Source : File Photo

پاکستان تحریک انصاف کی خارجہ پالیسی کا امتحان!
09 اگست 2018 (20:37) 2018-08-09

حافظ طارق عزیز:کوئی بھی ملک اپنے معاشی مفادات کے تحفظ کی خاطر اپنی جغرافیائی لوکیشن اور اہمیت کو مدنظر رکھ کر دیگر ممالک کے ساتھ جو تعلقات استوارکرتا ہے وہ خارجہ تعلقات کہلاتے ہیں اور جن خطوط پر یہ تعلقات بنائے جاتے ہیں ، اسے خارجہ پالیسی کہاجاتا ہے۔ کسی بھی ملک کی بقاءاور خوشحالی کے لئے اس کی خارجہ پولیسی انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے کیونکہ اس ہی کی بدولت وہ اپنے اندرونی اور بیرونی مفادات کا تحفظ اور چیلنجزکا سامناکرتا ہے۔ یوں تو خارجہ تعلقات کی تاریخ بہت قدیم ہے لیکن جب سے دنیا ایک عالمگیرگاو¿ں کا روپ دھار رہی ہے، ان کی اہمیت اور بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ اب کسی ملک کے لئے دنیا سے کٹ کر اپنا وجود برقرار رکھنا قریب قریب ناممکن ہو چکا ہے۔ اسی لئے ہر ملک کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی انتہائی مو¿ثر اور اس کے مفادات کا تحفظ کرنے والی ہو۔ پاکستان بھی دنیاکے ان ممالک میں سے ہے جو خارجہ تعلقات کی اہمیت جانتے اور ان سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہونے کی جستجو میں رہتے ہیں۔ اور جو حکومت جدید سیاسیات کے اس پہلوکو نظر اندا کرتی ہے، اسے اپوزیشن اور عوام کی طرف سے شدید نتقیدکا سامناکرنا پڑتا ہے۔ اس رویے کی واضح مثال ہماری سابقہ حکومت ہے جس کو خارجہ تعلقات کے حوالے سے شدید ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
اسی حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے الیکشن 2018ءمیں اکثریت حاصل کرنے والی پاکستان تحریک انصاف فارن پالیسی پر خصوصی توجہ دینے کا عندیہ دے چکی ہے۔ تحریک انصاف کی اس نمایاں برتری پر دوست اور ہمسایہ ممالک کی جانب سے جو پر مسرت ردعمل سامنے آرہا ہے، اس سے بھی یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ آنے والی حکومت کے دور میں پاکستان کے خارجہ تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوگی۔ اس خوشگوارآغاز کا سہرا چیئرمین تحریک انصاف اور متوقع وزیراعظم عمران خان کے سر ہے، جنہوں نے جیت کے بعد اپنی پہلی نشری تقریر میں دوست اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات پر خصوصی گفتگو کی اور دنیا کو یہ پیغام پہنچایاکہ پاکستان کی آنے والی حکومت پُرامن بقائے باہمی اور عالمی تعلقات میں امن، بھائی چارے اور احترام پر مبنی دو طرفہ تعلقات پر یقین رکھتی ہے اور ہمارا یقین ہے کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھ کر ہی کوئی ملک سماجی اور معاشی ترقی کے مقاصد حاصل کر سکتا ہے۔ پاکستان کے متوقع وزیراعظم کی اس تقریر سے دوست اور ہمسایہ ممالک کو جو مثبت پیغام گیا اس کے اثرات مسلسل ظاہر ہو رہے۔ عمران خان کی وکٹری سپیچ کے اگلے روز افغان صدر اشرف غنی نے فون کرکے عمران خان کو الیکشن میں کامیابی پر مبارکباد دی اور وزارت عظمیٰ کا حلف لینے کے بعد دورہ کابل کی دعوت بھی دی، جو انہوں نے قبول کر لی۔ اس کے بعض بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا فون، آنے والی حکومت کے خارجہ تعلقات کی مضبوط بنیادوں اور ارادوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ بھارتی وزیراعظم کے ساتھ عمران خان کی گفتگو، اعتماد کی، جس فضا اور یقین سے سرشار تھی، اس سے قوی امید ہے کہ دونوں ملک متنازعہ معاملات کو زیر بحث لاکر تعلقات کو نارمل سطح پر لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ قابل ذکر یہ ہے کہ خود بھارتی وزیراعظم نے اس پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ چین اور پاکستان کے باہمی تعلقات یوں تو کسی وضاحت کے متقاضی نہیں، مگر یہاں اس کا ذکر اس لیے ناگزیر ہے کہ ماضی کی حکمران سیاسی جماعت اپنے منفی سیاسی ایجنڈے کے زیر اثر پاکستان تحریک انصاف کے خلاف کچھ ایسا پروپیگنڈا کرتی رہی ہے، جس کا مقصد پاکستان تحریک انصاف اور چین کے مابین غلط فہمیاں پیدا کرنا تھا یا عوامی سطح پر پی ٹی آئی کی پوزیشن کو نقصان پہنچانا مقصود تھا، تاہم انتخابی کامیابی کے بعد عمران خان نے جس طرح بھر پور انداز میں چین کی مثالیں دے کر انسانی ترقی کے واقعات کو بیان کیا، اس سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کو غربت سے نکالنے اور ترقی دینے کے مقاصد میں چین بھی ان کا آئیڈیل ہے۔ اُدھر چین کی جانب سے عمران خان کی کامیابی پر جو مثبت ردعمل سامنے آ رہا ہے، وہ بھی قابل ذکر ہے۔ اس سے دو طرفہ تعلقات میں کسی سرد مہری کے خدشے کے برعکس مستقبل میں مضبوط ترین اور پر اعتماد تعلقات کے شواہد ملتے ہیں۔ متوقع وزیراعظم عمران خان نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کی بات کرتے ہوئے ایران کا ذکر بھی کیا اورکہا کہ ایران کے ساتھ تعلقات کو ہم مزید بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ ایران کی طرف سے بھی ان کے اس بیان کو سراہا گیا ہے اور ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں پاک ایران تعلقات کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے آنے والی پاکستانی حکومت کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے پرآمادگی ظاہر کی ہے۔ بعد ازاں ایرانی سفیر نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور متوقع وزیراعظم کو اپنی حکومت کی جانب سے ایک خط بھی پہنچایا، جبکہ اسلام آباد میں متعین سعودی سفیر وہ پہلی عالمی شخصیت تھے جنہوں نے پی ٹی آئی کی انتخابی کامیابی کے اعلان کے اگلے روز عمران خان کے ساتھ ملاقات کی اور سعودی فرمانروا شاہ سلمان کا خط ان تک پہنچایا۔
اس میں شک نہیں کہ پاکستان جیسی علاقائی اثرورسوخ اور عالمی اہمیت کی حامل ریاست کا دنیا سے کٹ کر، تنہائی میں رہنا اس کے اپنے مفادات کے بھی خلاف ہے اور عالمی اور علاقائی مفادات کے بھی، مگر بدقسمتی سے پچھلی قریب ایک دہائی کے دوران ہم نے خود کو اسی طرح تنہا کیے رکھا ہے، جس کے باعث اس طویل عرصے تک پاکستان کا عالمی اور علاقائی کردار نمایاں طور پرکم ہوتا گیا ہے، جس کا نقصان ہمیں اس طرح ہوا کہ خطے میں ہمارے مفادات سے ٹکرانے والی قوتیں یوں ظاہرکرتی رہی ہیں، گویا انہوں نے خطے کی سیاست میں پاکستان کو پچھاڑ دیا ہے۔ اس سارے عرصے میں ’عالمی تنہائی‘ کا طعنہ ہمارے دامن پر مستقل داغ کی طرح چسپاں رہا ہے۔ یہ ’عالمی تنہائی‘ کا دور دراصل قیادت کے بحران کا نتیجہ تھا۔ جب ہماری حکومتوں کے پاس وزارت خارجہ کی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کرنے کے قابل کوئی شخصیت نہ ہو گی اور ملک لمبے عرصے تک وزیر خارجہ ہی سے محروم رہے گا اور جب وزیراعظم امریکی صدر کے سامنے اعتماد سے گفتگوکرنے کی بجائے آموختہ دہرانے لگے، تو پاکستان کا عالمی کردار کیونکر پس پشت نہ چلا جائے گا۔ اس عرصے میں معیشت ہی میں نہیں، عالمی تعلقات میں بھی ملک نے تاریخی خسارہ اٹھایا ہے، مگر امید کی جاتی ہے کہ آنے والی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں ملک کو اس قیادت کے بحران سے نجات مل جائے گی۔ پاکستان تحریک انصاف میں عالمی امور اور وزارت خارجہ کی ذمہ داریاں نبھانے کی قابلیت رکھنے والی کئی شخصیات ہیں، بعض ماضی میں خارجہ امورکے شعبے میں ذمہ داریاں ادا کر چکے ہیں اور بعض اس شعبے کی عالمانہ مہارت رکھتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والی حکومت خارجہ امورکی ذمہ داری کے لیے کس کا انتخاب کرتی ہے۔
تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی بارہا اپنے بعض بیانات میں خارجہ پالیسی کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر بیان کر چکے ہیں کہ تحریک انصاف اقتدار میں آکر آزاد خارجہ پالیسی اپنائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین، ایران، افغانستان، متحدہ عرب امارات اور بھارت سمیت علاقائی ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات کا قیام تحریک انصاف کی پالیسیوں کے اہم ستون ہوں گے۔ شاہ محمود قریشی کے بیانات اس حوالے سے بھی اہم ہیں کہ وہ ماضی میں پاکستان کے وزیر خارجہ رہ چکے ہیں نیز انہوں نے امریکہ کے ایک نقطہ نظر کی مخالفت کی وجہ سے وزارت خارجہ ہی نہیں بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی چھوڑ دیا اور تحریک انصاف کو اپنی منزل قرار دے دیا۔ ان کے اس پس منظر نیز تحریک انصاف میں ان کی اہم حیثیت کو سامنے رکھتے ہوئے توقع کی جاسکتی ہے کہ پارٹی کی خارجہ پالیسی کی تشکیل میں وہ اپنی اس فکر کو سمونے میں موثرکردار ادا کریں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کے دیگر راہنما بھی وقتاً فوقتاً خارجہ پالیسی کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔
تحریک انصاف خارجہ پالیسی کے حوالے سے جن خیالات کا اظہار کر چکی ہے اب وقت آگیا ہے کہ ان کو عملی جامہ پہنایا جائے۔اب ہمیں ” نئے سرے سے ایک آزاد اور خود مختار خارجہ پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ ”پروامریکی“ پالیسی کو ختم کیا جانا چاہیے۔ ہنری کسنجر کے بقول ملکوں کے کسی دوسرے ملک کے ساتھ دوستی نہیں بلکہ اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں، اس لئے خوش فہمی سے نکلاجائے کہ کوئی ہمارا دوست ہے۔ ہر ملک اپنے مفادات کی تکمیل کے لئے سرگرداں رہتا ہے اس لئے ہمیں بھی اپنے مفادات کا تحفظ عزیز ہوتا چاہئے۔ خاص طور پر امریکہ کے ساتھ تعلقات برابری کی سطح پر استوار ہونے چاہیئں۔ امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کو استعمال کیا ہے۔امریکہ اپنے نیو ورلڈ آرڈر پر عملدرآمد کرنے کے لئے ہر جائز ناجائز ہتھکنڈا استعمال کر رہا ہے۔اس لئے اب ہمیں ہمیں پروامریکن کیمپ سے باہر نکلنا ہوگا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمسائے بدلے نہیں جا سکتے، اس لئے عقلمند انسان وہی ہوتا ہے جو اپنے ہمسایوں کے ساتھ بنا کر رکھتا ہے ۔ یہ بات جتنی اہمیت ایک فردکے لئے رکھتی ہے اس سے کہیں زیادہ اہمیت کی حامل کسی بھی ملک کے لئے ہے۔ موجودہ حالات کا تقاضا یہی ہے کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے لئے مو¿ثر پالیسی سازی کی جائے۔ افغانستان ، ایران اور بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات جہاں ان مملاک کے لئے سود مند ثابت ہوسکتے ہیں وہاں سارے خطے کے امن اور خوشحالی کے لئے بھی ضروی ہیں۔ اس لئے نئی متوقع حکومت کو اس ضمن ایسا کردار ادا کرنا ہوگا جس سے ہم بطور قوم سرخرو ہو سکیں۔
٭٭٭


ای پیپر