قربانی کا اصل مفہوم اور بکرا سیلفیاں
09 اگست 2019 2019-08-09

ایک صاحب نے عید الاضحیٰ پر قربانی کے بعد خواب دیکھا کہ جنت میں بہت سے بکرے بھاگے پھرتے ہیں۔ اِس اچھل کود میں اس نے اپنا بکرا تلاش کرنے کی کوشش کی تو ایک کونے میں اسے اپنا قربان کیے جانے والا بکرا بیٹھا دکھائی دیا۔ ان صاحب نے بکرے سے پوچھا

کیوں میاں! سبھی لوگوں کے قربانی کے بکرے اٹھکیلیاں کر رہے ہیں بھاگ دوڑ رہے ہیں اور تم کیوں الگ بیٹھے ہوئے ہو؟؟ بکرے نے ممیا کر کہا: ” کیا کروں صاحب جی! میری ایک ٹانگ تو آپ کے فریزر میں پڑی ہے بھلا میں تین ٹانگوں سے اچھل کود کیسے کر سکتا ہوں؟؟“

حضرات گرامی! عید الا ضحیٰ اس عظیم قربانی کی یاد ہے جس میں حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے رب ذوالجلال حضرت اسماعیل علیہ اسلام نے بھی اپنے والد محترم کے آگے گردن جھکا دی اور قربان ہونے کو تیار ہوگئے۔ علامہ اقبال ؒ نے اسی حوالے سے فرمایا:

یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی

سکھائے کس نے اسماعیل ؑکو آدابِ فرزندی

عید الا ضحیٰ اسی عظیم یاد کا نام ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کو اس امتحان میں سرخرو کیا اور جب چُھری چلی تو حضرت اسماعیل علیہ اسلام کی جگہ مینڈھا تھا۔ ہم نے اس قربانی کی اصل اور مفہوم کو تو کسی حد تک فراموش کر دیا ہے بلکہ اب تو عید الاضحیٰ کی جگہ اس عید کا نام ہی ” بکرا عید“رکھ لیا ہے۔ اس عید پر ہر کوئی قربانی کے جانوروں کے پیچھے دکھائی دیتا ہے ہر جگہ بکرا عید بکرا عید کے بکروں ، دُنبوں اور گائے بیل اونٹ جیسے جانوروں کا تذکرہ ہے۔ آپ گھر سے نکل کر دیکھ لیں۔ کوئی سڑک ، چوراہا گلی ایسی نہیں جہاں آپ کو قربانی کے جانور نظر نہ آئیں۔ یہی نہیں رکشوں ، موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں میں بھی دنبے ، چھترے اور بکرے ہی بکرے سفر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جوں جوں عید قریب آتی ہے۔ ہر جگہ قربانی کے جانور اور گوشت کے بارے میں مشورے ملتے ہیں۔ ٹیلیویژن پر گوشت کی مختلف ڈشیں بنانے کی تراکیب، گوشت کھانے ہضم کرنے کے ٹوٹکے بتانے والے موجود ہیں۔ عید الا ضحیٰ اور قربانی کے شرعی آداب اور غرباءاور مساکین میں گوشت کی تقسیم کے بارے میں بہت کم تذکرہ ہوتا ہے۔ بکروں کی قیمتیں اور بھاﺅ تاﺅ کی باتیں سر محفل میں ہوتی ہیں۔ بیشتر صاحبِ ثروت حضرات اپنے لیے سالم بکرے فریزر میں سنبھال لیتے ہیں اور بانٹنے کے لیے گائے میں حصہ ڈالتے ہیں۔

آغاز میں بیان کیا جانے والا لطیفہ بھی معاشرے کی عکاسی ہے عموماً ہم اپنے لیے قربانی کا بہترین گوشت پہلے الگ کر لیتے ہیں۔ ایک زمانے میں قربانی کا گوشت اپنے محلے اور پڑوسیوں تک پہنچانے کا اہتمام کیا جاتا تھا لیکن اب پوش علاقوں اور ایلیٹ رہائشی سوسائٹیوں میں گوشت کو بھی ”تعلقات عامہ“ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

بکروں کو قربانی سے چند روز قبل خرید کر لایا جاتا ہے۔ اسے سجا سنوار کر بچوں کے سپرد کر دیا جاتا ہے جو اسے گھماتے پھرتے ہیں۔ ہمارے ایک جاننے والے تو پچھلے کئی روز سے بکرے کے ساتھ سیلفیاں فیس بک اور وٹس اپ پر لگا کر اپنے عزیز و اقارب اور احباب کو بھیج رہے ہیں۔ بعض بکرے کی قیمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے بھی خود نمائی میں بہت آگے نکل جاتے ہیں۔ وہ محفل میں اپنے بکروں کی جوڑی کی قیمت لاکھ روپے بیان کرتے ہوئے سینہ پھلا لیتے ہیں۔ پھر دوسرے سے پوچھتے ہیں آپ نے ابھی تک بکرا کیوں نہیں لیا۔ اگلے روز وہ اپنے بکرے کی خوراک پر گفتگو کرتے ہوئے کہنے لگے بھئی ہمارا بکرا تو باداموں کا ناشتہ کرتا ہے۔ ہم تو اسے چوکر دانے کے ساتھ بادام بھی ملا کر کھلاتے ہیں۔ سیون اپ اور دودھ ملا کر دودھ سوڈا بھی ہمارا ایک بکرا شوق سے پیتا ہے۔ رات کو تو ہمارے منجھلے بیٹے نے اُسے قلفہ بھی کھلایا اور حیرت ہوتی کہ بکرے فالودہ اور قلفہ بھی شوق سے کھانے لگے ہیں۔ چارے کی طرف تو آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے .... بس جی کیا کریں مہنگائی تو ہے مگر اب شریکا برادری میں رہنا ہے ایک بکرے سے کام نہیں بنتا۔ ایک سالم بکرا ہم خود گھر کے لیے رکھ لیتے ہیں اور دوسرے کا گوشت عزیز و اقارب اور قریبی دوستوں کے گھر بھجوانا پڑتا ہے۔ سری پائے تو ہمارے محلے کے کونسلر نے پہلے ہی بک کرا لیے ہیں کیا کریں جی سب کے ساتھ گزارہ جو ہے۔ ” باس“ کے لیے بھی ایک ” ران“ بھجوانی پڑتی ہے۔

قارئین محترم! یہی باتیں ان دنوں سننے کو مل رہی ہیں۔ اوپر سے قصائیوں اور خاص طور پر موسمی قصائیوں نے بھی وزٹنگ کارڈ اور بروشر گھروں میں پھینکنا شروع کر رکھے ہیں۔ عید الاضحیٰ پر قربانی کے مفہوم کا تو بہت کم تذکرہ ہے گوشت کیسے پکایا جائے کھایا جائے اور پھر ہضم کرنے کے طریقے ہی ہر زبان پر ہیں۔ اور سوشل میڈیا ہر شخص کی زبان بنا ہوا۔ بکروں کی تصویریں خود نمائی کا منہ چڑھا رہی ہیں۔


ای پیپر