Source : Yahoo

اسمبلی میں وزیراعظم کومبارکباد دینے نہیں احتجاج کرنے جائیں گے‘ شہباز شریف
09 اگست 2018 (22:33) 2018-08-09

راولپنڈی:پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ اسمبلی میں وزیراعظم کو مبارکباد دینے نہیں، احتجاج کرنے جائیں گے، دھاندلی کی تحقیقات کا ٹاسک پارلیمانی کمیشن کو دیں گے، دھاندلی کیخلاف آواز اٹھانا ہمارا حق ہے، نوازشریف پرعزم ہیں اور حوصلے میں ہیں۔

وہ  اڈیالہ جیل میں پارٹی قائد نوازشریف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔انہوں نے اس سوال” آپ نے کل احتجاج میں شرکت کیوں نہیں کی؟ “ کے جواب میں کہا کہ یہ کوئی پہلا احتجاج نہیں ہے۔آئندہ بھی احتجاج ہوں گے۔ اسمبلی کے اندر حلف اٹھائیں گے اور تمام پارٹیز اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کروائیں گے۔ اسمبلی میں وزیراعظم کی مبارکباد دینے نہیں بلکہ دھاندلی کیخلاف احتجاج اور دھاندلی کی تحقیقات کیلئے مطالبہ کرنے جائیں گے۔

الیکشن کو ملک کے اندر اور باہر دھاندلی زدہ قرار دیا جارہا ہے۔شہبازشریف نے کہا کہ نوازشریف پرعزم ہیں اور پورے حوصلے میں ہیں۔۔نوازشریف بالکل انتشار کی سیاست نہیں چاہتے۔لیکن جو حق ہے اور ملک کے ساتھ جوناانصافی ہوئی ہے اس کیخلاف آواز اٹھانا تمام جماعتوں کا حق ہے۔اس حق کیلئے ہم اپنی آواز آئینی اور قانونی طریقے سے اٹھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے ہمیں قانون اور آئینی راستہ اختیار کرنے کی بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمانی کمیشن کو ٹاسک دیں گے کہ وہ اس بات کا کھوج لگائیں کہ الیکشن والے دن کس طرح آرٹی ایس بند ہوگئی تھی۔پولنگ ایجنٹ کو کیوں ہٹایا گیا ان کی غیرموجودگی میں کیوں گنتی کروائی گئی، ووٹرز کی لائنوں میں سست روی کیوں ہوئی؟ ان تمام چیزوں کے حقائق قو کے سامنے لائیں گے۔شہبازشریف نے کہا کہ مذاکرات کا مطلب این آر او نہیں ہے۔مذاکرات کے بغیر کبھی سیاسی جماعتیں زندہ نہیں رہیں۔

این آر او کوئی لینا چاہتا ہے نہ ہی دینا چاہتا ہے۔ صدر ن لیگ نے کہا کہ الیکشن سے قبل بدترین پری پول دھاندلی کی گئی۔ ہمارے ایک میدوار کیخلاف رات کی تاریکی میں فیصلہ سنایا گیا۔ اس کے باوجود قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بھی ہمارے زیادہ امیدوار جیتے ہیں۔۔پنجاب میں حکومت سازی سے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ سب عوام کے سامنے ہے۔کیسے جہازوں میں پیسے بھر لوگوں کی خریدوفروخت ، منڈی لگائی ؟ ہم نے تواس کالے دھندے کی بات نہیں کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 14اگست کی خوشیوں کے ساتھ کیا ہم الیکشن میں دھاندلی کی خوشی منا سکتے ہیں تومیرا جواب نہیں ہے۔


ای پیپر