Source : Yahoo

تین اتحادی جماعتوں میں رسہ کشی
09 اگست 2018 (22:12) 2018-08-09

کراچی: سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے کیلئے تین اتحادی جماعتوں میں رسہ کشی شروع ہوگئی ہے۔صوبے میں قائد حزب اختلاف کے لیے جی ڈی اے کے ووٹ فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس نے مرکز میں پاکستان تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان کیا ہے تاہم سندھ اسمبلی میں تینوں جماعتوں کے درمیان قائد حزب اختلاف کے عہدے کے حصول کیلئے دوڑ جاری ہے۔پاکستان تحریک انصاف 23 جنرل اور 7مخصوص نشستوں کے ساتھ صوبے کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہے تاہم اس کو اپنا اپوزیشن لیڈر لانے کے لیے جی ڈی اے یا ایم کیو ایم میں کسی ایک جماعت کی حمایت لازمی حاصل کرنا ہوگی۔

ایم کیوایم کے پاس سندھ اسمبلی میں 21 کا ہندسہ ہے جب کہ جی ڈی اے 13 ارکان پر مشتمل پارلیمانی پارٹی ہوگی۔اپوزیشن لیڈر کے لیے اکثریت ثابت کرنے والی جماعت حقدار ٹھہرے گی۔ایم کیوایم جی ڈی اے کو ساتھ ملانے کے لیے متحرک ہے ، دوسری جانب کھلاڑیوں اور پتنگ والوں میں پھر دراڑ پڑنے کا امکان نظر آرہا ہے اور ایک عہدہ دونوں میں تقسیم کا فارمولہ بھی زیر غور ہے۔پی ٹی آئی میں خرم شیرزمان ، حلیم عادل اور فردوس شمیم نقوی اپوزیشن لیڈر بننے کی دوڑ میں شامل ہیں۔

ایم کیوایم اور جی ڈی اے مل جائیں تو تعداد 34 بن جاتی ہے جس کیلئے ایم کیوایم نے جی ڈی اے سے رابطہ بھی کرلیا ہے ، ایم ایم اے اور تحریک لبیک کے 3 ارکان اپوزیشن میں بیٹھتے ہیں تو سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کی تعداد67 ہوجائے گی۔کپتان کے سینئر کھلاڑیوں اور ایم کیوایم کی خواہش ہے کہ لڑائی کے بجائے اپوزیشن لیڈر کے لیے پہلے ہم پھر تم کا فارمولہ طے پاجائے یعنی اپوزیشن لیڈر کے لیے اڑھائی اڑھائی سال کی مدت مقرر کرلی جائے۔حکومتی جماعت کی طرح اپوزیشن کی صفوں میں بھی پارلیمانی عہدوں کے حصول کی جنگ تیز تر ہے ،کون کیا بنے گا اور کیسے بنے گا جلد اصل صورتحال سامنے آجائے گی۔


ای پیپر