Source : Yahoo

پی ٹی آئی نے تاریخ کا رُخ موڑ دیا
09 اگست 2018 (21:27) 2018-08-09

چوہدری فرخ شہزاد:2018ءکے انتخابات کے بعد حکومت سازی کا عمل جاری ہے جس میں تادم تحریر تقریباً صاف نظر آرہا ہے کہ وفاق، پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی کی حکومت بننے جا رہی ہے جبکہ سندھ میں پیپلزپارٹی اپنا اقتدار جاری رکھے گی جس میں وہ لگاتار تین دفعہ حکومت بنا کر ہیٹرک مکمل کر رہی ہے۔ بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔ عمران خان کی وکٹری سپیچ کو پی ٹی آئی کا چارٹر قرار دیا جاسکتا ہے جس کے بارے میں ان کے حامیوں اور مخالفین میں سے کسی کے پاس بھی کچھ کہنے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ ان کی تقریرکی تفصیلات بیان کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ دیگر سیاسی پارٹیوں کے ردّعمل پر بات کی جائے۔


ان انتخابات کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ عوام نے مذہبی جماعتوں کو مسترد کردیا ہے۔ پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ امیرجماعت اسلامی سراج الحق اور جے یو آئی ایف کے مولانا فضل الرحمن اپنی ذاتی سیٹیں اور ساکھ بچانے میں ناکام رہے ۔ حافظ سعید کی پارٹی بُری طرح ناکام ہوئی حالانکہ انہوں نے ملک بھر سے اُمیدوار کھڑے کیے تھے۔ اسی طرح لبیک پارٹی جو دھرنے کے بعد اقتدار میں حصہ داری کی سب سے بڑی دعویدار تھی، صرف صوبائی اسمبلی میں دو سیٹں لے پائی ۔ اس الیکشن کی ایک اور خاصیت یہ تھی کہ بلوچستان میں جاری علیحدگی کی تحریک کی حمایت کرنے والی پارٹی پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی بھی اپنی سیٹ ہارگئے۔ بلوچستان کے عوام نے پاکستان کے ساتھ رہنے والی پارٹی یعنی بلوچستان عوامی پارٹی کو سب سے زیادہ ووٹ دیا جوکہ خوش آئند ہے۔


مولانا فضل الرحمن کی پانچ پارٹیوں کے اتحاد نے پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرنے کے لیے جوآل پارٹیز کانفرنس بلائی تھی وہ ناکام ہوگئی ہے۔ سب سے بڑی دو سیاسی پارٹیوں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی دونوں اس حق میں ہیں کہ پارلیمنٹ میں اپنا کردار اداکریں۔ اس طرح مولانا فضل الرحمن کی غیرجمہوری سوچ کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور آخر کار انہوں نے بھی ایوان میں بیٹھنے کا فیصلہ کر لیا۔ ان انتخابات نے قوم کی ایک اور غلط فہمی کا ازالہ کردیا ہے کہ جیپ کے نشان والے اُمیدواروں کا تعلق اسٹیبلشمنٹ سے ہے، اگر یہ سچ ہوتا تو یہ اُمیدوار اتنی بُری شکست نہ کھاتے، یہ ن لیگ کا ایک پراپیگنڈہ تھا جو غلط ثابت ہوا۔ البتہ چوہدری نثار علی خان کی دونوں نشستوں پر شکست سب کے لیے باعث حیرت ہے۔ چوہدری نثارکی طویل ترین پریس کانفرنسیں بھی انہیں نہ بچا سکیں کیونکہ ان کے اندر فیصلہ کرنے کی قوت کے فقدان نے انہیں عوام کی نظروں میں گرا دیا ۔


پاکستان مسلم لیگ ن جو اپنے آپ کو پاکستان کے لیے ناگزیر سمجھتی تھی، اُسے اس ناکامی نے گہرے زخم لگائے ہیں اور وہ ہر قیمت پر پی ٹی آئی کی مخالفت میں کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ سیاست میں اس سے بڑی قلابازی ہو ہی نہیں سکتی کہ ن لیگ چوہدری پرویزالٰہی کے ساتھ تجدیدِوفا کا عہد پھر سے کرنا چاتی ہے تاکہ پنجاب میں ڈوبتے کو تِنکے کا سہارا مل سکے مگر چوہدری پرویزالٰہی کے ساتھ 2013ءکا الیکشن جیت کر ن لیگ نے جو سلوک کیا وہ اُسے بھولے نہیں ہیں۔ جب پوری کی پوری ق لیگ راتوں رات نواز شریف کے پاﺅں پکڑکر معافی مانگ کر واپس ن لیگ میں چلی گئی۔ اس موقع پر نواز شریف نے کہا تھا کہ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویزالٰہی کے علاوہ باقی سب کو معافی ہے لیکن چوہدری برادران نے بھی اپنے وقار اور حمیت کا سودا نہیں کیا اور اپنی پارٹی کا تشخص برقرار رکھا۔


اس الیکشن کا سب سے بڑا سرپرائز کراچی سے آیا ہے جہاں پی ٹی آئی نے14 سیٹیں جیت کر مثال قائم کردی ہے۔ پاک سرزمین پارٹی ایک سیٹ بھی نہ لے سکی۔ خیال تھا کہ ایم کیو ایم کے ٹوٹنے کا فائدہ پیپلزپارٹی کو ہو گا مگر وہ تو لیاری کی اپنی موروثی سیٹ بھی نہ بچاسکی۔ یہ بہت بڑی تبدیلی ہے جو پی ٹی آئی پر بھاری ذمہ داری کی متقاضی ہے کہ آپ کراچی کو Own کریں اور کراچی کے عوام کے مسائل حل کریں۔ کسی نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ کراچی سے جبر اور خوف کی سیاست کو دفن کردیا جائے گا۔


ان انتخابات میں عمران خان نے ”ہمارے لہجے میں یہ توازن بڑی صعوبت کے بعد آیا“ کے مفہوم کو سچ ثابت کردیا۔ جب تاریخ بن رہی ہوتی ہے تو واقعات خاموشی سے آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ فلموں والا کوئی بیک گراﺅنڈ میوزک نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات تاریخ کے ان قیمتی لمحوں کے عینی شاہدین کو احساس تک نہیں ہوتا کہ کاتبِ تقدیر نے ان کی آنکھوں کے سامنے جو صفحہ اور جو باب رقم کیا ہے اس کی اہمیت کیا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو جب پاکستان کے اُفق پر نمودار ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے قومی سیاست کے ایک لازمی عنصرکی شکل اختیارکرتے چلے گئے تو اس وقت بھی معاصرین کو ان کے قد کاٹھ کا درست ادراک نہیں تھا کہ ان کے سامنے کتنا بڑا لیڈر موجود ہے، اس کا احساس انہیں تب ہوا جب وہ منظر سے Eliminate ہو گئے۔ پاکستان ایک بار پھر تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کہانی کا سب سے اہم کردار عمران خان ہیں، جنہوں سیاست کے خارزار کے بڑے گرم وسرد دیکھے ہیں۔ 22 سال کی طویل جدوجہد کے بعد اقتدارکی غلام گردشیں ان کی منتظر ہیں۔ ملک کا سب سے بڑا شیش محل وزیراعظم ہاﺅس، اُن کی راہ تک رہا ہے مگر وہ کہتے ہیںکہ جس ملک میں بھوک اور غربت نے رقصِ ابلیس برپا کررکھا ہے وہاں اُنہیں اتنے بڑے محل میں رہتے ہوئے شرم آتی ہے۔ ملی غیرت کا اس سے بڑا مظاہرہ دوبارہ دیکھنے کے لیے عمرِخضر درکار ہے۔


ملک کے چپے چپے میں سیاسی مخالفین کے ساتھ لڑنے والے عمران خان انتخابات کے نتائج کے بعد بہت بدلے بدلے لگتے ہیں۔ شعلہ بیانی کی جگہ مستقل مزاجی آگئی ہے۔ ان کی پہلی تقریر نے ان کے حامیوں اور مخالفین ہر ایک کو دنگ کردیا ہے۔ یہ وہ تقریر تھی جس میں کسی موقع پر بھی ان کے لب ورُخسار پر رسمی مسکراہٹ کا دُور دُور تک نام ونشان نہیں تھا اور نہ ہی کوئی فاتحانہ شعبدہ بازی کے آثار تھے۔ وہ شروع ہی سے Formalities پر یقین نہیں رکھتے، یہ وہ تقریر تھی جس میں انہوں نے شیروانی تو دُور کی بات ہے واسکٹ پہننے کی بھی زحمت نہیں کی اور سب سے اہم بات یہ تھی کہ سارا خطاب فی البدیہہ تھا۔ ایسے لگتا تھا کہ اُنہیں پورا پورا ادراک تھا کہ انہیں کیا کہنا ہے اور کیسے کہنا ہے۔ لہٰذا انہوں نے کسی Speech Writer کا سہارا نہیں لیا۔ انہوں نے واضح کردیا کہ پاکستان کی تعمیرِنو کا مشن ان کی ذات سے بہت بڑا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جتنی کردارکشی گزشتہ تین سال میں ان کی کی گئی ہے شاید ہی کسی اور کی ہوئی ہوگی مگر میں اس کو بھول چکا ہوں اور اسے پیچھے چھوڑتا ہوں۔


عمران خان کی اس تقریر کو ان کی پارٹی کا چارٹر قرار دیا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے نہایت مختصر، جامع اور موثرانداز میں یہ بتا دیا ہے کہ وہ پاکستان کے لیے کیا کرنا چاہتے ہیں۔ سب سے پہلے تو انہوں نے یہ کہا کہ کسی کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے رول آف لاءکی بات کی اور کہا کہ میری اپنی پارٹی کا بھی اگر کوئی بندہ غلط کام کرے گا تو اُس سے بازپُرس کی جائے گی۔ اپنی تقریر کے دوران ایک موقع پر ان کا کہنا تھا کہ چائنہ کی ترقی کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ملک سے کرپشن کا خاتمہ کیا جس کے بعد ان کا ملک ترقی کرتا چلا گیا۔ انہوں نے پاکستان کے ان اڑھائی کروڑ بچوں کا ذکر کیا جو سکول جانے کی عمر میں ہیں مگر سکولوں سے باہر ہیں، یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے کیونکہ آنے والی نسل کی اتنی بڑی تعداد جہالت میں پروان چڑھے گی تو انجام کیا ہو گا۔


عمران خان نے دو سرکاری اداروں کا بطورِ خاص ذکر کیا ہے جن کی اصلاح کیے بغیر ترقی کی جانب ایک قد م بھی نہیں چل سکتے۔ ایک تو انہوں نے قومی احتساب بیورو (NAB) کو فعال بنانے کا عزم کیا تاکہ لوٹ کھسوٹ کا خاتمہ کیا جاسکے اور دوسرا انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے بارے میں کہا کہ اس کی مکمل Restructuring کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو قوم دُنیا میں خیرات دینے میں صفِ اوّل میں ہو، آخر وہی قوم ٹیکس دینے سے کیسے اور کیوں اجتناب کر سکتی ہے؟ ٹیکس نظام میں اصلاحات ان کے ایجنڈے کا حصہ ہیں اور وہ اپنی انتخابی تقریروں میں کہہ چکے ہیں وہ ٹیکس وصولی کو 400 ارب سے بڑھا کر 800 ارب روپے کر کے دکھائیں گے۔


ان کی تقریر کا ایک اہم نقطہ یہ تھا کہ مخالفین انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا رہے ہیں حالانکہ یہ انتخابات تاریخ کے شفاف ترین انتخابات تھے، پھر بھی انہیں جس حلقے پر اعتراض ہے ہم اس حلقے کا ریکارڈ کھلوا کر شفافیت ثابت کریں گے۔ یاد رہے کہ حلقے کھولنے کا یہ وہی مطالبہ ہے جس کے لیے عمران خان کی پارٹی کو تین سال تک عدالتوں میں قانونی جنگ لڑنا پڑی تھی۔


عمران خان کی تقریر میں ایک اہم بات کا ذکر نہیں تھا کہ ملک پر قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کیسے کم کیا جائے گا کیونکہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ نئی حکومت قرضہ لیے بغیر ایک مہینہ بھی نہیں چل سکتی، اصل میں اگر وہ قرضوں کا ذکر چھیڑ دیتے تو بات اُس 32ارب ڈالر تک پہنچ جانی تھی جو گزشتہ حکومت نے 5سالوں میں لیا ہے جو تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔ اس وقت ملک پر قرضوں کا بوجھ 93 بلین ڈالر عبور کرچکا ہے۔


انہوں نے سادگی اپنانے کی بات کی ہے۔ وزیراعظم ہاﺅس اور چاروں گورنر ہاﺅسز کو بہتر مقاصد کے استعمال کی بات کی ہے۔اخراجات کم کرنے کا اشارہ دیا ہے لیکن معیشت کو ایک نئی ڈگر پر ڈالنے یا ملک میں پانی کے بحران پر ڈیموں کی تعمیر پر بات کرنے سے اجتناب کیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مکمل ایجنڈا وہ اپنے معاشی ماہرین سے مشاورت کے بعد کرنا چاہتے ہیں۔


پاکستان کے بیرونی دُنیا کے ساتھ تعلقات کے بارے میں عمران خان کی لائن بڑی کلیئر تھی۔ انہوں نے افغانستان کے ساتھ Open Border کی بات کی ہے اور ساتھ یہ بھی کہا کہ افغانستان میں چونکہ امریکہ بھی مقیم ہے لہٰذا ان کے ساتھ ہم ایسے تعلقات چاہتے ہیں جو دونوں ممالک کے لیے Mutually Beneficid ہوں گویا عمران خان نے پاک امریکہ تعلقات کے مستقبل کا ایک نقشہ کھینچ دیا ہے کہ ایسے تعلقات جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوں۔ اس کے علاوہ انہوں نے مڈل ایسٹ میں پاکستان کی پوزیشن واضح کرتے ہوئے پہلے ایران سے بات شروع کی اور پھر سعودی عرب کا ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان کو ان کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنا ہو گا۔ یاد رہے کہ ماضی میں پاکستان کے سعودی عرب کی طرف جھکاﺅ کی بنا پر ایران نے پاکستان کو ثالث ماننے سے انکارکردیا تھا۔


بھارت کے بارے میں عمران خان نے کہا کہ وہ مجھے بالی وڈ کا وِلن سمجھتے ہیں کیونکہ حالیہ الیکشن کے دوران بھارتی میڈیا اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ اگر عمران خان کی پارٹی جیت گئی تو بھارت کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں میرے بہت دوست ہیں۔ یاد رہے کہ عمران خان کرکٹ کی وجہ سے بھارت میں بھی یکساں مقبول اور لاکھوں دلوں کی ھڑکن رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت ہمارے ساتھ ایک قدم آگے بڑھے گا تو ہم دو قدم آگے جائیں گے لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کشمیر کا ذکر کیا اور کشمیریوں کے انسانی حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا گویا بھارت کو پیغام دے دیا گیا ہے کہ ان کے ساتھ تعلقات کشمیر کا مسئلہ حل کیے بغیر ممکن نہیں ہیں۔


عمران خان نے اپنی تقریر میں چین کا ذکر کرپشن کے خاتمے کی مثال کی حد تک کیا ہے، نہ تو CPEC کا ذکر ہوا اور نہ ہی پاکستان کی سفارتی ترجیحات میں چائنہ کا ذکر کیا گیا، شاید عمران خان کی نئی حکومت امریکہ کو زیادہ ترجیح دینا چاہتی ہے لیکن چائنہ کو نظرانداز کرنا فی الحال ممکن نہیں ہے اور نہ ہی مناسب ہے۔


سیاسی مبصرین کی طرف سے ان کی تقریر پر تبصرے جاری ہیں، اس تقریر میں Reconciliation اور تعمیرِنو کی بات کی گئی ہے۔ قوم کو اُمید کی کرن دکھائی گئی ہے اور چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کا عزم کیا گیا ہے لیکن یہ تو محض نقطہ¿ آغاز ہے، یہ قوم اس طرح کے وعدے وعید ایک عرصہ سے سنتی آرہی ہے۔ جب تک عملی طور پر انقلابی اقدامات نہیں اُٹھائے جائیں گے عوام کو زیادہ دیر تک خوش رکھنا ممکن نہ ہو گا لیکن قوم میں اتنا شعور ہے کہ وہ آپ کی نیک نیتی اور اخلاص کو دیکھے گی جس سے قومی سادگی مہم کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ ارکانِ اسمبلی کی تنخواہوں اور اندھادُھند مراعات اور بیرون ملک اداروں ان سب میں کمی کی جائے۔

نیب اور ایف بی آر کے علاوہ دیگر تمام وزارتوں میں بھی اصلاحات لائی جائیں، بدعنوانی ختم کی جائے۔ بڑی بڑی بلٹ پروف گاڑیاں اور 40/40 گاڑیوں کا پروٹوکول ختم کیا جائے اور ایک منصفانہ معاشرے کے قیام کی تشکیل کا وعدہ پورا کیا جائے۔ جس نظام کی تبدیلی کے لیے وہ گزشتہ 22 سال جدوجہد کرتے رہے ہیں اب اس کی تکمیل کا وقت آگیا ہے۔ عمران خان کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ سیاست میں کیوں آئے ہیں وہ بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے سب کچھ پہلے ہی ضرورت سے زیادہ دے دیا ہے اگر وہ تاریخ میں نام لکھوانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے یہ بہترین موقع ہے بلکہ اس سے اچھا موقع شاید کسی کے لیے بھی ممکن نہ ہو، اب نہیں تو کبھی نہیں۔
٭....٭....٭


ای پیپر