” لَرن ، اَن لَرن ، لَرن “
09 اگست 2019 2019-08-09

میں نے اس کالم کو فائنل کرنے سے پہلے دیکھا، لکھے کو مٹایا اور پھر لکھا، یہ جو پھر لکھا تھا وہ کئی پیراگراف پر مشتمل تھا اور جب آپ خود ٹائپ کررہے ہوں تو جتنا مرضی لکھا ہوا ہو اسے مٹانا بہت آسان ہے کہ آپ کنٹرول اے ایک ساتھ دبائیں، لکھا ہوا سلیکٹ ہونے پر صرف ایک بار ڈیلیٹ کے بٹن پر انگلی ماریں، لکھا ہوا سب ختم ہوجائے گا اور اب آپ ایک مرتبہ پھر نئی تحریر لکھ سکتے ہیں۔ ہم کمپیوٹر کو اپنے دماغ سے مشابہہ قرار دیتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ سہولت دماغوں کو بھی میسر ہے کہ وہاں جو لکھا جاتا ہے وہ مٹتا ہی نہیں۔ کہتے ہیں کہ زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے سیکھنے سے کہیں زیادہ ضروری ہے کہ آپ نے جو غلط سیکھ رکھا ہے اسے ’ ان لرن‘ کر دیں۔ کیا وقت آگیا ہے کہ ہم جیسے اردو میڈیموں کو بھی اپنا مافی الضمیر سمجھانے کے لئے انگریزی کے لفظ استعمال کرنا پڑتے ہیں۔

میں نے اپنا قومی ترانہ ایک بار پڑھا اور اسے بار بار پڑھا ، کہتے ہیں کہ ہمارے قومی ترانے میں صرف ایک لفظ اُردو کا ہے باقی سب فارسی ہے۔ جب کبھی کسی کی بات نہیں سمجھ آتی تھی تو کہا جاتا تھا کہ تم کیا فارسی بول رہے ہو۔ ویسے بھلے وقتوں میں بھی فارسی سمجھنا کسی ہمہ شمہ کا کام نہیں ہوتا تھا مگر اس کے باوجود فارسی سمجھنے والوں کی تعداد اتنی کم نہیں تھی جتنی کم آج آبادی کئی گنا بڑھ جانے کے بعد ہے بلکہ فارسی سمجھنے کو تو چھوڑئیے یہاں اردو سمجھنے والے تو موجود ہیں مگر درست اردو لکھنے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ عید کے لئے مشاعرہ ریکارڈ ہو رہا تھا تو عید مبارِک اور عید مبارَ ک کی غلطی سامنے آ گئی۔ اہل علم و قلم نے بتایا کہ لفظ مبارک کو زیر کے ساتھ پڑھنا غلط ہے اور اسی طرح لفظ ’عوام ‘ ہے جسے ٹی وی سکرینوں پر ٹکرز میں بھی دھڑلے کے ساتھ واحد اور مونث لکھا جاتا ہے حالانکہ عوام سے مراد بہت سارے عام لوگ ہیں۔

اگر آپ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ میںا س کالم میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں تو یہ ایک ا چھی کوشش ہے مگر اصل مسئلہ ہی یہی ہے کہ میں جو کہنا چاہ رہا ہوں وہ میں لکھنا نہیں چاہ رہا کہ میری اپنے اور اپنے ادارے کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے۔ آپ اسے احتیاط کہہ سکتے ہیں حالانکہ میری تحقیق ہے کہ احتیاط کرنے والوں کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ وہ غیر محتاط لوگوں سے زیادہ رگڑے جاتے ہیں چاہے وہ صحافت میں ہوں یا سیاست میں۔چلیں چھوڑیں چچا غالب کی طرف چلتے ہیں، فرماتے ہیں ’ ابن مریم ہوا کرے کوئی، میرے دُکھ کی دوا کرے کوئی‘،’ بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ، کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی‘ اور اس کالم کو اسی مشورے کی عملی تفسیر سمجھ لیجئے ، ’ نہ سنو گر برا کہے کوئی، نہ کہو گر برا کرے کوئی‘اور ’ کیا کیا خضر نے سکندر سے، اب کسے رہنما کرے کوئی‘، ’ جب توقع ہی اٹھ گئی غالب، کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی‘۔ بس یہی سمجھ لیجئے کہ بھلے زمانوں میں آمریتیں بھی بھلی ہوا کرتی تھیں، سب کو محرم سمجھتی تھیں یعنی صحافت سمیت سب کے سامنے بے پردہ آجاتی تھیں۔ یوں بھی ہوتا تھا کہ کوئی خبر ناقابل قبول اور ناپسندیدہ ہوتی تو عین کاپی چھپنے کے وقت وہاں سے اکھاڑ لی جاتی اور وہ صفحے پر وہ جگہ خالی چلی جاتی۔ ہمارے بزرگوںکی روایت بیان کی جاتی ہے کہ ایسے ہی ایک موقعے پر اخبار کی جگہ خالی ہو گئی تواس جگہ کے لئے فوری طور پر خبر حاصل کرنا ناممکن ہوگیا کہ بھلے وقتوں میں اتنی ایجنسیاں ( اخباری ) کہاں ہوا کرتی تھیں۔ مدیر اعلیٰ نے کاتب سے کہا ، خبر بنا دو کہ شاہ عالم چوک میں ایک ٹانگہ الٹ گیا اور دو بیبیاں زخمی ہوگئیں۔ ان کے حکم پر یہ خبر لگا دی گئی مگر ایک سے ڈیڑھ سطر کی جگہ پھر بچ گئی۔ مدیر اعلیٰ نے کمال صحافتی تجربے اور ساکھ کا مظاہرہ کیا، فرمایا، اب لکھ دو کہ ہم نے تحقیق کی ہے اور یہ خبر غلط نکلی ہے۔

تو اے میرے پیارے قارئین ذرا سوچئے کہ اب اگر ایسا ہو تو کیا ہو کہ اگر ایک کالم نویس جو لکھنا چاہ رہا ہے وہ اسی طرح لکھ ڈالے اور عین وقت پر اس کا کالم اتار پھینکا جائے، کالم کی جگہ خالی ہو اور کاپی جانے کی ڈیڈ لائن بھی ہو رہی ہو تو اس جگہ کو یا تو خالی جانے دیا جائے یا اسے ٹانگہ الٹنے جیسی کسی خبر سے بھر دیا جائے۔ بس آپ یہی سمجھئے کہ جو لکھا تھا وہ نہیں چھپا اور ایڈیٹر سے پہلے خود کالم نگار نے ہی وہاں ایک ٹانگہ الٹایا اور پھر تحقیق کر کے لکھ دیا کہ ٹانگہ الٹنے کی خبر غلط تھی۔میں نے یہاں تک کچھ نہ کہتے ہوئے کالم کی جگہ پوری کرنے کی پوری کوشش کی مگر اس کے باوجود کچھ جگہ بچ گئی تو سوچا کہ سیکھنے اور سیکھے ہوئے کو بھلانے پر ہی مزید بات کر لی جائے۔ مجھے مطالعہ پاکستان کی کتاب کی پشت پر شائع قومی ترانہ یاد آ رہا ہے، ’ پاک سرزمین شاد باد، کشور حسین شاد باد، تو نشان عزم عالی شان، ارض پاکستان‘مرکز یقین شاد باد‘،’ پاک سرزمین کا نظام، قوت اخوت عوام، قوم ملک سلطنت، پائندہ تابندہ باد، شاد باد منزل مراد‘، ’پرچم ستارہ و ہلال، رہبر ترقی و کمال، ترجمان ماضی شان حال، جان استقبال‘ سایہ خدائے ذوالجلال‘۔

قومی ترانے کو دیکھئے کہ ہمیں بہت کچھ ’لرن‘ اور’ ان لرن‘ کرنے کی ضرورت ہے جیسے پاک سرزمین کا نظام قوت اخوت عوام ۔ میر ایقین واثق ہے کہ اب عوام کی قوت اور اخوت سے زیادہ اہم دوسرے بہت سارے مقاصدہیں۔ بھلے نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کے ساتھ اپنے آئین میں جمہوری اور آئینی کھلواڑ کرتے ہوئے وہی کچھ کیا ہے جو اکہتر میں فوجی طاقت استعمال کرتے ہوئے اندرا گاندھی نے مشرقی پاکستان کے ساتھ کیا تھا۔ ہمیںاس کے جواب میں قومی اتحاد اور یک جہتی جیسے الفاظ کو بھی ’ ری وزٹ ‘ کرنے کی ضرورت ہے کہ ان کا استعمال غیر ضروری ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارا قومی ترانہ اور مقاصد ایک دھڑے کی مبینہ کرپشن اور اس کا خاتمہ ہے ۔اپنے عمر بھر کے ’ لرن‘ کئے ہوئے کو’ اَن لرن‘ کر کے ہی فراست کے اس کمال پر پہنچا ہوں کہ جب ہمارے ’کشمیر بنے گا پاکستان ‘کے نعرے کو یوٹرن دیتے ہوئے نریندر مودی مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ ڈکلیئر کر رہا ہے تو عین اسی موقعے پر جیل میں بند سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی کو گرفتار کرنا ہی اشد قومی ضرورت تھی جب وہ پندرہ اگست کو مظفرآباد میں بھارت کے اقدام کے خلاف ایک جلسے سے بھی خطاب کرنے والی تھی۔ نیب نے اسی روز نواز شریف کے مرحوم بھائی عباس شریف کے بیٹے کو بھی گرفتار کر لیا اور پھر حمزہ شہباز کی رہائش گاہ پر بھی چھاپہ مارا تاکہ ان کے ملازمین کو گرفتار کر سکے۔ شہباز شریف نے ’ لَرن ‘ کیا اور خاموش رہے مگر بلاول کو بھی بے نظیر۔ کے سکھائے ہو ئے سبق کو ’ ان لَرن ‘ کرنے کی ضرورت ہے

ہمیں سوچنا ہو گا کہ اس وقت اہم کیا ہے اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس وقت وقتی ، مفاداتی سیاست سے بالاتر ہو کر قوم کو متحد کرنے کی ضرورت ہے تو پھر آپ کو لرن، ان لرن ، لرن والی فلاسفی دوبارہ پڑھنا ہو گی۔ جو کچھ آپ پڑھتے اور سمجھتے آئے، اسے ان لرن کر دیجئے اور اسے لرن کیجئے جو اس وقت ملک و قوم کا اعلیٰ و بالا مقصد ہے یعنی کرپشن کے خاتمے کے لئے شریف خاندان کے ایک ایک بچے کی گرفتاری۔ویسے کیا ہی خوب ہوتا کہ میں آخری پیراگراف لکھتے ہوئے کنٹرول اے کے فوری بعدڈیلیٹ کا بٹن دبا دیتا اور میرے سامنے ایک خالی صفحہ ہوتا۔ ایک نیا کالم لکھاجاتا، کرپشن کے خلاف ۔۔۔!


ای پیپر