر اپوزیشن ارکان نے جوابی نعرے لگائے کہ گلی گلی میں شور ہے، عمران نیازی چور ہے ۔ اس موقع پر لیگی رکن اسمبلی خواجہ آصف نے کہاکہ ہم بھی بول سکتے ہیں، اگر یہ نہیں سنیں گے تو ہم بھی بولنے نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہاکہ ہم حکومت کی کارروائیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ۔نوازشریف نے قرضوں اور دہشت گردی کا رونا نہیں رویا۔  ملک کو مہنگائی اور دہشت گردی سے پاک کیا۔ اس وقت قوم کا اتحاد پارہ پارہ ہے، ایسے حالات میں آپ بھارت کا مقابلہ کیسے کرینگے ،اس وقت مریم نواز، شاہد خاقان، رانا ثناء اللہ کو گرفتار کیا جاچکا ہے ،میاں نواز شریف اور انکے تینوں بھائیوں کے بچے بھی گرفتار کرلئے گئے ہیں ،بتایا جائے مریم نواز کا کیا قصور ہے؟ ۔ حکومتی بینچوں سے آوازیں لگائی گئیں کہ مریم نواز چور ہے۔یہاں تقریر کرنے والا شہباز شریف کا نوکر رہا ہے ،وہ لاکھوں پاؤنڈ میاں شہباز شریف سے تنخواہ لیتا رہا، آج وہ اپوزیشن لیڈر کے خلاف تقریر کررہے تھے ۔ اس وطن عزیز میں فارن فنڈنگ کا کیس کیوں نہیں چلتا، الیکشن کمیشن میں کیوں زیر التوا ہے ؟جعلی اکاؤنٹس، منی لانڈرنگ حکمرانوں نے کی ہوئی ہے، ان سے حساب کیوں نہیں لیا جارہا، کیا احتساب صرف ہمارے لئے ہے؟۔

بعد ازاں ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے وزیر مملکت علی محمد خان کو مائیک دیا گیا تو وزیرمملکت علی محمد کی تقریر کے دوران بھی حکومتی ارکان نے ن لیگ کے خلاف نعرے بازی جاری رکھی اس دور ان اپوزیشن ارکان بھی اپنی نشستوں سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور نعرے بازی کا سلسلہ تیز کر دیا ۔ علی محمد خان نے کہاکہ افسوس مقبوضہ کشمیر میں صورتحال تشویشناک ہے اور ہم یہاں ذاتیات پر اتر آئے ہیں ،یہ ایوان قوم کا نمائندہ ہے، یہاں عوام کی نمائندگی کی بجائے اپنے گرفتار افراد کا رونا نہ روئیں ۔چند سال پہلے دہشتگرد نریندر مودی کو کس نے پاکستان بلایا تھا، کیا عمران خان نے بلایا تھا؟ قوم کو پہچان لے کہ کون پاکستان کے پرچم کے ساتھ کھڑا ہے اور کون اپنی ذاتی سیاست کررہا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ بتائیں آپ پر جو کیسز ہیں کیا وہ کرپشن کے نہیں، کیا عدالتیں آزاد نہیں ہیں؟ اس ایوان کو پاکستان کی امانت سمجھتے ہوئے اسی خاطر استعمال کیا جائے ۔ انہوںنے کہاکہ مشترکہ اجلاس میں ایک سابق صدر نے فیڈریشن کو جوڑنے کی بجائے ہجرت کرنے والوں پر اعتراض کیا ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان جب بنا تو اس کی قربانی انہی نے دی جنہوں نے ہجرت کی، سنت نبوی ادا کی ۔ انہوں نے کہاکہ مہاجر بزدل نہیں بلکہ جرات مندی کا مظاہرہ کیا، قائد اعظم کے ساتھ کھڑے رہے ۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان جب بنا تو اس کی قربانی انہی نے دی جنہوں نے ہجرت کی، سنت نبوی ادا کی ،پاکستان کو تباہی کا نشانہ آپ نے بنایا، آج تباہی کے دہانے پر آپ کی وجہ سے پہنچا ۔اگر ہم ایوان کی عزت چاہتے ہیں تو پھر ہمیں اپنا بھی بند قبا دیکھنا ہوگا ۔یہ سیاست دان بتائیں بڑی بڑی کوٹھیاں، بنگلے، گھر، دولت کس طرح بنائی؟ ہمارا سب کچھ لوٹ کر یہ دولت جمع کی۔


ای پیپر