Source : Yahoo

میزبانِ رسول حضرت ابو ایوب انصاریؓ
09 اگست 2018 (20:34) 2018-08-09

حافظ محمد عمر:

نام ونسب

خَالِد بن زید نام، ابوایوب کنیت، مدینہ منورہ کے قبیلہ خزرج کے خاندان نجار سے تھے، آپ ؓ کا سلسلہ¿ نسب یہ ہے، خالد بن زید بن کلیب بن ثعلبہ بن عبد عوف خزرجی، خاندان نجار کو قبائل مدینہ میں خود بھی ممتاز تھا، تاہم رسول کریم کی وہاں نانہالی قرابت تھی جس نے اس قبیلہ کو مدینہ کے دیگر قبائل سے ممتازکر دیا تھا۔ ابو ایوب ؓاس خاندان کے رئیس تھے۔

اسلام

ابوایوب انصاری ؓ ان منتخب بزرگان مدینہ میں ہیں، جنہوں نے عقبہ کی گھاٹی میں جا کر آنحضرت کے دست مبارک پر اسلام کی بیعت کی تھی۔ جب مکہ سے دولت ایمان لے کر پلٹے تو آپ ؓ کی فیاض طبعی نے گوارا نہ کیا کہ اس نعمت کو صرف اپنی ذات تک محدودرکھیں؛ چنانچہ اپنے اہل و عیال، اعزہ واقربا اوردوست واحباب کو ایمان کی تلقین کی اوراپنی بیوی کو حلقہ¿ اسلام میں داخل کیا۔

میزبان رسول

تاجدارِ رسالت کا سفر ہجرت ختم ہوا اور مدینے میں آمد ہوئی تو جانثاروں کا جُھرمَٹ ساتھ تھا۔ سواری جوں جوں آگے بڑھتی جاتی راستے میں انصارِ مدینہ انتہائی جوش ومسَرت کے ساتھ اونٹنی کی مہار تھام کر عرض کرتے: یارسولَ اللہ! آپ ہمارے گھر کو شرفِ نزول بخشیں مگر نبی کریم ہر ایک سے فرماتے: اس کے راستے کو چھوڑ دو! جس جگہ اللہ تعالیٰ کو منظور ہو گا اسی جگہ میری اونٹنی بیٹھ جائے گی۔ بالآخر ایک مکان کے سامنے اونٹنی بیٹھ گئی۔ صاحب ِمکان جلدی سے آگے بڑھے اور آپ کا سامان اُتارا اور اٹھا کر اپنے گھر میں لے گئے۔ سلطان مدینہ حضرت محمد نے سات ماہ یہیں قیام فرمایا یہاں تک کہ مسجدِ نبوی اور اس کے آس پاس کے حُجرے تیار ہوئے تو امہات المومنینؓ کے ساتھ ان حجروں میں قیام فرما ہوگئے۔ یوں حضرت محمد کی میزبانی کا شرف حاصل کرنے والے سب سے پہلے خوش نصیب صحابی حضرت سیّدنا ابوایوب انصاری ؓ ہی تھے۔ ہجرت سے قبل عقبہ کی گھاٹی میں نبی کریم کے دستِ اقدس پر بیعت کرنے والے تقریباً 70 خوش نصیب حضرات میں آپؓ بھی شامل تھے۔ آپ ؓ اپنے ہر قول و فعل سے پیارے آقا کے لئے بے پناہ ادب و احترام اور عقیدت و جانثاری کا مظاہرہ کرتے، اسی لئے پہلے پہل آپؓ نے نبی کریم کے لئے اُوپرکی منزل پیش کی مگر نبی کریم نے ملاقاتیوں کی آسانی کا لحاظ فرماتے ہوئے نیچے کی منزل کو پسند فرمایا۔

مجبوراًً حضرت ابو ایوب انصاری ؓ اوپر کی منزل میں رہے۔ ایک مرتبہ اتفاق یہ ہوا کہ مکان کے اُوپر کی منزل پر پانی کا گھڑا ٹوٹا تو آپؓ نے فوراً اپنا لحاف ڈال کر سارا پانی اس میں جذب کرلیا۔ گھر میں موجود اِکلوتا لِحاف اب گیلا ہو چکا تھا۔ آپؓ اور زوجہ محترمہ رات بھر سردی میں ٹھٹھرتے رہے، مگریہ گوارا نہ کیا کہ پانی بہہ کر نیچے کی منزل میں چلا جائے اور آپ کوکچھ تکلیف پہنچے،کہیں بے ادبی نہ ہو جائے۔

غرض بے پناہ ادب واحترام اورمحبت وعقیدت کے ساتھ نبی کریم کی مہمان نوازی و میزبانی کے فرائض اداکرتے رہے۔ ایک رات آپ ؓکے دل میں خیال آیا کہ رسول اللہ نیچے کی منزل میں تشریف فرما ہوں اور ہم اُوپر! یہ خیال آتے ہی آپ ؓاور آپ ؓکی زوجہ محترمہ کونے میں سِمٹ گئے اور پوری رات یونہی گزار دی۔ صبح ہوتے ہی دربارِ نبوی میں حاضر ہوئے اور گِریہ و زاری کرتے ہوئے عرض گزار ہوئے، ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ اُوپر رہنے کی وجہ سے ہمارے قدموں کی خاک کا کوئی ذَرَّہ جسمِ اطہر پر نہ آجائے اور یوں ہمارا شمار بے ادبوں میں نہ ہو جائے، آقائے دو عالَم نے ان کی مَحبت اورگِریہ و زاری دیکھی تو اوپرکی منزل پر تشریف لے آئے۔

دعائے نبوی

ایک موقع پر آپ ؓ نے رات بھرکاشانہ نبوی پر پہرہ دیا، صبح ہوئی تو دعائے نبوی یوں ملی: اے اللہ! تو ابو ایوب ؓکو اپنے حِفظ واَمان میں رکھ جس طرح اس نے میری نگہبانی کرتے ہوئے رات گزاری۔”موئے مبارک کا ادب “ ایک مرتبہ حضور صَفا و مروہ کی سَعِی فرما رہے تھے کہ رِیش مبارک سے ایک بال جدا ہوکر نیچے کی طرف آیا۔ آپ ؓ تیزی سے آگے بڑھے اور بال مبارک زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی اسے اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ سرکارِ دوعالَم نے آپ ؓکودُعا دی کہ اے اللہ تعالٰی تم سے ہر نا پسندیدہ بات دورکر دے۔ ایک بار آپؓ نے روضہ¿ رسول پر حاضری دی۔ آپؓ آئے اور روضہ انور پر اپنا چہرہ رکھ دیا۔ حاکم مَروَان نے دیکھا توکہا: یہ کیا کر رہے ہو؟ فرمایا: میں اینٹ پتھرکے پاس نہیں ، رسول اللہ کی خدمت میں آیا ہوں۔

آنحضرت جب تک حضرت ابو ایوب انصاری ؓ کے مکان میں تشریف فرما رہے، عموماً انصار یا خود ابو ایوب ؓ آقا کی خدمت میں روزانہ کھانا بھیجا کرتے تھے،کھانے سے جوکچھ بچ جاتا۔ آپ ابوایوب ؓکے پاس بھیج دیتے تھے، ابو ایوب ؓ آنحضرت کی انگلیوں کے نشان دیکھتے اور جس طرف سے آنحضرت نے نوش فرمایا ہوتا وہیں انگلی رکھتے اورکھاتے، ایک دفعہ کھانا واپس آیا تو معلوم ہوا کہ حضور نے تناول نہیں فرمایا، مضطربانہ خدمت اقدس میں پہنچے اورنہ کھانے کا سبب دریافت کیا۔ ارشاد ہوا کھانے میں لہسن تھا اور میں لہسن پسند نہیں کرتا۔ ابوایوب انصاری ؓ نے کہا ” جو آپ کو ناپسند ہو یا رسول اللہ میں بھی اس کو نا پسند کروں گا۔ ( مسلم شریف)

حضرت ابو ایوب ؓ تو مہمان نوازی کے طور پر ”ماحضر“ بارگاہ نبوی میں پیش کرتے ہی تھے۔ اس دوران کئی دوسرے انصار صحابہ ؓ بھی روزانہ حضور کے لئے کھانا اور دیگر تحائف پیش کرنے میں حضرت ابو ایوب ؓ سے پیچھے نہیں تھے۔ چنانچہ سمہودی نے حضرت زید بن ثابت ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ جب نبی کریم حضرت ابو ایوب ؓکے گھر جلوہ افروز ہوگئے تو سب سے پہلا آدمی جو ہدیہ لے کر حضور کی رہائش گاہ میں داخل ہوا وہ میں تھا۔گندم کی روٹی سے تیارکی گئی ثرید کا پیالہ کچھ گھی اور دودھ آپ کے سامنے رکھتے ہوئے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ پیالہ (کھانا) میری والدہ نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے۔ آپ نے اس پر مجھے ”بارک اللہ فیہا“ کے الفاظ سے برکت کی دُعا دی اور اپنے تمام ساتھیوں کو بلا لیا اور ان کے ساتھ مل کر تناول فرمایا۔ میں (زید بن ثابتؓ) ابھی دروازے سے نہیں ہٹا تھا کہ حضرت سعد بن عبادہ ؓ (رئیس الانصار) کا غلام ایک ڈھکا ہوا پیالہ سر پر رکھے ہوئے آگیا۔ میں نے ابو ایوب ؓکے دروازے پرکھڑے ہوکر اس پیالہ کا ڈھکنا اُٹھا کر دیکھا تو اس میں ثرید تھی جس کے اوپرگوشت کی ہڈیاں نظر آرہی تھیں۔ غلام نے بارگاہ نبوی میں حاضر ہوکر وہ پیالہ پیش کر دیا۔ زید بن ثابت ؓ مزید فرماتے ہیں کہ کوئی رات ایسی نہ گزری تھی جس رات ہم بنی مالک بن النجار میں سے تین چار آدمی باری باری حضور کی خدمت میں کھانا پیش نہ کرتے ہوں حتی کہ آپ اپنے دولت کدہ میں منتقل ہوگئے۔ (سمہودی، وفاءالوفائ، ابن کثیر، سیرة النبی )

مواخات

ہجرت کے بعد آنحضرت نے مہاجرین وانصارکو باہم بھائی بھائی بنا دیا۔ حضرت ابوایوب انصاریؓ کو جس مہاجرکا بھائی قرار دیا وہ یثرب کے اوّلین داعی اسلام مصعب بن عمیرؓ قریشی تھے۔

حیاتِ مبارکہ کے مختلف پہلو

آپ ؓکی سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ آپ ؓمتقی پرہیزگار، با ہمت وبہادر، صبر و استقلال کے پہاڑ اور جذبہ¿ جہاد سے لبریز تھے۔ حضرت ابوایوب انصاری ؓکا شمار اسلام کے جانباز مجاہدین میں ہوتا ہے۔آپ ؓ تمام غزوات میں شریک ہوئے۔اورکسی ایک غزوہ کے شرف شرکت سے بھی محروم نہیں رہے۔ 2 ہجری میں جب غزوات کا سلسلہ شروع ہوا توہر غزوہ میں شرکت کی اور ایک پُرجوش مجاہد کی حیثیت سے آخری دَم تک ہر سال جہاد میں حصہ لیتے رہے۔ حضرت ِ سیّدنا علی المرتضیٰ ؓکے ساتھ خَوَارِج کے خلاف نہروان کی مشہور جنگ میں صف اوّل کے دستہ میں فوج کے سالارکی حیثیت سے شامل ہوئے۔ 50 یا 51 ہجری میں حضرت سیدنا امیر معاویہ ؓنے ایک لشکر قسطنطنیہ کی تسخیرکے لئے روانہ کیا توآپ ؓایک مجاہد کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ حضرت سیّدنا عثمانِ غنی ؓ کی شہادت کے دِنوں میں آپ ؓمسجدِ نبوی میں اِمامت فرماتے رہے۔ حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ ؓکے ابتدائی دورِ خلافت میں مدینے کے گورنر رہے۔ وصالِ باکمال آخِری اَیَّام میں جب آپ ؓ سخت بیمار ہوگئے تو مجاہدین ِ اسلام سے فرمایا: مجھے میدانِ جنگ میں لے جانا اوراپنی صفوں میں لٹائے رکھنا، جب میرا انتقال ہو جائے تو میری نعش کو قلعہ کی دیوار کے قریب دَفن کردینا۔ چنانچہ 51 ہجری میں دورانِ جہاد آپؓؓکو قسطنطنیہ کے قلعہ کی دیوارکے قریب دَفن کردیا گیا۔ ابتدا میں اندیشہ تھا کہ شاید نصرانی قبرِ مبارک کو کھود ڈالیں مگر ان پر ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ مزارِ اقدس کو ہاتھ بھی نہ لگا سکے اور یقیناً یہ نبی کریم کی دُعا کا اثر تھا کہ آپ ؓزندگی بھر مصائب وآلام سے محفوظ رہے۔ اور بعدِ وفات بھی صدیوں تک نصاریٰ آپؓ کی قبرِ مبارک کی حفاظت اور نگرانی کرتے رہے، حتیٰ کہ قسطنطنیہ پر مسلمانوں نے فتح کا جھنڈا گاڑ دیا۔ آج بھی ترک حکومت کے زیرِ نگرانی آپ ؓکا مزارِ اقدس اسی آن بان اور شان کے ساتھ آنے والوں کے دلوں میں سرور اور آنکھوں میں ٹھنڈک کا ساماں لئے ہوئے ہے۔ قحط سالی کے زمانے میں لوگ آپ ؓکی قبرِ مبارک پر حاضر ہوکر بارش طلب کرتے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کے طفیل پیاسی مخلوق کو سیراب کردیتا۔ حضرت ابوایوب انصاری ؓ کا مزار دیوار قسطنطنیہ کے قریب ہے اوراب تک زیارت گاہ خلائق ہے۔ آپ ؓکی قبر مبارک کے پاس بطور یادگار ایک مسجد تعمیرکی گئی جو ترکی کی قدیم ترین مساجد میں سے ہے۔

٭٭٭


ای پیپر